مضامین

مسلمانوں نے عدم تشدد کے فارمولہ کو وقتی مصلحت کی بنا پر اختیار کیا ہے، اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ وہ عقیدہ جہاد کو بھول بیٹھے ہیں : جمعیت علمائے ہند

ہندستان میں مسلمانوں نے عدم تشدد کو اپنے موجودہ ماحول کی وجہ سے بطور پالیسی اختیار کرلیا تھا اور اب تک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قرآن حکیم کی آیات جہاد کو بھول گئے، یا چھوڑ بیٹھے اور تشدد کو اگرچہ وہ ضروری مواقع میں اختیار کیا جائے گناہ اور پاپ سمجھنے لگے۔ نیز یہ لفظ ایسے انداز سے ذکر کیا گیا ہے جس سے خطرہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں اس کا مفہوم ”جیوہتیا“ کے معنی میں بیٹھ جائے گا یا بٹھا دیا جائے گا، جس کا اثر مسلمانوں کے ایک خاص معاشرتی اور مذہبی عمل ذبحِ حیوانات پر بھی پڑے گا اور آئندہ ہندستان میں یہی ایک چیز ہمیشہ منشاءِ نزاع بنی رہے گی اور اگر خاکم بدہن یہ اسکیم اس معنی سے کامیاب ہوگی کہ بچوں کے دماغ میں ابتدا ہی سے ذبحِ حیوانات اور عقیدہئ جہاد سے نفرت بیٹھ گئی اور سب کے سب انسان اس کو مذموم سمجھنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدید تعلیم نے مسلمانوں کا ایک مذہبی عقیدہ بدل دیا اور ان کے ایک معاشرتی اور مذہبی حق کو باطل کردیا۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ ہندستان جیسے ملک میں جہاں بے شمار مختلف مذاہب موجود ہیں، بغیر باہمی رواداری کے زندگی گزارنا مشکل؛ بلکہ محال ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ متحدہ قومیت کا یہ تخیل کہ مسلمان بھی اپنی خالص اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر کسی ایسی تہذیب میں مدغم ہوجائیں گے، جس میں اسلامیت اور غیراسلامیت کا امتیاز نہ ہو، اس سے زیادہ مشکل اور بداہتہً محال ہے۔ مسلمان ایسی رواداری کہ جس میں مختلف اور متضاد مذاہب کے لوگ امن و اطمینان سے زندگی بسر کریں، اختیار کرنے اور برتنے کے لیے نہ صرف تیار ہیں؛ بلکہ ان کی قدیمی روایات اس کی شاہد ہیں اور اس کے خلاف ان کو کسی ایسی متحدہ قومیت کا درس دینا، جس میں اسلامی تہذیب کے نقوش بھی مٹ گئے یا مٹا دیے گئے ہوں، نہ صرف فضول؛ بلکہ فتنہ و فساد کی بنیاد ڈالنا ہے۔ (رپورٹ سب کمیٹی واردھا تعلیمی اسکیم جمعیت علمائے ہند3- 6/مارچ 1939 گیارھواں اجلاس عام)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: