اسلامیاتمضامین

مسجد اور صحت

نقی احمد ندوی

مسجدیں صحت کے میدان میں ایک ایسا کردار ادا کرسکتی ہیں جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے، صحت دنیا کی سب سے عظیم دولت ہے، مزید برآں حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے طاقتور اور صحت مند مومن زیادہ پسند ہے۔ آج ہم اور آپ جس دور میں جی رہے ہیں بچے، بوڑھے اور نوجوان سبھی جسمانی حرکت نہ کرنے اور گھروں، فلیٹوں اور آفسوں میں گھنٹوں مشغول رہنے کے باعث بہت سارے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں، موٹاپا، امراض قلب، شوگر اور دیگر بیماریاں عام ہوگئی ہیں۔ چنانچہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جن بیماریوں سے سب سے زیادہ اموات ہورہی ہیں ان میں سرفہرست امراض قلب، امراضِ تنفس اور ولادت کے متعلق پیچیدہ بیماریاں ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 16فیصد اموات دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 2000ء سے 2019ء تک اس میں اضافہ ہی ہوا ہے چنانچہ 2019میں تقریباً دل کی بیماری کی وجہ سے نوے لاکھ لوگوں کی موت واقع ہوئی اور 2000میں اس میں اضافہ ہوا اور امراضِ قلب کے باعث مزید بیس لاکھ لوگ موت کا شکار ہوئے، اسی طرح پوری دنیا میں شوگر کے مریضوں میں خاصہ اضافہ ہوا ہے، 2000ء سے لے کر اب تک اس مرض میں ستر فیصد کااضافہ ہوچکا ہے۔ چنانچہ وہ دس بڑے امراض جن سے سب سے زیادہ موت واقع ہوئی ہے اس میں اب شوگر بھی داخل ہوچکا ہے۔ اسی طرح کڈنی کا مرض بھی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ 2000ء میں آٹھ لاکھ تیرہ ہزار لوگوں کی کڈنی کی بیماریوں سے موت ہوئی تو 2019ء میں تقریباً تیرہ لاکھ لوگ اس کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔
دنیا کے جتنے بڑے مذاہب ہیں سبھی کے اندر عبادت خانہ کا تصور صرف عبادت ہے، کلیسا ہو یا مندریا سکھوں کی عبادت گاہیں ہر جگہ صرف عبادت کی جاتی ہے، مگر اسلام نے مسجد کے اندر نہ صرف عبادت بلکہ اس کے اطراف میں رہنے والے افراد کی تمام ضروریات کی تکمیل کا سامان بہم پہونچانے اور اس کے لیے مسجد کے استعمال کی ترغیب دی ہے، اس کی سب سے بڑی مثال خود رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا مسجدنبوی کا استعمال ہمارے لیے نمونہ ہے۔ اسی بنیاد پر ہم صحت کے تعلق سے بہت سارے طریقوں سے اپنی مسجدوں کو استعمال کرسکتے ہیں، خطرناک بیماریوں سے بچنے کے لیے عام بیداری پیدا کرنے میں ہماری مسجدیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ مسجدوں کے اندر صحت کے موضوعات پر تقریریں، لکچرس اور پروگرامس کا ماہانہ انعقاد کیا جاسکتا ہے، جہاں ممکن ہو وہاں مسجد کے کسی گوشہ یا صحن کو استعمال کرتے ہوئے ایکسرسائز کے آلات نصب کرکے نمازیوں کو صحت مند رہنے کی تربیت دی جاسکتی ہے، اسی طرح ڈاکٹروں، سائیکولوجسٹ یا طب کے ماہرین سے مختلف امورِ صحت پر مختصر ورکشاپ کرائے جاسکتے ہیں، یہی نہیں بلکہ مسجد کے کسی کمرے میں مفت کلینک کا انتظام بھی بہت ساری مساجد میں رائج ہے جہاں چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم بھی اپنی مسجدوں میں مفت کلینک کی شروعات کرسکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجدیں تزکیہ نفس اور دینی تعلیم و تربیت کے اصل مراکز ہیں مگر مساجد کے مقاصد کو محدود کرنا بھی تو مسجد کی افادیت اور ہمارے معاشرہ میں اس کے رول کو کم کرسکتا ہے۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ قلب و روح کو گرما دینے والی تقریروں اور خطبوں کی اس قوم کو سخت ضرورت ہے۔ مگر ساتھ ہی صحت کے موضوعات کو بھی مسجد کے پروگرامس میں شامل کردیا جائے تو مصلی حضرات اور محلہ کے افراد کو بڑے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔کیا یہ ممکن نہیں کہ جمعہ کے دن امام صاحب کے خطبہ سے پہلے یا نمازِ جمعہ کے بعد کسی ڈاکٹر کا پندرہ منٹ کا لیکچر رکھوائیں جو دل کی خطرناک بیماریوں یا شوگر سے بچنے کے طریقے وغیرہ پر ایک لیکچر دیدے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہفتہ میں ایک روز خواتین کی صحت پر پروگرام منعقد کریں اور کسی اسپلشٹ سے بریسٹ کینسر یا دورانِ حمل ہونے والی بیماریوں یا رضاعت کے متعلق طبی معلومات پر ایک ورکشاپ کرائیں تاکہ خواتین کے اندر صحت کے متعلق بیدار ی پیدا ہو، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ شہروں میں خاص طور پر بچوں کو اور نوجوانوں کو موٹاپا(Obesity)لاحق ہوجاتا ہے، جو بہت ساری مشکلات کی جڑ ہے، اس جیسے موضوعات پر نوجوانوں کے لیے ماہانہ پروگرام منعقد ہو جس میں بچوں اور نوجوانوں کے مسائلِ صحت زیرِ بحث لائے جائیں اور ان کو مفید معلومات فراہم کی جائے تاکہ ہماری نئی نسل صحت مند اور طاقتور بن سکے۔
صحت کے متعلق ذیل کے عناوین پر لکچرس اور ورکشاپ منعقد کرنے کی سخت ضرورت ہے:
(۱) دل کی بیماری میں کیا کیا احتیاطی تدابیراختیار کی جائیں۔
(۲) شوگر سے بچنے کے کیا کیا طریقہ کار ہیں۔
(۳) ڈپریشن اور ہائپر ٹنشن کے اثرات اور ان سے بچنے کی تدابیر۔
(۴) انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اثرات او ربچوں کی صحت۔
(۵) نشہ سے بچنے کے طریقے۔
(۶) صحت مند غذا کے فوائد۔
(۷) ورزش اور ایکسرسائز کے فوائد وغیرہ وغیرہ
اگر مسجد کے نمازیوں اور اس کے اطراف کے لوگوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے تو صرف تقریریں، لیکچرس اور ورکشاپ ہی کافی نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ مساجد کے اندر ان کی ورزش اور ایکسرسائز کا معقول انتظام بھی ضروری ہے۔ آج کل نوجوانوں کو جم جانے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ موٹی موٹی فیس بھی ادا کرتے ہیں۔ صحت کیلیے جم جاناکوئی غیر شرعی بات نہیں بلکہ اسلام میں صحت مطلوب ہے۔ کیوں نہ ہم اپنے نوجوانوں اور محلہ کے مسلم بچوں اور بچیوں کے لیے اسلامی ماحول میں جم کا انتظام کریں اور مسجد سے بہتر اور کون سی جگہ ہوسکتی ہے جہاں وہ دینی ماحول میں ایکسر سائز کرسکیں۔جم کے ماحول میں آج کل موسیقی ایک لازمی جزء ہے اسکو تلاوت سے بدلنے میں نوجوانوں کو روحانی غذا بھی مل سکتی ہے اور وہ معصیت سے بھی بچ سکتے ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: