مضامین

مضبوط خاندان مضبوط سماج

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام وعلیکم

اللہ تعالی نے دنیا میں 18 ہزار مخلوقات پیدا کیا ہے
جانور اور انسان میں اللہ نے عقل کا فرق رکھا ہے
انسان کے سامنے ایک نصب العین ہے کہ اللہ کے زمین پر پر دین کو نافذ کرنا اور خاندان و معاشرے کا لحاظ رکھنا۔
اللہ نے نکاح کا حکم دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے کہا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کریں
ایک بہترین خاندان بنانے کے لیے اپنے ماں باپ کے رشتے داروں اور اورسسرالی رشتے داروں کا احترام کریں میاں بیوی خاندان کی بنیاد ہیں رشتوں کو نبھانا انہی کے ذمہ ہوتا ہے ان انکا حق ادا کریں ۔ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔اکثر رشتہ داری کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے نمبر ایک ماں باپ اور اوراولاد کو محبت کے رشتے کہا جاتا ہے نمبر دو و سسرالی رشتے کو کو تنازعہ کے رشتے تے کہا جاتا ہے نمبر تین سوتیلے رشتے کو نفرت کا رشتہ کہا جاتا ہے جبکہ کہ اللہ تعالی نے نے تمام انسانیت کو اپنا کنبہ کہا ہے گھر میں کوئی بھی کام ہو چھوٹا ہو کہ بڑا مشورے سے کیا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور معافی کا معاملہ رکھیں اور ضروریات اور جذبات کو سمجھیں اس کے علاوہ احسان اور معافی کا برتاؤ کریں آپس میں ایک دوسرے کی برائیوں پر پر تنقید نہ کریں انہیں نظر انداز کریں دوسروں کی چھوٹی سی خوبی کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ان کی تعریف کریں اس طرح سے خاندان جڑے ہوئے رہتے ہیں یوں تو انسان فطری طور پر اجتماعیت چاہتا ہے خاندان چاہتا ہے بچہ پیدا ہونے سے لے کر قبر میں اتارے جانے تک بھی خاندان کی ضرورت پڑتی ہےجیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اسے ماں کی ضرورت پڑتی ہے اس کے بعد کھیلنے کے لئے دوستوں کی ضرورت پڑتی ہے پھر علم کے لئے اسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد ذریعہ معاش کے تلاش میں نکلتا ہے اس کے لئے بھی اسے دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر اس کے بعد ہم سفر کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے بڑھاپے میں خدمت کے لئے بچوں کی ضرورت پڑتی ہے پھر پھر موت کے بعد دفنانے کے لیے خاندان والوں کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے انسان کو ہمیشہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ پیار و محبت سے رہنا چاہیے کسی نے کیا خوب کہا ہے درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیان اللہ نے ہمیں بہترین دل عطا فرمایا ہے اگر اس میں محبت نہ ہو تو وہ دل کس کام کا۔خوشگوار زندگی بنانے کے لئے اللہ نے ہمیں عقل دی ہے اس سے ہم صرف بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اس سے اپنے خاندان اور معاشرے میں کس طرح زندگی گزارنا سیکھیں کیونکہ انسان رشتوں سے بندھا ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو معاف کرکے اپنے دلوں کو صاف کرلیں ۔اپنے خاندان میں آلودگی نہ ہو یعنی شکایت ہو والی گفتگو نہ ہو غیبت کی آلودگی بھی نہ ہو یہ پھیلنے والی بیماری ہے اس سے خاندان نکھر تے نہیں بلکہ بکھر جاتے ہیں ۔بڑی ہی گیرائی اور گہرائی سے خاندان کے حصار میں جڑے ہوئے رہنا ہے سورۃ رعد اور بنی اسرائیل میں رشتے داروں کا ذکر بڑے ہیں احسن انداز سے کیا گیا ہے سورہ محمد میں تو رشتے داری میں دراڑ ڈالنے والوں اور ڈلوانے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ رشتہ کو جانو اور جوڑو ماں باپ اور بیوی بچوں کے صلہ رحمی کے تقاضوں کو پورا کرو ۔اگر تمہارے رشتے دار مشرک ہیں تب بھی ان کا حق ادا کرو۔چاہے ماں باپ بھی کفر میں مبتلا ہیں تو ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا ہےکیونکہ رشتے داری عرش سے لٹک کر التجا کرتی ہے ہے کہ دنیا میں جو مجھ سے کٹا اللہ بھی اس سے دور ہو جائے جو مجھ سے جڑا تھا اللہ اس سے قریب ہو۔ رشتے داری کا نام اللہ نے اپنے نام سے نکالا ہے روٹ ورڈ رحمان ورحیم کا اشتقاق اسی رحم سےہے ۔ظلم کرنا اور رشتہ داری کو کاٹنا یہ دو بڑے گناہ ہیں عبداللہ بن سلام اور ابو سفیان ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کے انہیں رشتے داروں کو جوڑنے کی باتوں کو سن کر متاثر ہوئے اور اسلام قبول کر لیے۔ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے میں اپنے رشتے داروں سے ملنا چاہتا ہوں بار بار کوشش کرتا ہوںمگر وہ مجھ سے کٹتے ہیں آپ سلم نے انہیں بتایا کہ آپ برابر اپنے ۔اس رویے پر قائم رہیں اللہ آپ کی تائید کے لئے ایک فرشتہ مقرر کرے گا ۔ہمیں بھی چاہیئے کہ اپنے خاندان اور رشتے داروں سے جوڑ کر رہنے کی کوشش کریں اور انہیں سنبھالے رکھیں ۔کیوں کہ یہ انسان کی بہت بڑی طاقت ہے ۔
آئیے اب ہم اپنے معاشرے کی جانب بڑھتے ہیں ۔
معاشرہ۔ معاشرے کی بنیاد خاندان پر ہے اور خاندان کی بنیاد رشتوں پر رشتوں کی بنیاد میاں بیوی پر ہے اور میاں بیوی دونوں مضبوط ستون اور گاڑی کے دو پہیے ہیں جو خاندان کے خوشگوار تعلقات کو جوڑے رکھتے ہیں۔ سورہ حج میں بتایا گیا ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی بندگی کرو اور نیک کام کرو۔
جب کوئی انسان غلط راہ پر چل پڑتا ہے تو اس کورسوا نہ کریں بلکہ اس کی مجبوری کو دیکھیں ۔مثلا ایک آدمی ہے جو چوری کرتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس کے حالات کو سمجھیں اسے ذلیل کرکے حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کے قریب جائیں اس سے بات چیت کریں کریں اور اس کے حالات کا جائزہ لیں ہو سکتا ہے وہ کسی مجبوری کی وجہ سے اس راہ پر چل پڑا ہو ۔انسانیت کے ناتے اس کا تعاون کریں اور اسے کچھ محنت مزدوری کے کام پر لگا دیں۔ اسی طرح بیواؤں کا یتیموں کا جائزہ لیں اور ان کی مدد کریں اس طرح سے سماج سدھرجائے گا اور وہ لوگ غلط راہ پر چلنے سے رک جائیں گے ہماری کوشش کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا ۔اور ہم ہمارے خاندان سے غلط رسم و رواج کو دور کریں فضول خرچی سے اجتناب کریں۔
معاشرے کے تعلق سے ایک اور روایت ہے حضرت عبداللہ بن العاص سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا (ترمذی)
کسی نے کیا خوب کہا ہے
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
اسی طرح ایک اور روایت جو اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں۔ (مسلم)
اس مہم سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے گھروں کا خاندانوں کا معاشرے کا جائزہ لیتے رہیں اللہ تعالی ہمیں اس قابل بنائے اور اس کی توفیق عطا فرمائے آئے
(آمین یا رب العالمین)

– ممتاز بیگم محمدعلی مچھالے ( نونگر باگلکوٹ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: