مضامین

معاشرہ میں بہو بیٹیوں کا استحصال، لمحہ فکریہ،

مجیب الرحمٰن،

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اگر لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ کوئی حقیر اور ذلیل چیز تھی تو وہ عورت کی ذات تھی، ان کے یہاں عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی انہیں پاؤں تلے روندا جاتا ظلم کی انتہا یہاں پر ختم ہوتی کہ بیٹی کی پیدائش ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا، ان سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ ایام مخصوصہ میں انہیں اصطبل میں رکھا جاتا ان کے قریب بھٹکنا کسی کو گوارہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ گھر گھرستی میں مشغول ہوں، لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا تو یکلخت ان پر کئے جانے والے ظلم و ستم کا خاتمہ کردیا گیا خدا کا قانون نافذ ہوا اور پھر اس قانون نے عورتوں کو جینے کا حق دیا ان کی عزت و ناموس کو بحال کیا عظمت و رفعت کی چادر ان پر تان دی ان کی شرف و مقبولیت لوگوں کے ❤️ دلوں میں بسا دی گئی اور فضیلت کا ایسا مہر لگایا کہ وہی عورت اگر ماں کا روپ دھار اختیار کر لے تو اس کے قدم کے نیچے جنت رکھ دی گئی اگر بہن کی شکل اختیار کرلے تو اس کے ہاتھ میں عفت کا کنگن پہنا دیا گیا اگر بیٹی کی صورت اختیار کرلے تو سر پر عظمت دستار سجادی گئی، یہ وہ سعادتیں ہیں جو اسلام نے عورتوں کو عطا کیا اور پھر یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ تاحیات ان کے ساتھ نرمی خیر سگالی پیار و محبت نچھاور کرنے کی تلقین کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت*نماز کے بعد۔ استصو بالنساء خیرا* کہ عورتوں کے ساتھ خیر سگالی کا معاملہ کرو ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ عورتیں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں اگر تم اس ہڈی کو سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو وہ ہڈی ٹوٹ جائے گی اس لئے ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا کرو، اور بھی کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بزور تاکید عورتوں کے معاملات پر مردوں کو متوجہ کیا ہے کیا اچھا ہوتا اگر اس حقیقت کو خود عورت اور مرد بھی سمجھ لیتے،
اس آئنہ میں آج ہم معاشرہ کا چہرہ دیکھتے ہیں تو پھر ایک بار ہمیں جاہلیت کا منظر نامہ سامنے نظر آتا ہے۔ ۔ واضح ہو کہ یہاں صرف مسلم معاشرہ کی بات نہیں ہورہی غیروں کے معاشرہ کا بھی حال بیان ہورہا ہے۔۔۔ جس طرح جاہلیت میں بے قیمت عورتوں کا استحصال ہوتا تھا ان کی عزت سے کھلواڑ ہوتا ٹھیک اسی طرح ہمارے سماج کی بہن بیٹیوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے بس فرق یہ ہے کہ اس وقت عورتوں کی عزت عزت ہی نہیں سمجھی جاتی تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن اس وقت عورتوں کی عزت کی قدر ہوتی ہے اور ہر ممکن طریقہ سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے ایسے میں اگر اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں تو پھر منظر بڑا دلدوز ہوتا ہے،۔ اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ عورتوں کو خصوصاً بہو جو اپنے گھر بار چھوڑ کر ماں باپ اور خاندان چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر آتی ہے اس وقت اس کی زندگی کا سب سے خطرناک دور شروع ہوتا ہے ، ہمارے معاشرہ میں یہ جو برائی ہے وہ زمانہ جاہلیت سے بھی خطرناک ہے، دلہن بن کر گھر میں جو بیٹی آتئ ہے اس کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اور اس کی حیثیت کی جس طریقے سے پاؤں تلے روندا جاتا ہے وہ اس وقت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ * اس وقت میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس طرح کے واقعات کے عینی شاہد ہوں اتنے عرصہ تک معاشرہ میں رہنے کا موقع کبھی نہیں ملا تھا اس بار موقع ملا ہے تو ہر طرف یہی منظر دیکھنے کو مل رہا یوں سمجھیں کہ جو کچھ بھی لکھا جارہا ہے وہ سب میرے آنسو ہیں*
اگر طلاق کی شرح نکالی جائے اور اس کا سبب تلاش کیا جائے تو اس کے پیچھے سب سے زیادہ ہاتھ ساس اور سسر کا ہوتا ہے * اگر چہ یہ بات کڑوی ہے مگر حقیقت ہے* ساس سسر ہمیشہ اپنے بیٹوں کو ورغلاتی ہے تھک ہار کر گھر آئے تو ماں بیٹے کے پاس بیٹھ کر دن بھر بہو کی روداد سنانے لگ جاتی ہیں بلاآخر وہ تنگ آکر اور روز کی اس عادت سے مجبور ہوکر طلاق کی نوبت آجاتی ہے، کتنے گھر ایسے ہیں جہاں ساس سسر کا یہ اصول ہوتا ہے کہ بیٹا زیادہ دیر اپنی زوجہ سے نہیں مل سکتی اب وہ بیٹا سوچتا ہے کہ ایک طرف ماں اور دوسری طرف بیوی بات کس کی مانی جائے فطرتاً ماں پر دل آتا ہے اور اپنی شریک حیات سے دوری بنائے رکھتا ہے اب شوہر کی دوری میں وہ گھٹ گھٹ کر زندگی کزار رہی ہوتی ہے وہیں ساس کی کڑوی کسیلی باتیں بھی ہضم کرنی پڑتی ہیں اس کربناک عالم میں وہ معصوم سی کلی زندگی گزار رہی ہوتی ہے کئی واقعات ایسے ہیں کہ اس طرح کی زندگی سے تنگ آکر وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، بات بات پر ساس کا روک ٹوک وہ بھی سخت لہجہ میں بیچاری جان ہتھیلی میں لئے اور اپنے والدین کی ناموس کی خاطر سب کچھ برداشت کرکے زندگی گزار رہی ہوتی ہے،
یہ حقیقت ہے کہ بہو جو دلہن بن کر اپنے شوہر کے گھر آئی وہ بھی معصوم نہیں ہے غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں لیکن اگر ساس ماں بن کر اور سسر باپ بن کر ان کی غلطیوں پر تنبیہ کریے تو یقیناً وہ خامیاں دور ہو سکتی ہیں کوئی بھی والدین اپنے اولاد کی غلطیوں کو اجاگر نہیں کرتے بلکہ ان کو دبا دیتے ہیں اور ان کی اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں اگر بات سلیقہ سے پیار بھرے انداز میں کہی جائے تو پھر اثر انداز ہوتی ہے لیکن ساس سسر کا رویہ بہو کے ساتھ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے اب مجبوراً وہ کچھ ایسی حرکتیں کردیتے ہیں جو ناگوار گزرجاتی ہیں ،۔ اس مسئلہ کاشکار اکثر تقریباً نوے فیصد گھرانہ ہے ایسے گھروں میں کبھی چین و سکون کی دولت نصب نہیں ہوسکتی ایک بندہ جو خدا کا غلام ہے اور اللہ نے اس کو آزاد پیدا کیا ہے اب اگر اسے کوئی غلام بنانا چاہے تو یہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے،۔ اور بھی کئے ایسے مسائل ہیں کس کو ذکر کیا جائے کس کو چھوڑا جائے،

* بس یہ بات ہر ماں باپ کو سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اپنے بہو کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کا جو حق ہے وہ ادا کرے اس کی غلطیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے اس کی اصلاح کی کوشش کرے اپنے گھر کے ماحول کو صاف و شفاف رکھے پھر انشاءاللہ گھر گھرانہ دونوں شاد و آباد رہیں گے،

بہو ؤں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے ساس اور سسر کی خوب خدمت کرکے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرے ان کے دل میں جگہ بنائے ذرا سا صبر کرلے وقت ایک جیسا نہیں رہتا،

اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو شاد و آباد رکھے،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: