اسلامیات

مسجد خدا کا گھر ہے تو ایمان والیوں پر اس کا در بند کیوں ہو!

نصیرالدین سینیئر صحافی، انڈیا

’اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے روکا نہ کرو‘

’تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے منع نہ کرے‘

’مسجدوں میں خواتین کا جو حصہ ہے اس سے انھیں مت روکو‘

’اپنی عورتوں کو مسجد جانے سے منع نہ کرو‘

’جب تمہاری عورتیں رات میں مسجد میں جانے کی اجازت چاہیں تو انھیں اجازت دے دو‘

یہ باتیں کون، کس سے، کب اور کیوں کہہ رہا ہے؟
یہ باتیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی ہیں جو پیغمبر اسلام نے کہی تھیں۔ مندرجہ بالا احکامات مردوں کے لیے ہیں، معاملہ مسجد آنے اور جانے کا ہے اور ان احکامات میں واضح انداز میں خواتین کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔

کیا یہ محض ایک مذہبی مسئلہ ہے؟
جب معاملہ اتنا واضح ہے تو پھر آج اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مساجد میں مسلمان خواتین کے آنے جانے اور نماز ادا کرنے کا مسئلہ بارہا سامنے آتا رہا ہے جس سے ایسی تصویر ابھرتی ہے کہ جیسے اسلام خواتین کی مساجد میں آمدورفت کے ہی خلاف ہے۔

چند ماہ قبل ہی مسجد میں خواتین کے داخلے سے متعلق ایک درخواست انڈیا کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

مسئلہ تو ہے لیکن یہ مذہبی سے زیادہ سماجی ہے۔

یہ وہ سماجی نظام ہے جو کسی بھی مذہب کی خواتین کو آزادانہ اور اپنی مرضی سے کہیں بھی آنے-جانے پر پابندی لگاتا ہے۔ان کی نقل و حرکت پر کنٹرول چاہتا ہے، وہ یہ طے کرتا ہے کہ خواتین کہاں، کب، کیسے اور کتنی دیر کے لیے جائیں گی۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے پدرسری معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں عام مقامات پر خواتین کی موجودگی بہت کم ہے۔ مساجد میں بھی یہی بات نظر آتی ہے۔ ہاں، یہاں خواتین کو کنٹرول کرنے کے لیے بعض اوقات مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اس کے لیے خواتین کے کہیں بھی تنہا آنے جانے کی ممانعت کی دلیل دی جاتی ہے۔ اور یہی بات مسجد میں آنے جانے کے لیے بھی دلیل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

مسئلہ صرف مساجد میں آنے جانے کا نہیں ہے۔ لہذا صرف مساجد میں آنے جانے کی اجازت سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا۔

یہ کسی بھی مسلمان خاتون کا مذہبی حق ہے

تو کیا خواتین کو انتظار کرنا چاہیے؟

بالکل نہیں۔

جس طرح سے وہ دوسری جگہوں پر اپنی جگہ بنا رہی ہیں، یہاں بھی انھیں اپنی جگہ بنانی ہو گی۔ انھیں جگہ دینی ہو گی، یہ ان کا مذہبی حق ہے۔ یہ حق اتنا ہی ان کا ہے جتنا کسی مسلمان مرد کا۔

اسلام نے اپنے پیروکاروں کے لیے مذہبی طور پر پانچ احکام لازمی قرار دیے ہیں: شہادت (یعنی ایک ہی خدا پر ایمان)، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج۔

ان میں مرد اور عورت میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ہے۔

مرد اور عورت کی بنیاد پر کوئی رعایت نہیں ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر مرد اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے کے لیے مسجد میں نماز پڑھنے جا سکتے ہیں تو پھر خواتین کیوں نہیں؟

تو پیغمبرِ اسلام کے دور میں کیا ہوا کرتا تھا؟

ہم اس دور کا ذکر کرتے ہیں جسے پیغمبرِ اسلام کا دور کہا جاتا ہے۔ ہمیں اس دور کے بارے میں ان کے ساتھیوں اور ان کی بیویوں خصوصاً حضرت عائشہ کے ذریعہ بہت سی معلومات (حدیث) حاصل ہوتی ہیں۔

یہ سب لوگ جو معلومات ہمیں دیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں خواتین مساجد جاتی تھیں۔ پیغمبرِ اسلام کی امامت میں نماز پڑھتی تھیں۔ وہ ان کے خیالات و افکارات سے فیض یاب ہوتی تھیں۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ عورتیں فجر کی نماز میں ان کے ساتھ جماعت سے نماز ادا کر تی تھیں۔ حضرت ام سلمہ بتاتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کچھ دیر مسجد میں ٹھہرتے تھے تاکہ عورتیں اطمینان سے مسجد سے باہر نکل سکیں۔

وہ خواتین کو مسجد میں آنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں بے حد حساس تھے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور اس کو طویل کرنا چاہتا ہوں لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو پھر نماز کو مختصر کر دیتا ہوں۔

انھوں نے ایسا کیوں کیا؟

پیغمبرِ اسلام ایسا اس لیے کرتا تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی والدہ کو تکلیف اور بے چینی ہو گی۔

یہ بات واضح ہے کہ خواتین مسجد میں نماز پڑھتی تھیں۔ اور ہاں آج کی طرح ماں ہی بچوں کی پرورش کرتی تھی۔

پیغمبرِ اسلام نہ صرف اس حقیقت سے آگاہ تھے بلکہ انھوں نے اسے شدت کے ساتھ محسوس بھی کیا کہ مسلم خواتین اپنے بچے کی وجہ سے پریشان بھی نہ ہوں اور ان کی عبادت بھی پوری ہو اور انھوں نے اس کے لیے راستہ بھی دکھایا۔ کیا آج کے دور میں خواتین کے متعلق یہ حساسیت ظاہر کی جاتی ہے؟

صرف یہی نہیں ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جہاں وہ خواتین کو جمعہ، عید الفطر اور عیدالضحی کی نماز میں شامل ہونے کا حکم دیتے ہیں۔ اگر کسی کو آنے میں پریشانی ہو تو وہ اسے حل کر دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب انھوں نے خواتین کو عید کی نماز میں آنے کو کہا تو کئی نے کہا کہ ان کے پاس پردہ کرنے کے لیے کوئی چادر نہیں ہے۔ تو انھوں نے یہ نہیں کہا کہ انھیں نہیں آنا چاہیے بلکہ انھوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو اپنی چادروں کو اپنی بہنوں کے ساتھ اوڑھ لینا چاہیے۔

صرف یہی نہیں، وہ خواتین کو آنے کی اس لیے بھی ترغیب دیتے تھے کہ ان نمازوں کے ساتھ خطبہ بھی ہوتا تھا۔ اس میں تعلیم و تربیت کی باتیں ہوتی تھیں۔ وہ خصوصی خیال رکھتے تھے کہ یہ باتیں خواتین تک پہنچیں۔ علم صرف مردوں کو نہ ملے بلکہ یہاں ملنے والے علم میں خواتین بھی شریک ہوں۔

ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ وہ خواتین سے علیحدہ سے خطاب کرتے تھے اور یہ سب مسجد میں ہوتا تھا۔

اتنا ہی نہیں، خواتین بھی نماز پڑھتی تھیں۔ البتہ، نماز پڑھنے اور پڑھانے کی ان کی جگہ علیحدہ ہوتی تھی۔

خانہ کعبہ

تین سب سے اہم مساجد اور خواتین

مذہبی اعتبار سے مسلمانوں کے لیے مکہ کی مسجد الحرام، مدینہ کی مسجد نبوی اور یروشلم کی مسجد الاقصی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں اسلام کے ابتدائی زمانے میں بھی خواتین نماز پڑھنے جاتی تھیں۔

اور آج بھی حج کے دوران خواتین اور مرد مسلمان مل کر مذہبی فریضہ ادا کرتے ہیں۔ ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ ان میں ان ممالک کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں جو اپنے ملک میں کبھی بھی مساجد میں نہیں آئیں یا جنھیں جانے کی اجازت نہیں ملی یا جن کو یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ خواتین مسجد میں جائیں یا جن کو بتایا گیا تھا لیکن اس میں ایک لائن شامل کی گئی تھی گھر میں ہی نماز پڑھنا بہتر ہے۔

مسلم خواتین

مسجد یعنی عبادت، تعلیم و تربیت کی جگہ

ابتدائی دور سے ہی کسی مسجد کا خیال صرف نماز کے لیے نہیں ہے۔ مسجد کا قیام کئی مقاصد کے لیے ہے۔ جیسے نماز، عبادات، تعلیم، صلاح و مشورہ، تبادلہ خیال، سماجی گفتگو وغیرہ۔

اور اس دور میں یہ سب ہوتے تھے۔ اپنے آپ میں مسجد ایک کھلی جگہ ہے اس لیے اگر دیکھا جائے تو مسجد میں بڑے ہال/دالان کے سوا کیا ہوتا ہے؟ یہ کھلی جگہ ہی اپنے آپ میں اہم ہے۔

یعنی ہر کوئی کسی نہ کسی گروہ میں جمع ہو سکتا ہے۔ یہاں ایسا کوئی مذہبی نظام موجود نہیں ہے جو معاشرتی/معاشی عدم مساوات کو جگہ دیتا ہو یا اس سے یہ خیال مضبوط ہوتا ہو۔ اسی لیے شاید اردو کے معروف شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا:

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

کیا اقبال کا یہ شعر صرف مرد مسلمانوں کے لیے ہے؟ کیا خواتین مساوات کی صف سے باہر ہیں؟

مولانا عمر احمد عثمانی اپنی کتاب فقہ القرآن میں لکھتے ہیں کہ ‘مساجد اور اجتماعی عبادت گاہیں ابتدائے عہد اسلامی میں صرف عبادت کی جگہ نہیں تھیں بلکہ وہ درسگاہیں اور تربیت گاہیں بھی تھیں۔ پیغمبرِ اسلام نے عورتوں کی شرکت کو محض عبادت کے لیے ہی نہیں بلکہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی ضروری قرار دیا تھا۔

یعنی اسلام کے ابتدائی دور اور پیغمبرِ اسلام کے دور میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جو عورتوں کے مسجد میں جانے، عبادت کرنے، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے خلاف ہو۔

تو کیوں نہ اس دور سے کچھ سیکھا جائے؟ اس دور کے اقدار اور اصول کی بنیاد پر کچھ کیا جائے؟ کیوں نہ خواتین کے مساجد میں جانے کا راستہ ہموار کیا جائے؟

اس لیے کہ اسلام کی بنیادی کتاب ‘قرآن’ میں جب خواتین اور مردوں کو مذہبی فریضے کے لیے خطاب کیا گیا تو ان میں کوئی فرق نہیں رکھا گيا۔

اس کی سب سے بڑی مثال سورہ احزاب کی یہ آیتیں ہیں:

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں

اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں

فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں

سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں

صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں

عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔۔۔

اور اللہ کو خوب یاد کرنے والے مرد اور خوب یاد کرنے والی عورتیں

ان سب کے لیے اللہ نے بڑی معافی اور بڑا بدلہ (انعام) تیار کر رکھا ہے

اب اگر کوئی مسلمان لڑکی یا عورت یہ پوچھے کہ ہمارے اللہ کا حکم مردوں اور عورتوں کے لیے برابر ہے تو پھر ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیوں؟

تو کیا اس کا سوال بے معنی ہو گا؟

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: