اہم خبریں

مظفر نازنین، کولکاتہ ادب گلوب کے خورشید درخشاں: حقانی القاسمی

حقانی القاسمی— یہ نام ہے آسمانِ ادب کے اس مہر درخشاں کا جس کے بغیر ادب گلوب کا تصور ناممکن ہے۔ بلا شبہ یہ وہ مہر تاباں ہیں جن کی تابانیوں سے دو نسلوں کو روشنی ملی ہے اور اب بھی اس مہر درخشاں سے بے شمار اردو داں بشمول راقم الحروف فیض حاصل کر رہے ہیں۔
حقانی القاسمی نے تنقید اور ادبی صحافت میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ الگ الگ موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف شائع ہو کر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ مختلف اخبارات و رسائل سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ ’استعارہ‘، ’بزم سہارا‘، یک موضوعی مجلہ ’انداز بیاں‘ ،وغیرہ کے ذریعہ آپ نے اپنے صحافتی اور ادبی کمالات کا مظاہرہ کیا ہے۔ اِن دنوں قومی اردو کونسل کے رسائل ماہنامہ اردو دنیا اور سہ ماہی فکر تحقیق میں بحیثیت مشیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری عمرِ عزیز اردو کی ترقی و ترویج اور فروغ اور بقاء کے لئے وقف کردی ہے اور آج بھی اردو ادب کی خدمت کرنے میں شب و روز سرگرداں ہیں۔
حقانی صاحب کی پیدائش سیمانچل کے ایک شہر ارریا کے ایک چھوٹے سے گاؤں بگڈھرا میں 1970ء کو ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ اور سرکاری مڈل اسکول میں حاصل کی۔ والد صاحب کے Transferable جاب کی وجہ سے مختلف اسکولوں اور مدرسوں سے تعلیم حاصل کی۔ بنارس کے مدرسہ مطلع العلوم کمن گڈھا میں عربی دوم میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس سے چہارم تا ششم پڑھا۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند جیسے اہم علمی ادارہ سے فضیلت اور تکمیل ادبِ عربی کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لئے سرزمین ہند کی معروف دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی میں ایم۔ اے اور ایم۔فل کی ڈگریاں لیں۔ بچپن سے ذہین اور فطین حقانی القاسمی نے ایم۔ اے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور امتیازی نمبرات حاصل کرکے فیکلٹی آف آرٹس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ ان کی لائف کی بہت بڑی Achivementہے۔ اس زمانے میں یونیورسٹی ٹاپرز کو یومِ جمہوریہ کی تقریب (Republic Day Celebration) کے لئے مدعو کیا جاتاتھا۔ موصوف اس تقریب میں شریک ہوئے اور اس وقت کے وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسی زمانہ میں (National Eligibility Text) NET اور جی آر ایف (Junior Research Fellowship) کا امتحان کوائیلیفائی کیا۔ اس طرح سے اسکالرشپ حاصل کی اور ریسرچ کے لئے راہ ہموار ہوگئی۔ انہوں نے ’فلسطین کے چار ممتاز شعرائ‘ پر ایم فل کیا۔ علی گڑھ کے ترانے کے یہ اشعار اس عظیم علیگیرین پر حرف بہ حرف صادق آتے ہیں:
جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا
ہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گا
ہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گا
خود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گا
ہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گا
یہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
بلاشبہ آج حقانی القاسمی صاحب کی عظیم شخصیت مندرجہ بالا اشعار کی مصداق ہے۔ خوش قسمتی تھی کہ انہیں عظیم اساتذہ کرام کی شاگردی کا شرف حاصل رہا جن سے انہوں نے کسب فیض کیا ہے۔ اُن میں بطور خاص بنارس کے اساتذہ مفتی ابوالقاسم نعمانی، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، مولانا افتخار احمد اعظمی، مولانا طاہر حسین گیاوی، مولانا اسیر ادروی، مولانا توقیر احمد جونپوری، مولانا عزیز احمد اعظمی، دیوبند کے اساتذہ میں مولانا نصیر احمد خان، مفتی سعید احمد پالن پوری، مولانا معراج الحق، ملابہاری، مولانا نعمت اللہ اعظمی، مولانا ارشد مدنی، مولانا نور عالم خلیل امینی، مولانا عبدالخالق مدراسی، مولانا ریاست علی ظفر بجنوری قابل ذکرہیں۔ یہ وہ اساتذہ ہیں جو علمی اور دینی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی شاگردی کا شرف حاصل کرنا موصوف کے لئے باعث افتخار و مسرت ہے۔ یہ میرا ماننا ہے کہ شاگرد کی شخصیت کو جلا بخشنے میں، ان کے تابناک مستقبل اور شاندار کیرئیر کا سہرا قابل اساتذہ کرام کے سر جاتا ہے۔ ایک انگریز مفکر کا قول ہے:
"Special guidance and extra care should be needed to arouse the talent of a student”
موصوف ان اساتذہ کرام کی زندگی کو اہم سرمایہ سمجھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان معزز اساتذہ کرام کی رہنمائی کے بغیر ان کی (حقانی القاسمی صاحب) کی عظیم شخصیت تشکیل نہیں ہوتی۔
خاندانی پس منظر کا جائزہ لیں تو ان کے خاندان میں علم و ادب کا بڑا ذوق رہا ہے۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ کے مصداق تصنع اور ملمع سے کوسوں دور حقانی القاسمی صاحب کی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ ان کے دامن فیض سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں وابستہ ہیں۔ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ادب کا یہ وہ خورشیدِ تاباں ہیں جن کی تابانی سے پوری اردو دنیا جگمگا رہی ہے۔ بے حد منکسرالمزاج، متواضع اور ذہین ہستی کا نام حقانی القاسمی ہے۔ جو اس طرح آسمانِ ادب پر جلوہ نما ہیں جیسے خورشید نصف النہار پر چمک رہا ہوتا ہے۔ جس کی تجلی سے پوری کائنات منور ہوتی ہے: بقول شاعر
نہیں بحر تلاطم میں کوئی لعل و گہر ایسا
’تنقیدی اسمبلاژ‘، ’ادب کولاژ‘، ’طواف دشت جنوں‘، ’بدن کی جمالیات‘ موصوف کی تنقیدی اور تحقیقی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطین کے چار ممتاز شعراء ، لاتخف، ْخوشبو روشنی رنگ، شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان، رینو کے شہر میں، دارالعلوم دیوبند کا ادبی شناخت نامہ وہ کتابیں ہیں جن میں موصوف کے تنقیدی، تاثراتی اور تحقیقی مضامین ہیں۔ ان کے علاوہ تکلف برطرف ایک کتاب ہے۔ جو ہفت روزہ نئی دنیا، نئی دہلی میں شائع ہونے والے ان کے ادبی سیاسی اور سماجی کالموں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے اتنے گرانقدر مضامین لکھے ہیں جن سے چار پانچ کتابیں تیار ہو سکتی ہیں۔ جمالیات سے انہیں گہرا لگاؤ ہے اور ادب میں اس موضوع پر ان کا عمیق مطالعہ ہے۔
اردو ادب کی ایسی قد آور شخصیت پر ہمیں بے حد ناز ہے۔ جنہوں نے سماج اور معاشرے کے ہر طبقے کے لوگوں کو جنہوں نے ادب کی گرنقدر خدمات انجام دی ہے منظرِ عام پر لانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔انہوں نے ’خواتین کی خودنوشت: ایک جائزہ‘ کے عنوان سے یک موضوعی مجلہ ’انداز بیاں‘ کا ایک ضخیم شمارہ شائع کیا،اس کے بعد ’پولس کا تخلیقی چہرہ‘ ، پھرایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ادبی خدمات پر ایک شمارہ مختص کیاان دونوں شماروں کو بھی بے حد پذیرائی ملی۔
حقانی القاسمی صاحب کو جوزف میکوان کے ایک گجراتی ناول انگلیات کے ترجمے پر ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ برائے ترجمہ ملا۔ یہ عظیم کامیابی تھی۔ اس کے علاوہ موصوف کو اور بھی ایوارڈ ملے۔ دہلی اردو اکادمی سے ایوارڈ برائے تخلیقی نثر سے سرفراز ہوئے۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی سے حکیم قمرالحسن ایوارڈ ملا۔
حقانی القاسمی صاحب ادب کا گہرا ذوق رکھتے ہیں اور بلاشبہ ان کے تمام مضامین اس حقیقت کا غماز ہیں کہ ایسے گرانقدر مضامین کوئی عمیق مطالعہ کرنے والا ہی لکھ سکتا ہے۔
ویسے تو حقانی کی زندگی بہت سے حادثات سے گزری ہے۔مگر دو حادثے ان کی زندگی میںبہت اہم ہیں اور اتفاق سے دونوں کے دن اور تاریخ میں عجب سی یکسانیت ہے۔ اسی لئے حقانی کو سوموار سے بہت ڈر لگتا ہے کہ اسی دن اُن کی پیاری بیٹی انیقہ اس دنیا سے روپوش ہوگئی تھی اور سوموار ہی کو وہ اپنے والد عبدالصمد کے سائے سے بھی محروم ہوگئے۔ بیٹی انیقہ اور باپ عبدالصمد کی وفات کی تاریخ بھی انہیں بہت رلاتی ہے کہ 2؍ستمبر کو کا انیقہ کا انتقال ہوا اور ابّو 2؍مئی کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اپنی پیاری ننھی سی بیٹی انیقہ کی وفات کے غم نے انہیں اندر سے توڑ دیا۔ پھر بھی انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اوراداسیوں میں بھی ادب کی عبارتیں لکھتے رہے۔
آخر میں، میں اس عظیم شخصیت کو جو آسمان ِ ادب پر مہر درخشاں کی مانند جگمگا رہا ہے۔ تہہ دل سے پُرخلوص مبارک باد پیش کرتی ہوں اور بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا موصوف کو صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے اور ہم اردو والے ان سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: