مضامین

مسلم مجلس مشاورت: اندرونی جھگڑا اور انا کی لڑائی؟ ! یہ لڑائی کہاں جاری ہے؟ کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ، کوئی شک نہیں

مسلم مجلس مشاورت سے متعلق ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۱کو ’’مسلم مرر‘‘کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ انتہائی گمراہ کن اور یک طرفہ ہے۔ اس میں یہ دعوی کیا گیا گیا ہے کہ مسلم مجلس مشاورت میں ایک ’’اندرونی جھگڑا‘‘ چل رہا ہے اور یہ کہ یہ ’’دو افراد کے بیچ کا تنازعہ‘‘ ہے۔ یہ دعوی اصل حقیقت سے بہت بعید ہے۔ میں یہ تردیدی جواب بادل ناخواستہ لکھ رہا ہوں کیوں کہ میری خاموشی سے یہ سمجھا جائے گاکہ مذکورہ رپورٹ میں اوربعض دوسری جگہوں پر جو دعوے کیے گیے ہیں وہ درست ہیں۔

اس تنازع کا سبب شروع سے ہی موجودہ صدر کا آمرانہ رویہ ، غیر آئینی طریقہ کاراور اقدامات رہا ہے۔ حالانکہ ان کی دو سالہ مدت کارتقریبا دو سال قبل ختم ہوچکی ہے لیکن وہ ابھی تک سپریم گائیڈنس کاؤنسل کے صدر کےایک خط کے حوالے سے اپنے منصب پر قائم ہیں حالانکہ انہوں نے اس سے قبل ایک موقع پر خود ہی اس کاؤنسل کے کسی ایسے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکارکردیا تھا جو ان کے اپنے موقف کے خلاف ہو ؛ یہاں تک کہ انھوں نے اسی کاؤنسل کے اسی مسئلے پر بلائے جانے والے اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کردیا تھا۔ جس کی کچھ تفصیل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ کہنا کہ مسٹر نوید حامد غیر قانونی طور پر منصب صدارت سے چپکے ہوئے ہیں، محض ایک ’’الزام ہے جس میں بہت کم وزن ہے‘‘ کیونکہ تنظیم کی مقتدراعلیٰ باڈی سپریم گائڈنس کاؤنسل نے موجودہ صدر کی مدت کار میں توسیع کی تصدیق کردی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ خط کاؤنسل کے سربراہ نے اپنی ذاتی حیثیت سے جاری کیا ہے۔ اس کاؤنسل کا ایسا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس میں ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ مذکورہ خط اس وقت جاری کیا گیا ہے جب مسٹر نوید حامد نے خود کہہ دیا تھا کہ اس معاملے میں اس کاؤنسل کا رول ختم ہو چکا ہے۔ محترم مولانا صاحب کے پورے احترام کے ساتھ ہمارا موقف ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، کاؤنسل کی رائے نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی اجلاس کبھی اس مقصد کے لیے منعقد ہی نہیں ہوا ۔

مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ کاؤنسل نے ، جو کئی ملی تنظیموں کے ۵۷ سالہ وفاق کی نگرانی اور رہنمائی کرتی ہے ، تمام ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے اخذ کردہ اصولوں کی پابندی کریں‘‘۔ یہ ’’اپیل‘‘ صدر کاؤنسل کی عاجزی اور کمزور ی کو ظاہر کررہی ہے اور یہ بھی واضح کررہی ہے کہ محترم مولانا کو اپنی کمزور پوزیشن کا احساس ہے اور اسی لیے وہ صرف ایک’’اپیل‘‘ کررہے ہیں (ہدایت نہیں دے رہے ہیں) ۔ یہ’’ اپیل‘‘ بھی ان کی ذاتی رائے ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں مسٹر نوید حامد کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’خان کے جاری کردہ خط کے چار پانچ دستخط کنندگان کو سالوں پہلے تنظیم سے نکال دیا گیا ہے‘‘۔ یہ نکالے گئے ارکان کون ہیں؟ انہوں نے صرف مسٹر انیس درانی کو نکالا ہے اور ان کی یہ کاروائی بھی نہایت قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے کیونکہ مبینہ اخراج سے پہلے نہ انیس درانی کو کوئی وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا، نہ چارج شیٹ دی گئی اور نہ اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ان سے کہا گیا۔ لہٰذا اخراج کی یہ کاروائی قانون کی رو سے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ مزید برآں یہ بات بھی غورطلب ہے کہ کیا مشاورت کی مجلس عاملہ کسی ممبر کو نکال باہر کرنے کی مجاز ہے کیونکہ مشاورت کے دستور میں اخراج سے متعلق شق کہتی ہے کہ اخراج کے فیصلے کی توثیق اعلیٰ اتھارٹی سے کرانی ہوگی جو کہ اس معاملے میں جنرل باڈی یعنی مرکزی مجلس ہے جس کا پچھلے دو سالوں میں کوئی اجلاس نہیں ہوا ہے۔

مسٹر حامد نے پچھلے دو سالوں کے دوران جنرل باڈی کی کوئی میٹنگ نہیں بلائی ۔اس کے لیے وہ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا عذر لنگ پیش کرتے ہیں ھالانکہ اسی لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے اسی عرصے میں مجلس عاملہ سمیت مشاورت کے دفتر میں کئی میٹنگیں بلائیں اورکورونا اس میں حائل نہیں ہوا۔

مسٹر نوید حامد نے مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ’’ شروع سے ہی میں نے اپنا راستہ کانٹوں بھرا پایا۔ میرے اوپر کام کا دوہرا بوجھ تھا: گھر کو ترتیب دینا اور مشاورت کے کاموں کو ہموار کرنا‘‘۔ ان کا یہ دعویٰ محض مگرمچھ کے آنسو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ (ان کے دورسے پہلے) مشاورت انتہائی تیز و سبک رفتاری سے سرگرم تھی ۔اس کا کام مرحوم سید شہاب الدین اور ان کے بعد میرے دور میں بہت منظم رہا۔ یہ مسٹر نوید حامد ہیں جنہوں نے اپنی متعصبانہ سیاست ، یک طرفہ اور غیر آئینی اقدامات سے ماحول کو بگاڑا جس کی وجہ سے ایک ایسے رکن نے ، جو کبھی ان کا قریبی دوست اور معتمد تھا،با دل ناخواستہ عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔

مذکورہ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’اس پریشان کن صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں کو یقین نہیں کہ اپنے موقف پر ’’اڑیل‘‘خان کاؤنسل کے مشورے پر توجہ دیں گے‘‘۔ یہ بات قطعی غلط اور حقیقت کے برخلاف ہے۔ کیا میں نے 5 دسمبر 2019 کو کاؤنسل کی آخری میٹنگ میں مسٹر نوید حامد کی موجودگی میں مولانا عمری صاحب سے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اس میٹنگ میں موجود ممبران کاؤنسل مولانا عمری صاحب ، مولانا نظام الدین اصلاحی صاحب اور مولانا اصغر امام سلفی صاحب کے کسی بھی فیصلے کو تسلیم کرنے کو تیار ہوں؟ مشاورت کے سیکرٹری جنرل مجتبیٰ فاروق صاحب کی طرف سے جاری کی گئی اس میٹنگ کی روداد کے مطابق مسٹر نوید حامد نے اس پر کہا تھا کہ وہ ’’ کاؤنسل کے فیصلے کو صرف اس صورت میں قبول کریں گے جب وہ آئین کے مطابق ہو ورنہ وہ عدالت میں جائیں گے‘‘ (مشاورت کے سیکرٹری جنرل مجتبیٰ فاروق صاحب کی مرتب کردہ میٹنگ کی روداد جو انہوں نے ۶ جنوری ۲۰۲۰ کو بھیجی) ۔لہذا اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کون اڑیل ضدی ہے اور کون اکثریت کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ لیکن اس فیصلے کی بنیاد کاؤنسل کے صدر کا ذاتی خط نہیں ہونا چاہیے بلکہ کاؤنسل کی اکثریت کا فیصلہ ہونا چاہئے۔

مشاورت کے سیکریٹری جنرل نے اس کےبعد ۱۶ فروری ۲۰۲۰ کو کاؤنسل کی ایک اور میٹنگ منعقد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مسٹر نوید حامد نے یہ کہتے ہوئے اس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا کہ کاؤنسل کی ذمے داری عدالتی کیس واپس لینے کے بعد ختم ہو گئی ہے ، اس لیے میٹنگ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر میٹنگ بلائی گئی تو وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے (سیکرٹری جنرل مجتبیٰ فاروق کا کاؤنسل کے ممبران کو خط مؤرخہ ۱۴ فروری ۲۰۲۰)۔

یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں نے اس معاملے میں دلچسپی دو وجوہات کی بنا پر لی ہے : (ا) ایک شخص کی بدولت ایک ایسی تنظیم کی تباہی کو دیکھ کر میری اپنی پریشانی اور مایوسی ، کیونکہ اس تنظیم کو بلندیوں تک پہنچانے کے لیے خود میں نے سالوں جدوجہد کی اور بغیر کسی معاوضے کے اپنا وقت اور پیسہ لگایا ، (ب) مرحوم سید شہاب الدین نے اپنی وفات سے پہلے مجھے بار بار وصیت کی کہ اس شخص سےمشاورت کو نجات دلاؤ کیونکہ وہ اس کو تباہ کررہا ہے۔ وہ اس قدر اذیت میں تھے کہ انہوں نے مسٹر نوید حامد کی تباہ کن سیاست پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی موت سے پہلے مشاورت سے استعفیٰ تک دے دیا تھا۔ مسٹر حامد نے اس خط کو آج تک چھپا کر رکھا ہے۔ میں آج وہ خط جاری کر رہا ہوں تا کہ سب لوگ جان لیں مشاورت کے عظیم رہنما نے اس شخص کے بارے میں کیا محسوس کیا اور کس طرح عالم اضطرا ب و مایوسی میں تنظیم کو چھوڑ دیا۔

اگر یہ کہا جائے کہ آج مشاورت پوری طرح مفلوج ہوچکی ہے توکیا اس میں کوئی مبالغہ ہوگا؟ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مسلم مجلس مشاورت تو اسی دن مفلوج ہوگئی تھی جب مشاورت کی روایت اور اخلاقی اقدار کے قطعی بر خلاف بھاری لابینگ کرکے مسٹرنوید حامد صدر چنے گیے۔برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ میں تین مرتبہ مشاورت کا صدر چنا گیا اورایک بار بھی کسی رکن سے میں نے اپنے لیے ووٹ نہیں مانگا۔

مجھے یہاں یہ وضاحت بھی کردینی چاہیے کہ میں خود مشاورت کی صدار ت کا خواستگار نہیں ہوں۔ میں نے کئی بار اس بات کو واضح کیا ہے اور ایک بار پھر یہاں کرتا ہوں : شکریہ، میں تین بار مشاورت کا صدر منتخب ہوا اور سید شہاب الدین صاحب نے مجھے دو بار ایک ایک سال کے لیے ورکنگ صدر بنایا۔ یہ کافی تھا۔ اب مجھے صدر بننے کی خواہش نہیں۔ میرے کرنے کے لئے بہت سے کام ہیں۔

میری خواہش صرف یہ ہے کہ ایک زمانے میں ملت کی سرکردہ و سرگرم تنظیم دوبارہ پٹری پر آجائے اور دوسری شخصیات کو اب اپنا کردار ادا کرنے دیا جائے۔آج یہ تنظیم جمود کا شکار ہے۔ ہماری تاریخ کے اس انتہائی حساس دور میں یہ تنظیم کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے ۔ اس کے راستے کی واحد رکاوٹ ایک فرد واحد کی ہمالیائی انا ہے حالانکہ یہ شخص کسی تنظیم کی قیادت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ وہ تنظیموں کا کریہ کرم کرنے والا گورکن ہے۔ اس نے موئمن MOEMIN کو موت کے گھاٹ اتاردیا جس کی پچھلی دو دہائیوں کے دوران اس نے کوئی میٹنگ نہیں بلائی (میں اس سے پہلے اس کا جنرل سیکرٹری تھا )۔ اس نے مئی ۲۰۰۸ میں نرملا دیش پانڈے کی وفات کے بعد جنوبی ایشین کونسل برائے اقلیات کو قبر میں پہنچادیا۔ میری معلومات کے مطابق اس کا بھی کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا (میں اس کی ایگزیکٹو کا رکن ہوں)۔ کیا مجھے کچھ مزید کہنا چاہیے؟

(مضمون نگار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ہیں)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: