مضامین

مفکرقوم حضرت مولانانثاراحمدکیفی ؒصاحب گورگاواں

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت ۲دسمبر1936 ……فاضل شمسی 1956ء وP.H.D.
میں مکتب سے فراغت کے بعد1960ء میں داخلے کے لئے والدصاحب مرحوم کی معیت میں مدرسہ شمسیہ گورگاواں حاضرہوا،والدصاحب نے مجھے ایک جواں سال صدرمدرس کے سامنے پیش کیاجواپنی لیاقت وخدافت کالوہامنواکرابھی ابھی عہدہ صدارت کوزینت بخشاتھا،بلندوبالاقد،کھلتا ہوا سنولار نگ،کتابی چہرہ،چوڑی پیشانی،فراخ وروشن آنکھیں،ہرادامیں نستعلیقی ودلاویزی،گفتگومیں محاورات وادب کی جھلکیاں،کلام میں چاشنی وشگفتگی،عمرکے لحاظ سے طلبہ میں سے ایک معلوم ہوتے لیکن کہنہ سال بزرگوں کوبھی انکااحترام ولحاظ کرتے دیکھا،طلبہ کی سرگوشیوں سے معلوم ہواکہ یہ ہمائے علم وادب حضرت مولانانثاراحمدکیفی ہیں،آپ قطب علاقہ حضرت مولانارمضان علی کے چشم وچراغ ہیں، آپ کی پیدائش ۲دسمبر۶۳۹۱ء میں ہوئی،آپنے متوسطات تک کی تعلیم شمسیہ گورگاواں ہی سے حاصل کی،فضیلت کی سندمؤقرادارہ مدرسہ عزیزیہ بہارشریف سے حاصل کی، دکتوریت کے لئے حضرت طارق ابن زیاداورحضرت موسی ابن نصیررحمۃ اللہ علیہ فاتح اندلس کی مجاہدانہ کوششوں پرمحققانہ مقالہ لکھااورنمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کی،یہ ڈگری اس زمانے میں اس علاقے کے لئے عنقاء تھی،بہت کم خوش نصیب اسکی آرزوکرسکنتے تھے،پہلی مرتبہ مولاناہی کے ادب نوازقلم کے طفیل اھل علاقہ کواسکانیاز حاصل ہوسکا،آپکی طبیعت چاہتی تھی کہ مزیددولت علم سے مالامال ہوں لیکن حالات نے اسکی اجازت نہیں دی اورمجبوراًوالدصاحب کی نیابت کے لئے آمادہ ہوناپڑا،آپنے بڑی خوش اسلوبی سے اس خالی مقام کوپرفرمایابلکہ یوماًفیومااسکوترقی دیتے رہے،آپ ہی کے زمانۂ صدارت میں مدرسہ شمسیہ مولوی سے فاضل تک بورڈسے منظورہوااوراسکوامتحانات کے لئے سینٹربننے کی فضیلت حاصل ہوئی جواس وقت کسی کسی سعیدبخت ادارے کے حصے میں آتی تھی۔
آپ کی تگ ودواورمسلسل جدوجہدکے نتیجے میں سعودی عرب کاخطیرعطیہ حاصل ہوا،اس وقت آپنے اپنی صناعی وفنکاری کامظاہرہ فرمایااورچوکور،دیدہ زیب،پرشکوہ اورپختہ بلڈنگ تعمیرکروایا۔باہرسے آنے والے کی پہلی نگاہ اس منارہ نورپرپڑتی ہے اورتعمیرومعمارکے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے ؎
یا رب ایں تعمیر محکم تا ابد معمور باد
چشم بد از دامن جاہ و جلالش دور باد
آپکی بلندنگاہی اورتجربات کی قدردانی کرتے ہوئے ۳۷۹۱ء میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ نے آپکواپناممبرمنتخب فرمایا۔آپنے اس زمانے میں علاقے میں تقریباًڈیڑھ سومدرسے ایجوکیشن بورڈسے منظورکروایاتاکہ گاؤں گاؤں میں درس عالیہ کامدرسہ قائم ہوجائے اوراھل علم کی ملازمت کی سبیل زیادہ سے زیادہ نکل آئے۔آپ تین سال تک ممبری کے عہدے پرفائزرہے اورالحمدللہ اس ساعت سے اچھافائدہ اٹھایا۔
ابھی تک آپ مدرسہ شمسیہ میں ہی خدمت انجام دے رہے ہیں اورعلاقے کے رفاہی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: