مضامین

معلم سے بہتر معلمات

مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی

ماہرین ِ تعلیم کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ ”پرائمری تعلیم“ بالخصوص پری پرائمری تعلیم اور ”نرسری ایجوکیشن“ کے لیے، یعنی ایسے بچوں کی تعلیم کے لیے جو ابھی چھ سات سال کے نہ ہوئے ہوں، مردوں سے زیادہ عورتیں مفید ہیں؛ کیوں کہ فطرتاً مردوں سے زیادہ عورتوں میں بچوں سے انسیت ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملہ میں قوت ِ برداشت بھی عورتوں میں مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور بچے بھی مردوں کے مقابلہ میں عورتوں سے جلد مانوس اور بے تکلف بن جاتے ہیں۔
پس اگر ہماری خواتین کچھ بھی توجّہ فرمائیں اور طریقہئ تعلیم سے واقفیت حاصل کرکے خود اپنے مکان میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری کردیں، تو ملت ِ اسلامیہ پر احسان ِ عظیم ہوگا اور دور ِ حاضر کی سب سے بڑی مشکل آسانی سے حل ہوجائے گی۔
تجربہ اور مشاہدہ
آپ اگر اپنی عمر کے پچاس ساٹھ سال پورے کرچکے ہیں، تو آپ بلا تکلّف شہادت دے سکتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ہم سے زیادہ مہذّب، نیک خصلت اور با اخلاق تھے۔ پھر اگر آپ چھان بین کی کچھ اور زحمت برداشت کریں، تو بے شمار شہادتیں یہ بھی ثابت کردیں گی کہ بزرگوں کی تہذیب اور ان کے بہتر اخلاق کا سرچشمہ اس زمانہ کی واجب الاحترام سلیقہ مند مائیں اور بہنیں تھیں، جن کی آغوش ِ تربیت اور محبت بھری تعلیم نے ان نونہالوں کو بچپن ہی سے ایسا مہذّب اور بااخلاق بنا دیا تھا کہ اس کے رنگین نقش آخر عمر تک اسی طرح روشن رہے۔ (۱) زمانے کا اتار چڑھاؤ کبھی بھی ان کی روشنی کو مدھم نہ کرسکا۔
پس اگر آپ خود بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، تو دوسری صورت یہ ہے کہ اپنی نگرانی میں گھریلو مکتب اور تربیت گاہ خود اپنے گھر کی عورتوں اور سمجھ دار لڑکیوں سے قائم کرائیں۔ یا محلہ کی کسی سمجھ دار سلیقہ مند خاتون کو اس کے لیے آمادہ کریں۔
ادائے فرض کی صورت نمبر(۳): مکاتب کا قیام اورامداد و تعاون
اچھا اگر آپ اپنے عمل اور اپنی محنت سے تعلیم و تربیت کا سلسلہ کسی بھی سبب سے نہیں قائم کرسکتے، تو پھر آپ کا یہ فرض ہے کہ اس فرض کی ادائیگی کے لیے اپنی جیب پر بوجھ ڈالیں۔ اور اپنے گاؤں، قصبہ یا محلہ میں جہاں مسلمان بچے آسانی سے پہنچ سکیں، ابتدائی تعلیم کا باضابطہ مکتب (پرائمری اسکول) قائم کریں۔ اس اسکول میں باضابطہ درجہ بندی ہو اور اس کا کورس وہی ہو، جو سرکاری پرائمری اسکول کا ہوتا ہے۔ آپ اس میں صرف اتنی ترمیم کرلیں کہ نظام الاوقات (پروگرام) اپنی ضرورت کے مطابق بنائیں۔ یعنی سرکاری پرائمری اسکول میں تمام گھنٹے سرکاری کورس کے لیے دیے جاتے ہیں۔ آپ صرف چار گھنٹے سرکاری کورس کے لیے رکھیں اور دو گھنٹے مذہبی تعلیم کے لیے مخصوص کرلیں۔ اور ایسا طریقہئ تعلیم اور دینیات کا ایسا نصاب تجویز کریں کہ دو گھنٹے میں قرآن شریف اور دینیات کی تمام ضروری تعلیم اطمینان سے ہوسکے۔
پروگرام (نظام الاوقات) بنانے کی ایک آسان شکل یہ بھی ہے کہ آپ گھنٹہ چالیس منٹ کا رکھیں۔ اس طرح چھ گھنٹوں کے نو گھنٹے ہوجائیں گے۔ آپ چھ گھنٹوں میں سرکاری کورس کے مطابق تعلیم دیں اور باقی تین گھنٹوں میں قرآن شریف،دینیات اور اردو کی تعلیم دیں۔
اردو کی تعلیم کی آسان ترین صورت یہ ہے کہ آپ دینیات کے وہ رسالے منتخب کریں، جو ادب اور زبان کے لحاظ سے بھی اس معیار کے ہوں کہ ان سے تعلیم اردو کا کام لیا جاسکے۔ اس صورت میں اردو زبان کے لیے اور کتابیں نہیں پڑھانی پڑیں گی۔ دینیات کے رسالوں ہی سے دونوں کام ہوجائیں گے۔ صرف اردو لکھائی کے لیے تختی لکھوانی ہوگی۔ اور پھر انھیں دینیات کے رسالوں سے املا لکھوانا ہوگا، اس طرح ان کو جہاں اردو لکھنے کی مشق ہوگی، دینیات کے سبق بھی ان کے ذہن نشین ہوجائیں گے۔ (۱)
درجہ الف یا پہلے درجہ میں اس طرح بھی کام چل سکتا ہے کہ اسکول (مکتب) کا آدھا وقت کورس کے لیے رکھا جائے اور آدھا وقت دینیات کے لیے۔
آپ اپنے اس اسکول کو اس طرح باضابطہ بنا کر میونسپل بورڈ یا ڈسٹرکٹ بورڈ سے اس کا الحاق کرالیں۔ تاکہ جو بچے آپ کے اسکول میں تعلیم پائیں، وہ لازمی جبری تعلیم سے مستثنیٰ ہوسکیں۔
اس الحاق کامفید پہلو یہ ہے کہ مسلمان بچے آپ کے یہاں زیادہ سے زیادہ داخل ہوسکیں گے۔ اور جو سر پرست بچوں کی سرکاری تعلیم کو ضروری اور مقدم سمجھتے ہیں، وہ بھی اپنے بچوں کو آپ کے یہاں داخل کراسکیں گے۔ اس طرح آپ کے مکتب کا حلقہ وسیع ہوگا اور وہ زیادہ سے زیادہ دینی خدمت انجام دے سکے گا۔
سرکاری محکمہئ تعلیم کو بھی اس الحاق کے منظور کرنے میں تامّل اور لیت و لعل نہ کرنا چاہیے؛ کیوں کہ ایسے پرائیویٹ مدرسوں اور اسکولوں سے وہ فرض ادا ہوگا، جس کا انجام دینا سرکار کے لیے مشکل پڑ رہا ہے۔ اور جس کے مالی بار سے سرکار کی کمر دُہری ہوئی جارہی ہے۔
تاہم اگر کسی جگہ کسی غلط فہمی یا تنگ نظری کی بنا پر الحاق میں دشواری پیش آئے، تو آپ تمام ذرائع استعمال (۲) کرکے اس دشواری کو حل کریں۔ اس الحاق کے نتیجہ میں آپ کو اس کا بھی حق ہوگا کہ میونسپل بورڈ یا ڈسٹرکٹ بورڈ، یا اس کے قائم مقام سرکاری ادارہ سے مالی امداد حاصل کریں۔
بہت سے مقامات پر عربی مدرسے قائم ہیں، ان کے لیے یہ بات بہت آسان ہے کہ وہ ابتدائی درجات کو باضابطہ کرکے الحاق کرالیں۔ اس طرح ان کے اثرات اور ان کی مقبولیت میں چار چاند لگ جائیں گے اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے لیے آسان ہوجائے گا کہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی مذہبی تعلیم کے فرض عین کو آسانی سے انجام دے سکیں۔
ادائے فرض کی صورت(۴):شبینہ یا صباحی مکاتب کا قیام
اگر کہیں مسلمانوں کی اتنی تعداد نہیں ہے، یا بدقسمتی سے ان میں یہ احساس نہیں ہے کہ مالی امداد کرکے باضابطہ مدرسہ (پرائمری اسکول) قائم کرسکیں، تو پھر فریضہئ تعلیم کی ادائیگی کی شکل یہ ہے کہ محلہ میں صباحی یا شبینہ مکتب قائم کریں اور کسی معلم یا معلمہ کی خدمات اس کے لیے حاصل کریں۔ جن مدرسوں میں گیارہ سال سے زیادہ عمر کے بچے بھی تعلیم پاتے ہیں، ان میں ایسا انتظام کیا جاسکتاہے کہ صبح کے ابتدائی دو گھنٹے یا شام کے دو گھنٹے پرائمری سرکاری اسکول میں تعلیم پانے والے بچوں اور بچیوں کے لیے مخصوص کردیں اور باقی اوقات میں گیارہ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو تعلیم دی جائے۔
ادائے فرض کی صورت(۵):ہر ایک مسجد مذہبی تعلیم و تربیت گاہ
آخری شکل اور اسلام کے نظام اجتماعی کے لحاظ سے سب سے پہلی شکل یہ ہے کہ مسجد کے امام صاحب کو بچوں کی مذہبی تعلیم و دینی تربیت کی طرف متوجہ کیا جائے اور جس طرح جنوبی ہند کے بیشتر قصبات و دیہات اور شہروں میں رواج ہے کہ صبح یا شام کو (اسکول کے وقت سے پہلے یا بعد کو) گاؤں یا محلے کے بچے دو گھنٹے کے لیے مسجد میں آتے ہیں اور امام صاحب سے دینیات و قرآن شریف پڑھتے ہیں، شمالی ہند میں بھی اس کو رواج دیا جائے۔
اسلامی تعلیم کے لحاظ سے مسجد محلہ کا اجتماعی مذہبی مرکز ہے۔ اور امام صاحب محلہ کے پیشوا اور مربّی اور سرپرست ہیں۔ یہ حیثیت اگر پیش ِ نظر ہے، تو آسانی سے ہماری ہر ایک مسجد مذہبی تعلیم گاہ اور دینی تربیت گاہ بن سکتی ہے اور وہ نظام پھر سے زندہ ہوسکتا ہے جو اسلام کے قرنِ اوّل میں رائج تھا۔
سرکار کو محلہ محلہ اسکول قائم کرنے کے لیے کروڑوں روپیہ اور طویل مد ّت درکار ہے۔ اور اسلامی تعلیم کے مطابق ہر ایک محلہ میں اللہ کا گھر موجود ہے، جو تھوڑی سی توجہ سے تعلیم و تربیت کا مرکز بن سکتا ہے۔ صرف احساس ِ فرض کی ضرورت ہے۔ امام صاحب یہ محسوس کریں کہ اہل ِ محلہ اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت ان کا مقدس فرض ہے اور محلہ والے یہ محسوس کریں کہ امام صاحب کے اس احسان ِ عظیم کی قدر شناسی ان کا فرض اولین ہے۔ محلہ یا گاؤں والے امام صاحب کی اقتصادی ضروریات پوری کریں اور امام صاحب محلہ والوں کو اپنی تعلیمی اور اخلاقی کمک پہنچائیں۔ یہ وہ تعاون ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کیا ہے۔
َتعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
(سورہ مائدہ، آیت:۲،پ:۶)
”نیکی اور پرہیزگاری کی بات میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ گناہ اور ظلم کی بات میں نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اس کی سزا بہت سخت ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: