اسلامیاتزبان و ادبمضامین

مسجدوں میں غیر مسلموں کی زیارت کا اہتمام اور انتظام کریں

نقی احمد ندوی

اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے۔ اس کے تمام افکار ونظریات اور ایکشن کا اولین مقصد انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کرنا ہے مگر بدقسمتی سے امن و سکون کا یہ مذہب دنیا میں سب سے زیادہ بدنامی کا شکار رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ اسلام کی جو معلومات غیر مسلموں تک پہنچتی ہیں وہ ناقص اور غلط معلومات پر مبنی ہیں جو مسلم طبقہ اور غیر مسلم طبقے کے درمیان خلیج بڑھانے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اس خلیج کو پاٹنے اور اسلام کی صحیح شکل و صورت پیش کرنے کا ایک انتہائی کارآمد، آزمودہ اور قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ ہم غیر مسلم بھائیوں کو اپنی مسجدوں کی زیارت کی دعوت دیں اور انہیں مشاہدہ کا موقع دیں کہ ایک مسلمان اپنی مسجدوں میں کرتا کیا ہے؟
بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کو مسجدوں میں داخلہ کی اجازت کیسے دیں؟ مسجد عبادت گاہ ہے جس میں غیر مسلموں کا آنا جانا ممنوع ہے اور اگر اجازت دے بھی دی جائے تو پتہ نہیں وہ ناپاک ہوں اور ان کی وجہ سے مسجدیں بھی ناپاک ہوجائیں۔ سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف یہ کہ غیر مسلموں کو مسجدِ نبوی میں آنے، قرآن پاک سننے اور اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کا بھر پور موقع دیا تھا بلکہ باضابطہ قبیلہ بنو ثقیف کے وفد کو مسجد نبوی میں قیام کروایا تھا جس کی تفصیلات احادیثِ نبویہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ البتہ فتح مکہ کے بعد اور مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد ایک تبدیلی یہ آئی کہ صرف حرمین شریفین یعنی مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کے اندر غیر مسلموں کے داخلہ کی اجازت نہیں بقیہ دنیا کی تماممساجد میں غیرمسلموں کے داخلہ پر کوئی پابندی نہیں۔ غیر مسلموں کو مساجد کی زیارت کا موقع فراہم کرنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہمغربی ممالک کی مساجد میں غیر مسلموں کی زیارت کارواج بہت ہی عام ہے اور یہ اسلام کی نشرواشاعت اور اسلام اور مسلمانوں کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بہت ہی موثر ثابت ہوا ہے۔
غیر مسلموں کے مسجدوں میں داخلہ کے وقت صرف یہ دھیان رکھناضروری ہے کہ ان کے کپڑوں، سامان یا جسم پر کوئی ظاہری نجاست موجود نہ ہو۔ اس دور میں جب ہمارے ملک میں میڈیا شب و روز مسلمانوں اور ان کے مدارس و مساجد کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دینے میں بہت اہم رول ادا کررہا ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ اپنی مسجدوں کی بلکہ مدرسوں اور دینی اداروں کی زیارت کا بھی اہتمام کریں تاکہ ان کا مشاہدہ ان کے نظریات کو بدلنے اور سچائی سے متعارف کرانے میں ایک اہم رول ادا کرسکے۔
اس اہمیت کو مغربی ممالک کے اسکالرس، ائمہ اور مساجد کی کمیٹیوں نے بہت بہتر طریقے سے سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کی بیشتر مساجد غیر مسلموں اور خاص طور پر اسکولی طلباء کو اپنے یہاں دعوت دے کر بلاتی ہیں، مسجدوں کے اندر کیا ہوتا ہے، امام صاحب کیا پڑھتے ہیں اور اسلام کس چیز کی دعوت دیتا ہے، اس پر ایک چھوٹا سا Presentation پیش کیا جاتا ہے۔ چائے ناشتہ یا ہلکے ریفرشمنٹ کے بعد ان کی زیارت اختتام پذیر ہوتی ہے۔
چنانچہBestonfield میں برطانیہ کے اسکولی طلباء نے مسجد کی زیارت کی اور جو تاثرات پیش کیے، وہ پڑھیے:
”تین، چار اور پانچ سال کے کلاس کے بچوں نے مقامی مسجد کی زیارت کی، ہم لوگوں نے مسجد کے باہر اپنے جوتے نکالے اور نماز کی جگہ پر قالین پر بیٹھ گئے۔ پھر ہم لوگوں نے مسلم عقیدہ کے پانچ ارکان کے متعلق سنا اور ان کے تہواروں کے بارے میں معلومات حاصل کی، ہم نے امام کو قرآن پڑھتے سنا۔ پھر اس کے بعد ہمیں سوالات کرنے کا بھی موقع ملا۔
شاید یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ جرمنی جسے اسلام دشمن ملک تصور کیا جاتا ہے، وہاں کے اسکولی بچوں کے لئے مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں بہ شمول مسجدوں کی زیارت (فیلڈ ٹرپ) کرنا ضروری ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ بچوں کو دوسرے مذاہب سے آشنائی ہو اور وہ مل جل کر رہنا سیکھ سکیں اور ان کے اندر ایک دوسرے کے مذہب سے متعلق رواداری کا شعور بیدار ہو۔ اگر کوئی فیملی کسی مسجد کی زیارت پر جانے سے اپنے بچوں کو منع کرتی ہے تو وہاں کی حکومت نہ صرف یہ کہ اس کے والدین پر مقدمہ چلاتی ہے بلکہ ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اسی نوعیت کا ایک واقعہ پڑھئے جو وہاں کے ایک اخبار میں چھپا ہے۔
”جرمن نوخیز بچوں کے والدین اپنا جرمانہ دینے میں فیل ہوگئے ہیں۔ انھوں نے ایک مسجد کی زیارت (فیلڈ ٹرپ) کے دوران اپنے بچے کو منع کردیا تھا۔ والدین نے یہ وجہ بیان کی کہ مسجد کی زیارت سے فکری اور عقائدی طور پر ان کے بچے متاثر ہوں گے۔ جرمنی کے (Itzchoe)کے (Prosecuter)اس بات پر غور کررہے ہیں کہ والدین کو کورٹ میں حاضر ہونے کے لیے بلایا جائے یا نہیں کیونکہ ان کے بچے مسجد کی زیارت (فیلڈ ٹرپ) سے غائب تھے اور جو جرمانہ ان پر عائد کیا گیا تھا وہ بھی انھوں نے ادا نہیں کیا۔“(۵۱)
یہی نہیں کہ حکومت کی طرف سے بھی ان ممالک میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کی زیارت کو فروغ دیا جاتا ہے بلکہ یورپین ممالک اور خاص طور پر برطانیہ میں غیر مسلم بھائیوں کی مسجد کی زیارت کی باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے تاکہ وہ ڈائرکٹمسجد کی سرگرمیوں سے واقف ہوسکیں اور مسلمانوں کے متعلق اپنے شکوک و شبہات کا ازالہ کرسکیں۔
آج ہمارے ملک میں جو موجودہ حالات ہیں ان کے پیش نظر ہم سب پر یہ فرض ہوجاتا ہے کہ ہم اپنی مسجدوں کے دروازے غیر مسلموں کے لئے کھول دیں، انھیں اپنی مسجدوں اور اداروں کی زیارت کی دعوت دیں اور ان کے شکوک وشہبات کا ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اس میں مسجدوں کی زیارت ایک موثر اور فعال رول ادا کرسکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: