مضامین

مسلمانوں کا گریبان۔۔۔۔

جاویدجمال الدین

اب کی بار میں نے بھی 21 جون کو عالمی یوم پدر منایااور محترم والدصاحب کی زندگی ،رہن سہن اور لوگوں سے ان کے برتاﺅاور اپنی اولاد کو زندگی گزارنے کے نسخے اپنے طریقے سے سمجھانے کی باتیں لوگوں سے سوشل میڈیا پر شیئرکردیں،ویسے میں کسی ’یوم یا ڈے ‘منانے کا قائل نہیں ہوں ،لیکن والدین کی یاد منانے اور انہیں خراج پہنچانے میں کوئی حرج نہیں ہے،جن میں سے ماں ایک ایسی شخصیت یا مورت کہی جاتی ہے، جس کے قدموں تلے جنت اور باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے جوکہ دنیا کے بحران اور حالات کا تن تنہا مقابلہ کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتا ہے،میرے بلکہ ہر ایک مسلمان کی نظرمیں ایک اور اعلیٰ وافضل شخصیت ہمارے دل وجان میں پائی جاتی ہے ، جس پرہر ایک مسلمان کا کہنا ہے کہ ”میں اور میرے گھر والے آپ پرقربان ہوجائیں “،میں بھی رسول پاک کا یوم ولادت منانے کے حق میں ہوں ،ہاں شرعی احکامات کی حدود میں رہ کر منانے کا قائل ہوں کہ اس دوران آپ کے ذریعہ ہم تک پہنچی اسلامی تعلیمات اور حدیث نبوی پر عمل کروں اور غیر مسلموںکو ان سے مطلع کروں۔مسلمان جان لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات پاک مسلمانوں کے لیے ایک شاندار مثال ہے اور حیات طیبیہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ایک امریکی ماہر فلکیات اور مورخ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی 1978ء میں شائع ہوئی مشہور زمانہ کتاب ’ہنڈریتھ ‘میں جوکہ تاریخ کی سو متاثر کن شخصیات پر مشتمل ہے ،انہوںنے انسانی تاریخ کی سو متاثر کن شخصیات کی درجہ بندی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلا درجہ دینے کی جسارت کی ۔حالانکہ مائیکل ہارٹ نے کتاب کے دیباچے میں ہی وضاحت کردی ہے کہ یہ کتاب متاثر کن شخصیات کی ہے، صرف انہی افراد کو شامل کیا ہے، جن کے کسی ایک یا بہت سے کارناموں کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے اثر قبول کیا یا متاثر ہوئے۔ وہ کارنامے جن کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کی زندگی میں واضح تبدیلی آئی ہو یا لائی گئی ہو۔ یہ فہرست براہ راست اثر انداز ہونے والوں کی ہی نہیں ہے اس میں وہ لوگ بھی ہیں جو بنیاد رکھنے والے یا کسی مکتب فکر کے بانی ہیں۔ جیسے مختلف مذاہب کے بانیان اور موجد، دریافت کنندگان، ادیب، مصور، فلسفی، سیاسی اور فوجی شخصیات کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس میں صرف تاریخ کی معلومات ہی کی شخصیات سے بحث کی گئی ہے،کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلا اور یسوع مسیح کو تیسرا درجہ دینے پر اعتراضات لازمی امر تھا۔ اور موسی علیہ وسلم کوپندرواں مقام دینے پر یہودی بھی ناراض تھے۔خیر اس سلسلہ میں مائیکل ہارٹ نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے کہ حضور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبیہ انتہائی متاثر کن ہے اوراگر کوئی اسلام کو جھوٹا کہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جھوٹ زیادہ دیر اور زیادہ دن نہیں چلتا ہے ،بلکہ انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ اسلام کے ماننے والے دنیا بھر میں دوسرے نمبر ہیں اور دنیا کے ایک بہت بڑے رقبہ پراسلامی اور مسلم مملکتیں واقع ہیں اور اسلام کے بارے میں خیال ہے کہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
یہ تو ہوئی مائیکل ہارٹ کی بات ،لیکن اگر ہم مسلمان اپنے آس پاس کا جائزہ لیں تونظرآئے گا کہ ساری دنیامیں دہشت گردقراردیئے جانے کے بعدسامراجی ملکوں میں کئی مسلم ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ،گنتی بھر دہشت گردوںکو ختم کرنے کے نام پر معصوم اور بے قصورعام شہروںکولقمہ اجل بنانے میں ذرہ برابر تاخیر نہیں کی گئی ہے اور اسے دلیری کہا جاتا ہے ،متعددممالک کی تصویروںمیں بے یارومددگاربچوں ،خواتین اور بوڑھوں کو دیکھ کر روح کانپ جائے گی ،لیکن ہم کئی فرقوں،طبقات اور مسلکوں میں بٹ کر دست وگریباں ہیں۔آخر ہوا کیا ہے ،اس پر غورنہیں کرتے ہیں ،دراصل دینی تعلیمات،حدیث نبوی پر عمل نہ کرنے اوراسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے اپنے ہی معاشرے میں اخلاق،بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور تعصب اور جانبداری کی دہائی دینے والے اپنے کلمہ گو الگ فرقے اور مسلک کے شخںکو ہی پسند نہیں کرتے ہیں۔البتہ برادروطن سے ملاقات کرنے اور ان کے ہر ایک جشن میں شامل ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر دینی بھائی جس کا تعلق دوسرے طبقہ یا مسلک سے ہو ،اسے ’ڈائرکٹ‘حملہ کرکے کافر قراردینے میں کوئی ملال نہیں محسوس کرتے ہیں۔معاشرے کا جوحال ہے ،وہ عبرت ناک ہے، لیکن گھروںکا تو اور بُراحال ہے۔
ابتداءمیں ’فاردرڈے ‘ کی بات کررہا تھاوہیں لوٹ آتا ہوں، جو 21جون کو منایا گیا ،میں نے بپی سوشل میڈیا ہر لکھ مارا ،لیکن دلی کے ایک سنیئر صحافی کی تحریر میں نے سوشل میڈیا پر پڑھی توایسا محسوس ہوا کہ وہ خود کا نہیں بلکہ میرے گھر کا حال بیان کررہے ہیں،اور 25-50سال پرانے معاشرے کا انہوں نے جو نقشہ کھینچا ہے ،وہم ہم سب کے گھر کا ہی نظر آتا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں کہ یوں تو ہر اولاد اپنے ماں باپ سے زندگی کے سنہرے اصول سیکھ کر جوان ہوتی ہے۔ماں باپ انسان کی زندگی میں رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے والد ایک ایسی بااصول اور وقت کی پابند شخصیت کا نام تھا کہ لوگ انھیں دیکھ کر اپنی گھڑی کی رفتار درست کرتے تھے۔ میں نے زندگی میں انھیں کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ صبح سویرے بیدار ہوتے، نہا دھوکر فجر کی نماز پڑھتے اور اپنے لئے ناشتہ تیار کرتے تھے۔ اسی کے ساتھ ان کا پرانا ٹرانسسٹر بھی تیار رہتا تھا جس پر بی بی سی لندن، وائس آف امریکہ اور ریڈیو جرمنی کی اردو نشریات ان کی منتظر ہوتی تھیں۔ بین الاقوامی خبروں سے آگاہی کے بعد وہ آکاشوانی کی نشریات سنتے تھے اور پھر علاقائی خبروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔ وہ قومی اور بین الاقوامی امور کی بہترین جانکاری رکھتے تھے اور خبروں کا تجزیہ کرنے کا ان کا اپنا ایک انداز تھا۔سچ پوچھئے تو خبروں کا ذوق مجھے اپنے بچپن میں ان ہی سے ورثے میں ملا جو آج میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ظہر کی نماز کے بعد لنچ کرنا اور پھر قیلولہ کرنا۔ عصر کے بعد شام کی چائے اور مغرب کے بعد ڈنر کرنا اور عشاءسے فارغ ہوکر سوجانا ان کا زندگی بھر معمول تھا۔عشاء کے بعد وہ گھر کا دروازہ بند کردیا کرتے تھے۔ اسی لئے سبھی لوگ عشاءسے پہلے گھر میں داخل ہوجاتے تھے۔اس معاملے میں کسی کو کوئی رعایت نہیں ملتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ عشاءکے بعد میں ایک مشاعرہ سننے چلا گیا۔ رات گیارہ بجے جب واپس آیا تو دروازہ نہیں کھلا اور میں نے رات اپنی بہن کے گھر جاکر گزاری۔بظاہر یہ ایک سخت اقدام کہا جاسکتا ہے، لیکن پچھلے زمانوں میں اولاد کی تربیت کرنے اور اسے اصولوں کا پابند بنانے کے لئے ماں باپ یہی سب کچھ کیا کرتے تھے۔
انھیں گھر کا سودا سلف خریدنے پر بڑا ملکہ حاصل تھا۔ مجھے بچپن میں وہ اپنے ساتھ بازار لے جاتے تھے اور بازار سے اچھی اور سستی چیزیں کیسے خریدی جاتی ہیں سب مجھے سمجھاتے تھے۔وہ شہر میں جہاں بھی جاتے تو پیدل ہی سفر کرتے تھے۔انھوں نے اندرون شہر کبھی کسی سواری کا سہارا نہیں لیا۔ کھانا ہمیشہ اکڑوں بیٹھ کر کھاتے تھے جس کی وجہ سے آخری عمر تک ان کا پیٹ باہر نہیں نکلا۔ وہ تیزقدموں سے چلتے تھے اور ہر شناسا کو سلام میں پہل کرکے اس کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ راستے میں کوئی مضر شے نظر آ جاتی تو اسے فوراً وہاں سے ہٹاتے تھے تاکہ کسی راہگیر کو نقصان نہ پہنچے۔وہ قانون اور ضابطوں کی پابندی کرنے والے انسان تھے اور یہی انھوں نے مجھے اور میرے دیگر بہن بھائیوں کو بھی سکھایا۔ زریں اصولوں کے پابند، ایک ایماندار، فرض شناس اور انتہائی مشفق ومہربان والد محترم کو آج یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے والد سے جو کچھ سیکھا وہ آج میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ آج گھروں میں ان چیزوں پر برائے نام ہی توجہ دی جاتی ہے اور اکثر گھروں میں ما ں باپ سے بچوں کا تعلق محض واجبی سا رہ گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تربیت کا پہلو غائب ہوگیا ہے اور سب کچھ مادیت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔معاشرتی تربیت کا نظام فنا ہونے کا جو نقصان ہمارے معاشرے کو پہنچ رہا ہے، اس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگاسکتے۔والدین کے ساتھ ساتھ عزیزواقارب ،پڑوسیوں،کنبہ اور برادری کے لوگوں کی عزت واحترام کوسوں دورہوچکی ہے۔حال میں ایک تقریب میں ایک مسلم نوجوان نے مہمانوں کے عقب میں دیوار پر لٹکے تغرے پر لکھے کلمہ طیبہ کے بارے میں یہ پوچھا کہ یہ کونسی ڈیزائن ہے تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی اور اُس وقت کھانا کھاتے ہوئے نوالہ میرے حلق میں اٹک گیا ۔نماز جمعہ میں آخری وقت پرمسجد تک پہنچنا اور باہرسڑک پر صفوں میں شامل ہوکر دورکعت اداکرکے اپنی راہ لینا نوجوانوںکا معمول بن چکا ہے ،مسجد کے صحن میں پچھلی صف میں بیٹھ کر خطبہ کے دوران ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے میں نے کئی بار موبائل چھین لیا،مسجد بند کیے جانے پر افسوس اور بیان بازی کرنے والوں سے دریافت کیا جانا چاہئیے کہ مسجد کی قدرواحترام کب ہمارے درمیان رہی ہے ،امام اور موذن سے ہمارا رویہ ،ٹرسٹیوںاور مقتدیوںکے درمیان کشےدگی اورصفوں سے نوجوانوں کی گمشدگی اور ہر ایک نماز میں محض15-20نمازیوں کے لیے لاوڈاسپیکر پر زوردارآواز سے اذان دینا معمول بنا ہوا ہے۔اور کسی کے اعتراض پر واویلا مچا دیتے ہیں۔گندگی اور منشیات زندگی کا جز بن چکا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی کے دوران نرمی اور مصلحت سے گفت وشنید کے بجائے تصادم کی صورت پیدا کرنا بھی روز کی بات ہوچکی ہے،لاک ڈاﺅن میں کچھ حد تک صبر وتحمل کا ضروری مظاہرہ کیا گیا ہے،لیکن کورونا وائرس وباءپھیلانے میں مسلمانوں کو موردالزام ٹہرانے پر ایک حد تک آپسی اتحاد نظرآیا ،لیکن وہ وقتی عمل تھا،کیونکہ مسلمانوںکا معمول بن چکا ہے کہ اپنے کلمہ گو فرقے کے خلاف کارروائی کے لیے خود ہی ضلع کلکٹر ،مجسٹریٹ ،ریاستی اور مرکزی حکومت کو میمورنڈم دینا فرض سمجھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح کی ایک وباءکے پھیلنے کے لیے وطن عزیز میں ہمیں ذمہ دار قراردے دیا گیا ،آخر وہ جانتے ہیں کہ کمزورکو سب سے پہلے بکرا بنایا جائے اور مسلمانوںمیں جلد پھوٹ ڈالنے کافن بھی وہ سیکھ گئے،بلکہ برسوس کے ایجنڈے پر عمل جاری ہے ، کیونکہ یہ ایک دوسرے کا گریبان چاک کرنے میں تاخیر نہیں کرتے ہیں اور پھر ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: