اسلامیات

مشترکہ خاندانی نظام شرعی نقطہ نظر سے

مفتی اختر امام عادل صاحب مہتمم جامعہ ربانی منورہ شریف سمستی پور بہار

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ پاک نے اس روئے زمین کو انسانوں سے آباد کیا،ان کے آپس میں رشتے ناطے قائم کئے،ایک دوسرے کے ساتھ ضرورتیں وابستہ کیں،باہم تعارف کے لئے خاندانوں اور معاشروں کا سلسلہ جاری کیا،اور حقوق وفرائض کا ایک کامل نظام عطا فرمایا،یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسان باہم مربوط بھی ہے اور ان کے درمیان کچھ فاصلے بھی ہیں،انسان بہت سے سماجی اقداروروایات کا پابند بھی ہے اور اپنی پرائیوٹ زندگی میں بہت حد تک آزادبھی،یہ دونوں چیزیں توازن کے ساتھ ہوں تو گھر اور معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے اور توازن بگڑجائے تو وہی گھر اور سماج جہنم کا نمونہ بن جاتاہے،……
انسانی فطرت
انسان فطری طور پر حریت پسند واقع ہوا ہے،وہ سخت اجتماعیت میں بھی انفرادیت کا خواہاں ہوتا ہے اور بے پناہ مشغولیت میں بھی تنہائی کا متمنی ہوتا ہے،اللہ پاک نے انسان کی عجیب خلقت بنائی ہے وہ سب کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اکیلارہنا چاہتا ہے اور تنہائی میں بھی وہ اکیلا نہیں ہوتا،ہر شخص کی اپنی شناخت ہے،اپنا ذوق اور مزاج ہے،اپنے مسائل اور ضروریات ہیں اور کوئی شخص زندگی کے کسی بھی مرحلے پر اس کے لئے ہرگز رضامند نہیں ہے کہ اس کی شناخت گم ہوجائے اور اس کے ذوق ومزاج اور شخصی مسائل کو دوسروں کی خاطر نظر انداز کیا جائے،ہراعتدال پسندانسان چاہتا ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے مگر دوسروں کے لئے خود اس کی شخصیت فنا نہ ہوجائے،عام انسانی اقدار کا لحاظ واحترام ضروری ہے مگر اس کی اپنی پرائیویسی بھی ختم نہ ہو،وہ دنیا کے ہررنگ ونوع کو قبول کرنے کو آمادہ ہے مگر اس کااپنا امتیاز بھی برقرار رہنا چاہئے،انسان کے اسی مزاج اور طبقاتی اور خاندانی رنگارنگی کے اسی راز کو قرآن کریم نے مختصر اور بلیغ اندازمیں اس طرح بیان کیا ہے:
جعلناکم شعوباً وقبائل لتعارفوا(الحجرات:۳۱)
ترجمہ: ہم نے تمہارے اندر مختلف جماعتیں اور خاندان بنائے تاکہ تم باہم پہچانے جاؤ
طبقاتی فرق کا مقصد
یہ طبقاتی فرق انسان کے لئے ایک امتحان ہے کہ اس فرق کا استعمال بندہ کس طور پر کرتا ہے؟قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے:
وہوالذی جعلکم خلٰئف الارض ورفع بعضکم فوق بعض درجات لیبلوکم فی مااٰتکم إن ربک سریع العقاب وإنہٗ لغفوررحیم (۶:۶۶۱)
ترجمہ:اللہ پاک ہی نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور باہم فرق مراتب رکھا تاکہ تم کو عطاکردہ چیزکے بارے میں آزمائے،بیشک تیرا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور وہ یقیناً بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔
اسی لئے شریعت مطہرہ نے اپنے تمام قانونی احکام اور اخلاقی ہدایات میں اس فطری تنوع کالحاظ رکھا ہے،زندگی کا کوئی مرحلہ ہواسلام نے اپنے کسی بھی حکم میں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ اس نے کسی فریق یازندگی کے کسی پہلوکو نظرانداز کیا ہو،یا کسی کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہو،اسلامی قانون سراپا عدل وانصاف پر مبنی ہے،اسی بنیاد پر یہ دین قیم اور دین فطرت ہے،اسلام کے نزدیک عدل ہی تقویٰ کا معیا ر ہے۔
قرآن کی ہدایت ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے:
اعدلوا ہواقرب للتقویٰ (مائدۃ:۸)
ترجمہ: انصاف کرو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے،
احکام وہدایات میں ہر طبقہ کی رعایت
ہم مثال کے طور پر اسلام کی چند ان ہدایات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کاتعلق دو مختلف المراتب فریقین سے ہے اور جن سے انسان کوروزوشب دوچار ہونا پڑتا ہے:
٭والدین اور اولاد دومختلف طبقے ہیں مگر اسلام نے دونوں کے مراتب کا مکمل لحاظ رکھتے ہوئے قانونی ہدایات دی ہیں، ایک طرف والدین کااتناعظیم حق بتایاگیا کہ ان کے سامنے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں ہے،قرآن کریم میں ہے:
وبالوالدین إحساناً إمایبلغن عندک الکبر أحدہما أوکلاہما فلاتقل لہما أف ولاتنہرہما وقل لہما قولاً کریماً واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب ارحمہما کماربیانی صغیراً (الاسراء:۴۲)
ترجمہ: اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہونچ جائیں توان کو اُف نہ کہو اور نہ جھڑکو، ان سے اچھے لہجے میں بات کرو اور رحمت وانکسار کے ساتھ ان کے آگے جھک جاؤ اور ان کے لئے دعا کرو کہ پروردگار ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تھی۔
احادیث میں والدین کے حق کو جہاد فی سبیل اللہ سے بھی مقدم بتایا گیا ہے،حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں:
(قلت یا رسول اللّٰہ أی العمل أحب إلی اللّٰہ؟ قال: الصلاۃ علیٰ وقتہا قلت ثم أی؟ قال برالوالدین،قلت ثم أی؟ قال الجہاد فی سبیل اللّٰہ) (بخاری مواقیت الصلوٰۃ:۴۰۵،مسلم کتاب الایمان ۵۸،ترمذی باب البروالصلۃ ۸۹۸۱،نسائی المواقیت ۰۱۶،احمد ۱/۹۳۴،دارمی الصلوٰۃ ۵۲۲۱)
ترجمہ:میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ پاک کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا،وقت پر نماز پڑھنا،میں نے عرض کیا،اس کے بعد کس عمل کادرجہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا،والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، میں نے عرض کیا پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ۔‘
دوسری طرف والدین کو اپنی اولادکے حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی اورانسان پر اولاد کی تعلیم وتربیت کی پوری ذمہ داری ڈالی گئی اور کہا گیا کہ اس سلسلے میں اللہ کے دربار میں ان کو جوابدہی کا سامنا کرنا ہوگا،ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
(والرجل راع فی أہلہٖ ومسؤل عن رعیتہٖ)(بخاری باب الجمعۃ:۳۵۸)
ترجمہ:مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے،اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپرس ہوگی۔
اولاد کو انسان کی سب سے بڑی پونجی اورصدقہئ جاریہ قرار دیا گیا، ارشاد نبوی ہے:
إذا مات العبد انقطع عملہٗ إلامن ثلاث:صدقۃ جاریۃ أوعلم ینتفع بہٖ من بعدہٖ أوولد صالح یدعو لہٗ) (مسلم الوصیۃ ۱۳۶۱)
ترجمہ: جب انسان مرجاتاہے تو اس کا عمل بند ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے کہ ان کاثواب موت کے بعدبھی جاری رہتا ہے،(۱) صدقہئ جاریہ(۲) ایسا علم جس سے بعد میں بھی نفع اٹھایا جاسکے،(۳) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔
٭نکاح کے باب میں اولیاء کو ہدایت دی گئی کہ بالغ لڑکیوں کا نکاح ان کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے،ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔
والبکر تستأذن فی نفسہا وإذنہا صماتہا،متفق علیہ،(مشکوٰۃ باب الولی فی النکاح ص ۰۷۲)
ترجمہ:کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی،اور اس کی اجازت کا مطلب خاموشی ہے۔
دوسری طرف لڑکیوں کو متنبہ کیا گیا کہ اپنے اولیا کے مشورہ کے بغیر نکاح نہ کریں،جو عورت بغیر کسی مجبوری کے ایسا کرے گی وہ بے حیائی اور گناہ کی مرتکب قرار دی جائے گی،ارشاد نبوی ہے:
أیما إمرأۃ نکحت نفسہا بغیرإذن ولیہا فنکاحہا باطل،رواہ احمد والترمذی (مشکوٰۃ ۰۷۲)
ترجمہ: جو عورت اپنے ولی کی مرضی کے بغیر اپنا نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہے۔
٭میاں اور بیوی گھریلو زندگی کے بڑے ستون ہیں،ازدواجی زندگی میں دونوں کو الگ الگ ہدایات دی گئیں،
شوہر سے کہاگیا کہ تمہاری یک گونہ فضیلت کے باوجودان کے حقوق کے معاملہ میں تم اسی طرح جواب دہ ہو جس طرح کہ وہ تمہارے معاملے میں جواب دہ ہیں:
(ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف وللرجال علیہن درجۃ) (بقرۃ:۸۲۲)
ترجمہ: عورتوں کا مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا ان پر ہے البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔
جولوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے طور پر رہتے ہیں ان کو سوسائٹی کا اچھا آدمی قرار دیا گیا،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
خیرکم خیرکم لاہلہٖ وانا خیرکم لاہلی الحدیث رواہ الترمذی والدارمی (مشکوٰۃ باب عشرۃ النساء ۱۸۲)
تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہواور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم میں سب سے بہتر ہوں۔
عورتوں کی دلدہی کااس قدر خیال رکھا گیا کہ ان کی جبری اصلاح سے بھی روکا گیا،ارشاد فرمایا گیا:
(إن المرأۃ خلقت من ضلع ولن تستقیم لک علیٰ طریقۃ فإن استمتعت بہا استمتعت بہا وفیہا عوج وإن ذہبت تقیمہا کسرتہا وکسرہا طلاقہا) (صحیح مسلم الرضاع ۸۶۴۱)
ترجمہ: بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور وہ کبھی تمہارے ایک راستے پر سیدھی نہیں چل سکتی،پس اس سے جو نفع اٹھاسکتے ہو اٹھا لو،اس میں کجی ہے اگر تم اس کو ٹھیک کرنے کے درپے رہے تو اس کو توڑ ڈالوگے،توڑنے کا مطلب طلاق ہے۔
ایک حدیث میں ہے:
(لایفرک مؤمن مؤمنۃ إن کرہ منہا خلقاً رضی منہا خلقا آخر) (مسلم الرضاع ۹۶۴۱،أحمد ۲/۹۲۳)
ترجمہ: کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت سے نفرت نہ کرے اس لئے کہ اگر ایک بات ناپسند ہوگی تو دوسری کوئی بات ضرور پسند آئے گی۔
دوسری طرف عورت کو تنبیہ کی گئی کہ
(لوکنت آمراً أحداً أن یسجد لأحد لأمرت المرأۃ تسجد لزوجہاولو أمرہا أن تنتقل من جبل أصفر إلیٰ جبل أسود ومن جبل أسود إلیٰ جبل أبیض کان ینبغی لہا أن تفعلہٗ ) (رواہ احمد والترمذی الرضاع ۹۵۱۱مشکوٰۃ باب الخلع والطلاق ص ۳۸۲)
ترجمہ: اگر میں کسی کو کسی کا سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کا سجدہ کرے اور اگر شوہر حکم دے کہ زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ پر چلی جائے اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف منتقل ہو تو عورت کو یہ حکم مان لیناچاہئے۔
ایک حدیث میں ہے کہ
(إذادعا الرجل إلیٰ فراشہٖ فأبت أن تجیء فبات غضبان علیہا لعنتہا الملائکۃ حتی تصبح)
(بخاری باب بدء الخلق ۵۶۰۳،مسلم النکاح ۶۳۴۱،)
ترجمہ: مرد اگر اپنی بیوی کو اپنے پاس بلائے اور عورت آنے سے انکار کردے پھر شوہر اس سے ناراض ہو کر سوجائے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں
ایک دوسری حدیث میں ہے:
(لایحل لإمرأۃ أن تصوم وزوجہا شاہد إلا باذنہٖ،ولاتأ ذن لأحد فی بیتہٖ إلا بإذنہٖ) (البخاری،النکاح ۹۹۸۴،مسلم الزکاۃ ۶۲۰۱،أحمد ۲/۶۱۳)
ترجمہ: کسی عورت کے لئے درست نہیں کہ شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفل)روزہ رکھے یاکسی کو اس کی مرضی کے بغیر اس کے گھر میں آنے کی اجازت دے۔
شوہر کی رضامندی کو عورت کے لئے جنت میں داخلہ کا وسیلہ قراردیا گیا،حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أیما امرأۃ ماتت وزوجہا راض دخلت الجنۃ (الترمذی الرضاع ۱۶۱۱،ابن ماجہ النکاح ۴۵۸۱)
ترجمہ: جو عورت مرجائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو تووہ جنت میں داخل ہوگی۔
٭ایک طرف امراء وحکام کو عدل وانصاف،ادائے امانت،رحم وکرم،خوف خدا اور قانون کی بالادستی کی تاکید کی گئی،
الراحمون یرحمہم الرحمٰن ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء)رواہ ابوداؤد والترمذی ۲۳۴)
ترجمہ:رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے،اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
إعدلوا ہو أقرب للتقویٰ (مائدۃ:۸) ترجمہ: انصاف کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے،
أن تؤدوا الامانات إلیٰ أہلہاوإذا حکمتم بین الناس أن تحکموا بالعدل الآیۃ (نساء:۸)
ترجمہ:امانتیں اہل امانت کے حوالے کرو اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مامن امام یغلق بابہٗ من ذوی الحاجۃ والخلۃ والمسکنۃ إلا أغلق اللّٰہ ابواب السماء دون خلتہٖ وحاجتہٖ ومسکنتہ
ٖ (ترمذی ابواب الاحکام ص ۷۲۲)ٰ
ترجمہ: جو امام وحاکم ضرورت مندوں سے اپنا دروازہ بند کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کے وقت آسمان کے دروازے بند کرلے گا۔
من ولی من امر المسلمین شیئاً فاحتجب دون خلتہم وحاجتہم وفقرہم وفاقتہم احتجب اللّٰہ عزوجل یوم القیٰمۃ دون خلتہٖ وفاقتہٖ وفقرہٖ (مستدک حاکم کتاب الاحکام ج۴ص۳۹ حیدرآباد)
ترجمہ: جو شخص مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار ہونے کے بعد ان کی ضرورت کے وقت سامنے نہ آئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ضرورت وحاجت کے وقت اس کو نظر نہیں آے گا۔
الإمام الذی علی الناس راع ہو مسؤ ل عن رعیتہٖ (بخاری کتاب الاحکام ۲/۷۵۰۱)
ترجمہ: وہ امام جو لوگوں پر مقرر ہے وہ نگراں کار ہے اس سے اس کے زیر نگرانی اشخاص کے متعلق بازپرس ہوگی۔
مامن عبد یسترعیہ اللّٰہ رعیۃ فلم یحطہابنسجتہٖ إلا لم یجد رائحۃ الجنۃ (بخاری کتاب الاحکام ۲/۷۵۰۱)
ترجمہ: جس بندہ کواللہ کسی رعیت کا نگراں بنائے اور وہ اس کی خیر خواہی پوری پوری نہ کرے تو وہ جنت کی بو بھی نہیں پائے گا۔
تو دوسری جانب عوام کو اپنے امیر کی ہر جائز امر میں اطاعت کی تلقین کی گئی اور اس کو اللہ اور رسول کی اطاعت کا حصہ قرار دیا گیا،اگر امیر اپنی ذمہ داریوں کے باب میں کوتاہی کا شکار ہو تب بھی اس کو نظر انداز کرکے اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی ہدایت کی گئی:
قرآن کریم میں ہے:
(یٰأیہا الذین آمنوا أطیعوا اللّٰہ وأطیعوا الرسول وأولی الأمر منکم) (النساء:۹۵)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس رسول اور اپنے ذمہ داروں کی اطاعت کرو۔
ارشاد نبوی ہے:
(علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما أحب وکرہ إلاأن یؤمر بمعصیۃ فإذا أمر بمعصیۃ فلاسمع ولاطاعۃ) (البخاری الأحکام ۵۲۷۶،مسلم الإمارۃ ۹۳۸۱،الترمذی الجہاد ۷۰۷۱)
ترجمہ: ہر مسلمان پر امیر کی سمع وطاعت ہرمعاملہ میں واجب ہے جی چاہے یا نہ چاہے،الایہ کہ کسی معصیت کا حکم دیا جائے اگر امیر معصیت کا حکم دے تو پھر سمع وطاعت واجب نہیں ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا:
یانبی اللّٰہ! أرأیت إن قامت علینا أمراء یسألوننا حقہم ویمنعوننا حقنا فما تأمرنا؟ فأعرض عنہ ثم سألہ مرۃ ثانیۃ،فقال رسول اللّٰہ ﷺ اسمعوا وأطیعوا فإنما علیہم ماحملوا وعلیکم ماحملتم) (مسلم الامارۃ ۶۴۸۱،الترمذی الفتن ۹۹۱۲)
ترجمہ: اے اللہ کے رسول! اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق وصول کریں لیکن ہمیں ہمارا حق نہ دیں تو ایسے امراء کے بارے میں آپ کا حکم کیا ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا اس بات کو نظر انداز کردو،اس نے دوبارہ یہی سوال کیا،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہا را کام سمع وطاعت ہے تم پر تمہارے کام کی ذمہ داری ہے ان پر ان کے کام کی ذمہ داری ہے۔
٭ایک طرف مال والوں کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی اور صدقہ وخیرات کے اتنے فضائل بیان کئے گئے کہ بعض صحابہ نے اپنا سارا مال ہی صدقہ کردینے کی ٹھان لی تھی۔
پڑوسیوں کا اتنا حق بتایا گیا کہ گھر کے سالن میں بھی ان کو شریک کیا گیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(إذا طبخت مرقۃ فاکثر ماۂا وتعاہد جیرانک)
(مسلم البر والصلۃ والآداب ۵۲۶۲،الترمذی الأطعمۃ ۳۳۸۱،ابن ماجہ الأطعمۃ ۶۲۳۳)
ترجمہ: شوربہ پکاؤ تو پانی بڑھادو اور اپنے پڑوسیوں کا خیا ل رکھو۔
لیکن دوسری طرف سوال کرنے اور کسی سے مدد مانگنے کو انسانی غیرت کے خلاف کہاگیا اور اس کو چہرہ پر گدائی کے بدنماداغ سے تعبیر کیا گیا (دیکھئے صحیح بخاری کتاب الصدقات باب من سأل الناس تکثراً،۱/۹۹۱) اور فرمایا گیا:
الید العلیا خیر من الید السفلیٰ(بخاری کتاب الصدقات باب الاستعفاف عن المسئلۃ ۱/۹۹۱)
ترجمہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
٭ایک طرف انسان کو مواقع تہمت سے بچنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی کو بدگمانی یا قیاس آرائی کا موقعہ نہ ملے:
إتقو امواضع التہمۃ الحدیث ( ) ترجمہ: تہمت کی جگہوں سے بچو
تو دوسری طرف اپنے مؤمن بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا حکم دیا گیا اور بہت سے گمانوں کو گناہ قرار دیا گیا اور کسی کی ٹوہ میں رہنے سے منع کیا گیا بلکہ بے اختیار اگر کسی مسلمان کے کسی عیب پر نگاہ بھی پڑ جائے تو اس کوہر ممکن طور پر مخفی رکھنے کی تاکید کی گئی۔
(یٰاایہاالذین اٰمنواإجتنبوا کثیراًمن الظن إن بعض الظن إثم و لاتجسسوا) (حجرات:ع ۲)
ترجمہ: ایمان والو!اکثر گمانوں سے بچو اس لئے کہ بہت سے گمان گناہ ہوتے ہیں۔
عن عقبۃ بن عامرؓقال قال رسول اللّٰہ ﷺ من راٰی عورۃ فسترہا کان کمن أحییٰ موؤدۃ (رواہ احمد والترمذی،مشکوٰۃ ص ۴۲۴)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی کا کوئی عیب دیکھا پھر اس کو چھپالیا تو اس نے گویا کسی دفن شدہ لڑکی کو زندہ کردیا۔
٭ ایک طرف مردوں کو یہ حکم کہ نامحرم عورتوں پہ نظر نہ پڑے اور اپنی نگاہیں نیچے رکھیں،
قل للمؤمنین یغضوامن ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک أزکیٰ لہم (النور:ع ۴)
ترجمہ:آپ ایمان والوں سے کہدیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے پاکی کا باعث ہے۔
دوسری طرف عورتوں کو یہ ہدایت کہ
قرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیۃ الأولیٰ (الاحزاب: ۳۳)
ترجمہ: اپنے گھروں میں رہیں اور پرانی جاہلیت کی طرح بن سنور کر باہر نہ نکلیں۔
٭بزرگوں کو حکم کہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں اور چھوٹوں کو تاکید کہ حد ادب ملحوظ رہے، ارشاد نبوی ہے:
(لیس منامن لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا )رواہ الترمذی،مشکوٰۃ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ص۲۳۴)
ترجمہ:جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
اس طرح کی بیشمار مثالیں ہیں جن میں شریعت اسلامیہ نے دوطرفہ اور سہ طرفہ ہدایات دیکر لوگوں کے حقوق،ان کی شناخت اور ترجیحات کاتحفظ کیا ہے،تاکہ نظام عالم قائم رہے،معاشرتی اقداروروایات جاری رہیں اور ہر شخص کی ذاتیات بھی محفوظ رہیں،اسلام کسی بھی ایسے فکروعمل کی اجازت نہیں دیتا جس سے کسی فرد یا اجتماع کا مفاد متأثر ہوتا ہو،……خاندانی نظام کے مسائل کو سمجھنے کے لئے اسلام کے اس مزاج اور مذاق کو پیش نظر رکھنا ازحد ضروری ہے۔
………………………………………………………………………………
اجتماعی زندگی کے چندرہنما اصول
اسی طرح اسلام نے اجتماعی زندگی کے لئے جو قواعد وضوابط اور رہنما اصول مقررکئے ہیں ان کو بھی سامنے رکھنا ہوگا،اس سلسلے کے چند اشارات پیش خدمت ہیں،
٭رسول اکرم ﷺ کا عام معمول حدیث کی کتابوں میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ کو دوجائزباتوں میں اختیار ملتا تو ان میں عام لوگوں کے لئے جو آسان بات ہوتی اس کو اختیار فرماتے تھے:
عن عائشۃ ؓ انہا قالت ماخیر رسول اللّٰہ بین أمرین قط إلا إختار أیسرہما مالم یکن إثماً فان کان إثماکان أبعدالناس (بخاری کتاب الادب حدیث ۸۸۸۵،۲/۴۰۹)
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دوباتوں میں اختیار ملتا تو آپ ؐ ان میں آسان ترکو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو گناہ ہونے پر سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے،
٭نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لاضرر ولاضرار (قواعد الفقہ ص ۶۰۱،المدخل:۵۲۲)
ترجمہ: کسی کو نہ نقصان پہونچانے کی اجازت ہے اور نہ اٹھانے کی۔
٭اسی طرح ٰ سرکاردوعالم ﷺ کی وہ فکر جس کو بناء کعبہ کے سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نقل فرمایا ہے کہ آپ ؐ خانہئ کعبہ کی تعمیر ابراہیمی بنیادوں پر کروانا چاہتے تھے لیکن مکہ کے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے،فتنہ کا اندیشہ تھا اس لئے آپ نے اپنا ارادہ ترک فرمادیا۔:
ان روایات سے بہت سے فقہی ضابطے تیار ہوئے،مثلاً
٭لاضرر فی الاسلام(الموسوعۃ الفقہیۃ: ج ۱۳ص ۰۴۲)
ترجمہ: اسلام میں کسی کو نقصان پہونچانے کی اجازت نہیں ہے۔
مشہور فقہی ضابطہ ہے
٭یختارأخف الضررین واہون الشرین (الموسوعۃ الفقہیۃ: ج ۱۳ص ۰۴۲،قواعد الفقہ ۰۴۱)
ترجمہ: دو شر میں سے ہلکے شر کو گوارا کیا جائے گا اور مصیبتوں میں ہلکی مصیبت کو اختیا رکیا جائے گا،
٭الضررالاشد یزال بالضررالاخف (الموسوعۃ الفقہیۃ: ج ۱۳ص ۰۴۲،الاشباہ ۱۱۱)
ترجمہ: بڑے نقصان کو چھوٹے نقصان کے ذریعہ دور کیا جائے گا۔
٭یحتمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام (قواعد الفقہ:ص ۹۳۱،الاشباہ ۰۱۱)
ترجمہ:ضررعام کو دورکرنے کے لئے ضرر خاص کو گوارا کیاجائے گا۔
٭الضرریزال (قواعد الفقہ ص۸۸،الاشباہ ۷۰۱)
ترجمہ: ضرر کو دور کیا جائے گا۔
٭الضرر یدفع بقدر الامکان (قواعد الفقہ ص۸۸)
ترجمہ: ضرر کو ممکن حد تک دور کیا جائے گا۔
٭یہیں سے فقہا ء نے یہ ضابطہ بھی اخذ کیا ہے کہ بعض جائز امور کو مفسدہ کے ڈر یا شر کے دروازہ کو بند کرنے کئے چھوڑدینا واجب ہے،سداً للباب اور سدّاًللذریعۃ کا اصول یہیں سے اخذ کیا گیا ہے،
٭قرآن کریم شراب اور جوا کی حرمت کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے:
یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیہما إثم کبیر ومنافع للناس وإثمہما أکبر من نفعہما(بقرۃ:۹۱۲)
ترجمہ: لوگ آپ سے شراب اور جوا کے بارے میں پوچھتے ہیں،آپ کہہ دیں کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے نفع بھی ہے مگر ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑھکر ہے۔
٭اس سے یہ فقہی ضابطہ اخذکیاگیا:
درء المفاسداولیٰ من جلب المنافع (قواعدالفقہ،مفتی عمیم الاحسان ۰۸،الاشباہ ۴۱۱)
ترجمہ:حصول نفع کے مقابلے میں دفع مضرت زیادہ مقدم ہے۔
اس اصولی گفتگو کے بعد اب ہم خاندانی نظام کے مسئلے پر آتے ہیں،یہ مسئلہ نصوص میں تو آیا نہیں ہے اور نہ فقہاء سلف کے یہاں باقاعدہ زیر بحث آیا ہے،اس کو ہمیں اسلام کے قواعد وکلیات اور عرف وعادات کی روشنی میں حل کرنا ہوگا۔
خاندان کی اہمیت
٭خاندان اللہ کی بڑی نعمت ہے،اس میں انسان کے لئے سامان مؤدت بھی ہے اوراس کی پشت پر بہت بڑی قوت بھی،اس سے انسان کی شناخت بھی وابستہ ہے اور جاری اقداروروایات کا تسلسل بھی،خاندانی پس منظر انسان کے لئے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے،اس کے بغیر انسان کٹی پتنگ کے مانند ہے اور زندگی کے منجھدار میں گویا وہ ایک بے پتوار کی کشتی پہ سوار ہو،حضرت شعیب ؑ کے قصہ میں یہی خاندانی قوت کافروں کے پاؤں کی زنجیر بن گئی تھی،ان کی زبان سے نکلاہوا یہ جملہ ان کی اسی بے بسی کا غماز ہے:
ولو لارہطک لرجمنٰک وماأنت علینا بعزیز قال أرہطی أعز علیکم من اللّٰہ الآیۃ (ہود:۱۹،۲۹)
ترجمہ:اگر تمہارے کنبہ کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کردیتے،ہمارے نزدیک تمہاری کوئی عزت نہیں ہے،حضرت شعیب ؑنے فرمایا کیا اللہ کے مقابلہ میں میرا کنبہ تمہارے نزدیک زیادہ باعزت ہے؟
حضور اکرم ﷺ کی مکی زندگی میں شعب ابی طالب کا واقعہ خاندانی وحدت کی بہترین مثال ہے،جس میں مذہب کی قید کے بغیر خاندان بنوہاشم کے ہر فرد نے شرکت کی (طبقات ابن سعد ج ۱ ص۹۳۱،سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۲۱)
اسی طرح دارالندوہ میں حضور ﷺ کے (معاذ اللہ) منصوبہئ قتل پر قریش کو دس بار سوچنا پڑا تھا کہ کہیں پورا بنی عبد مناف مقابلہ پر نہ آجائے اور پھر یہ تجویز پاس ہوئی کہ تمام قبائل کے لوگ اس میں شریک ہوں اور ہر قبیلہ سے ایک شخص اس کام میں نمائندگی کرے (طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۵۱)
حضور ﷺ کے مقاطعہ کے پیچھے بھی جو اصل محرک کارفرما تھا وہ بنوہاشم کی خاندانی قوت کو کمزور کرنا اور بالآخرحضور ﷺ کی آواز کو بے اثر کرنا،……
اس سے خاندان کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے،اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح انسان کی ذاتی زندگی کے لئے خاندان کی ضرورت ہے اسی طرح دینی مقاصد میں بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔
قربت میں اعتدال کی ضرورت
مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ باہم معاملات میں جس قدر صفائی اور قربت میں جتنا اعتدال ہوگا یہ رشتہ اتنا ہی زیادہ مستحکم اور دیر پا رہے گا،یعنی قربت اور قرابت میں بھی فاصلہ برقرار رہنا چاہئے،بہت زیادہ نزدیکی رشتوں کو کاٹتی ہے،حد سے زیادہ قربت دلوں میں دوریاں پیدا کردیتی ہے،اوراندھا اعتماد جلد ٹوٹ جاتا ہے،اسی اعتدال کا سبق ہمیں ایک حدیث پاک میں ملتا ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تعاملواکالاجانب وتعاشروا کالاخوان الحدیث ( )
ٗ ترجمہ: آپس میں معاملات اجنبیوں کی طرح کرو اور رہن سہن بھائیوں کی طرح رکھو،
مشترکہ خاندانی نظام بہتر نہیں
اس تناظر میں میری حقیر رائے کے مطابق عام لوگوں کے لئے مشترکہ خاندانی نظام کے بالمقابل جداگانہ خاندانی نظام بہتر ہے، مسئلہ جواز وعدم جواز کا نہیں ہے،بلکہ اس کا ہے کہ ایک عام انسان کے لئے کون سا طرز زندگی بہتر ہے،وہ -جس میں خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ رہیں،ایک ساتھ کاروبار کریں اور ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھائیں،یا وہ نظام جس میں خاندان کے تمام لوگ اپنی رہائش،کھانے پینے اور کاروبار میں آزاد ہوں لیکن اس کے باوجود وہ باہم مربوط بھی ہوں اور ہر رنج وغم میں ایک دوسرے کے شریک ہوں ……؟ میری رائے میں عام حالات میں مشترکہ خاندانی نظام بہتر نہیں ہے اس میں متعدد ایسی قباحتیں ہیں جس سے جداگانہ نظام محفوظ ہے، اسباب کی تفصیل درج ذیل ہے :
اسباب ووجوہات
(۱)شرعی حدود کی جتنی رعایت جداگانہ نظام میں ممکن ہے،مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں،کئی ایسے مراحل ہیں جن میں مشترکہ نظام شرعی حدود کوقائم رکھنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے مثلاً
٭کاروبار،اس میں شراکت اگر پوری امانت ودیانت کے ساتھ ہوتو بڑی باعث برکت ہے،احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے،ابوداؤد کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ید اللّٰہ مع الشریکین مالم یتخاونافإذا تخاونا محقت تجارتہما فرفعت البرکۃ منہا رواہ ابوداؤد(مشکوٰۃ ص )
ترجمہ:شرکاء کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے جب تک کہ خیانت نہ کریں خیانت کریں گے تو ان کی تجارت ختم کردی جائے گی اور برکت اٹھالی جائے گی۔
عن ابی ہریرۃؓ رفعہٗ قال إن اللہ عز وجل یقول أنا ثالث الشریکین مالم یخن أحدہما صاحبہٗ فاذا خانہٗ خرجت من بینہما رواہ ابوداؤد (مشکوٰۃ باب الشرکۃ ۴۵۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوع طور پر منقول ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں دوشرکاء کے درمیان تیسرا ہوتاہوں بشرطیکہ ان میں سے کوئی خیانت نہ کرے اگر کوئی خیانت کرتا ہے کہ تو میں بیچ سے نکل جاتاہوں۔
اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ شراکت کے کاروبار میں افرادی قوت کے ساتھ دماغی قوت بھی دوچند ہوجاتی ہے،جس سے کاروبار کی ترقی کے امکانات بڑھ جا تے ہیں،……مگرشرکت کے ساتھ امانت ودیانت کو قائم رکھنا آسان بات نہیں ہے،ایک تو خود تجارت ہی پوری دیانت داری اور سچائی کے ساتھ بہت مشکل ہے اس میں بھی شراکت کی تجارت،بہت کم ایسی مثالیں ہیں جن میں پوری دیانت اور امانت کے ساتھ شراکت کا کاروبار بحسن وخوبی تادیر جاری رہاہو،بالخصوص اس دور میں جب کہ مسلمانوں کے اکثر طبقات میں دیانت وامانت کا بحران پایا جاتا ہے…… یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ شراکت کے کسی معاملے میں خواہ وہ قریب ترین رشتہ داروں ہی کے درمیان ہو ہر فریق تمام شرعی حدود کا لحاظ رکھ سکے گا،اور کسی طرف سے کوئی خیانت پیش نہیں آئے گی،کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی، کسی کو کسی سے کوئی آزار نہیں پہونچے گا،اس لئے حق تلفی،ایذارسانی اور خیانت کے ان مضبوط اندیشوں سے بچنے کا محفوظ راستہ یہی ہے کہ انسان جہاں تک ممکن ہو کوئی بھی کاروبار انفرادی سطح پر کرے یا کم سے کم لوگ اس میں شریک ہوں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہٖ)رواہ الترمذی والنسائی (مشکوٰۃ ص ۵۱)
ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
علاوہ ازیں شرکت کی تمام تر فضیلت وبرکت،دیانت کی بنیاد پر ہے اگر دیانت وامانت ہی مفقود یا مشتبہ ہوجائے تو کس بنیاد پر فضیلت ہوگی؟ اور اگر دیانت وامانت موجود ہو توتنہا تجارت بھی فضیلت سے خالی نہیں،نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:
التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء رواہ الترمذی والدارمی (مشکوٰۃ باب المساہلۃ فی المعاملۃ ص ۳۴۲))
ترجمہ:سچا اور ایمان دار تاجر انبیاء،صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
(۲)دوسری وجہ یہ ہے کہ مشترک طور پر رہنے میں بالعموم غیر محرموں سے مکمل شرعی پردہ کا اہتمام نہیں ہوپاتا بلکہ بسا اوقات اس کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے جو ایک بڑی شرعی قباحت ہے،جس کو مشترکہ طرز رہائش سے ختم کرنا بہت مشکل ہے،انفرادی طرز رہائش میں جس میں زیادہ سے زیادہ والدین شامل ہوں اس قباحت سے آدمی محفوظ رہ جاتا ہے،اور انسان چاہے تو پوری طرح شرعی پردہ کا اہتمام کرسکتا ہے۔
حضور ﷺ کا گھریلو نظام
(۳)جداگانہ خاندانی نظام نبی کریم ﷺ کی خانگی زندگی سے زیادہ قریب ہے،اس لئے کہ سرکار دوعالم ﷺکے پاس بیک وقت نو(۹) بیویاں تھیں،(مشکوٰۃ ۷۴۴)اوران سب کی رہائش اور خورد ونوش کا انتظام جداگانہ تھا،تمام کے حجرے الگ تھے،جبکہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے زیادہ پاکدل اور صاف باطن دنیا میں کون ہوسکتا ہے؟اور ان سے بڑھ کر دوسروں کے حقوق کی نگہہ داشت کا خیال کس کو ہوسکتا ہے؟ اگر ان کا مشترکہ نظام بنتا تو بھی ہرطرح کی قباحت سے ان کا بچنا دوسروں کے مقابلہ میں بہت آسان تھا،کہ یہ سید الکونین ﷺ کا گھرانہ تھا،یہاں کے افراد دنیا کے سب سے چنے ہوئے لوگ تھے،یہ دنیا کے انسانوں کے لئے سب سے بہترین نمونہ تھے اور جن کو دیکھ کر تقویٰ وطہارت کے سانچے مقرر کئے جاتے تھے ……خودقرآن کریم نے ان کے امتیاز وانفرادیت کی ضمانت دی ہے:
یٰانساء النبی لستن کاحد من النساء ان اتقیتن الآیۃ (احزاب:۲۳)
ترجمہ: اے نبی کی عورتو! تم دنیا کی عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیا کرو ……
لیکن ان سب کے باوجود حضور ﷺ نے مشترکہ نظام اختیار نہیں فرمایا اور تمام ازواج کے لئے قیام وطعام کا جداگانہ نظام قائم فرمایا،
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور پوچھتے کہ آج گھر میں کچھ ہے؟،اگر ہر گھر سے جواب ملتا،نہیں،تو آپ فرماتے کہ اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔(مسند احمد بن حنبل ۲/۹۴)
اگر کھانے کا نظام مشترکہ ہوتا تو تمام ازواج کے پاس تشریف لے جانے کی زحمت نہ فرماتے۔
بعد میں جب فتوحات کاآغاز ہوا تو آپ ؐ کی اجازت سے بنو نضیر کے نخلستان سے جو آمدنی حاصل ہوتی تھی اس میں ہر ایک کا برابر برابرحصہ مقررکردیا گیا، جوان کے سال بھر کے مصارف کے لئے کافی ہوتا تھا (بخاری کتاب النفقات باب حبس الرجل قوت سنۃ علیٰ ا ہلہٖ ۲/۶۰۸) پھرخیبر فتح ہوا تو ازواج کے لئے فی کس ۰۸ وسق کھجور اور ۰۲ وسق جو سالانہ مقرر ہوگیا،وسق ۰۶ صاع کا ہوتا ہے (بخاری کتاب الحرث والمزارعۃ باب المزارعۃ بالشطر حدیث نمبر ۰۷۲۲ج ۱/۳۱۳)
ازواج مطہرات کی خوش رنجیاں
اس احتیاط کے باوجود تمام ازواج مطہرات میں پوری ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی ان میں دوگروپ تھے(مشکوٰۃ باب مناقب ازواج النبی ﷺ ص ۳۷۵) کبھی ان میں خوش رنجیاں بھی ہوجاتی تھیں،مثلاً
٭شہد کے مسئلے پر ازواج کے درمیان جو خوش رنجی ہوئی وہ تفسیر وحدیث وسیر کی کتابوں میں معروف ہے،(نسائی باب الغیرۃ ۴/۱۷وغیرہ)جس کے نتیجے میں اللہ کے رسول ﷺ نے شہد سے بالکلیہ اجتناب فرمالیا تھا،لیکن حکم الٰہی آجانے کے بعد آپ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا، قرآن میں اس کا تذکرہ موجودہے،
یٰاایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم،قد فرض اللہ تحلۃایمانکم واللہ مولٰکم وھو العلیم الحکیم (التحریم:۱،۲)
ترجمہ:اے نبی! آپ بیویوں کی دلجوئی کے لئے اللہ کی حلال کردہ چیز سے کیوں پرہیز کرتے ہیں؟اللہ بخشنے والے مہربان ہیں،اللہ پاک نے آپ کی قسم توڑنے کو ضروری قرار دیاہے،اللہ آپ سب کا مالک ہے اور وہی علم وحکمت والا ہے۔
٭ایک دفعہ آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو ام المؤمنین حضرت صفیہؓ رورہی تھیں،آپ ؐ نے رونے کی وجہ دریافت کی،انہوں نے عرض کیا،مجھ کو حفصہ ؓ نے کہا ہے کہ ”تم یہودی کی بیٹی ہو“آپ ؐ نے فرمایا ”تم نبی کی بیٹی ہو،تمہارے چچا پیغمبر،تمہارے شوہر پیغمبر،حفصہ ؓ تم پر کس بات میں فخر کرسکتی ہے،آپ ؐ نے حضرت حفصہؓ کو تنبیہ فرائی،حفصہ! اللہ سے ڈرو۔(ترمذی کتاب المناقب ج ۲ ص ۸۷۴)
٭ایک دفعہ حضرت صفیہ ؓ کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے بھی اسی طرح کی تنقیدپر حضور ﷺ نے مذکورہ جواب دہرایاتھا
(سیرۃ النبی علامہ شبلی نعمانی ۲/۳۴۲)
٭ایک بارحضرت عائشہ ؓ نے حضرت صفیہ ؓ کے بارے میں حضور ﷺ کے سامنے اشارتاً ایسی بات کہی جس سے ان کے چھوٹے قد ہونے پرتعریض جھلکتی تھی،حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ کو تنبیہ کی اورفرمایا،عائشہ! تم نے اتنی سخت بات کہی ہے کہ اگر وہ سمند ر میں ڈال دی جائے تو پورے سمندر کومتغیر کردے،(مشکوٰۃ باب حفظ اللسان والغیبۃ ص ۴۱۴بروایت ابوداؤد وترمذی)
٭ایک موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہؓ دونوں حضور ﷺ کے ساتھ سفر میں تھیں رسول اللہ ﷺ راتوں کو حضرت عائشہ ؓ کے اونٹ پر چلتے تھے اور ان سے باتیں کرتے تھے،ایک دن حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا کہ آج رات تم میرے اونٹ پر اور میں تمہارے اونٹ پرسوار ہو ں،تاکہ مختلف مناظر دیکھنے میں آئیں،حضرت عائشہ ؓراضی ہوگئیں آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے اونٹ کے پاس آئے جس پر حضرت حفصہ ؓ سوار تھیں جب منزل پر پہونچے اور حضرت عائشہ ؓ نے آپ کو نہیں پایا تو اپنے پاؤں کو اذخر گھاس کے درمیان لٹکا کر کہنے لگیں،خداوندا! کسی بچھو یا سانپ کو متعین کر جو مجھے ڈس جائے (سیرۃ النبی علامہ شبلی نعمانی ۲/۳۴۲)
٭ایک بار آنحضرت ﷺ سفر میں تھے اور ازواج مطہرات ؓ بھی ساتھ تھیں،اتفاقاً حضرت صفیہ ؓ کا اونٹ بیمار ہوگیا،حضرت زینب ؓ کے پاس ضرورت سے زیادہ اونٹ تھے،آپ ؐ نے ان سے فرمایا کہ ایک اونٹ صفیہ ؓ کو دے دو،انہوں نے کہا،کیا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دے دوں؟اس پر آنحضرت ﷺ ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ دومہینے سے زیادہ ان کے پاس نہ گئے، (مشکوٰۃ باب ماینہیٰ من التہاجرص۹۲۴بروایت ابوداؤد)
٭حضرت صفیہ ؓ کھانا نہایت عمدہ پکاتی تھیں ایک دن انہوں نے کچھ پکاکر آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا،آپ اس وقت حضرت عائشہؓ کے گھر میں تشریف رکھتے تھے،حضرت عائشہ ؓ نے خادم کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر زمین پر دے مارا،حضور ﷺ نے پیالہ کے ٹکڑے چن چن کر یکجا کئے اور ان کو جوڑا،پھرصاحب خانہ سے اس کے بدلے میں دوسرا پیالہ منگوا کران کو واپس کیا،(بخاری،کتاب المظالم باب اذاکسر قصعۃ او شیئاً لغیرہٖ ۱/۷۳۳،۲/۶۸۷باب الغیرۃکتاب النکاح،نسائی باب الغیرۃ ۴/۰۷)
بعض روایتوں میں حضرت صفیہ ؓکے بجائے حضرت ام سلمہ ؓ کا نام ہے اور بعض میں حضرت زینب بنت جحش ؓ کا نام لیا گیا ہے،(فتح الباری کتاب النکاح ۴۰۴/۹)
نکاح کے بعدحضرت علی ؓ کی رہائش
(۴)جداگانہ خاندانی نظام کے مسئلہ پر حضور ﷺ کی خانگی زندگی کے اس واقعہ سے بھی روشنی ملتی ہے جو حضرت علی ؓ کے بارے میں تاریخ میں موجود ہے:
مؤرخین کا بیان ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ سے نکاح سے قبل حضرت علی ؓکی سکونت حضور ﷺ کیساتھ تھی، حضرت فاطمہ ؓ سے نکاح کے بعد حضور ﷺ نے ان کوحضرت حارثہ بن النعمانؓ کے خالی مکان میں منتقل فرمادیا اور پھر اس کے بعد ہمیشہ ان کااپناگھریلو نظام الگ ہی رہا(سیرۃ النبی جلد اول ص ۱۱۲،۲۱۲علامہ شبلی نعمانی)
اگر مشترکہ نظام زیادہ پسندیدہ اور قابل ترجیح ہوتا توحضرت علی ؓ کو علحٰدہ مکان میں منتقل کرنے کے بجائے اپنے ساتھ ہی ان کی رہائش کا انتظام کیا جاتا،جبکہ صاحبزادی حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ دونوں قبل سے آپ کی کفالت میں تھے،اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خوداپنی اولاد میں بھی شادی کے بعد پرائیویسی اورانفرادیت کا لحاظ رکھاجاناچاہئے،
فقہاء کا تجویز کردہ نظام سکونت
(۵) فقہاء نے افراد خانہ کے لئے رہائش کا جو نقشہ مرتب کیا اس میں بطور خاص اس پرائیویسی کا لحاظ رکھا ہے،مثلاً
شریعت اسلامیہ نے شوہر پر یہ حق عائد کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کورہائش فراہم کرے،قرآن کریم میں ہے:
وأسکنوہن من حیث سکنتم من وجدکم ولاتضاروہن لتضیقواعلیہن (الطلاق:۶)
ترجمہ: عورتوں کو رہائش فراہم کرو جو تمہاری حیثیت کے مطابق ہو اور ان کو تکلیف نہ پہونچاؤکہ وہ تنگ آجائیں۔
اس ذیل میں فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ رہائش کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محض عورت کے سرپر ایک چھت فراہم کردی جائے بلکہ جداگانہ اورمخصوص مکان کی فراہمی عورت کا شرعی حق ہے جس میں وہ نجی زندگی گذارسکے اورجو شوہر کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کی آمد ورفت سے محفوظ ہو۔
علامہ کاسانی ؒ رقمطراز ہیں
ولواراد الزوج أن یسکنہا مع ضرتہا أو مع أحماۂاکام الزوج وأختہٖ وبنتہٖ من غیرہا وأقاربہ فأبت ذلک علیہ أن یسکنہا فی منزل مفرد لأنہن ربمایوذینہا ویضرون بہا فی المساکنۃ وإباۂا دلیل الأذی والضرر ولأنہ یحتاج إلیٰ أن یجامعہا ویعاشرہا فی أی وقت یتفق،ولایمکنہٗ ذلک إذاکان معہا ثالث حتیٰ لوکان فی الدار بیوت ففرغ لہا بیتاً وجعل لبیتہا غلقاً علیٰ حدۃ قالوا إنہا لیس لہا أن تطالبہ ببیت آخر (بدائع الصنائع کتاب النفقۃ ۳/۸۲۴،۹۲۴)
ترجمہ:اگر شوہر اپنی بیوی کو اس کی سوکن،دیوروں،شوہر کی ماں،بہن،لڑکی یا دیگر رشتہ داروں کے ساتھ رکھنا چاہے اور عور ت اس کے لئے آمادہ نہ ہو تو شوہر پر لازم ہے کہ اس کو جداگانہ مکان میں رہائش دے،اس لئے کہ ایک ساتھ رہنے پر ایک دوسرے کو تکلیف ہوسکتی ہے،چنانچہ عورت کا انکار اس کی علامت ہے،نیز عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ کسی بھی وقت تنہائی کی ضرورت ہے اور تیسرے کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں،البتہ ایک بڑے گھر میں کئی کمرے ہوں اور شوہر ان میں سے ایک کمرہ اپنی بیوی کے لئے خاص کردے اور اس کے لئے تالا چابی الگ کردے تو فقہاء نے کہا ہے کہ پھر اسے مزید کسی کمرہ یا مکان کے مطالبہ کا حق نہیں رہ جائے گا۔
بعض فقہاء نے یہ وضاحت کی ہے کہ اوسط سے اوپر درجہ کے گھرانوں میں کمرہ کے ساتھ مطبخ،بیت الخلا ء اورپانی کا انتظام بھی جداگانہ ہونا چاہئے،درمختار میں ہے:
ومرادہٗ لزوم کنیف ومطبخ وینبغی الافتاء بہٖ (درمختار)ای بیت الخلاء وموضع الطبخ بأن یکونا داخل البیت او فی الدار لایشارکہا فیہما أحدمن أہل الدار،قلت:وینبغی ان یکون ہذا فی غیر الفقراء الذین یسکنون فی الربوع والاحواش بحیث یکون لکل واحد بیت یخصہٗ وبعض المرافق مشترکۃ کالخلاء والتنور وبئر الماء ……وذکر الخصاف أن لہا أن تقول لااسکن مع والدیک وأقربائک فی الدار فأفرد لی داراً قال صاحب الملتقط ہذہٖ الروایۃ محمولۃ علی المؤسرۃ الشریفۃ وماذکرنا قبلہٗ ان إفراد بیت فی الدار کاف إنما ہو فی المرأۃ الوسط أعتباراً فی السکنیٰ بالمعروف اھ……ومفہومہٗ أن من کانت من ذوات الأعسار یکفیہا بیت ولو مع أحماۂا وضرتہا کأکثر الأعراب وأہل القریٰ وفقراء المدن الذین یسکنون فی الاحواش والربوع ……فقد مر ان الطعام والکسوۃ یختلفان بإختلاف الزمان والمکان(ردالمحتار کتاب الطلاق ۵/۵۵۲،۶۵۲)
یہ مضمون فقہ کی تقریباً تمام ہی کتابوں میں آیا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی قانون رہائش کے معاملہ میں ہر شخص کی نجی زندگی اور اس کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتا ہے اور اس کو مشترکہ طور پر رہنے کے لئے مجبور نہیں کرتا ……یہ مسئلہ فقہاء نے بیوی کے حق سکونت کے ذیل میں بیان کیا ہے لیکن دیکھئے تو بیوی خاندان کی سب سے بڑی اکائی ہوتی ہے اور میاں بیوی سے ملکر ایک مختصر خاندان وجود میں آتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس میں توسیع ہوتی رہتی ہے،بچے پیدا ہوتے ہیں،بوڑھے ماں باپ شامل ہوجاتے ہیں وغیرہ،……لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مسئلہ در اصل آغاز کے وقت پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی شادی کے بعد ان کو ساتھ رکھا جائے یا ان کو جدا گانہ رہائش دی جائے،حضرت علیؓ ؓاورحضرت فاطمہؓ کے مذکورہ بالا واقعہ اور فقہا ء کی ان تصریحات سے متبادر ہوتا ہے کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ شادی کے بعد ہی اولاد کو الگ کردیا جائے اور ان کی جداگانہ رہائش اور نجی زندگی میں مداخلت کے بغیر ان سے خدمت اور یگر حقوق کے لئے نظام بنا یا جائے۔
عہد اسلامی کے بعض علاقوں کی رہائش
(۶)علامہ شامی ؒ نے کتاب الطلاق میں اپنے عہد اور اپنے علاقہ کے طرز رہائش کے بارے میں ضمناً جواشارہ کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دور میں مسلم خاندانوں میں جداگانہ رہائش عام تھی،البتہ بیت الخلاء اور پانی وغیرہ میں گاہے اشتراک بھی ہوتا تھا اور یہ اس دور میں اعلیٰ اور اوسط دونوں طرح کے گھرانوں میں عیب کی بات نہیں مانی جاتی تھی،شامی کے الفاظ ہیں:
وأہل بلادنا الشامیۃ لایسکنون فی بیت من دارمشتملۃ علیٰ أجانب وہذا فی أوساطہم فضلاً عن أشرافہم إلاأن تکون داراً مورثۃ بین إخوۃ مثلاً فیسکن کل منہم من جہۃ منہا مع الإشتراک فی مرافقہا،فإذا تضررت زوجۃ أحدہم من أحماۂا أو ضرتہا وأرادزوجہا إسکانہا فی بیت منفرد من دار لجماعۃ أجانب وفی البیت مطبخ وخلاء یعدون ذلک من أعظم العارعلیہم،فینبغی الإفتاء بلزوم دار من بابہا (ردالمحتار کتاب الطلاق مطلب فی مسکن الزوجۃ ۵/۵۵۲مطبوعہ دیوبند)
ترجمہ:ہمارے علاقہ میں شام کے لوگ کسی ایسے مکان میں رہائش کو پسند نہیں کرتے جس کے احاطے میں دوسرے اجنبی لوگ بھی رہ رہے ہوں یہ اوسط گھرانوں کا حال ہے اشراف کا تو کہنا ہی کیا،الایہ کہ کوئی ایسا مکان ہو جو بھائیوں میں وراثت کی بنیاد پر مشترک ہو اور ہر بھائی کی فیملی الگ الگ حصے میں پانی اور بیت الخلا وغیرہ کے اشتراک کے ساتھ رہائش پذیر ہو،ایسی صورت میں اگر کسی بھائی کی بیوی اپنے دیور یا سوکن سے تکلیف محسوس کرے اور اس کی وجہ سے اس کا شوہر کسی ایسے فلیٹ یا گھر میں اپنی بیوی کو منتقل کرنا چاہے جس میں مطبخ اور بیت الخلا ء وغیرہ توموجود ہوں مگر اس کے احاطے میں اجنبی خاندان بھی رہائش پذیر ہوں تو ہمارے علاقے میں یہ بڑے عیب کی بات سمجھی جاتی ہے۔
مشترکہ نظام کے مقاصد اور آج ……
(۷)مشترکہ رہائش کا مقصد باہم جذبہئ تعاون کو فروغ،خاندانی رشتوں کا احترام،بزرگوں کے زیر سایہ چھوٹوں کی تربیت،ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ،کچھ دن محنت پھر آرام کی فطری خواہش اور ہر شخص کی اس میں حصہ داری کا لحاظ اور تنہائی وبے کسی کے کرب سے ہر ایک کی حفاظت،جس کی نوبت ایک نہ ایک دن بڑھاپے میں ہر شخص کوآتی ہے وغیرہ ……
لیکن آج کے دور میں جہاں اکثر اخلاقی قدریں زوال پذیر ہورہی ہیں،ان میں باہم اشتراک کے ساتھ ان بلند مقاصد کا حصول مشکل ہوگیا ہے،عموماً ایک ساتھ رہنے کے نتیجے میں باہم اختلاف بڑھتا ہے،رشتوں کا توازن بگڑتا ہے،ماحول میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے،نزدیکیاں دوریوں میں بدلتی ہیں،باہم مخلصانہ جذبات کمزور پڑنے لگتے ہیں،تعاون کے بجائے ضرر کا جذبہ ابھرنے لگتا ہے، حقوق وفرائض کا احساس تشنہئ تکمیل رہ جاتا ہے،حق تلفیاں عام ہوجاتی ہیں،بزرگوں کا احترام بے کیفی اور بدمزگی میں بدل جاتا ہے،رسم وروایات کے جبر سے بغاوت وجود میں آتی ہے،سب ملکر آگے بڑھنے کے بجائے ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور نیچا دکھانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور اس ضمن میں اکثر جانی ومالی زیادتیاں بھی ہوتی ہیں وغیرہ ……
جداگانہ نظام کے ذریعہ مقاصد کاحصول
اس لئے شریعت کے عام اصول کے مطابق کہ ”منافع کے حصول سے زیادہ ضروری مفاسد کو دور کرنا ہے“،لاضرر ولاضرار“بعض اہم مقاصد کے حصول کے لئے مشترکہ خاندانی نظام کے بجائے دفع مضرت کی خاطر جداگانہ خاندانی نظام زیادہ لائق ترجیح اور قابل قبول ہے،……بلکہ اگر صحیح وقت پر اور شرعی اصولوں کی روشنی میں اولاد یابھائیوں کوعلحٰدہ رہائش مہیا کرادیا جائے،اور ان کی ابتدائی تربیت دینی بنیادوں پر ہوئی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ الگ الگ رہ کر بھی افراد خاندان ان بلند مقاصد کے ممکنہ حصول کے لئے متحد نہ ہوں جو مشترکہ نظام کی روح ہیں اور ان مفاسد کو دور کرنے کے لئے کوئی لائحہ ئعمل مرتب نہ ہوسکے جو جداگانہ نظام کا لازمہ سمجھا جاتا ہے،جب ایک دوسرے سے مسائل وابستہ نہ ہونگے،توباہم تنازعہ نہیں ہوگا، محبت فروغ پائے گی،خون کا رشتہ رنگ لائے گا،ایک دوسرے کی مصیبت میں لوگ کام آئیں گے،ہر شخص دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھے گا،……
رہا بوڑھے ماں باپ اور خاندان کے بے آسرا لوگوں کا معاملہ،تو ان کے لئے باہم اشتراک سے کوئی نظام مرتب کیا جاسکتا ہے،تمام افراد خاندان کے درمیان حسب مرتبہ اس کے لئے کوئی ترتیب بنائی جائے،آخر ہر صاحب ایمان ماں باپ،خاندان کے بزرگوں اور غریب رشتہ داروں کی خدمت کی اہمیت جانتا ہے،اگر محبت کے ماحول میں باہم مشورہ سے کسی نظام کا تعین ہو تو عام حالات میں افرادخاندان کا تعاون حاصل ہونامشکل نہیں۔
مشترکہ نظام کی بڑی خرابیاں
(۸)مشترکہ نظام میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بالعموم موروثی جائیدادوں اورذرائع آمدنی کی تقسیم عمل میں نہیں آتی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی جاتی ہے اور بسا اوقات پشتہاپشت تک اسی طرح گذر جاتا ہے،عموماً اس کی نوبت اس وقت آتی ہے جب شدید اختلاف کے بعد انتہائی کشیدہ ماحول میں ورثہ علحٰدگی پرمجبورہوتے ہیں،پھر بہت سے پرانے قضیے سامنے آتے ہیں،حق تلفیوں اور زیادتیوں کے معاملات اجاگر ہوتے ہیں،اور نزاع اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ اس کو حل کرنا آسان نہیں ہوتا،یہ بالعموم تمام ہی لوگوں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے ……اس کی جگہ پر اگر لوگ جداگانہ طرزرہائش کی عادت بنالیں اور والدین بھی شادی کے بعد جلد ہی اپنی اولاد کو علحٰدہ کردیں تو وراثت کی فوری تقسیم کی ضرورت محسوس کی جائے گی اور بغیر کسی بڑے نزاع کے شفاف تقسیم عمل میں آئے گی،رزق بھی حلال اور تعلقات بھی الزامات اور کشیدگیوں سے بالاتررہیں گے،شریعت اسلامیہ مشترک معاملات اور اجتماعی زندگی میں ایسے نظام العمل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس میں انسان مواقع تہمت اور موضع اشتباہ سے حتی الامکان محفوظ ہو، سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إتقوا مواضع التہمۃ الحدیث ( ترجمہ: مقام تہمت سے بچو
الإثم ماحاک فی صدرک وکرہت أن یطلع علیہ الناس رواہ مسلم (مشکوٰۃ باب الرفق والحیاء:ص ۱۳۴)
ترجمہ: گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور اس سے لوگوں کا باخبر ہوناپسند نہ ہو۔
(۹)مشترکہ نظام میں ایک بہت بڑی اقتصادی قباحت یہ ہے کہ آدمی عموماًانفرادیت، خود اعتمادی،شخصی آزادی اورخودکفیل ذریعہئ آمدنی سے محروم ہوجا تا ہے،بہت سے لوگوں کو دوسرے پرانحصار کا مزاج بن جاتا ہے اس کی بناپر وہ اپنے بارے میں خود کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے،اس کی مضرت کااحساس اکثر لوگوں کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ شدید اختلاف کے بعد الگ ہوتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں،اس وقت دنیا میں وہ خودکو تنہا محسوس کرتے ہیں،اردگرد جولوگ ہوتے ہیں ان سے عداوت کی بناپر وہ مشورہ تک نہیں لے سکتے،لاچار غیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے،ایسے وقت مخلص اور غیر مخلص کی شناخت مشکل ہوتی ہے،اور مجبوری بھی ہوتی ہے،اس سلسلے کے تجربات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔
٭دوسری اقتصادی خرابی یہ ہے کہ مشترکہ نظام میں کمانے والوں کی تعدا د کھانے والوں سے بہت کم ہوتی ہے جس کا منفی اثر خاندان کے علاوہ ملک کی معیشت پر بھی پٹرتا ہے اور اس طرح آمد وخرچ کا توازن بگڑجاتا ہے،جبکہ جداگانہ نظام میں خاندان کی ہر چھوٹی بڑی اکائی کام کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور ہر ذمہ دار شخص بہتر سے بہتر ذریعہئ آمدنی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے وہ خود بھی ترقی کرتا ہے اور ملک کی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔
(۰۱)مشترکہ نظام میں ایک بہت بڑا مسئلہ حسابات کی شفافیت اور ہرشخص تک اس کی محنت اور سرمایہ کے مطابق منافع کے پہونچنے کا ہے،ایک گھر میں متعدد افراد خاندان ایک ساتھ گذر بسر کرتے ہیں ان میں کسی کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے کسی کی کم،کسی کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ ہوتے ہیں تو کسی کے کم،والدین اگرحیات ہوں تو کوئی بیٹا گھر کے خرچ یا کاروبار کے لئے زیادہ پیسے دیتا ہے کوئی کم،ظاہر ہے کہ ہر شخص یکساں آمدنی اورخرچ کا تومالک نہیں ہوسکتا،ہر شخص کی اپنی صلاحیتیں اور مواقع ہوتے ہیں،لیکن مشترکہ نظام میں باہمی جذبہئ تعاون کو بنیاد بناکر اس تفاوت کو نظرانداز کیا جاتا ہے،بالخصوص باپ کی موجودگی میں یہ مسئلہ ہر گز زیر بحث نہیں آتا،لیکن جب سخت حالات میں سب کی جدائی عمل میں آتی ہے تو مشترکہ جائیداد کی تقسیم برابر برابر حسب حصہئ شرعی کی جاتی ہے،فقہاء بھی یہی فرماتے ہیں کہ چونکہ ملکیتیں ممتاز نہیں ہیں اس لئے سارے لوگ باپ یا رئیس خاندان کے معاون تصور کئے جائیں گے اور موجود اثاثہ پر سب کا حق برابر ہوگا اور تقسیم حسب حصص شرعی انجام پائے گی (ردالمحتار کتاب الشرکۃ ۳/۳۸۳)
مگر اس کے بعد کتنی پیشانیاں شکن آلود ہوتی ہیں،بغض ونفرت،کینہ وحسد اور تہمت والزام تراشی کانہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجا تاہے،زیادہ کمائی دینے والے کو اپنے خسارہ کااحساس،اور کم دینے والے کو مزید سے مزید لینے کی فکر ……اس وقت سارا جذبہئ تعاون ہوا ہوجاتا ہے اور ایک ہی گھر کے افراد باہم اس طرح بر سر پیکار نظرآتے ہیں جیسے صدیوں کی دشمنی چلی آرہی ہو،الامان والحفیظ،کیا فائدہ ایسے مشترکہ نظام اور وقتی جذبہئ تعاون کا، جس کا انجام اتنا بھیانک ہو؟ ……بہت کم ہیں ایسے گھرانے جو اس شدید انجام سے بچ جاتے ہوں اکثر لوگ اس اذیت ناک بھٹی سے گذرتے ہیں ……اورشرعی مسائل کی بنیا د عام حالات پہ ہوتی ہے نہ کہ مخصوص اور استثنائی حالات پر۔ ……تلک عشرۃ کاملۃ
یہ وجوہات ہیں جن کی بناپر میری حقیررائے میں جداگانہ خاندانی نظام زیادہ بہتر اور شرعی قباحتوں سے بڑی حد تک پاک ہے،خصوصاً آج کے دور میں جبکہ جذبہئ تدین،احساس ذمہ داری اور دینی واخلاقی قدروں کا فقدان ہوتا جارہاہے،امیدیں ٹوٹ رہی ہیں اوررشتوں پر مفاد ات کا غلبہ ہورہا ہے،ایسے حالات میں جداگانہ خاندانی نظام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہئ کا ر نہیں ہے،اس وقت خاندان کے بااثر لوگوں کی ذمہ داری ہوگی کہ بوڑھے والدین اور خاندان کے کمزوراور بزرگ حضرات کے لئے ایک نظام العمل مرتب کریں جس میں خاندان کی ہراکائی کی مالی حیثیت اور قرابت وتعلق کو ملحوظ رکھا جائے،اور خاندان کے جملہ افراد اپنی اولین ترجیحات میں اس کو شامل کریں۔
(۲)
مشترکہ نظام میں گھر کے اخراجات کی تقسیم
اگر مشترکہ خاندان ہو اور افراد خاندان کی ضروریات کے لئے سب مل کر خرچ دیں،کسی کے بچے زیادہ ہوں اور کسی کے کم،تو کیا ان سب پر برابر اخراجات عائد کئے جائیں گے یا ان کے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے؟
ضابطہ کی بات توبظاہر یہ لگتی ہے کہ جس کاخرچ زیادہ ہو اس پر زیادہ اخراجات عائد کئے جائیں،لیکن مشترکہ نظام کی روح اور اس کے مقاصد کاتقاضایہ ہے کہ سب پر برابر اخراجات عائد ہوں،،بچوں کی تعداد کا لحاظ ضروری نہیں ہے،اس لئے کہ اس نظام کی بنیاد تعاون باہمی پرہے،تاکہ کوئی کمزور فرد کم آمدنی کی بناپر زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے اور مالی دشواریاں اس کی ترقی کی راہ میں حائل نہ ہوں،مشترکہ نظام میں کوئی اپنی مالی قوت سے فائدہ پہونچاتا ہے تو کسی کی افرادی قوت کام آتی ہے،کوئی صحت سے کمزور ہوتا ہے تو کسی کی جسمانی صلاحیت اس کی مددگار ہوتی ہے،اگر باہمی تعاون وتناصر کاجذبہ مفقود ہوجائے تو سرے سے یہ نظام ہی ختم ہوجائے گا اور کوئی ضرورت نہیں رہ جائے گی مشترکہ نظام کے اس ڈھیر سارے بکھیرے کی،اگر ذمہ داریوں کے باب میں انفرادی اخراجات کا تناسب ہی ملحوظ ہو تو جداگانہ نظام ہی میں کیا قباحت تھی جو اس رسمی نا م نہاد مشترکہ نظام کے جھمیلے میں آدمی پڑے،……
دراصل یہ مسئلہ عرف پر مبنی ہے مشترکہ نظام کا معروف دستور یہی ہے کہ خاندان کا ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ لیتا ہے اسی طرح رائج حقوق وفرائض میں بھی اس کی شراکت برابرکی ہوتی ہے،اس نظام میں آمد وخرچ اور افادہ واستفادہ کا تناسب نہیں دیکھا جا تا، بلکہ ہرشخص اس نظام کا حصہ ہوتا ہے اور ہرایک اپنی طاقت بھر حصہ داری نباہتاہے،پس ہرایک کو اس نظام سے اپنی ضرورت کے مطابق فائدہ اٹھا نے کا حق حاصل ہے،……
اس مسئلہ میں درج ذیل فقہی عبارات سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے جو شرکت کے کاروبار کے ذیل میں کتب فقہ میں موجود ہیں،جن کی متعددصورتوں میں محنت وعمل میں بین فرق ہونے کے باوجود تمام شرکاء کو منافع میں برابر کا حصہ ملتا ہے:
٭وکذا لواجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ أبیہم ونما المال فہو بینہم سویۃ ولو اختلفو افی العمل والرای (ردالمحتار ۳/۳۸۳)
ترجمہ: اگر کئی بھائی ملکر باپ کے ترکہ سے کاروبار کریں تو منافع میں سب برابر کے شریک ہونگے خواہ محنت وتجربہ کے لحاظ سے ان میں فرق ہو،
٭الاب وابنہٗ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لہما شیء کالکسب فکلہٗ للاب انکان الابن فی عیالہٖ لکونہ معیناً ألاتریٰ لو غرس شجرۃ تکون للاب (ٖ ردالمحتارفصل فی الشرکۃ الفاسدۃ ۳/۳۸۴وکذا فی الفتاوی الہندیۃ ۲/۹۲۳)
ترجمہ: باپ اور بیٹے ملکر کوئی کام کرتے ہوں اور دونوں میں سے کسی کا سرمایہ اس میں لگا ہوا نہ ہو مثلاً کوئی محنت یا ہنر والا کام کرتے ہوں اگر بیٹا باپ کے زیر سرپرستی رہائش رکھتا ہوتو ساری کمائی باپ کی متصورہوگی اور بیٹا اس کامحض مددگار قرار دیا جائے گا۔
٭وفی الخانیۃ زوج بنیہ الخمسۃ فی دارہٖ وکلہم فی عیالہٖ واختلفوا فی المتاع فہو للاب وللبنین الثیاب التی علیہم لاغیر (شامی فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ ۳/۳۸۴)
ترجمہ:فتاویٰ خانیہ میں لکھاہے کہ کسی کے پانچ شادی شدہ بیٹے اس کے زیر پرورش گھر میں رہتے ہوں اوران میں سامانوں کے بارے میں اختلاف پیداہو تو سارا سامان باپ کا مانا جائے گا اور بیٹوں کو صرف اپنے بدن کے کپڑوں کا مالک قرار دیا جائے گا۔
ان اقتباسات سے ظاہر ہوتا کہ مشترک نظام میں (اگر قیام وطعام سب مشترک ہو)والد یا امیر کنبہ اصل ہوتا ہے اورباقی تمام افراد اس کے معاون تصور کئے جاتے ہیں اور اصل کے واسطے سے موجود اثاثہ پر سب کا حق مساوی پہونچتا ہے،مذکور ہ بالا فقہی عبارت میں بیٹے کی ساری آمدنی کا مالک بھی باپ کو قرار دیا گیا ہے،اس کا مطلب ہے کہ اس میں ان بھائیوں کا بھی حصہ ہوگا جنہوں نے باپ کے ساتھ اس مال کے کمانے میں محنت نہیں کی تھی ……اسی طرح اس سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ مشترک نظام کا اصل مقصد تعاون باہم ہوتا ہے۔
گھر میں جمع شدہ آمدنی سے کسی چیز کی خرید
(۳)اگر مختلف بھائیوں نے مل کر اپنے والد یا کسی بھائی کے پاس آمدنی جمع کی اور گھر کے اخراجات سے بچی ہوئی رقم سے کوئی چیز خریدی گئی تو اس میں سبھوں کا حصہ برابر ہوگا یا ہر ایک کی آمدنی کے لحاظ سے ہوگا؟
یہ مسئلہ بھی پچھلے اصول ہی سے جڑا ہوا ہے،فقہاء نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ہر ایسا مشترک معاملہ جہاں ملکیتیں مخلوط ہوں،متمائز نہ ہوں جن میں فی صد کا تعین مشکل ہو وہاں تمام شرکاء کا حق برابر مانا جائے گا،علامہ شامی ؒنے مستقل عنوان ہی قائم کیا ہے ”مطلب اجتمعا فی دار واحدۃ واکتسبا ولایعلم التفاوت فہو بینہما بالسویۃ“اس نوع کی متعدد نظیریں کتب فقہ میں موجود ہیں،شامی میں ہے:
وماحصلہٗ احدہما فلہٗ وماحصلا ہ معاً فلہما نصفین ان لم یعلم مالکل (درمختار) قولہٗ وما حصلا ہ معاً یعنی ثم خلطاہ وباعاہ ……وان لم یعرف مقدار ماکان لکل منہماصدق کل واحد منہما إلی النصف لانہما إستویا فی الاکتساب وکأن المکتسب فی أیدیہما فالظاہر أنہٗ بینہما نصفان ……ویوخذمن ہذا ماأفتیٰ بہٖ فی الخیریۃ فی زوج إمرأۃ وإبنہا إجتمعا فی دار واحدۃ وأخذکل منہما یکتسب علیٰ حدۃ ویجمعان کسبہماولایعلم التفاوت ولاالتساوی ولاالتمییز فأجاب بأنہٗ بینہما بینہما سویۃ (شامی ۳/۲۹۳)
ترجمہ:مال ایک نے حاصل کیا تو اسی ایک کو ملے گا،اور دو نے ملکر حاصل کیا تو دو نوں کو آدھا آدھا ملے گا،دونوں نے ساتھ حاصل کیا یعنی دونوں نے مال کو ملا کربیچا ……دونوں کی الگ الگ مقدار معلوم نہ ہو تونصف تک ہر ایک کی بات مانی جائے گی اس لئے کہ کمانے میں دونوں شریک ہیں اور گویا کمایا ہوا مال دونوں کے قبضے میں ہیں پس ظاہر ہے کہ وہ دونوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہوگی،……فتاویٰ خیریہ میں ایک جزئیہ اسی بنیاد پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عورت کا شوہر اور اس کا بیٹا دونوں ایک گھر میں رہتے ہیں اور علٰحدہ علحٰدہ کماتے ہوں اگردونوں اپنی کمائی کو ملادیں اور پتہ نہ چل سکے کہ کس کاکتنا حصہ ہے؟تو دونوں میں برابر تقسیم ہوگا“
اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں والد یا امیر کنبہ کے پاس جمع شدہ رقم میں سب کا حق برابر ہوگا اور اس میں آمدنی کا فرق ملحوظ نہیں ہوگا، اس لئے اس جمع شدہ سرمایہ کے کسی بھی حصہ سے جو چیز بھی خریدی جائے گی اس میں سب کاحصہ برابر ہوگا، خواہ آمدنی سب نے برابر جمع کی ہو یا کم و بیش،البتہ ضروری ہے کہ یہ ساری آمدنی گھر کے خرچ کے لئے امیر کنبہ کے پاس جمع کی گئی ہو،اور اسی جمع شدہ آمدنی کی بچی ہوئی رقم سے کوئی چیز خریدی گئی ہو،لیکن اگر چند بھائیوں نے والد یا بڑے بھائی کے پاس گھر کے خرچ کے علاوہ الگ سے کوئی رقم بالاقساط یا یکمشت جمع کی اوراس رقم سے کوئی چیز خریدی گئی تو اس میں سب کا حصہ برابر نہیں ہوگابلکہ جمع شدہ آمدنی کے لحاظ سے سب کے حصہ کا تعین کیا جائے گا،بشرطیکہ جمع کا تناسب معلوم ہو،
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی شکل میں جب کہ گھر کے اخراجات کے لئے سب نے آمدنی جمع کی اس کی بنیادباہمی محبت، جذبہئ تعاون اور گھر کی عزت وآبرو کے تحفظ پر ہے،اس لئے اس میں آمدنی کے تناسب کا نہیں بلکہ محض اس جذبہ میں شراکت کا اعتبار کیا جائے گا اور اس میں سب برابر کے شریک ہیں اس لئے جمع شدہ رقم پر سب کا حق برابر ہوگا، ……برخلاف دوسری صورت کے کہ اس میں صرف بطور امانت یا وکالت رقم جمع کی گئی ہے،اورامیر کنبہ بھی اس کوان کی مرضی کے بغیر خرچ نہیں کرسکتا اس لئے اس میں صرف انہی لوگوں کاحصہ ہوگا جنہوں نے وہ رقم جمع کی ہوگی اور اسی قدر جس تناسب سے رقم جمع کی گئی ہوگی۔ عا لمگیری میں ہے:
الا اذاکان لہا کسب علیٰ حدۃ فہو لہا کذافی القنیۃ (فتاوی عالمگیری ۲/۹۲۳کتاب الشرکۃ)
ترجمہ:البتہ اگر اس کی کمائی علحٰدہ ہو تو وہ کمائی اسی کی ہوگی۔
…………………………………………………………………………………………………………
زیادہ کمانے والے بھائی کی زائد آمدنی میں دوسرے بھائیوں کا حصہ
(۴)اگر تین بھائی ہیں،دو بھائی اپنی پوری تنخواہ مثلاً دس دس ہزار روپے گھرمیں دے دیتے ہیں اور ایک بھائی بیس ہزار روپے کماتا ہے وہ بھی دس ہزار گھر میں دیتا ہے اور دس ہزار الگ بچاکر رکھتا ہے تو وہ بچی ہوئی رقم صرف اس کی ملکیت ہوگی اس میں دیگر بھائیوں کا کوئی حصہ نہ ہوگا،اس لئے کہ آمدنی کا یہ حصہ مشترکہ نظام کے دائرے سے خارج ہے،یہ اس کی ذاتی ملک ہے جواس نے اپنے لئے پس انداز کی ہے،مشترکہ نظام کے دائرے میں صرف و ہ رقم داخل ہوگی جو اس غرض سے اس میں شامل کی جائے گی،بقیہ رقم کو الگ کرلینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس رقم کو اس نظام کا حصہ بنانا نہیں چاہتا،اور کسی کی مرضی کے بغیر اس کے مال پر تصرف جائز نہیں،اس لئے بچاہوا مال اس کی ذاتی ملکیت ہی میں رہے گا اور اس پر کسی بھائی یا بہن کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
………………………………………………………………………………………………………………
کمانے والے افراد کی کمائی میں گھر کا کام دیکھنے والوں کا حصہ
(۵)اگر خاندان کے کچھ افراد کماتے ہیں اور کچھ گھر کے کام دیکھتے ہیں اور اس طرح گھر کا کام چلتا ہے تو کیا کمانے والے حضرات کی آمدنی میں کام کرنے والے حضرات بھی برابر کے حقدارہونگے؟
مسئلے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
(الف) کوئی مشترکہ موروثی یا غیر موروثی کاروبار ہو جس میں کچھ لوگ کاروبار میں لگے ہوں اور کچھ گھر کے معاملات دیکھتے ہوں،ایسی صورت میں کاروبار میں لگے افراد کی آمدنی میں گھر میں کام کرنے والے حضرات بھی برابر کے حصہ دار ہونگے،اس لئے کہ گھر اور کاروبار دونوں کے شرکاء ایک ہیں اور صرف تقسیم کار کے اصول پر کام کو بانٹ دیا گیا ہے۔
(ب) لیکن اگر کوئی ایسا مشترکہ کاروبار نہ ہو بلکہ تمام لوگ اپنے اپنے طور پر کام کرتے ہوں اور اسی میں سے کچھ رقم گھرکے خرچ کے لئے دیتے ہوں اور کچھ حسب سہولت پس انداز کرلیتے ہوں اور کچھ لوگ وہ ہوں جو گھر کے معاملات میں مشغول ہوں اور کوئی آمدنی والا کام نہ کرتے ہوں،ایسی صورت میں وہ رقم جو گھر کے خرچ کے لئے کمانے والوں نے دے دی ہے اس میں ظاہر ہے کہ سارے افراد کا برابر حصہ ہوگا،لیکن جو رقم ان لوگوں نے گھر میں نہیں دی بلکہ اپنے پاس رکھ لی،اس میں دیگر حضرات کا حصہ دار ہونا بہت مشکل ہے،اس لئے کہ جو مال انسان کی ذاتی ملکیت سے خارج نہیں ہوا اس پر دوسرے کا حق کیوں کر ثابت ہوسکتا ہے؟……زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ گھر کے کام میں لگے ہوئے لوگوں کو آمدنی لانے سے مستثنیٰ کردیاجائے اور ان کی محنت کو دوسروں کی کمائی کا بدل قرار دیاجائے یعنی وہ بغیر کمائے ہوئے بھی گھر میں جمع ہونے والی آمدنی میں برابر کے حقدار ہونگے،لیکن کمائی کا وہ حصہ جو کمانے والوں کی جیب سے نکل کر گھر میں نہیں آیا وہ ظاہر ہے کہ ان کی نجی ملک ہے اس پر دوسروں کو حق دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
…………………………………………………………………………………………………………………………
والدین کی خدمت وکفالت کی ذمہ داری
(۶)والدین ساری زندگی بچوں کی خدمت کرتے ہیں اور کفالت بھی اور بڑھاپے میں انہیں خدمت وکفالت کی ضرورت ہوتی ہے،ایسے وقت شریعت اسلامیہ والدین کی خدمت وکفالت کی ذمہ داری اولاد پر عائد کرتی ہے،قرآن کریم میں ہے،
وقضیٰ ربک ألاتعبدوا إلاإیاہ وبالوالدین احساناً (الاسراء:۳۲)
ترجمہ:اور تیرے پروردگار کایہ فیصلہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔
ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً (عنکبوت:۸)
ترجمہ:اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی۔
وصاحبہما فی الدنیا معروفاً(لقمان:۵۱)
ترجمہ:اور والدین کے ساتھ دنیا میں اچھا سلوک کرو۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا اور عرض کیا:
یارسول اللّٰہ إن لی مالاً وإن لی أباً ولہٗ مال وإن أبی یرید أن یاخذ مالی،فقال رسول اللّٰہ ﷺ أنت ومالک لابیک (ابوداؤد،کتاب البیوع باب فی المؤجل یأکل من مال ولدہٖ،۰۳۵۳، ابن ماجہ کتاب التجارات باب ما للرجل من مال ولدہٖ ۲۹۲۲،مسنداحمد۲/۴۱۲)
ترجمہ: یارسول اللہ! میرے پاس مال ہے اور میرے والد کے پاس بھی مال ہے،پھر بھی میرے والد میرا مال لینا چاہتے ہیں،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔
بعض روایات میں اولاد کو انسان کی کمائی قراردیا گیا ہے،
إن أطیب مایأکل الرجل من کسبہٖ وإن ولدہٗ من کسبہٖ فکلوا من کسب اولادکم إذا احتججتم إلیہ بالمعروف (ابوداؤد ۳/۱۰۸ط حمص،ابن ماجہ ۲/۹۶۷ط الحلبی)
ترجمہ:سب سے پاکیزہ رزق وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے،اور اولاد بھی انسان کی کمائی ہے،پس ضرورت کے وقت اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ معروف طریقہ پر۔
والدین کے لئے اولاد کی ذمہ داریاں
فقہاء نے پوری تفصیل کے ساتھ والدین کے لئے اولاد کی ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے:
٭ اگر والدین ضرورت مند ہوں اور ان کے پاس مال نہ ہو تو اولاد پر ان کی کفالت واجب ہے،والدین کمانے پر قادر ہوں یا نہ ہوں اگر وہ نہیں کمارہے ہیں تو ان کو کمانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا،بلکہ ان کو خرچ مہیا کرنا اولاد کی ذمہ داری ہے بشرطیکہ اولاد صاحب استطاعت ہو یا کمانے پر قادر ہو اور کمائی میں اس کے اپنے اور بیوی بچوں کے اخراجات کے علاوہ گنجائش ہو (تبیین الحقائق ۳/۴۶،شامی ۲/۸۷۶)
٭اگر ماں کے مرنے کے بعدباپ نے دوسری شادی کرلی ہو اور باپ کی خدمت کے لئے سوتیلی ماں کا باپ کے پاس رہنا ضروری ہو اور اس کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو تو صاحب استطاعت اولادپر باپ کے ساتھ سوتیلی ماں کا خرچ بھی واجب ہوگا،البتہ اگر باپ سوتیلی ماں کے بغیر بھی خود اپنے سارے امورانجام دے سکتا ہو تو اس صورت میں اولادپر سوتیلی ماں کا خرچہ واجب نہیں ہوگا ،دے تو باعث فضیلت ہے ورنہ مجبو ر نہیں کیا جائے گا۔
٭اگر باپ کو خدمت گار کی ضرورت ہو تو خدمت گار کی فراہمی بھی اولاد کے ذمہ ہے،بشرطیکہ ان کے پاس اتنی گنجائش ہو،
٭اگر ماں باپ کے پاس نابالغ یا معذوراولاد ہو جن کے اخراجات کابوجھ بھی انہی کے سر ہو توماں باپ کے ساتھ ان کی چھوٹی اولادکے اخراجات بھی حسب گنجائش کمانے والی اولاد پرواجب ہوگی،(بدائع الصنائع کتاب النفقۃ سبب وجوب ھٰذہ النفقۃ ۳/۳۴۴، فتاویٰ ہندیہ نفقۃ ذوی الارحام ۱/۵۶۵ ط دیوبند)
٭فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر باپ کونکاح کی ضرورت ہو اور بیٹے کے پاس اتنی استطاعت ہو تو باپ کی شادی کرانا بھی اس کی ذمہ داری ہے (فتاویٰ ہندیہ نفقۃ ذوی الارحام ۱/۵۶۵ ط دیوبند)
٭البتہ اگراولاد میں کوئی اس قدر صاحب استطاعت نہ ہوکہ ان کے کھانے پینے اور خدمت کا مستقل انتظام کرسکے جبکہ والدین بالکل محتاج اور معذور ہوں،اور ان کے انتظام کی کوئی دوسری شکل موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ موجوداولاد اپنے شامل ان کی رہائش اور کھانے پینے کا نظم کرے،اس لئے کہ مشترکہ کھانے میں ایک دو آدمی کے کھانے کی گنجائش بآسانی نکل سکتی ہے،اور الگ رہنے میں جبکہ بنیادی اخراجات کا بھی نظم ممکن نہ ہو،والدین کی صحت اور زندگی کے لئے بڑے خطرات ہیں ( فتاویٰ ہندیہ نفقۃ ذوی الارحام ۱/۵۶۵ ط دیوبند،بدائع الصنائع کتاب النفقۃشرائط وجوب النفقۃ ۳/۹۴۴)
٭اگراولادباوجود استطاعت وسہولت کے والدین کے اخراجات سے انکار یا ٹال مٹول کرے تو والدین کو حق ہوگا کہ وہ ان کو بتائے بغیر اپنے خرچ کے بقدر مال لے لے،اگر وہاں قاضی ہو تو قاضی کے پاس اپنا معاملہ لے جائے ،(فتاویٰ ہندیہ نفقۃ ذوی الارحام ۱/۷۶۵ ط دیوبند)
٭یہی حکم جمہورفقہاء کے نزدیک اولاد کی اولاد کے لئے بھی ہے یعنی اگراپنی اولادمرچکی ہو یا خود بہت محتاج اور معذور ہو تو احکام کی یہ تفصیلات اولاد کی اولاد پربھی عائدہونگی اور یہ سلسلہ نیچے تک چلتا رہے گا (العنایۃ علی الہدایہ ۴/۰۱۴،مغنی المحتاج ۳/۶۴۴)
٭اسی طرح فقہاء نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ والدین کی خدمت وکفالت کی ذمہ داری اولاد ذکور واناث دونوں پر برابر عائد ہوتی ہے،اگر اولاد میں کوئی زیادہ خوشحال ہے اور کوئی کم تب بھی واجبات کی ادائیگی میں فرق نہیں کیا جائے گا ،شمس الائمہ سرخسی ؒنے بعض مشائخ کا قول نقل کیا ہے کہ اولاد میں تھوڑے بہت فرق کا اعتبار نہیں ہے لیکن بہت زیادہ فرق ہو تو فرق کا لحاظ رکھا جائے گا ( (فتاویٰ ہندیہ نفقۃ ذوی الارحام ۱/۴۶۵،۵۶۵ ط دیوبند)
شامی میں ہے کہ اگر والدین چلنے پھرنے سے معذور ہوجائیں اور ان کی خدمت اوردیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو اور ایک بیٹی ہے جو شادی شدہ ہے اور اپنی سسرال میں رہتی ہے تو اس شادی شدہ بیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ باپ کے گھر آکر ان کی خدمت اور دیکھ بھا ل کا فریضہ ادا کرے،اگر شوہر اس کے لئے راضی نہ ہو تب بھی والدین کو اس بے بسی کی حالت میں تنہا نہ چھوڑے،ایسے موقعہ پر ماں باپ کا حق مقدم ہے،زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ شوہر اس کا نفقہ بند کردے گا مگر نفقہ کی لالچ میں والدین کی خدمت نہ چھوڑے:
ولوأبوہا ……زمنا مثلاً فاحتاجہا فعلیہا تعاہدہٗ ولو کافراً وإن أبی الزوج ”فتح“(درمختار)ای مریضاً مرضاً طویلاً ……وہٰذا اذا لم یکن من یقوم علیہ ……لان ذلک من المصاحبۃ بالمعروف المأمور بہا ……لرجحان حق الوالد وہل لہا النفقۃ الظاہر لا وإن کانت خرجت من بیتہ ٖ بحق کما لو خرجت لفرض الحج (ردالمحتار کتاب الطلاق مطلب فی الکلام علی المؤنسۃ ۵/۷۵۲،۸۵۲ ط دیوبند)
٭رہ گیا مسئلہ بہو کا،تو قانونی طور پر وہ شوہر کے والدین کے لئے جوابدہ نہیں ہے،قانونی طور جس شخص کی وہ بیوی ہے وہ بھی اپنی خدمت کے لئے اسے مجبور نہیں کرسکتا،فقہاء نے اس ذیل میں ایک دلچسپ جزئیہ لکھا ہے :
ولو جاء الزوج بطعام یحتاج إلی الطبخ والخبز فأبت المرأۃ الطبخ والخبز یعنی بأن تطبخ و تخبز لما روی أن رسول اللہ ﷺ قسم الاعمال بین علی ؓ وفاطمۃ فجعل أعمال الخارج علی علیّ ؓ وأعمال الداخل علیٰ فاطمۃ ؓ ولکنہا لاتجبر علی ذلک إن أبت ویؤمر الزوج أن یاتی لہا بطعام مہیأ(بدائع الصنائع کتاب النفقۃ بیان مقدارالواجب فی النفقۃ ۳/۰۳۴،شامی کتاب الطلاق ۵/۱۳۲)
ترجمہ:اگر شوہر ایسا کھانا لیکر آئے جس کو پکانے یا روٹی بنانے کی ضرورت ہو اور عورت پکانے سے انکار کردے جیساکہ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر کے کام کو حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ کے درمیان تقسیم کردیاتھا،حضرت علی ؓ کے ذمہ باہر کاکام اور حضرت فاطمہ ؓ کے ذمہ اندر کا کام مقررفرمایاتھا،لیکن اگرعورت انکار کردے تواس کو مجبور نہیں کیا جائیگا اور شوہر سے کہا جائے گاکہ وہ بیوی کے لئے تیار شدہ کھانالیکر آئے“۔
ظاہر ہے کہ پھر شوہر کے والدین کی خدمت کے لئے اس کو مجبور کیسے کیا جاسکتا ہے؟ یہ سارا معاملہ اخلاقی ہے جیسے حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان اخلاقی بنیادوں پر کاموں کی تقسیم فرمادی تھی،اسی بنیاد پر المعروف کالمشروط کے اصول پر ساس سسر کی خدمت ودیکھ بھال کا بار بہو پرڈالا جاسکتا ہے،اور اس سے کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح تمہارا شوہر تمہارے ماں باپ کا خیال رکھتا ہے، تم کو بھی اس کے ماں باپ کا خیال رکھنا چاہئے،بہت سے کام جو قانون کے بل پر نہیں ہوسکتے،اخلاقی قوت کے ذریعہ ہوجاتے ہیں خصوصا ً گھریلواخلاقیات جو عرف میں رائج ہوں،ان کی نزاکت کا لحاظ تو ہر ایک کو رکھنا چاہئے،آخر ایک نہ ایک دن ہر ایک کو اس مرحلے سے گذرنا ہے،علامہ حصکفی ؒ نے میاں بیوی کے مسائل کے ذیل میں کثرت مہرکو جہیز سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے:
وعلیہ فلوزفت بہٖ إلیہ لایحرم علیہ الإنتفاع بہٖ وفی عرفنا یلتزمون کثرۃ المہر لکثرۃ الجہاز وقلتہ لقلتہٖ ولاشک أن المعروف کالمشروط فینبغی العمل بمامر کذا فی النہر ( درمختار علیٰ ردالمحتار کتاب الطلاق مطلب فی الابراء عن النفقۃ ۵/۸۳۲)
ترجمہ: عورت جو سامان جہیز لیکر آتی ہے اس سے شوہر کا استفادہ کرنا جائز ہے،اس لئے کہ ہمارے عرف میں جن عورتوں کا مہر زیادہ ہوتا ہے وہ زیادہ سامان جہیز لیکر آتی ہیں اور کوئی شبہ نہیں کہ معروف،مشروط کی طرح ہوتاہے،اس لئے اس پر عمل ہونا چاہئے۔
……………………………………………………………………………………………………
قریبی رشتہ داروں سے پردہ کا مسئلہ
(۷) مشترک خاندان میں ایک بڑا مسئلہ قریبی رشتہ داروں سے باہم پردہ کا ہے،خاص طور سے جب خاندان کافی بڑا ہو اور سب یا اکثر ایک ہی احاطے میں رہتے ہوں تو بہت احتیاط کے باوجود ایک دوسرے سے مکمل پردہ نہیں ہوپاتا،
پردہ کے بارے میں شریعت کا مزاج اور مذاق یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز فتنہ اور موقعہئ تہمت سے اجتناب ہے،جہاں فتنہ جتنازیادہ سخت ہوگا، کراہت اتنی ہی شدیدہوگی،حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
ایاکم والدخول علی النساء فقال رجل من الانصار یارسول اللہ!أفرأیت الحمو قال الحمو الموت الحدیث متفق علیہ
(مشکوٰۃ باب النظر الی المخطوبۃ ص ۸۶۲)
ترجمہ:عورتوں کے پاس جانے سے بچو،ایک انصاری صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! دیور کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آط نے ارشاد فرمایا دیور تو موت ہے۔
وعن عامر بن ربیعۃ ؓ قال رسول اللہ ﷺ لایخلون رجل بإمرأۃ قال ثالثہا الشیطان(مشکوٰۃ باب النظر الی المخطوبۃ ص ۸۶۲)
ترجمہ: حضرت عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے،فرمایا کہ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
گھروں میں ستر عورت کا مسئلہ نہیں ہے حجاب کا مسئلہ ہے جس کا تذکرہ احادیث میں کیا گیا ہے یا قرآن پاک میں آیا ہے کہ جب باہر نکلو تو اپنے اوپر جلباب ڈال لیا کرو
(وید نین علیہن من جلابیبہن) یہ اس لئے نہیں کہ چہرہ عورت ہے بلکہ اس لئے کہ اسی سے فتنہ کا آغاز ہوتا ہے،دیور وغیرہ سے لوگ مذاق اور بے تکلفی کا رشتہ تصور کرتے ہیں اس لئے وہاں تنہائی اور بے پردگی اور بھی زیادہ خطرناک ہے ……فقہاء حنفیہ کا نقطہٗ نظراس سلسلے میں بہت نرم‘لچکدار، معتدل اور موجودہ حالات میں زیادہ قابل عمل ہے:
وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال لالانہٗ عورۃ بل لخوف الفتنۃ کمسہٖ وإن أمن الشہوۃ (درمختار) والمعنیٰ تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجہہافتقع الفتنۃ ……وہذا فی الشابۃ أماالعجوز التی لاتشتہی فلاباس بمصافحتہاومس یدہا إن أمن ……ولایجوز النظر الیہ بشہوۃ أی إلا لحاجۃ ……والتقیید بالشہوۃ یفید جوازہا بدونہا لکن سیأتی فی الحظر تقییدہٗ بالضرورۃ وظاہرہٗ الکراہۃ بلاحاجۃ داعیۃ قال فی التتارخانیۃ وفی شرح الکرخی النظر إلیٰ وجہ الاجنبیۃ الحرۃ لیس بحرام ولکنہ یکرہ لغیر حاجۃ (ردالمحتار کتاب الصلاۃ مطلب فی ستر العورۃ ۲/۲۷،۳۷)وکذا فی المبسوط للسرخسی ۰۱/۲۵۱،وفتح القدیر ۱/۱۸۱)
ترجمہ: جوان عورت کو مردوں کے درمیان چہرہ کھولنے سے اس لئے نہیں روکا جاتا کہ وہ ستر عورت کے دائرے میں داخل ہے،بلکہ اس لئے کہ فتنہ کا اندیشہ ہے،جس طرح کہ عورت کو چھونا درست نہیں محض فتنہ سے بچنے کے لئے اگر چیکہ شہوت سے محفوظ ہو،……مطلب یہ ہے کہ عورت اگر مردوں کے درمیان چہرہ کھولے گی اور لوگ اس کا چہرہ دیکھیں گے تو فتنہ پیدا ہوسکتا ہے ……یہ حکم جوان عورت کے لئے ہے،بوڑھی غیر مشتہاۃ عورت سے مصافحہ کرنے اور اس کا ہاتھ چھونے میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ شہوت سے محفوظ ہو ……اسی طرح جوان عورت کے چہرہ کوبلا ضرورت دیکھنا جائز نہیں،شہوت کی قید کا مقصد یہ ہے کہ شہوت نہ ہو تو دیکھ سکتے ہیں،مگر ضرورت کی قید برقرارہے، یعنی واقعی ضرورت کے بغیرچہرہ دیکھنا مکروہ ہے،تاتارخانیہ میں شرح الکرخی کے حوالے سے ہے کہ اجنبی عورت کا چہرہ دیکھنا حرام نہیں ہے البتہ بلاضرورت مکروہ ہے۔
علامہ شامی نے مختلف فقہی کتابوں کے حوالے سے جو بات منقح کی ہے وہ یہ کہ جوان عورت کاچہرہ کسی اجنبی کے لئے بلاضرورت دیکھنا مکروہ ہے،اگر حاجت ہو اور انسان شہوت سے محفوظ ہو تو بقدر حاجت غیر محرم عورت کاچہرہ دیکھنا درست ہوگا۔
مشتر ک نظام میں جبکہ خاندان کی متعدد اکائیاں ایک احاطے میں قیام پذیر ہوتی ہیں ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہو نے سے بچنابہت مشکل ہے،یہ ایک مجبوری ہے جس میں ابتلائے عام ہے،یہ ویسی ہی مجبوری ہے جس کو فقہاء نے حاجت داعیہ کہا ہے،اسلئے اگر شہوت سے امن ہو تو بلاارادہ غیر محرم عورت کے چہرہ پر نظر پڑجا نے میں مضائقہ نہیں،البتہ ارادہ کے ساتھ نہ دیکھے،تنہائی میں ا کٹھا ہونے سے ہر ممکن پرہیز کرے،باہر یا اپنے کمرے سے گھر کے احاطے میں داخل ہو تو آواز دیکر یا کھانس کر داخل ہو تاکہ غیر محرم عورتیں محتاط ہوجائیں اور بلاضرورت کسی پر نظر نہ پڑے،عورتیں بھی جب اپنے کمروں سے نکلیں تو پورے پردہ کے ساتھ نکلیں جس میں صرف ضرورت کے بقدرہی آنکھ وغیرہ کھلی ہو،ہنسی مذاق اور بے تکلفی سے پوری احتیاط برتیں،دل ونگاہ کو پاک رکھیں اور جان بوجھ کر کسی ایسی جگہ نہ رہیں جہاں تنہائی میں کوئی اس سے ملنے کی کوشش کر ے،اس احتیاط کے ساتھ رہاجائے تو مشترک نظام مشکل ہونے کے باوجود ناجائز نہیں رہے گا،
عصر حاضر کے بزرگوں میں حضرت الاستاذمفتی محمود حسن گنگوہی ؒ نے اپنے فتاویٰ میں گھریلوپردہ کے بارے میں تقریباًانہی خیالات کا اظہار کیا ہے،(دیکھئے فتاویٰ محمودیہ ۸/۴۷۲،۵۷۲) واللہ اعلم بالصواب
سوالات کے مختصر جوابات
(۱) آج کے دور میں مختلف مصالح کے تحت مشترکہ خاندانی نظام کے مقابلے میں جداگانہ خاندانی نظام زیادہ بہتر ہے،اس میں شرعی حدود،دوسروں کے حقوق،اور شرعی منکرات ومحظورات سے تحفظ کا زیادہ ممکن ہے۔
(۲)اگر مشترکہ خاندان ہو اور افراد خاندان کی ضروریات کے لئے سب مل کر خرچ دیں تو سب پر برابر اخراجات عائد کئے جائیں گے،خواہ کسی کے بچے کم ہوں یا زیادہ
(۳)اس صورت میں اگر مختلف بھائیوں نے ملکر اپنے والد یا کسی بھائی کے پاس آمدنی جمع کی اور گھر کے اخراجات سے بچی ہوئی رقم سے کوئی چیز خریدی گئی تو اس میں سبھوں کا حصہ برابر ہوگا،آمدنی کا لحاظ نہیں ہوگا۔
(۴)اگر تین بھائی ہیں دو بھائی اپنی پوری تنخواہ مثلاً دس دس ہزار روپے گھر میں دیتے ہیں اور ایک بھائی بیس ہزار روپے کماتا ہے،وہ بھی دس ہزار گھر میں دیتا ہے اور دس ہزار الگ بچاکر رکھتا ہے تو وہ بچی ہوئی رقم صرف اس کی ملکیت ہوگی اس پر بھائیوں کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
(۵)اگر خاندان کے کچھ افراد کماتے ہیں اور کچھ گھر کے کام دیکھتے ہیں اور اس طرح گھر کا کام چلتا ہے توکمانے والے حضرات کی آمدنی میں گھر میں کام کرنے والوں کا کوئی حق نہیں ہوگا الایہ کہ کمانے والے حضرات گھر ہی کے مشترک کاروبار میں کام کرتے ہوں تو ایسی صورت میں کمانے والوں کی کمائی میں گھر میں کام دیکھنے والوں کا برابر حصہ ہوگا۔
(۶)والدین کی خدمت وکفالت کی مکمل ذ مہ داری اولاد کے سر ہے خواہ وہ اولاد ذکور ہوں یا اناث،بہو کے اوپر المعروف کالمشروط کے اصول پر محض اخلاقی طور یہ ذمہ داری آتی ہے،اگر کسی وجہ سے وہ انکار کردے تو اس کوقانوناً مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
(۷) خاندان کے غیرمحر م لوگوں سے بھی عام اصول کے مطابق پردہ واجب ہے بلکہ باہم بے تکلفی اور ساتھ رہنے کی بناپر خطرات اور بھی زیادہ ہیں البتہ ایک ساتھ رہنے پر اس میں تھوڑی مشکلات بھی ہیں اورزیادہ تر بے احتیاطی بھی ہوتی ہے اس لئے جہاں تک ممکن ہو پردہ کا اہتما م ضروری ہے،لیکن تمام احتیاط کے باوجود آمنا سامنا ہوجائے،اور دل میں کوئی شہوت یا بد خیالی پیش نہ آئے تو دفعاً للحرج مضائقہ نہیں،واللہ اعلم بالصواب وعلمہٗ اتم واحکم۔
اختر امام عادل قاسمی
جامعہ ربانی منوروا شریف

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: