مضامین

مغلوب اقوام کب غالب ہوتی ہے؟

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم تدریس جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

یہ دنیا سیکڑوں سال سے آباد ہے، چرخ کہن یہاں بے شمار ترقی یافتہ اقوام دیکھ چکی ہے ، اس نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ کل تک جو اقوام مغلوب تھیں، جن کے لئے ارض خدا باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہوگئی تھی، جن کے وجود کے نام و نشان مٹانے کے لئے غالب اقوام نے قسمیں کھائی تھیں۔
لیکن مغلوب قوم اپنی جد وجہد اور تگ ودو سے غالب آگئی اور غالب مغلوب ہوگئی، ایسا ہونا قانون خدا وندی بھی ہے کہ اس کارگاہ عالم میں ہمیشہ ایک ہی قوم کبھی غالب نہیں رہی ہے بلکہ کل جو غالب تھی آج مغلوب ہے، اور جو آج مغلوب ہے وہ کل کو غالب ہوسکتی ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:
*وتلك الايام نداولها بين الناس* (آل عمران:140)
اور ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اہل زمانہ کو یکساں ایک حال میں نہیں رکھتے، یہ ایام باری باری بدلتے رہتے ہیں کبھی کسی کا پلہ بھاری ہوجاتا ہے اور کبھی اس کے مقابل دشمن کو غلبہ ہوجاتا ہے یعنی یہ کہ اللہ کی طرف سے زمانہ اور احوال کی الٹ پھیر ہوتی رہتی ہے۔
لیکن یہ بدلاؤ کب اور کیسے ہوتی ہے؟
تاریخ انسانیت پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلوب قوم کبھی راتوں رات، یا ایک دو دن میں غالب نہیں ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوسکتی ہے بلکہ اسے لمبی مسافت طے کرنی ہوتی ہے، اسے دشوار اور خاردار گھاٹیوں سے گزرنا ہوتا ہے، اس کے لئے طویل المیعاد سعی و عمل اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اس راہ میں صبر و استقلال کو اپنانا ہوتا ہے، کسی بھی قوم پر غالب آنے کے لئے قربانیاں پیش کرنی ہوتی ہے، تپنا اور پگھلنا ہوتا ہے، زندگی کے ہر میدان میں انتھک محنت اور اپنے آپ کو کھپانا ہوتا ہے، بلکہ غالب قوم سے کئی گنا زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد ہی غالبیت کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، اس سے پہلے کسی بھی مغلوب قوم کو غالبیت کے بارے میں غور و فکر کرنا زیادہ سے زیادہ ایک خواب اور سراب ہی ہوسکتا ہے، اس سلسلے میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس سرہٗ(سابق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
*یہ مسلمہ حقیقت اور عالم گیر صداقت ہے کہ مغلوب اقوام کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے غالب اقوام کے مقابلے میں دوگنا، چہار گنا محنت اور جاں فشانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی اصول پر دیکھئے کہ یہودیوں نے امریکہ میں اپنی زندگی میں صلاحیت اور مشکل پسندی کا ثبوت کس خوبی سے دیا ہے، چنانچہ ہم مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ اپنے طرز عمل اور رویے پر نظر ثانی کریں، اس کے بغیر یہ محال ہے کہ غلبہ اسلام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔*
(ماہنامہ، راہ اعتدال، مارچ 2017)
حضرت مولانا رح کا اقتباس بار بار پڑھیں اور ہم مسلمان اپنی زندگی کو دیکھیں، اپنے معاشرے اور سوسائٹی کو دیکھیں،اپنی زندگی کا محاسبہ کریں کہ ایا ہمارے اندر یہ چیزیں ہیں یا ہم اس سے محروم ہیں، اور یقیناً ہم اس سے محروم ہیں، اس لئے اگر ہم غلبہ اسلام کی خواب دیکھ رہے ہیں تو ہمیں غالب اقوام سے بدرجہا محنت کی ضرورت ہے، سیاست ،معیشت ،علمی کاز ،ان تمام میدانوں میں ہمیں انتھک کوشش کی اشد ضرورت ہے، اللہ ہمیں ہر میدان میں جدوجہد کی توفیق بخشے۔(آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: