اہم خبریںمضامین

مسلم سیاسی پارٹیاں کامیابی کیوں نہیں حاصل کر پاتی ہیں ؟

محمد سفیان قاسمی گڈا جھارکھنڈ

ستر سالوں سے مسلمان طرح طرح کی سیاسی پارٹیاں بناتے آ رہے ہیں مگر ابھی تک کامیابی نہیں مل رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ ، حالانکہ بعض ریاستوں میں مسلمانوں سے کم تعداد رکھنےوالی جاتیوں کی مضبوط پارٹیاں بھی ہیں اور انھوں نے سرکاریں بھی بنائیں. اس کی وجہ ان مثالوں سے سمجھ میں آسکتی ہے

یا دو جب اپنی پارٹی بناتے ہیں تو اس کا نہ تو نام ایسا رکھتے ہیں جس میں یادو کا لفظ آنا ضروری ہوتا ہے اور نہ وہ اس کے لیڈران کھلم کھلا ایسا تاثر دیتے ہیں کہ یہ یادو کی پارٹی ہے بلکہ اس طرح تاثر دیتے ہیں کہ یہ تمام غریب، مظلوم، دبے کچلے اور تمام اقلیتوں کو لے کر چلنے والی پارٹی ہے اگر چہ ان کے عمل سے اس کی مکمل تائید نہیں ہوتی ہو.

سنتھال پارٹی بناتے ہیں تو اس کا نام آل انڈیا سنتھال کلیان پارٹی نام نہیں رکھتے اور نہ ہی ایسا تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سنتھال کی پارٹی ہے. حالانکہ قانونی اعتبار سے ایسا نام رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے

کرمی اور ہریجن وغیرہ کا بھی یہی حال ہے

اسی وجہ سے آپ کو اس طرح کے نام ملیں گے راشٹریہ جنتا دل، جنتا دل یو نائٹیڈ، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ لوک دل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ لیکن آپ کو ، آل انڈیا یادو پارٹی ، بھارتیہ یادو دل، انڈین یادو یونین نہیں ملے گا یہاں تک کہ پہلے ایک پارٹی جن سنگھ کے نام سے ہوا کرتی تھی جس سے ایک خاص طبقہ کے ہونے کا تاثر ملتا تھا تو اس کو بدل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کر دیا اور وہ کام جو بھی کرے مگر نعرہ ہوتا ہے سب کا ساتھ سب کا وکاس

مگر مسلم پارٹیوں کا حال یہ ہے کہ بغیر مسلم کے لفظ سے اس کا نام شروع نہیں ہوگا، اور اس کے لیڈران کا بھاشن سنئے تو معلوم ہوگا کہ یہ کسی مسجد یا جلسہ کی تقریریں ہیں، دور دور تک تاثر نہیں ملے گا کہ وہ سب کے لئے کام کرنے والی پارٹی ہے، یہ لوگ سیکولر پارٹیوں کی دھجیاں خوب اڑاتے ہیں مگر ان کی پارٹی میں نہ تو سیکولرازم پایا جاتا ہے اور نہ تمام طبقات کے لئے کوئی خوشخبری، ظاہر ہے کہ تنہا مسلمانوں سے کامیابی نہیں مل سکتی اور دوسرے افراد کے لئے نام اور بھاشنوں کی وجہ سے اس پارٹی میں کشش نہیں ہوتی، ایسے میں نتیجہ وہی ہوگا جو ہو رہا ہے.

کم تعداد والی جاتی کے افراد نے اچھی حکمت عملی اختیار کرکے کامیابی حاصل کر لی مگر ان سے زیادہ تعداد والے لوگ سڑکوں پر ستر سالوں سے احتجاج کر رہے ہیں، یہ ان کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: