مضامین

مظلوم عرب کی امداد قسط نمبر 07

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

جامع مسجد کھٹنئی میں 30/ جون 1967ء بروز جمعہ ایک پروگرام کیا گیا، جس میں مولانا عبدالرزاق قاسمی، الحاج مولوی ظہور الحق صاحبان نے حالات حاضرہ پر بصیرت افروز خطاب کیا، جب کہ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ کے صدر محترم جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب نے مرکزی جمعیت علمائے ہند کا بھیجا ہوا امدادی سرکلر سناتے ہوئے عرب مظلومیت کا دردناک خاکہ جامع انداز میں پیش کیا۔ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ قحط سالی کے باوجودلوگوں نے کافی حوصلہ و ولولے سے کام لیا، حتیٰ کہ عورتوں، بچوں اور فاقہ کشوں نے ان کے تعاون میں حصہ لیا، اور پونے دو سو روپیے مرکزی جمعیت علمائے ہند کو بھیجا گیا۔
علاوہ ازیں متفرق مقامات سے، بالخصوص پاکوڑ من سنگھا اور دگھی سے ریاستی جمعیت اور امارت شرعیہ پھلواری شریف کو رقمیں بھیجی گئیں۔ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ نے اس سے قبل بھی کلکتہ مظلومین کے لیے 14/ جنوری 1964ء کو مرکزی جمعیت علمائے ہند کو ایک سو پچیس روپیے اور امارت شرعیہ کو پچاس روپیے دیے۔
سرکلر
حالات کے تقاضے کے مطابق ضلع دفتر سے ایک سرکلر جاری کیا گیا، جس کا متن پیش ہے:
ید اللہ علیٰ الجماعۃ
سرکلر مورخہ25/ جولائی 1967ء
دفتر ضلع جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ بہار،مقام و پوسٹ کھٹنئی، وایا بونسی
محترم المقام………… زید مکارمکم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و مغفرتہ
نہایت اہم اور فوری توجہ طلب
الحاد اور لادینیت کے اس دور میں ملت اسلامیہ کی بقا اور حفاظت کے لیے جماعتی تنظیم نہایت ہی اہم اور بنیادی ضرورت ہے، جب کہ مادی طاقتیں منظم طور پر اسلام اور اہل اسلام کی تخریب کے لیے سرگرم عمل ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ہم نے متحدہ طورپر قدم بڑھایا ہے، فتح و نصرت نے قدم چوما اور جب کبھی معمولی اختلاف بھی ہوا، ہم نے دشمنوں کے سامنے سرجھکایا اورہزیمت و پریشانی اٹھانی پڑی۔ ایسے نازک وقت میں تمام مسلم جماعتیں جزئی اور فروعی اختلاف کو بھلا کر حسب ارشاد واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا (پ:4، آل عمران) اپنی مدافعت کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرنے کی کوشش کیا کریں۔
بحمدہ تعالیٰ جمعیت علمائے ہند نے وحدت کلمہ، عالمگیر انسانی برادری، عالمی اخوت کی دینی و انسانی کوششوں کو مضبوط بنائے رکھنے کے لیے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالم اسلام کے مسئلوں سے دردو دلچسپی رکھتے ہوئے، ہندستان کے مسلمانوں کی مدد سے ہر برے وقت میں تعاون کیا ہے۔
اسرائیل اور اس کے سامراجی دوستوں کے وحشیانہ برتاؤ سے عرب مظلومین کس قدر ستائے گئے، اس کا اندازہ اور تذکرہ کرنا بھی مشکل ہے، اس کے لیے اپنی زمین اور زندگی بھی تنگ اور بھاری معلوم ہورہی ہے۔
ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ہے کہ ایسے وقت میں اپنی پریشانیوں اور ضرورتوں پر ترجیح دیتے ہوئے ایثار سے کام لیں۔زیادہ سے زیادہ مالی امداد پیش کرکے اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کریں۔ سہولت اور فوری امداد کی غرض سے جمعیت علمائے ہند۔ ۱، بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی ۲ کے پتہ پر ہی رقم ارسال فرمائیں گے۔
امداد دینے والوں کی فہرست بھی ہمراہ ضرور روانہ فرمائیں۔ (معلومات اور رپورٹ کے واسطے مجھے (ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب) بھی مطلع کریں۔ اس ضلع سے امداد کی کئی قسطیں بھیجی جاچکی ہیں۔ہر جگہ28/ جولائی 1967ء جمعہ کو ”یوم فلسطین“ منایا جائے۔ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جائے۔
یوم فلسطین منانے کا اہتمام
بمقام کھٹنئی28/ جولائی 1967ء یوم جمعہ کو مرکزی جمعیت علمائے ہند کے مطابق فلسطین مظلوموں کی حمایت کے لیے ”یوم دعا“ اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ”مظاہرہ“ رکھا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ کے صدر جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب نے مسجد اقصیٰ کی اہمیت و فضیلت اور تاریخ کی روشنی میں یہودی جارحیت پرجامع خطاب کیا۔اور اس موقع پر ایک تجویز بھی پڑھ کر سنائی گئی، جس کا متن پیش ہے:
باشندگان علاقہ کھٹنئی ضلع سنتھال پرگنہ بہار کا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی سامراج نواز کارروائیوں سے مایو س ہے، یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام مقبوضہ عرب علاقوں، فلسطین، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے تمام مقامات مقدسہ سے اسرائیلی جارحیت کو فورا ختم کیا جائے۔ ایشیا اور افریقہ کے غلام بنائے جانے کی سامراجی سازش سے باز آیا جائے۔ اسرائیلی 1949ء کی عارضی صلح کی لائن پر واپس جائے۔
یہ جلسہ یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں جو فوجی قید ہوئے ہیں، اسرائیلی ان سے جینوا کنونشن کے مطابق انسانی سلوک کرے اور ان پر بہیمانہ درندگیوں سے باز آئے۔
یہ جلسہ اقوام متحدہ سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عرب پناہ گزینوں کی ہر طرح سے امداد کرے اور انھیں ہلاکت خیز تباہی سے بچانے کے لیے موثر امدادی اقدامات کرے۔
اس کے اردو اور انگریزی متن کی نقل اخبارات اور متعلقہ ذمہ داروں کو بھی بھیجی گئی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: