مضامین

مسلمانوں کی چھوٹی آبادیاں بڑی آبادیوں میں منتقل ہوجائیں

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

مسلمانوں کی چھوٹی آبادیاں بڑی آبادیوں میں منتقل ہوجائیں
٭مولاناؒکانظریہ تھاکہ آنےوالےہندوستان میں مسلمانوں کےجان ومال کے تحفظ نیزاسمبلیوں میں ان کی صحیح نمائندگی کےلئےضروری ہےکہ مسلمانوں کی چھوٹی آبادیاں بڑی آبادیوں میں منتقل ہوجائیں،انہوں نےبہت سےزمینداروں کواس جانب توجہ بھی دلائی تھی ،مگر:
کون سنتاہےفغان درویش
قہر درویش برجان درویش
حضرت مولانامفتی محمدظفیرالدین صاحب نقل فرماتے ہیں کہ "۱۹۳۸؁ء میں ایک مجلس کےاندرسیاست حاضرہ پرگفتگوکرتےہوئےآپ نے فرمایا:
” میں مسلمان زمین داروں سے کہتا ہوں کہ وہ اُن بکھرے ہو ئے
مسلمانوں کویکجاآبادکرنےکی سعی کریں جو چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں
منتشرہیں،اس سےخودان زمینداروں کوبھی فائدہ ہوگااورآکر بسنے
والےمسلمانوں کوبھی،مگرمیری یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی
ہے۔
مولاناؒنےفرمایاکہ :
انگریزوں کواس ملک سےجاناہےمگران کےاس ملک سےچلےجانے
کے بعدبڑانازک وقت آئےگا،یہاں بڑی کشمکش ہوگی،بڑےپیمانے
پرخوں ریزی بھی ہوگی،اس وقت مسلمان جہاں تھوڑی تعدادمیں
ہوں گے ان کا بچنامشکل ہوجائےگا،اگریہ اس وقت ایک جگہ جمع
ہوکربڑی بڑی آبادیاں بنالیں گے تو آئندہ یہ قلعہ کا کام دیں گی،
خودیہ زمیندارگھرانےبھی محفوظ ہوجائیں گے،اوریہ بکھرےہوئے
غریب ومفلس مسلمان بھی،گوابھی یہ بات ذہن نشیں نہیں ہوتی،
مگرانہیں دیرسویرپچھتاناپڑےگااورپھر یہ موقعہ بھی میسرنہیں ہوگا،
جوآج حاصل ہے،زمیندارمفت زمین دیتےہوئےگھبراتےہیں،اور
عوام اپنی آبادی سےجداہونابرداشت نہیں کرتےمگرنہ زمینداروں
کی زمینداری رہےگی،اورنہ ان بکھرے ہوئے تھوڑےتھوڑے
مسلمانوں کےجان ومال کی کوئی گارنٹی”
ان باتوں کو۱۹۳۸؁ء میں اچھےاچھوں نےکوئی اہمیت نہیں دی،مگر۱۹۴۶؁ء میں جب بہارمیں فسادہوااورچھوٹی آبادیاں جلنےاوراجڑنےلگیں اوربہت سےزمیندارگھرانےبرباد ہوئے،اسوقت اندازہ ہواکہ مؤسس امارت شرعیہ نےکتنی دوراندیشی کاثبوت دیاتھا ۔
علاوہ آج جس طرح مسلم ووٹوں کااستحصال ہورہاہے،اگرحضرت مولانا سجادؒکی اس اسکیم پرعمل کیاگیاہوتاتوبڑی حدتک اس کابھی سدباب ہوسکتاتھا۔
حضرت مولاناؒنےیہ بات اس وقت فرمائی تھی جب یہ چیزاپنےاختیارمیں تھی ،اب نہ مسلم زمیندارباقی رہےاورنہ نقل مکانی کی کوئی صورت باقی رہی ،اور نہ اس جانب توجہ دلانے والاکوئی رہا۔
گرچہ ہیں تابدارابھی گیسوئےدجلہ وفرات
قافلۂ حجاز میں کوئی حسین ہی نہیں
آج اس نظریہ کی معنویت وحیاتیت تسلیم کرنےکےباوجودکف افسوس ملنےکے سواکوئی چارہ نہیں،فالامرالی اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: