اسلامیات

معراج کی رات : راز کی باتوں میں سے ایک بات !

🖋️: مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی :
Faiyazsiddiqui536@gmail.com
_____====_____
محترم قارئین :
رحمت دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کی رات براق پر سوار قاب قوسین کی طرف بلندیوں کا سفر طے کرتے رہے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے بلند مقامات عطاہوئے کہ اِن مراتب کے بعد بھی لاتعداد عظمتوں اور بلندیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی اللہ رب العزت کی بارگاہ سے نعمتیں عطاہوئیں توآپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحدیتِ نعمت اورشکریہ کے طورپر لوگوں کو اُن نعمتوں کے حوالے سے آگاہ بھی فرمایا۔ انہی نعمتوں اور بلندیوں میں سے ایک معراج بھی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآنِ کریم میں اسراء اورمعراج کا ذکر یوں فرماتاہے:
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ.}’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (سورة بنی اسرائيل: 1)اِسی بے مثال واقعہ کا تذکرہ سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات مبارکہ میں بھی آیا ہے۔ جہاں اللہ رب العزت نے { وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَی} کے الفاظ سے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعہ معراج کے بیان کا آغاز فرمایا۔ اسراء اور معراج کے حوالے سے کثیر احادیث ہیں اُن میں سے بعض احادیث دیگر بعض احادیث کو مکمل کرتی ہیں۔اِنہیں چھبیس سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا۔ ہم یہاں اِس موضوع کی تفصیلات کا ذکر نہیں کریں گے کیونکہ یہ واقعہ مسلمانوں میں معروف ہے۔ ہم اِس واقعہ کا فقط اخلاقی پہلو ذکرکریں گے۔ واقعہ معراج کو کچھ لوگ سنتے ہیں تووہ اِس واقعہ کے ظاہری پہلوؤں تک محدود رہتے ہیں اور پھر ایک بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ کیا یہ خواب کا معاملہ تھایا بیداری کا۔۔۔؟ کیا یہ سفر روح وجسم کا تھا یا فقط روح کا۔۔۔؟ کیا یہ معجزہ دن کو رونما ہوا یا رات کو۔۔۔؟یہ سارے سوالات اُس وقت اٹھتے ہیں جب قلوب میں ایمانی حرارت معدوم ہوجائے۔ دوسری طرف اِس خبر کو ایک قوم نے یوں سنا کہ یہ خبراُن کے دلوں کی گہرائی میں اترگئی تب وہ لوگ طبعی صورت میں اِس واقعہ کی روح کی طرف متوجہ ہوئے۔ اُنہوں نے یہ خیا ل کیاکہ یہ خبر ایسی ہدایات پرمشتمل ہے جنہیں سرسری نظر سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اس میں امتِ محمدیہ کے لئے چند ہدایات ہیں: معراج کے اِس اہم وعظیم سفر میں آپ کو جنت ودوزخ کے مشاہدہ کے ساتھ مختلف گناہگاروں کے احوال بھی دکھائے گئے جن میں سے بعض گناہگاروں کے احوال اس جذبہ سے تحریر کررہاہوں کہ ان گناہوں سے ہم خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی ترغیب دیں: oحضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھل رہے تھے،میں نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں( یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بے آبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔‘‘ (ابوداؤد) oحضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر بھی گزرا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے رہنے کے) گھر ہوتے ہیں، ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے، میں نے کہا اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)۔ oآپ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہوجاتے تھے جیسے پہلے تھے، اسی طرح یہ سلسلہ جاری تھا، ختم نہیں ہورہا تھا۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ لوگ نماز میں کاہلی کرنے والے ہیں ۔oآپ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے ہیں اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے ہیں، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ۔ آپ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے اور ایک ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، یہ لوگ سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں اور پکا ہوا گوشت نہیں کھارہے ۔آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے مگر وہ زانیہ اور فاحشہ عورت کے ساتھ شب باشی کرتے ہیں اور صبح تک اسی کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ عورتیں ہیں جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑکر کسی زانی اور بدکار شخص کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ واقعۂ معراج النبی سے متعلق کوئی خاص عبادت ہر سال ہمارے لئے مسنون یا ضروری نہیں ۔ تاریخ کے اس بے مثال واقعہ کو بیان کرنے کا اہم مقصد یہ ہے کہ ہم اس عظیم الشان واقعہ کی کسی حد تک تفصیلات سے واقف ہوں اور ہم اُن گناہوں سے بچیں جنکے ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام نبی اکرم نے اس سفر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر امت کو بیان فرمایا- اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہے کہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی عطا فرمائے – بالخصوص اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے احکامات اور پیغمبر اسلام کے فرمودات پر عمل کرنے اور خلفائے راشدین ؓ کے طرز حیات کواپنانے کی توفیق نصیب کرے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین :::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: