مضامین

مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالمحاسن محمدسجادؒ کی امدادی وفلاحی خدمات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

فلاحی خدمات سےمرادوہ مجاہدانہ خدمات ہیں جو حضرت مولاناسجادؒنےقدرتی آفات اورفرقہ وارانہ فسادات کےمواقع پرانسانی امداد،قیام امن، بقائےباہم،اوربالخصوص مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ، مصیبت زدوں کی امداد،مقدمات کی پیروی ،حکومت سے گفت وشنیداورتحفظ ایمان وقیام اجتماعیت کےلئے مکاتب ومدارس اورمساجد کی تعمیروغیرہ کے ضمن میں انجام دی ہیں، مولانا ؒنے اس محاذپربھی جوعظیم خدمات انجام دی ہیں،وہ آب زر سے لکھےجانےکےلائق ہیں،لیکن افسوس ان میں سے بہت کم کومحفوظ کیاجاسکا،یہاں بطور نمونہ چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
۱۹۳۴؁ء کےزلزلےمیں حضرت مولاناسجادؒکی بےنظیرامدادی خدمات
٭بہارمیں ۱۹۳۴؁ء میں جوبھیانک زلزلہ آیااس موقعہ پرحضرت مولاناسجادؒنے بنفس نفیس جوزریں خدمات انجام دیں اس کی مثال امدادی تاریخ میں بہت کم ملےگی،اس کی کچھ تفصیل حضرت الاستاذمولانامفتی محمدظفیرالدین مفتاحیؒ نےنقل کی ہے، لکھتے ہیں:
"۱۵/ جنوری ۱۹۳۴؁ء مطابق ۲۸/رمضان المبارک ۱۳۵۲؁ھ یوم
دوشنبہ کو بہارمیں بڑاخوفناک اورہیبت ناک زلزلہ آیااوریہ زلزلہ
اپنےساتھ بڑی تباہی وبربادی لایا،ہزاروں مکانات مسمارہوگئے،اور
نہ معلوم کتنے انسان ان مکانوں کی چھتوں اوردیواروں کےنیچے
دب کرمرگئے،زمین شق ہوگئی،اورپانی کے چشمے پھوٹ پڑے،
اس وقت انسانوں کی سراسیمگی کاعجب عالم تھا،خصوصی طور پر
اضلاع مونگیر،دربھنگہ،مظفرپور ،چمپارن،اورسارن بہت متأثر
ہوئے۔
امارت شرعیہ بہارواڑیسہ نےاس موقعہ پربڑی اہم خدمات انجام
دی تھیں ،آج اس کی مثال شاید نہ مل سکے ، نائب امیرشریعت
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒاس خدمت کےلئےوقف ہوکررہ
گئےتھے،اورآپ کےساتھ امارت کے سارےکارکنان اوربہی
خواہ کام کررہے تھے،شہرشہراورگاؤں گاؤں امارت کے آدمی
پہونچے،اورلوگوں کوسہارادیا،اس دور میں بیت المال امارت
شرعیہ سے ایک لاکھ روپے مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم
ہوئے،علماء ملت نےاپنے سروں پرمٹی اٹھائی،غریبوں کےگھر
بنوائے، اس حادثے میں جو بچےیتیم ہوگئےتھے،ان کی تعلیم
وتربیت کاانتظام کیاگیا ۔
تعاون باہمی کی انوکھی اسکیم
بعض دیہاتوں میں تعاون باہمی کی اسکیم رائج کی گئی،اس کی
صورت یہ ہوتی تھی،کہ ایک آبادی کو کئی حصوں میں تقسیم
کردیا جاتا تھا،اورہر حصہ والےسےکہا جاتاتھاکہ یہ سب مل کر
یکےبعددیگرےایک ایک شخص کامکان تعمیرکریں اورہرشخص
اپنی وسعت بھراس میں حصہ لے ،خود نائب امیر شریعت ؒ بھی
اس میں عام باشندگان کےساتھ حصہ لیتے تھے،اورمزدوروں کی
طرح کام کرتے تھے،اس کافائدہ یہ ہوا کہ کم خرچ میں بہت
سارے مکانات تعمیرہوگئے،اورکوئی غریب ایساباقی نہ رہنےپایا
جس کاگھر نہ بن گیاہو”
فسادات کےموقعہ پرامدادی خدمات
٭مولاناعثمان غنی صاحبؒ بیان کرتےہیں:
"صوبہ میں جتنے فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ان میں جہاں کہیں مسلمانوں
کی مظلومیت ثابت ہوئی، حضرت مولاناؒ نے امارت شرعیہ کی جانب سے
مظلومین کی مناسب اعانت کی۔ ۔۔۔
٭اضلاع دربھنگہ ومظفرپور کے بعض دیہاتوں میں بقرعید کے موقع
پر فسادات ہوئے جن میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور لوٹا گیا۔ وہاں بھی
حضرت مولاناؒ خود تشریف لے گئے اور امارت شرعیہ کے کارکنوں کے
ذریعہ مقدمہ میں اعانت کی،صوبہ کے دوسرے مقامات کے فسادات
میں بھی مسلمانوں کی اعانت کی گئی۔
٭کانگریسی حکومت کے زمانہ میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، اس
کی خود تحقیقات کی یا امارت شرعیہ کے کارکنوں کے ذریعہ تحقیقات
کرائی اور مظلوم مسلمانوں کی مالی یا قانونی امداد کرائی۔
٭نیاگاؤں ضلع مظفرپور کے فساد میں مظلوم مسلمانوں کے لیے پٹنہ کے
ایک مشہور بیرسٹر کو حکومت کی طرف سے مقرر کرایا جنھوں نے سیشن
اور ہائی کورٹ میں بھی کام کیا۔
٭گیا کے فساد کی تحقیقات کے لیے راقم الحروف کو بھیجا،اور پھر ایک دو
روز کے لیے خود تشریف لے جاکرمفید مشورے دئیےاور سعی وکوشش
کرکے مسلمانوں کو تاوان دلایا ۔
چمپارن کاگوشہ گوشہ فسادات کی لپیٹ میں
٭اسی طرح سوگولی، چٹپا، اختہ کے شدید بلوے اور ضلع چمپارن کے
گوشہ گوشہ کے جزئی فسادات میں (جو ان دنوں بکثرت ہورہے تھے)
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمات کی اس طرح نگرانی فرمائی کہ
کارکنان امارت شرعیہ چمپارن ہرموڑ پر کامیاب رہے ۔
بتیامیں فرقہ وارانہ فسادات کےموقعہ پرمسلمانوں کی امداد
٭بتیامیں فرقہ وارانہ فسادات کےموقعہ پر حضرت مولاناؒکی امدادی خدمات کی رپورٹ حافظ محمدثانی صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"۲۱؍اگست ۳۷؁ءکو بتیا میں ایک گہری سازش کےتحت جو مشہور فرقہ
وارانہ فساد کرایا گیا تھا اور ہندوؤں نے غریب مسلمانوں پر جن جن
مصائب کا پہاڑ ڈھایا تھا اس سے تمام ہندوستان واقف ہے، بارہ(۱۲)
مسلمان جن میں زیادہ تر بوڑھے ضعیف تھے بے رحمی اور انتہائی ظلم
کے ساتھ شہید کیے گئے اور سیکڑوں مجروح ہوئے۔ بے شمار مکانات
نظر آتش کیے گئے اور لوٹے گئے۔ خدا کے پاک کلام اور مسجد کی بے
حرمتی کی گئی۔ یہ ایک ایسا ہولناک اور روح فرسا واقعہ تھا کہ تمام شہر
پر سناٹا چھایا ہوا تھا اور مسلمان بسبب غربت اور فلاکت کے بدحواس
اور پریشان تھے۔ حکام کے طرز تفتیش وبرادرانِ وطن کی انتھک
کوششوں سے صاف ظاہر تھا کہ اب مقدمات میں مسلمانوں ہی پر
مزید مصیبت نازل ہوگی اور ہندو بال بال بے داغ بچ جائیں گے اور
مظلوم قید وبند اور دارورسن کے شکار ہوں گے ۔ دوسرے دن صبح
کی ٹرین سے منشی سخاوت حسین صاحب عامل امارت شرعیہ کی معرفت
ایک دستی خط مولوی شفیع داؤدی ناظم خلافت کمیٹی صوبہ بہار کو اور
دوسرا خط حضرت نائب امیرشریعت صوبہ بہار مولانا سیّد ابوالمحاسن
محمد سجاد صاحبؒ کی خدمت میں لکھا اور اُردو اخبارات اور خطوط کے
ذریعہ صوبہ بہار کے مشہور وممتاز قانون داں حضرات سے مظلومین
کی امداد واعانت کی اپیل کی مگر افسوس کہ جواب میں ہرطرف سے
خاموشی ہی خاموشی رہی۔ عزیز ملت نے ایسے فسادات میں مسلمانوں
ہی پر الزام لگاتے ہوئے امداد سے بے تعلقی کا اظہار فرمایا ہے ،وہ خط
آج تک دفتر میں محفوظ ہے ۔ ۴؍اگست کو صبح کی ٹرین سے مولوی
شفیع داؤدی صاحب تشریف لائے اور دردناک مناظر کا معائنہ فرماکر
بہت متأثر ہوئے، چوں کہ شفیع صاحب ابھی تک کانگریس کے ہم نوا
تھے، اس لیے انھوں نے بتیا کے کانگریسی ہندو اور مسلمان لیڈروں کو
جمع کرکے فرمایا کہ بہت ممکن ہے کہ آپ لوگ بھی مقدمات کے
سلسلہ میں گرفتار ہوجائیں، اس لیے ضروری ہے کہ اپنا اپنا بیان مجھے
لکھادیں تاکہ آپ لوگوں کی غیبت میں ہم اور بابو راجندر پرشاد بتیا
آئیں اور آپ لوگوں کے بیان سے فائدہ اٹھائیں ،میں اپنا بیان دینے کو
مستعد تھا مگر چمپارن کےسب سے بڑے صلح کن اور ست واہنسا کے
پجاری ہندو لیڈر نے فوری بیان دینے سے انکار کیا اور اپنے ہم مذہب
ہندو فرقہ سےمشورہ کرنے کے بعد بیان دینے پر ٹلایا، شفیع صاحب
ان کی ذہنیت کو دیکھ کر بالکل مایوس ہوگئے اور فوراً واپسی کا اظہار کیا،
ابھی وہ واپس نہ ہوئے تھے کہ ہم مسلمانوں کے دینی مقتدا اور سچے
ہمدرد وبہی خواہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب انار اللہ
مرقدہٗ کی مقدس ہستی مظلوم ومصیبت زدہ مسلمانوں کے لیے سایۂ
رحمت بن کر رونق افروز ہوئی۔ شفیع صاحب یہ کہہ کر واپس ہوگئے
کہ اب مولاناؒ تشریف لاچکے، میری ضرورت نہیں ہے ،مگر شفیع
صاحب نے مظفرپور پہنچ کر بتیا کے عبرت ناک واقعہ کو بچشم پُرنم
مسلمان وکلاء سے بیان کیا۔ بیان سن کر مولوی عبدالودود صاحب
وکیل ومولوی سید مجتبیٰ صاحب وکیل اور مولوی زاہد حسن صاحب
مختار بہ سواری موٹر برسات کے ایّام میں مظفرپور سے بتیا تک اسّی(۸۰)
میل کی دشوار گزار مسافت طے کرتے ہوئے پہنچے۔ حضرت مولانا
پہلے ہی سے مستقلاً بتیا میں قیام گزیں ہوچکے تھے۔ وہ لوگ ان سے
ملے اور دو ایک روز رہ کر مقدمات کے متعلق ضروری اور مفید ہدایات
دے کر مظفرپور تشریف لے گئے۔ مولانا نے مظلومین کی اعانت و
حفاظت وظالموں کی سرکوبی کے لیے بہترین نظم کیا، ایک ڈیفنس کمیٹی
بنائی اور ایک باضابطہ دفتر کھول دیا، جس میں روزانہ صبح سے بارہ بجے
شب تک محررین وٹائپسٹ اپنے فرائض متعلقہ کو انجام دینے لگے،
مالیات کا بہترین نظم تھا جس سے مظلومین کی امداد اور دیگر ضروری
اخراجات میں کوئی دشواری کبھی پیش نہیں آئی، اس زمانہ میں کونسل
کا اجلاس رانچی میں ہورہا تھا، شیخ عدالت حسین صاحب ومولوی مجتبیٰ
صاحب وکیل کو ضروری ہدایات کے ماتحت وہاں مولانا نے بھیجا۔
تاکہ مسلمان ممبروں کے ذریعہ صوبائی گورنمنٹ کی توجہ مظلومین
کی طرف منعطف کرائیں ۔ مقدمات کی تحقیقات کی نگرانی کی گئی۔
مسلمانوں کو تاوان دلانے کی زبردست سعی میں کامیابی ہوئی۔
مقدمات کے انچارج مولوی سیّد مجتبیٰ صاحب وکیل مظفرپوری بنائے
گئے جنھوں نے نہایت ہی ایثار وقربانی کے ساتھ تحقیقاتی منزل سے
لے کر سیشن کورٹ تک اپنا فریضہ نہایت خوبی کے ساتھ انجام دیا۔
مولانا ؒ کا قیام چھ سات ماہ مسلسل بتیا میں رہا اور انھوں نے سب سے
پہلے واقعات کےمتعلق اپنی خداداد قابلیتوں سے ایک مبسوط ومدلل
بیان اردو، انگریزی اخبارات میں شائع کرایا اور حکام بالا کو بھیجا۔ اس
سے گورنمنٹ متوجہ ہوئی اور ہندوستان کے مسلمان متأثر ہوئے۔
گورنمنٹ کے آفیسران ہوم ممبر اور گورنر تک بتیا آئے اور ظالموں
کے انتہائی ظلم وعدوان کا جانکاہ منظر اور مظلومین کی لاچاری اور بے کسی
کا دردانگیز تماشا دیکھ کر واپس گئے۔ گورنمنٹ افسروں کے طرز تحقیقات
میں تبدیلی ہوئی اور ہندوستان کے اہل درد اور مخیر مسلمانوں نے مظلومین
کی امداد کے لیے مالی اعانت شروع کردی جن میں جناب سر فخرالدین
مرحوم وحاجی عبدالرحمن صاحب وکیل مرحوم کے ساڑھے سات سو
کی رقم سب سے پہلے پہنچی اور مظلومین وفاقہ کشوں کی فوری امداد میں
خرچ ہوئی۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء۔
ابتدائی ایّام میں طویل مقدمات کے کثیر اخراجات کا تصور
غریب ومفلس مسلمانوں کے لیے باعثِ پریشانی و حیرانی تھا مگر بحمدللہ
مولانا کے بیان کے بعد ان کی مقدس ذات کی برکت سے روپیوں کی
بارش شروع ہوئی اور تقریباً بارہ ہزار روپے جمع ہوکر خرچ ہوئے۔ یہ
مولاناؒ کی بہت بڑی کرامت تھی، مقدمات کی تحقیقاتی منزل میں مسٹر
حاجی محمد یونس صاحب، مسٹرسیّد اصغر یوسف صاحب ، بیرسٹران پٹنہ
ومولوی عبدالودود صاحب وکیل مظفرپور بھی دو ایک روز کے لیے
تشریف لائے تھے اور کام کیا تھا اور سیشن کورٹ میں مسٹر سیّد بشیر
الدین صاحب بیرسٹر پٹنہ نے تقریباً ایک ماہ مسلسل قلیل معاوضہ پر
اپنی اعلیٰ قانونی قابلیت کاثبوت دیا، ان تمام جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ
سیشن کورٹ سے پانچ مسلمانوں کو ایک سال سے پانچ سال تک سزائے
قید ہوئی اور ہائی کورٹ سے یہ بصورت جرمانہ تبدیل ہوئی اور مسلمان
قید خانہ سے باہر آئے۔ تقریباً پندرہ (۱۵)ہندؤں کو چار سال سے دس
سال تک کی سزا ہوئی ۔ اڈیشنل پولیس کا خرچہ ہندو اور مسلمان دونوں
فریق سے وصول ہوا۔ پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) کی رقم ہندؤں سے
وصول کرکے بصورت معاوضہ نقصانات مسلمانوں کو دلایا گیا۔ ان
ہولناک جرائم کی انگریزی عدالت سے یہ سزا ہوئی” ۔
مولوی سیدمحمدمجتبیٰ صاحب تحریرفرماتے ہیں:
” بتیا شہر میں ایک محلہ میر شکار ٹولی کہلاتا ہے ،باختلاف روایت چالیس
پچاس ہزار ہندؤوں کا مسلح جلوس اس محلہ کی تنگ سڑکوں سے گذرنے
لگا جہاں ایک چھوٹی سی مسجد میں تیس چالیس (۴۰)مسلمان نماز عصر ادا
کرنے کو جمع ہوئے تھے ، مسلمانوں نے عذر کیا کہ وہ راستہ نہ تھا ،آبادی
محلہ کی خالص مسلمانوں کی تھی ،سرداران جلوس نے اس مزاحمت کا
جواب مسلح حملوں سے دیا ،مسجد بری طرح بے حرمت کی گئی ،تمام محلہ
جلا کر خاک سیاہ کر دیا گیا اور شہر میں مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان
عام بلوہ ہو گیا ،ہتھیار عام طور پر استعمال ہوئے ،بندوقیں چل گئیں ،
سینکڑوں مکانات اور دکان لٹ گئے ،مسلمان بہت زیادہ مقتول ہوئے
،ایک ہندو بھی مارا گیا اور وہ سب کچھ ہوا جو ایسے بلووں میں ہوا کرتا
ہے۔
بتیا کے مسلمان عموماً جاہل ،غریب اور مزدور پیشہ ہیں ،ان کا پُرسان
حال اور پیروی کار کوئی نہ تھا ،یہی بطل حریت اور رہبر عالم اسلام
مسلمانان بتیا کے لئے ملجا ومامن بن کر پہنچا ۔مدرسہ اسلامیہ بتیا میں
امارت شرعیہ کے آزمودہ کار نقیب و رئیس حافظ محمد ثانی صاحب
وشیخ عدالت حسین کی مدد سے مولاناؒ نے پیروی مقدمات کا دفتر
کھول ڈالا۔ بہترین قانون دان حضرات باہر سے بلوائے گئے اور
تقریباً ایک سال تک تمام مقدمات کی پیروی کی گئی ۔ دنیا جانتی
ہے کہ بلوے کے ایسے خوفناک مقدمات کیا ہوتے ہیں ،قانون کی
چیرہ دستیاں کس طرح لوگوں کو پریشان کرتی ہیں، تمام شہر اور
مضافات ایک عجیب مصیبت میں مبتلا تھے اور مولانا سجاد ؒان کے
ہر مرض کی دوا ۔تین سو (۳۰۰)سے زیادہ مسلمان ماخوذ تھے
جن پر تمام سنگین دفعات عائد کئے گئے تھے ،مگر بالآخر ایک ایک
مسلمان رہا ہو کر رہا، کچھ ہندو سزا یاب ہوئے ،سرغنہ ہندؤوں کو
سخت سزائیں ہوئیں مسلمانوں کوتقریباًپچاس ہزارتاوان حکومت
سے دلوائے راقم الحروف تقریباً ایک سال تک مولانا ؒ کے ہمراہ
قانونی مشیر رہا ”
موضع بیلابلاس پورکافساد
حاجی عدالت حسین صاحب چنداورفسادات کےحوالےسےلکھتےہیں:
٭موضع بیلابلاس پور میں جب مفسد ہندوؤں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر
فساد کیا، اور مسجد کو اور چند مسلمانوں کے مکان کو توڑا، اور مسلمانوں کو
مجروح کیا۔ تو حضرت نائب امیر شریعت مجھ کو اور مولوی محمد ثانی صاحب
کو لے کر یہاں تشریف لائے، اور مظلوم مسلمانوں کی ہرطرح کی
ہمدردی کی اور ان کے مقدمہ کی کامل پیروی کی۔ اور اس کے لیے جملہ
مبادیات کو بہم کیا، اور مسلمان کامیاب ہوئے اور ہندو سزایاب ہوئے ۔
ویشالی اورسمستی پورمیں فسادزدگان کی امداد
٭ویشالی ضلع کےپاتےپورتھانہ کےموضع”سمروارہ”گائے کی قربانی کولےکر فسادبھڑک اٹھااور”نثارعلی”نامی ایک غریب مسلمان شہیدہوگیا،بہت سےغریب مسلمانوں کےگھرجلادئیےگئے۔
٭اسی علاقہ کےقریب سمستی پورضلع کےایک دیہات "سرسونا”میں بھی بقرعید کےموقعہ پرفسادرونماہوا،جس میں ہندؤں نےکئی مسلمانوں کےگھروں کولوٹ لیا ،یہ دونوں مقدمےبھی کامیابی کےساتھ لڑےگئے،اورقاتلوں کوکیفرکردارتک پہونچایا گیا،اس میں حضرت مولاناسجادؒکی جدوجہدکابڑادخل تھا ۔
مدارس ومکاتب کاقیام اورمساجدکی تعمیر
حافظ محمدثانی لکھتے ہیں :
” مولانا کےحسب ایماءدیہاتوں میں متعدد مکاتب کا اجرا ہو اور آج
تک دو مکاتب خاص گدی قوم کے لیے امارت شرعیہ کے زیرنگرانی
قائم ہیں، اور امارت شرعیہ اخراجات کی کفیل ہے۔ حضرت مولاناؒ ہی
کی کوششوں سے جناب مولوی شاہ مصطفی احمد صاحب رئیس گیا نے
موضع سریاڈیہہ گدیانی میں ایک پختہ مسجد بخرچ مبلغ ساڑھے سات سو
روپیہ بنوادیا اور موضع بھٹوا ٹولہ گدیانی میں ایک مسجد خاص شخص نے
بنوائی، اب اس قوم کے بعض لڑکے اتنے تعلیم یافتہ ہوگئے ہیں جو اپنی
قوم میں تبلیغ وہدایت کا فریضہ انجام دے سکیں” ۔
حاجی عدالت حسین صاحبؒ بیان کرتےہیں:
” موضع سریا میں ایک پختہ مسجد، موضع بھٹولیا میں پختہ کھپرا پوش مسجد
اور موضع کرنمیاں میں خام دیوار کی مسجد اور بہت سی جگہوں میں خس
پوش مسجدیں تیار کرائی گئیں اور موقع موقع سے مکتب کھولے گئے، اور
گدیوں کے بہت سے لڑکوں کو بتیا کے مدرسہ میں داخل کیا گیا، ان کے
نام بدل دئیے گئےآج بفضلہ تعالیٰ بہت سے گدی کے نوجوان تعلیم یافتہ
مکتب اور اسکولوں میں ملازمت پر ہیں” ۔
موپلامسلمانوں کی مالی امداد
٭”ملک کی آزادی کےلئےموپلامسلمانوں نےبڑی قربانیاں دی ہیں،اوریہ لوگ اس آزادی کی لڑائی میں بڑی تعدادمیں شہیدہوئے،حکومت برطانیہ نےان پرمظالم کےپہاڑ توڑے،جب انگریزی دورحکومت میں ان کابراحال ہوگیا،اوران کی بیوائیں اوربچے فاقوں سے دم توڑنےلگے،توامارت شرعیہ نےاپنےیہاں ان کی امدادکےلئےایک فنڈ کھولااوراس کے ذریعہ ان کی کافی مدد کی اورہزاروں روپےبھجوائے” ۔
حکومت عثمانیہ کی امداد
حضرت مولاناکی امدادی خدمات کادائرہ کسی ایک ریاست تک محدودنہیں تھابلکہ پورے ملک بلکہ بیرون ملک تک اس کادائرہ وسیع تھا،حضرت مولانامفتی محمد ظفیرالدین صاحبؒ نقل فرماتے ہیں:
"خلافت اسلامیہ اورمقامات مقدسہ کےتحفظ وبقاکےسلسلےمیں بھی امارت
نےکافی حصہ لیا،بلکہ قائدانہ حصہ لیا،ترک حکومت کودنیا کی طاقتیں کچل
دیناچاہتی تھیں،یہ وقت اس کےلئےبڑانازک تھا،حضرت مولانا محمدسجاد
صاحبؒ اس معاملہ میں پیش پیش رہے،اورپورے ملک سے ترکی کےلئے
امدادکی اپیل کی،امارت شرعیہ نےاپنےصوبوں سےاس وقت بڑی گرانقدر
رقم بطورامدادبھیجی” ۔
مسلمانان فلسطین کی حمایت
مفتی محمدظفیرالدین صاحبؒ ہی کابیان ہےکہ:
"۱۹۳۰؁ء میں بالفوراسکیم سےفلسطین کےعرب مسلمانوں کوجونقصان
پہونچاوہ اب عیاں ہوچکاہے،ابھی اسرائیلی حکومت قائم نہیں ہوئی
تھی،بلکہ اس کےقائم کرنےکےلئےیہ بالفور اسکیم تیار ہوئی تھی،
ہندوستان میں اس کےخلاف سخت احتجاج ہواصوبہ بہارواڑیسہ کےبھی
تمام شہروں اورقصبات میں امارت شرعیہ کی ہدایت پر احتجاجی جلوس
نکالےگئے،اورجلسےکئےگئے،جس میں تمام مسلمانوں نےجوش وخروش
سےحصہ لیاتھا۔
۱۹۳۶؁ء میں جب یہ خبرآئی کہ حکومت برطانیہ فلسطین کوتقسیم کرنا
چاہتی ہے،توامارت شرعیہ نےاعلان کیاکہ پورے صوبہ میں ۲۸/ربیع
الاول ۱۳۵۵؁ھ مطابق ۱۹/ جون ۱۹۳۶؁ء یوم جمعہ کو”یوم فلسطین”
منائیں، اورحکومت برطانیہ کےاس رویہ کے خلاف احتجاج کریں،اور
ساتھ ہی مسلمانان فلسطین کے لئے دعاکریں ، چنانچہ تمام مسلمانوں
نےاس اپیل پرلبیک کہااوریوم فلسطین منایا، یہ خاکسارکی طالب علمی
کازمانہ تھا،اورمدرسہ وارث العلوم چھپرہ میں داخل تھا،مجھےیادہے
کہ اس دن دعاکےلئےجو مضمون تیارکیاگیاتھاوہ استاذمحترم حضرت
مولاناعبدالرحمن صاحب مدظلہ موجودہ نائب امیرشریعت نےلکھا
تھا، اورخاکسارنےصاف کیاتھا۔۔۔
پھر۳/ستمبر۱۹۳۷؁ء یوم جمعہ کوبھی حکومت وقت کےخلاف احتجاج کیا
گیا، اورعرب فلسطین کی حمایت میں تقریریں کی گئیں،چھپرہ شہرمیں
اس تحریک کےبنیادی کارکنوں میں خاکساربھی شریک تھا” ”
یہ توچندواقعات ہیں جوحضرت مولاناکےبعض تذکرہ نگاروں نے نقل کئےہیں، ان
کےعلاوہ آپ کافیض اورکہاں کہاں اورکس کس اندازمیں پہونچاتاریخ وتذکرہ کےصفحات اس کےذکرسےخاموش ہیں،لیکن اندازہ یہ ہےکہ اس کادائرہ ان واقعات کےحدودسے کہیں زیادہ ہےجومحفوظ رہ گئےہیں،فرحمہ اللہ۔
کوئی بزم ہو،کوئی انجمن،یہ شعاراپناقدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہاں اک چراغ جلادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: