اسلامیات

معمولاتِ نبویؐ عشاء سے صبح تک

نماز اور نماز کی ہر رکعت میں سورہئ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں، سورہئ فاتحہ کیا ہے؟ رب کائنات کی حمد و ستائش، خدا اور بندہ کے تعلق کا اظہار اور دربارِ خدا وندی میں دُعاء والتجا، التجااس بات کی کہ خداوند! ہمیں بھی ”صراطِ مستقیم“ (سیدھی راہ) دکھائیے، یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے، ان لوگوں کا راستہ نہیں جن پر آپ کا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہوئے۔ یہ انعام یافتہ کون ہیں جن کی راہ دکھانے کی دُعا کرائی گئی؟ ان میں سے پہلے حضراتِ انبیاء کا قدسی صفت گروہ ہے، (النساء: ۹۶) انبیاء کی تعلیمات اور ان کا طریقہئ حیات افسوس کہ ان کی اُمتوں نے گم کردیا اور وہ انسانی ملاوٹوں اور آمیزشوں کا شکار ہوکر رہ گیا۔
اس سے مستثنیٰ صرف پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوہئ حسنہ ہے، کیونکہ خود اللہ تعالی، نے آپؐ کی تعلیمات کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور آپؐ کی نبوت کو قیامت تک باقی رہنا ہے۔ پس صراطِ مستقیم کی ہدایت کی دُعا دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہئ مبارکہ کی اتباع و پیروی کے لیے توفیق کی دُعاء ہے۔ یہی گویا مومن کی زندگی کا اصل منشا و مقصود اور اس کے علم و عمل کی معراج ہے، کہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر گذرے اور خوشی ہو یا غم، آرام ہو یا تکلیف، اتباعِ سنت کا دامن اس سے چھوٹنے نہ پائے، چاہے عبادت ہو یا عام امورِ عادت ہوں، ہر موقع پر وہ سنتِ نبویؐ کو اپنے لیے نقشہئ راہ بنائے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور تعلق کا تقاضا بھی ہے۔
تو آئیے! ہم آپؐ کے شب و روز اور شام و سحر کے معمولات دیکھیں اور بہ قدرِ توفیق اس پر عمل کا پختہ ارادہ کریں۔
عشاء کے بعد متصلاً سونا
معمولِ مبارک رات میں جلد سونے کا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اوّل حصہ میں سوجاتے اور آخری حصہ میں بیدار ہوجاتے۔ رات کے اوّل حصہ سے کیا مراد ہے؟ اس کی تعیّن بھی حضرت عائشہؓ ہی کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپؐ عشاء سے پہلے سوتے نہیں اور عشاء کے بعد گفتگو نہیں فرماتے، (جلد سوجاتے) بلکہ آپ عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو نا پسند فرماتے۔ تاہم گاہے دینی گفتگو فرمایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات عشاء کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمانوں کے دینی معاملات میں گفتگو فرماتے اوراس (مجلس) میں بھی شریک رہتا۔ اسی طرح اتفاقاً اہل و عیال سے بہ طورِ خوش طبعی گفتگو کرنا اور قصہ سنانا بھی ممنوع نہیں، چنانچہ ایک بار خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازواجِ مطہرات کو قصہ سنانا ثابت ہے۔ اسی طرح مہمان کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کی گنجائش ہے۔ امام بخاریؒ نے ”باب المرء مع الضیف والا بل“ قائم کرکے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
عشاء کے بعد گفتگو نہ کرنے کا عمومی معمول اس لیے تھا کہ رات کے اخیر حصہ میں اٹھنا آسان ہو اور بشاشت ِ قلبی کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی جائے، کہ یہ وقت اللہ سے راز و نیاز کے لیے سب سے بہتر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب رات کا آخری تہائی حصہ بچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (سماءِ دنیا پر) نزول فرماتے ہیں اور ندا لگاتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی مجھ کو پکارنے والا کہ میں اس کی دُعا قبول کروں؟ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ یہ (نداء) طلوعِ فجر تک ہوتی رہتی ہے۔
سونے سے پہلے کے معمولات
(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ سونے کا ارادہ فرماتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے اور دوسروں کو بھی باوضو سونے کا حکم دیتے کہ باوضو سونے سے شیاطین و جنات اور پریشان کرنے والے خوابوں سے حفاظت ہوتی ہے، نیز ایک فرشتہ پوری رات اس کے ساتھ ہوجاتا ہے اور جب وہ کروٹ لیٹا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! اس بندہ کی مغفرت فرما، کہ اس نے رات باوضو گذاری، اگر اسی حال میں انتقال ہوگیا تو شہادت کا مقام پائے گا۔
(۲) آپ کا معمول تھا کہ سونے سے پہلے مسواک کرتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک آرام نہ فرماتے جب تک مسواک نہ فرمالیتے۔ اطباء کہتے ہیں کہ دانتوں کی صفائی معدہ کی صحت و قوت کا باعث ہے اور پائریا کے مریض کے لیے خاص طور پر سونے سے پہلے دانتوں کی صفائی بہت ہی مفید ہے۔
(۳) سونے سے پہلے سرمہ لگانے کا بھی معمول تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ہر آنکھ میں اخمد (سرمہ کی ایک قسم) کی تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے، تاہم بعض روایتوں میں بائیں آنکھ میں دو سلائی ڈالنے کا بھی ذکر ہے۔
(۴) چونکہ آپ کے گیسوئے مبارک کبھی بڑے یعنی گردن تک رہتے تھے اور بال جب بڑا ہوتو بسا اوقات پراگندہ ہوجاتا ہے، اس لیے آپ وضو کرنے کے بعد کنگھا فرماتے۔
(۵) جب آپ سونے کا ارادہ فرماتے تو مشکیزہ کا منہ باندھ دیتے، کھانے کی چیز چھپادیتے، چراغ گل کردیتے اور دروازہ بند کردیتے۔ اور آپ نے امت کو بھی اس کا حکم فرمایا ہے، کہ ڈھکی ہوئی چیز شیطان کی دراندازی سے محفوظ رہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ (شیطان) بند دروازے کو نہیں کھولتا، ڈھکن کو نہیں ہٹاتا، مشکیزہ کا بندھا ہوا منہ نہیں کھولتا۔
(۶) جب آپ بستر پر آتے تو دُعا پڑھتے، تاہم اس سلسلہ میں کوئی ایک دُعاء متعین نہیں ہے، کبھی آپ ”اللھم باسمک اموت واحییٰ“، ”اے اللہ! تیرے ہی نام سے سوتا اور جاگتا ہوں۔“ اور کبھی آپ یہ پڑھتے: ”اللھم قنی عذابک یوم تبعث عبادک“، ”اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچا جس دن آپ اپنے بندوں کو دو بارہ زندہ کریں گے۔“نیز آپ سے یہ دعا پڑھنا بھی ثابت ہے: ”الحمد للہ الذی اطعمنا و سقانا و کفانا و اوانا فکم ممّن لا کافی لہ ولا مؤوی“، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، ہمیں دوسرے سے مستغنی کیا اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ہیں جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں اور نہ ٹھکانہ دینے والا۔ اس کے علاوہ اور بھی دُعائیں منقول ہیں، اس لیے صحابہ کرامؓ سے سونے کے وقت مختلف دُعائیں پڑھنا منقول ہے۔
(۷) سونے سے پہلے آپ قرآن کی چند سورتیں ضرور تلاوت فرماتے، سورہئ ملک، حم السجدہ اور الم سجدہ پڑھنے کاعام معمول تھا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے جب تک سورہ الم سجدہ اور سورہئ ملک نہ پڑھ لیتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں سورہئ ملک اور حم سجدہ کا ذکر ہے۔ اسی طرح کبھی آپ سورہئ زمر اور سورہئ بنی اسرائیل کی تلاوت فرماتے، اور کبھی مسبحات کی تلاوہ کرتے۔ مسبحات سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی ابتداء ”تسبیح“ سے ہوتی ہے، جیسے سبّح، سبّح یُسبّح، اسی طرح آلِ عمران کی آخری دس آیتیں سورہ کافرون، معوذتین، آیۃ الکرسی کی تلاوت کا بھی اہتمام مروی ہے۔ ان سورتوں کے پڑھنے کے بہت سے فوائد احادیث میں آئے ہیں، اختصار کے پیشِ نظر انھیں ترک کیا جاتا ہے، تاہم اس کا ذکر فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ اگر کوئی قرآن کی سورتوں میں سے کوئی بھی سورت پڑھ کر سوتا ہے تو اس کی پوری رات فرشتہ کی محافظت و نگہبانی میں گذرتی ہے، شیطان سے حفاظت ہوتی ہے اور دس آیتوں کی تلاوت کرتا ہے تو اس کا شمار غافلین میں نہیں ہوتا۔
(۸) سونے سے پہلے وضوء و طہارت کے لیے پانی کا انتظام رکھنا مسنون ہے، تاکہ بیدار ہونے کے بعد تلاش اور انتظار کی زحمت نہ ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دیا جاتا تھا۔ اسی طرح پینے کا پانی رکھنا بھی مسنون ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین ڈھکے ہوئے برتن کا انتظام رکھتی تھی۔ وضو کے پانی کا برتن، مسواک کا برتن، پینے کا برتن۔
سونے کی کیفیت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ کر اسی پہلو پر آرام فرماتے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر تشریف لاتے تو دائیں پہلو پر آرام فرماتے۔ اور دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ لیتے۔ ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ بائیں کروٹ لیٹنا قلب کے لیے نقصان دہ ہے، نیز دائیں کروٹ لیٹنے کی صورت میں قلب لٹکا رہتا ہے، نیند سے طبیعت بوجھل نہیں ہوتی اور یہ کیفیت بیدار ہونے میں زیادہ معاون ہے، تاہم اگر کسی کو بائیں پہلو پر لیٹنے کی عادت ہو، تو تھوڑی دیر ہی سہی پہلے دائیں پہلو پر لیٹنا چاہیے، تاکہ فی الجملہ سنتِ نبویؐ کی اتباع ہوجائے۔
بیدار ہونے کا معمول
بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات آرام فرمانے کے بعد بیدار ہوجاتے اور بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، کہ جب رات کا ایک تہائی حصہ بچ جاتا تو بیدار ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے، جسے امام بخاریؒ نے نقل فرمایا ہے، اس میں مبہم انداز میں بیان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیدار ہوتے جس وقت مرغ بانگ دیتا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ اور علامہ قسطلانی کا کہنا ہے کہ مرغ آدھی رات گذرنے کے بعد بانگ دیتا ہے۔ یہی قول مشہور صحابی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ہے، تاہم بعض علماء اسے تہائی رات پر محمول کرتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی ایک ہی وقت متعین نہیں تھا، کبھی آپ دو تہائی، کبھی آدھی اور کبھی ایک تہائی رات کے قریب بیدار ہوجاتے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ”انک تقوم ادنیٰ من ثلثی اللیل۔“
بہر صورت آپ کا معمولِ مبارک جلد بیدار ہونے کا تھا۔
تہجد کا اہتمام
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول جلد سونے کا اس لیے تھا کہ جلد بیدار ہوکر تہجد کی نماز بشاشت و فرحت کے ساتھ ادا کی جاسکے۔ اس طرح آپ تہجد کا خوب اہتمام فرماتے، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ پوری پوری رات تہجد پڑھتے ہوئے گذار دیتے اور لوگوں کو اس کی ترغیب بھی دیتے۔ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام خدمت ِ نبویؐ میں آئے اور فرمایا کہ ابن عمرؓ کیاہی بہتر آدمی ہیں، کاش کہ وہ تہجد بھی پڑھتے، آپ نے اس کا ذکر حضرت ابن عمرؓ سے کیا تو اس کے بعد ابن عمرؓ برابر تہجد بھی پڑھتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تہجد کو لازم پکڑ لو، کہ یہ تم سے پہلے بھی صالحین کا طریقہ رہا ہے، اس سے اللہ رب العزت سے تقرب حاصل ہوتا ہے، یہ برائیوں کو مٹاتا ہے اور گناہوں سے روکتا ہے۔
تہجد کی رکعت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور سے تہجد کی نماز وتر کے ساتھ گیارہ رکعت پڑھتے تھے، یعنی تہجد کی آٹھ رکعت اور وتر کی تین رکعت اور کبھی وتر کے ساتھ نو رکعت اور کبھی تیرہ رکعت، بعض اوقات وتر کے ساتھ پانچ رکعت پڑھنا بھی ثابت ہے۔ اس لیے فقہاء لکھتے ہیں تہجد کی کم سے کم دو رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہے۔
آپ فرض نمازوں میں تو قرأت لمبی نہ کرتے، لیکن تہجد کی نماز میں عام طور سے قرأت لمبی فرماتے، کبھی ایک رکعت میں پوری ایک سورہئ بقرہ اور کبھی اس سے بھی زیادہ تلاوت فرماتے، اور قرأت کرتے ہوئے کبھی آواز پست رکھتے اور کبھی کچھ بلند۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت بلند آواز میں فرماتے تھے یا پست آواز میں؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ کبھی بلند آواز میں اور کبھی پست آواز میں۔
تہجد کے بعد
جب آپ تہجد سے فارغ ہوتے تو بستر پر تشریف لاتے، اگر بیوی سے ضرورت ہوتی تو پورا فرماتے پھر سوجاتے، پھر جیسے ہی اذان سنتے بڑی تیزی سے اٹھتے، اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرماکر نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد سے فارغ ہوتے اور میں جاگی ہوئی ہوتی تو مجھ سے گفتگو فرماتے اور میں سوئی ہوئی تو مجھے بیدار فرماتے اور دورکعت نماز پڑھ کر سوجاتے، یہاں تک کہ جب مؤذن نماز کی اطلاع دینے آتا تو آپ ہلکی دو رکعت پڑھتے اور نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے جاتے۔ چونکہ آپ تہجد سے فارغ ہوکر عام طور پر لیٹ جاتے اس لیے بعض سلف کے نزدیک فجر صادق سے پہلے اس طرح لیٹنا مسنون ہے۔
فجر کی نماز
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ہم مومن عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھتیں اور جب گھر واپس ہوتیں، ایک دوسرے کو نہیں پہچان پاتیں، یعنی اندھیرا باقی رہتا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ فجر کی نماز صبح کو خوب روشن کرکے پڑھو، اس لیے کہ یہ اجر کے اعتبار سے عظیم ہے۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کبھی فجر کی نماز اوّل وقت میں پڑھتے اور کبھی آخر وقت میں۔
آپ کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: