مضامین

مسلم لڑکیوں کی غیر مسلموں سے شادی!اسباب و علاج

تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

گزشتہ چند سالوں سے آئے دن اخبارات میں یہ خبریں پڑھنے اور سننے میں مسلسل آرہی ہیں کہ فلاں لڑکی اپنے ایک شناسا کے ساتھ گھر سے فرار گئی بلکہ معاملہ اب تو اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ مسلم لڑکیاں اپنے غیر مسلم عاشق یا دوست کے ساتھ نکل جارہی ہیں ملک کے مختلف علاقوں سے یہ روح فرسا خبریں مسلسل آ رہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کررہی ہیں، اور اپنا دین و ایمان اورضمیر وحیا بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگارہی ہیں، اس طرح کے اکادکاواقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن ادھر چند برسوں سے آئے دن ایسی لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہونچ رہی ہیں ابھی چند دن پہلے ایک صاحب علم نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ میرے رہائشی شہر کے قریب ایک صنعتی شہر میں 200 سے زائد مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادی کرلی ہے اور سب خاموش رہے کہیں سے کسی طرح کی کوئی آواز نہیں آئی نہ کوئی ٹرینڈ چلا نہ کوئی ڈبیٹ ہوئی لیکن تعجب ہے کہ حالیہ دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ ‘تَنِشق’ کا ایک اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں ایک مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی” کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں” کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے زبردست ہنگامہ شروع کردیا۔جس کے نتیجے میں کمپنی کو اشتہار واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا ۔بہرحال محض اشتہار کے ذریعہ اگر خیر سگالی کا پیغام دینے کی کوشش کی جائے تو "لو جہاد” ہو جائے اور اگر غیر مسلم لڑکے مسلم لڑکیوں سے شادی کررہے ہیں تو ڈبیٹ کیوں نہیں ہورہی ہے ٹرینڈ پر ٹرینڈ کیوں نہیں چلاۓ جارہے ہیں بتائیے اسے کون سا جہاد کہا جاۓ.
ٹائمس آف انڈیا کی سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں چالیس ہزار سے زائد مسلم لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادی رچائی ہے مزید برآں اس میں روز بروز تیزی کے ساتھ اضافہ بھی ہو رہا ہے اور اس سے بھی کربناک و افسوسناک خبر یہ کہ حیدرآباد کی ایک اعلی تعلیم یافتہ اچھی شکل و صورت کی مالک دولت مند باپ کی 24 سالہ بیٹی ایک موچی ذات کے 40 سالہ ہندو سے معاشقہ کے بعد شادی کرلیتی ہے اور جب اس شادی کو رسمی شکل دینے کی بات آئی تو اس تقریب میں اس لڑکی کا نام نہاد مسلم باپ اپنے پچاس سے زائد رشتہ داروں کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے شرکت کرتا ہے اس قسم کی خبریں جو آئے دن اخبارات کی زینت بن رہی ہیں یہ اس امر کی عکاسی کررہی ہیں کہ موجودہ دور میں مسلمان نہ صرف اپنا دین و اخلاق بلکہ اپنا تشخص بھی کھوتا جارہا ہے. ان واقعات سے مسلمان ، خصوصاً نوجوان اور خاص طور پر دیندار نوجوان گہرے قلق و اضطراب کے شکار نظر آرہے ہیں ، بہت سے قومی غیرت رکھنے والے کالم نویس اخبارات میں اپنے رنج و الم غم وغصہ کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں ، کوئی اسے آر ایس ایس کی سازش کا نام دیتا ہے کوئی لڑکی کو مورد الزام ٹھہراتاہے اور کچھ لوگ شادی بیاہ سے متعلق معاشرہ میں پائی جانے والی غیر ضروری رسم و رواج کو بیماری کا اصل سبب بتلاتے ہیں . مذکورہ باتیں اپنی جگہ مسلم ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس کا ایجنٹ ان لڑکیوں تک کیسے پہنچا ان لڑکیوں نے ایسا باغیانہ قدم کیوں اٹھایا اور ایسے ظالمانہ رسم و رواج کو معاشرہ نے وجوب کی حیثیت کیوں دی ؟ دانستہ یا نادانستہ سارے لوگ ان وجوہات سے چشم پوشی کرتے کیوں نظر آرہے ہیں اگر کوئی اس طرف توجہ دیتا بھی ہے تو اسے دبے الفاظ میں اس کا ذکر کیوں کرنا پڑتا ہے؟ ان واقعات کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ قوم کے غیور و دانشور حضرات اصل سبب کو تلاش کریں آر ایس ایس کے بجائے حقیقی مجرم کون ہے اس کی نشاندہی کریں اور لڑکیوں کے ایسے باغیانہ قدم اٹھانے پر کیا شرعی احکامات مرتب ہوتے ہیں اسے واضح کریں تاکہ مرض کا صحیح علاج کیا جاسکے بصورت دیگر ” لیھلک من عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ ” تاکہ جو ہلاک ہو دلیل پر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل پر یعنی حق کو پہچان کر زندہ رہے ۔
*برائی کا اصل سبب* : میری ناقص معلومات کے مطابق اس برائی کا اصل سبب دین کی کمی اور مسلم گھرانوں میں دینی ماحول کا فقدان ہے آج ہمارے بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کے مسلمان ہونے کا معنی کیا ہے ؟ ہم مسلمان کیوں ہیں ؟ ہم میں اور کافر میں کیا بنیادی اور حقیقی فرق ہے. یہ امر اچھی طرح ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اگر کوئی مسلم لڑکی کسی غیر مسلم سے شادی کرتی ہے خواہ وہ والدین کی اجازت ہی سے کیوں نہ ہو یہ معاملہ خطرناک سے خطرناک تر ہے کیونکہ شرعی طور پر ایسا نکاح باطل اور مزید یہ کہ ایسا عمل کفر اور دین سے ارتداد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور مشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لالیں( البقرہ221)نیز فرمایا : ” یہ مومنہ عورتیں ان کے یعنی کافروں کے لئے حلال نہیں اور وہ کافر مرد ان کے یعنی مسلمان عورتوں کے لئے حلال نہیں “( الممتحنۃ10)ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ برضا و رغبت مسلمان نہ ہوجائے ، لہذا اسے جائز سمجھنا ، اس پر راضی ہونا ، اس پر موافقت کا اظہار کرنا علماء کے نزدیک متفقہ طور پر کفر اور دین سے پھر جانا ہے ، لہذا معاملہ بڑا ہی خطرناک ہے ، وہ لڑکی جو کسی غیر مسلم سے شادی کرنا چاہتی ہے یا کررہی ہے اور اس کے والدین اگرچہ طوعا وکرھا اس پر موافقت ظاہر کررہے ہیں ، انہیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ ان کی لڑکی اور وہ خود دین اسلام سے نکل کر دین کفر میں داخل ہورہے ہیں ، اللہ تعالی کے گروپ سے جدا ہو کر شیطان کے گروپ میں شامل ہورہے ہیں اور بالآخر جنتیوں کے گروہ سے کنارہ کش ہوکر جہنمیوں کے گروہ میں داخل ہورہے ہیں ایسا شخص اگر نماز بھی پڑھتا ہے ، روزہ بھی رکھتا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کو حلال سمجھ رہا ہے لہذا کافر ہے اور اس کے کفر پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے. رب قدیر کا ارشاد ہے : یہ اس لئے کہ وہ ایسی راہ پر چلے جس سے انہوں نے اللہ تعالی کو ناراض کردیا ، اور اللہ تعالی کی رضامندی کے کام کو ناپسند کیا تو اللہ تعالی نے بھی ان کے تمام اعمال اکارت کردیئے. (محمد 28) نیز جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ وہ مرجائیں اورنہ دوزخ کا عذاب ہی ان سےہلکا کیا جائے گا ، ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ، اور کافر لوگ اس جہنم میں چیخیں ماریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال لے ، اب ہم اچھے کام کریں گے ، برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے لیکن جواب میں اللہ تعالی فرمائے گا: کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچتا تھا ، لہذا مزہ چکھو ، ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں( فاطر : 36-37)
*علاج و تدارک* ارتداد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اس لہرکو روکنے کے لیے میری ناقص رائے یہ ہے کہ مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔(1)اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں کو پردے کا پابند بنایا جائے،ان میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کاجذبہ ،اورعقیدۂ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کی جائے۔روزانہ ہمارے گھروں میں آدھے گھنٹے ہی سہی کسی اچھی مستند اور ذہن و دل کو متاثر کردینے والی کتاب کو پڑھاجائے۔ (2)مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایا جائے، غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قیام پر بھرپور توجہ دی جائے اور محفوظ ماحو ل میں معیاری تعلیم کاانتظام کیا جائے۔ (3)جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں ان کی دینی تعلیم وتربیت اورذہن سازی کی بھرپور کوشش کی جائے ان کی عادات ، اطوار ، اخلاق پر پوری نظررکھی جائے، کردار سازی میں معاون بننے والا لٹریچر انہیں مطالعے کے لیے دیا جائے۔ (4)ٹیوشن کلاس کے نام پر اجنبی لڑکوں سے اختلاط کا موقع نہ دیا جائے کسی ٹیچر یاساتھی طالب علم کے گھر پر کسی تعلیمی ضرورت کے نام سے بھی جانے کی اجازت نہ دی جائے کالج لانے لے جانے کاخودانتظام کیا جائے۔ (5)اینڈرائڈ موبائل-فون اور بائک خرید کر نہ دی جائے اور اگر دینا ضروری ہوا تو اس پر نگرانی رکھی جائے کیونکہ یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں.(6) موبائیل ریچارج یا زیراکس کے لیے غیر مسلموں کی دوکان پرجانے کی اجازت نہ دی جائے اسی طرح کالج کے اندر یا اس سے قریب غیرمسلموں کے کینٹین سے بچنے کی ہدایت کی جائے۔(7) غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی سے بھی روکا جائے کہ آئندہ یہ دوستی بھی کسی فتنہ کادروازہ بن سکتی ہے۔(8) بچیوں کے مسائل اور ان کو پیش آنے والی پریشانیوں پر توجہ دی جائے، یاد رکھیں! گھر میں توجہ کی کمی باہر کا راستہ دکھاتی ہے۔ (9) اگر بچیاں کسی تعلیمی ضرورت سے انٹرنیٹ استعمال کررہی ہیں تو ان کی بھرپور نگرانی کی جائے اس لیے کہ بھٹکنے اور بہکنے کے اکثر دروازے انٹر نیٹ کے ذریعہ کھلتے ہیں.
Hashimazmi78692@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close