مضامین

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نوراللہ مرقدہ طریقۂ کار اور منہج ِفکر

بقلم: حضرت مولانا محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ

فکری ودعوتی پس منظر
حضرت مو لانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ۱۹۱۴ھ؁ میں تکیہ کلاں ، میدان پور رائے بریلی میں پیدا ہوئے، ان کے اسلاف واجدادایک طرف سیداحمد بن عرفان شہیدؒ کی تحریک سے وابستہ اور ان کی دعوت کے امین تھے،تو دوسری طرف شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے خاندان اور مجدد الف ثانی شیخ الاسلام سرہندیؒ کے خلفاء سے ان کاگہرا ربط وتعلق تھا، اس طرح حضرت مولانا کاخانوادہ ان تینوں مکتبہائے فکر کی خصوصیات کا جامع تھا،چنانچہ حضرت مولاناؒ اس دینی اور فکری میراث کے وارث وامین ہوئے ، خود مولانا نے اپنی تحریروں میں اس کااظہار کیا ہے،چنانچہ حضرت مولانا ؒ کی پوری زندگی ملت اسلامیہ، عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت کی فکرمندی سے عبارت ہے، حضرت مولانا نے عالمی جنگوں کا مشاہدہ کیا، ، مغربی فکر اور یورپی تہذیب کا غلبہ دیکھا،قومیت، وطنیت،علاقائیت اور لسانی و تہذیبی عصبیت کا دور دیکھا، مسلمانوں کی کمزوری و پسماندگی، مغرب سے ان کی مرعوبیت اور علم وفن کے میدان میں ان کے جمود اور تعطل کو دیکھا،متعدد اسلامی تحریکوں کی سرگرمیاں دیکھیں، بلکہ بعض تحریکوں میں عملی شرکت بھی کی اور ان کا تجربہ کیا، اپنے عہد کے قائدین اور دانشوروں سے رابطہ رکھا اور اپنے بیرونی سفروں میں تعلیمی وتربیتی مراکز کو قریب سے دیکھا، نئے تعلیمی نظریات ورجحانات اورجدید تمدنی وتہذیبی افکاروخیالات کا انہوں نے باریک بینی سے مطالعہ کیا اور ان کے نتائج واثرات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا۔
میدان ِعمل کی وسعت
تعلیم سے فراغت کے بعد حضرت مولانا نے اپنی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا، لیکن جلد ہی ملازمت کی پابندیوں سے آزاد ہوگئے تاکہ آزادی کے ساتھ دعوت واصلاح کاکام انجام دے سکیں، اور دعوت واصلاح کے لیے ایک خاص طریقہ کاراختیار کیاجس کی نمایاں خصوصیت حکمت ودانائی اور موعظت حسنہ ہے،اپنے دائرہ عمل کومسلمانوں کے مسائل تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ پوری انسانیت کے مسائل کو اپنے میدان عمل میں داخل کیا، اور اس کے لیے ناصحانہ اورموثر اسلوب اپنایا جس کے دلوں اور ذہنوں پر اچھے اثرات مرتب ہوئے، مولانانے اپنے دعوتی مشن کو عام کرنے کے لیے تقریریں کیں، مضامین لکھے، مختلف مکاتب فکر اور برادران وطن سے مراسلات اور ملاقاتیں کیں ، مذاکرات کیے، حکام، قائدین، دانشور اور تعلیم یافتہ حضرات اورعام لوگوں کو مخاطب کیا، اور ہر طبقہ اور ماحول کے لیے اس کے مناسب انداز اختیار کیا۔
مغربی تہذیب کے متعلق حضرت مولانا کا موقف
حضرت مولانا نے جس زمانہ میں ’’اسلام کی طرف لوٹنے‘‘ کی صدا لگائی ،وہ غیر اسلامی افکارونظریات خصوصامغربی فکر کے غلبہ کا زمانہ تھا، اسلام مغرب کی فکری، تہذیبی اور تمدنی یلغار کے نرغہ میں تھااور مسلمان احساس کمتری کا شکارتھے، حضرت مولانا نے اس حملہ کا مقابلہ سنجیدہ، ٹھوس،مدلل اور موثر علمی انداز میں کیا، مغربی تمدن کو نشانہ بنایا؛ لیکن اخلاقیات کا بھرپور لحاظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کی احساس کمتری کودورکیا ، انہیں تعمیر و ترقی پر ابھارا، دشمنوں کے رعب ودبدبہ کے طلسم کو توڑا، اس میدان میں مولاناکے انداز میںاعتدال ووسطیت اور دینی عقائدومسلمات سے غیرمتزلزل وابستگی اورعصری آگہی کا حسین امتزاج تھا، مولانا نے نہ تومغربی تہذیب کو کلی طور پرترک کرنے کی دعوت دی اور نہ اس کو کلی طورپر قبول کرلینے کی بات کہی، بلکہ مولانا کا انداز قدیم وجدید دونوں کو جمع کرنے اور مسلسل غوروفکر اور بحث وتحقیق کا تھا،مولانا نے اپنا فکری مسلک ودعوتی منہج اپنی کتاب’’ مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش ‘‘ میں واضح کردیا ہے، مولانادینی مدارس کے طلبہ کو مخاطب کرتے تو ان سے نصاب ، نظام وطریقۂ تعلیم میں جدت پیدا کرنے کا مطالبہ کرتے اور جب عصری درسگاہوں کے طلبہ کو مخاطب کرتے تو ان سے ایمان ویقین کے حقیقی سرچشمہ سے رشتہ مضبوط رکھنے، تزکیۂ نفس اور حسن سلوک کی تلقین کرتے ، علوم وفنون میں جدت اور ابتکار کی دعوت دیتے اور مغرب کی نری نقالی وتقلید سے منع کرتے۔
پوری انسانیت کی فکرمندی
حضرت مولانا کامیدان کار بڑا وسیع اور متنوع تھا، علماء اور دعوت اسلامی کے مختلف میدانوں میں کام کرنے والوں کو مخاطب کرتے تو انہیں بحث وتحقیق اور تعمیری نقد پر ابھارتے، علم جدید اور نئے طریقہائے عمل سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے، قلعہ بند ہونے کے بجائے نئے نئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی ترغیب دیتے، عقل وقلب اور جذبہ وتفکر کو جمع کرنے اور انابت الی اللہ کے ساتھ عملی جدوجہد کی تلقین کرتے، اس تنوع کے اعتبار سے حضرت مولانا کی شخصیت جامعیت کی حامل تھی، وہ باحث ومحقق بھی تھے اور داعی وقائد بھی، عملی زندگی کے میدان کے شہسوار بھی، ایک طرف ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے دلچسپی لیتے تو دوسری طرف دنیائے انسانیت کی فکرمندی آپ کو بے چین کیے رہتی، دنیا کے حالات پر نظر رکھتے، خطرات کی نشاندہی کرتے ، امراض کی تشخیص کرتے، مسائل کا حل پیش کرتے ، دنیا کے کسی بھی حصہ میں پیش آنے والے واقعات، حوادث، آفات، اور سانحوں پر تڑپ اٹھتے اورآواز بلند کرتے، ضمیر انسانی کو جھنجھوڑتے، اسی طرح سیاسی مسائل کے حل کا مولانا نے ایک خاص منہج اختیار کیا تھا، وہ عالم ربانی اور مرشد امت تھے، زندگی بڑی سادہ اور تکلفات سے دور تھی، حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے، وہ ایک ہی وقت میںسماجی مصلح بھی تھے اور دینی مرشد ورہنما بھی، اس اعتبارسے مولانا کی شخصیت ہشت پہل تھی، علامہ یوسف قرضاوی جو شخصی طورپر مولانے سے واقف تھے اور آپ کی فکرسے پوری طرح متفق تھے ، انہوں نے مولانا کو’’مرشد امت‘‘ ’’محمدی قرآنی انسان‘‘ اور’’ عالمی نوازش‘‘ جیسے اوصاف سے متصف کیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ مولانا نے اسوہ نبوی ہی کو اپنا آئیڈیل بنایا، قرآنی اسلوب دعوت کو پیش نظر رکھا اور عرب وعجم ، امریکہ و یورپ کو مخاطب کیا اور متعدد عالمی اداروں کے صدر نشیںاوررکن رکین رہے۔
مولاناؒ کی جامع اور عبقری شخصیت کا راز
حضرت مولانا کی اس جامع عبقری شخصیت کا مطالعہ کرتے وقت ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا میں یہ متعدد اور متنوع خوبیاں اور صلاحیتیں ایک ساتھ کیسے جمع ہوئیں، حالانکہ اگر ان میں سے ایک بھی صلاحیت کسی لیڈر میں پیدا ہوجاتی ہے تو وہ عظیم رہنما بن جاتا ہے، حضرت مولانا نے اس سوال کا جواب خود دیدیا ہے، مرحوم ڈاکٹر محمد اجتباء حسینی ندوی ؒکی کتاب’’الأمیر صدیق حسن خاں القنوجی جھودہ وآثارہ‘‘ کے مقدمہ میں رقمطراز ہیں:۔
’’میری ولادت جس گھرانہ میں ہوئی اس کا محبوب ترین مشغلہ بلکہ اس کی ’’ہابی‘‘ (Hoby)عظمائے اسلام، شخصیات، طبقات،رجال، علماء، اہل فضل وکمال خصوصا ہندوستانی علماء، فضلاء ،صلحاء ، اتقیاء اور علماء ربانیین کی سوانح عمریاں لکھنا تھا،میری نشونما ایک ایسے ماحول میں ہوئی جس میں ہرطرف علمی اور اخلاقی اقداروروایات کا چرچا تھا، علمائے کبار اور ان کے علمی کارناموں، دین سے ان کی وابستگی وپختگی، ان کی فنائیت اور مختلف صدیوں کے اصحاب فضل وکمال اور علماء کے تذکرے بڑے احترام وعظمت ،ذوق وشوق، بڑے پراثرودلکش لہجہ میں ہوتے تھے، جہاد وحرارت ایمانی کا سماں بندھ جاتا اور دل امنڈ آتے، مجلسوں پر کیف وسرور اور نشہ سا طاری ہوجاتا، ان تذکروں اور زندہ مجلسوں نے دل پر یہ اثر چھوڑا کہ بچپن ہی سے میرے اند صحابہ کرام ، علماء عظام اور سلف کی محبت وعظمت بیٹھ گئی، مکارم اخلاق، بلند ہمتی اورعالی حوصلگی کی صفات پیدا ہوگئیںجو عام طورپر پیدا نہیں ہوتیں ، بچوں کی طبیعتوں میں جو انسانی صلاحیتیں اور جوہر رکھے گئے ہیں کبھی کبھی انہیں خاص تربیت، ماحول یا کوئی خاص واقعہ مہمیز کرتا ہے تو وہ اپنے فطری وقت سے پہلے ظاہر ہوجاتی ہیں۔
بچپن ہی سے میری تربیت فضائل ومحاسن سے محبت، خوب سے خوب تر کی تلاش، متضاد انسانی محاسن کو جمع کرنے، علوم ومعارف میں تنوع ومہارت پیدا کرنے، بلند ہمتی اورپھر ان متضاد صلاحیتوں کو خدمت دین اور اعلی مقصد کے حصول کے استعمال کرنے پر ہوئی، اور اگر اس کام کے لیے ایسے علوم بھی سیکھنا پڑے جن سے بہت سے علماء اجتناب کرتے ہیں اور ان کو علوم کا تلچھٹ اور ادبیات کا برادہ شمارکرتے ہیں، تو وہ بھی حاصل کیے جائیں۔
اسی طرح میری تربیت اس بات پر ہوئی کہ ان بندگان خدا سے محبت اور تعلق رکھا جائے جو اللہ کے فضل و توفیق سے علمی اور عملی دونوں وجاہتوں پر فائز ہوں، دنیا اور آخرت دونوں خوبیوں کے جامع ہوں اور جو (عرف عام میں)ایک طرف وزارت وامارت کے منصب پر متمکن ہوں تو دوسری طرف تصنیف وتالیف، درس وتدریس، ارشادودعوت،ا ورتربیت واصلاح کے علمبردار ہوں‘‘۔
بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف میں انہماک و مشغولیت (جس کا ثبوت مولانا کی عظیم تصنیفات ہیں)مسلمانوں کی اجتماعی تنظیموں کی قیادت ورہنمائی میں حارج نہیں ہوئی، مثلاً مولانا نے دینی تعلیمی کونسل ، تحریک اصلاح معاشرہ اور تحریک پیام انسانیت کی قیادت کی، اور تحریک پیام انسانیت تو ایسی تحریک ہے جس کی مثال علماء ومصلحین کی تاریخ اور سابقہ اسلامی تحریکوں میں نہیں ملتی۔
معاصر اسلامی تحریکوں کا تجربہ اور مولاناکا موقف
حضرت مولانا بعض اسلامی دعوتی واصلاحی تحریکوں کی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کی خدمات اور کارگزاریوں کو سراہا، اور ان میں جو انحراف اور عیوب محسوس کیے ان پر معتدل ،ناصحانہ، حکیمانہ ، موثراور مطمئن کردینے والے انداز میں نقدبھی کیا،اپنے عصر کے بڑے دانشوروں اور مصلحین سے رابطہ قائم کیا، ان کے افکار ونظریات کو قریب سے دیکھا اور خیرخوہانہ وناصحانہ انداز میں ان کو مشورے دیے،حضرت مولانا کا مولانا مودودی ؒ سے بھی تعلق رہااور ان کے تعمیری اور اصلاحی لٹریچر کو سراہابھی،لیکن دوسری طرف ان کے بعض خیالات سے اختلاف بھی کیا، مولانا اپنی آپ بیتی ’’کاروان زندگی‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
’’میرے مولانا کی تحریروں اور جماعت کے لٹریچر سے تاثراور وابستگی کی بنیاد مولانا کے وہ فاضلانہ تنقیدی مضامین تھے جو انہوں نے مغربی تہذیب اور اس کے فلسفہ حیات، اور موجودہ مادی نقطہ نظر کے خلاف لکھے تھے، اور جن کا بڑا حصہ ان کے مجموعہ مضامین ’’تنقیحات‘‘ میں شامل ہے، یہاں میرے اور مولانا کے خیال میں وہی توارد تھا جو ایک چھوٹے اور بڑے، نومشق وکہنہ مشق مصنفوں کے درمیان ہوسکتا ہے، دین کی اس جدید تفہیم وتشریح سے نہ مجھے کچھ زیادہ دلچسپی تھی نہ ضرورت جومولانا کی دوسری کتابوں مثلاً قرآن مجید کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘’’تفہیمات‘‘ اور’’رسائل ومسائل‘‘ میں پائی جاتی ہے، اس لیے کہ اس بارے میں میرا معاملہ کسی ایسے انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان سے بالکل مختلف تھا، جودین کا تصور اور اس کا فہم اس کے اصل سرچشموں (کتاب وسنت، اور دینی ماحول وتربیت) کے بجائے کلیۃ مولانا یا کسی دوسرے مسلمان مفکر ومصنف کی کتابوں سے حاصل کرتا ہے، میں اپنے براہ راست دینی مطالعہ اور ان متقدمین اور بعض متاخرین کی کتابوں سے استفادہ کرنے کی بناپر جو کتاب وسنت کا وسیع وعمیق علم رکھتے تھے، اور ان کے یہاں مجتہدانہ فکرونظر اور نمایاں گہرائی ملتی ہے، مولانا کو ایسا یگانہ روزگار مفکر اسلام سمجھنے سے قاصر تھا، جس کی نظیر صدیوں میں نہیں ملتی، میں ان کا اصل امتیاز وجوہر ذہانت، ذہن کی صفائی ورسائی اور نئے انداز میں تحریر وتفہیم کی امتیازی قوت وقدرت سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھ تاہوں‘‘ ۔(کاروان زندگی، حصہ اول، صفحہ: ۲۴۶)
حضرت مولانا ایک دوسری جگہ رقمطراز ہیں:۔
’’اسلام اور مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہوتی اگر وہ اسی کام کو اپنی خداداد صلاحتیوں کے اظہار کا میدان اور اپنی زندگی کا موضوع ومقصد بنالیتے، لیکن انہوں نے اس کے ساتھ فکر اسلامی کی تشکیل جدید یا ’’الہیات اسلامیہ ‘‘کی تشکیل جدید کے طرز کا کام شروع کیا اور اسی کو مسلمانوں کی نئی بیداری، تنظیم اور جماعت اسلامی کی فکری اساس بنایا‘‘۔ (عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح، صفحہ: ۲۰)۔
جماعت تبلیغ سے مولانا کاتعلق اور موقف
حضرت مولانا حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ سے وابستہ ہوئے، اور ان کے کام کوپسند کیا، بلکہ عملی طورپر مولانا کے دعوتی کام میں شریک ہوئے، اور بیرون ممالک میں اس کے شارح اور ترجمان ہوئے، حضرت مولانا لکھتے ہیں:۔
’’اس سفر میں ہم نے جو سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی اور جس سے ہم کو لازوال مسرت اور شادمانی حاصل ہوئی وہ میوات کے علاقہ میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کا تبلیغی کام اور نظام ہے، ہم نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بیسویں صدی عیسوی کا منظر نہ تھا، بلکہ پہلی صدی ہجری کا نقشہ معلوم ہوتا تھا، عہد بعثت کی اصلاح وانقلاب حال اور قرن اول کے نومسلموں کے جوش وجذبہ اور تبلیغ کے ذوق وشوق کے جو قصے ہم نے سیرت اور تاریخ اسلام میں پڑھے تھے، اس سفر میں اس کا ایک نمونہ دیکھا‘‘۔ (کاروان زندگی:۱؍۲۴۱)
حضرت مولانا اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کی ذات سے گہری عقیدت، ان کے فہم دین اور اخلاص پر کامل اعتماد ، اس کام کی ضرورت اور افادیت پر یقین اور نہ صرف عملی شرکت؛ بلکہ ایک داعی اور ترجمان کے فرائض انجام دینے کے ساتھ (جو مولانا کے لیے بھی مسرت اور اطمینان کا موجب تھی) واقعہ یہ ہے کہ میرے ذہن کے سانچہ کی (جو ایک خاص علمی ماحول اور مطالعہ سے تیار ہوا تھا ) مکمل شکست وریخت، عمل میں نہیں آئی تھی اور اس کی جگہ کسی دوسرے ذہنی اور فکری سانچہ نے نہیں لی تھی، یہ صورت حال ان لوگوں کواکثرپیش آتی ہے جن کا ذہنی اور فکری سانچہ پہلے سے تیار ہوگیا ہو، اور انہوں نے اپنے ذہن ومطالعہ سے کام لینا نہ چھوڑا ہو ، زیادہ صحیح الفاظ میں انہوں نے دماغی سپراندازی اور ماضی سے مکمل علاحدگی اختیار نہ کی ہو، اس لیے تحریکوں اور دعوتوں کے لیے وہ لوگ زیادہ مفید اور کارآمد ہوتے ہیں، جن کا سانچہ انہیں تحریکوں اور دعوتوں میں آنے کے بعد بنتا ہے، اور ان کو کوئی فکری ہجرت یا سفر نہیں کرنا پڑتا۔
میرا معاملہ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس سے مختلف تھا، میرا ایک فکری اور علمی پس منظر تھا، اصلاحی اور تجدیدی تحریکوں اور ان کی مرکزی شخصیتوں کا میں نے نہ صرف مطالعہ کیا تھا،بلکہ ان کے تعارف وتذکرہ نویسی، کا شرف بھی حاصل ہوا تھا، میں ہردور میں منصوصات وغیرمنصوصات اور مقاصد ووسائل میں فرق کرتا رہا، اور میرے نزدیک خوب سے خوب تر کی تلاش اور نافع سے انفع کی جستجو کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اس طرح میرے نزدیک ہر تحریک، ہر دعوت، اور ہر ادارہ میں جو دین کی خدمت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے قائم ہو ، نمووارتقا اور اس کے مسائل سے واقفیت، اور جائز اور ضروری حد تک ان کی تکمیل اور زندگی سے تطبیق کی کوشش ضروری ہے، ورنہ وہ تحریک اور ادارہ نمواور زندگی کی صلاحیت سے محروم اور جمود کا شکار ہو جائے گا، اور اس کی افادیت محدود سے محدود تر ہوکر رہ جائے گی۔
ان خیالات نے جو میرے خاص ماحول، مطالعہ، اور ذہنی ساخت کا نتیجہ تھے، کسی دور میں ساتھ نہیں چھوڑا ، اور میں مولانا کی حیات میں بھی کبھی کبھی تنہائی میں اقبال کا یہ شعر پڑھتا تھا:
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں
کبھی سوزوسازرومی، کبھی پیچ وتاب رازی
(میرا خیال تھا) کہ کام جواب سارے ہندوستان میں پھیل چکا تھا، اور دوسرے ممالک کی طرف بڑھ رہا تھاکچھ زیادہ منظم، موثر اور ذہین وعلمی طبقہ کے لیے اطمینان بخش اور پرکشش بنانے کیے لیے اصول دعوت اور اس کے ان اجزاء کو قائم رکھتے ہوئے (جن کو اس تحریک میں ۶نمبر کے نام سے یاد کیاجاتاتھا) کم تبدیلیوں اور زیادہ اضافوں کی ضرورت ہے، مختلف مجالس میں مولانا محمد یوسف صاحب اور ان کے اہل شوری سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی، مگر اندازہ ہوا کہ ان کا ذہن اس کا ساتھ نہیںدیتا اور وہ اس کی تائید میں نہیں ہیں، اور شاید مولانا کی وفات کے بعد دعوت کے اس ابتدائی مرحلہ میں اس احتیاط کی کسی قدر ضرورت بھی تھی، کئی بار متوجہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جب تک خود اصل داعی کے ذہن میں جو دعوت کا روح رواں ہے کسی ضرورت کا احساس اور کسی تبدیلی کا تقاضہ پیدا نہ ہو، باہر سے مشورہ دینا خصوصاً ان لوگوں کا جو عمل اور قربانی دینے والوں کے صف اول میں نہیں ہیں اور جنہوں نے اپنی پوری زندگی وقف نہیں کردی ہے، مفید اور موثر نہیں ہواکرتا، اور بہت سے داعی اور ذمہ دار اس کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں، جیسے کوئی ایسا شخص امام کو لقمہ دے جو نماز میں شریک نہ ہو اور جس کے قبول کرنے کو فقہاء مفسد صلاۃ سمجھتے ہیں۔
اس احساس اور بار بار کی کوششوں کے غیر مفید ہونے کے تجربہ، نیز جماعت کے اخلاص وللہیت ،مولانا محمد یوسف صاحب کی قوت باطنی، اور قوت دعوت اور اس میں فنائیت اور استغراق اور کام کے ہر حال میں نہ صرف مفید بلکہ زندگیوں میں تبدیلی لانے والا عمل دیکھ کر اس سلسلہ کو وہیںروک دینا مناسب سمجھا گیا، البتہ اپنے ذہن کے کام کرتے رہنے کو روکنا قدرت میں نہیں تھا، اس لیے یہ فیصلہ کیا کہ مرکز سے اس تعلق اور دعوت کی مشغولیت کو جاری رکھا جائے گا؛ البتہ اپنے دائرہ کار لکھنو اور اس کے اطراف میں اس کو زیادہ مفید بنانے اور حالات وماحول کا لحاظ رکھنے اور دعوت وتفہیم کی اپنی زبان استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ’’قل کل یعمل علی شاکلتہ فربکم أعلم بمن ہو أھدی سبیلاً‘‘ ایک دائمی اور عالمگیر حقیقت ہے‘‘ (کاروان زندگی، ص:۱؍۳۱۴-۳۱۶)
مصر کی جماعت اخوان المسلمین اور حضرت مولانا کا موقف
حضرت مولانا نے ۱۹۵۱ء؁ میںجب مصر اور مشرق وسطی کا سفر کیا تو اخوان المسلمین کے رہنماؤں سے ملاقتیں کیں، ان کی دینی ، تعلیمی اور اصلاحی سرگرمیوں سے واقف ہوئے ، جماعت کے مؤسس شیخ حسن البنا کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے متعلق مستند معلومات حاصل کیں اور ان کی خدمات کو سراہا، اور جماعت کی مجلس انتظامی کے ارکان سے ملاقات اور گفتگو کی،اور ان کے سامنے اپنے خیالات اور تجربات پیش کیے ، اخوان نے مصر کی اسلامی سوسائٹی پر جواثرات ثبت کیے اس کااعتراف کرتے ہوئے مولانا نے خودنوشت سوانح حیات میں لکھا ہے:۔
’’اخوان کا یہ کارنامہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ کوئی شخص جس کے دل میں نور ایمان ہے اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا ، راقم سطور کے سامنے چونکہ ان ممالک کی سابقہ زندگی اور موجودہ دینی وفکری انقلاب ہے، اور اس کو اپنے طویل قیام کی بناپر اس کا مشاہدہ اور تجربہ ہوچکا ہے کہ اخوان نے جدید نسل کے دل ودماغ کو اس طرح متاثر کیا ہے اور دین وشعائر دین کے اظہار واعلان کی کیسی جرأت پیدا کردی ہے اور جو لوگ دینی مظاہر وشعائر اور دینی عقائد وحقائق کے اظہار میں شرمندگی اور حقارت محسوس کرتے تھے ،اب کس طرح علانیہ منظر عام پر دینی فرائض وشعائر کو ادا کرتے ہیں، اور احساس کہتری کے بجائے برتری کا احساس رکھتے ہیں، ان ذاتی مشاہدات وتجربات کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں میری زبان سے ایک تقریر میں اخوان کے متعلق بے ساختہ یہ لفظ نکل گئے کہ ’’لا یحبہم إلا مؤمن ولا یبغضہم إلا منافق‘‘ (اخوان سے اسی کو محبت ہوگی جس کے دل میں ایمان ہے اور اسی کو نفرت ہوگی جس کے دل میں نفاق ہے)۔ (کاروان زندگی، ۱؍۳۸۱-۳۸۲)
اس اعتراف کے ساتھ ساتھ مولانانے جماعت اخوان کو خطاب کرکے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کیا اور دعوت دین کی غیر معمولی اہمیت اور عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ:۔
’’ دینی دعوت وتبلیغ اور اسلامی تجدید کا کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ سمجھ لیا گیا ہے ، اس کا کام اور پیغام صرف اتنا نہیں ہے کہ ایک نظام کی جگہ دوسرا نظام، اور ایک سیاسی واقتصادی نظام کی جگہ دوسرا سیاسی واقتصادی نظام لایا جائے، نہ علم وثقافت کو عام کرنا، جہالت کو مٹانا، بے کاری وبے روزگاری کے خلاف جنگ چھیڑنا ہے اور نہ ہی معاشرتی واخلاقی خرابیوں کا علاج اس ڈھنگ سے کرناہے جس طرح یورپ کے مصلحین اور مغرب کے ریفارمر کیاکرتے ہیں، اس دعوت کا کام تو اس ’’اسلام‘‘ کی طرف بلانا ہے جو عقیدہ، عمل، اخلاق وکردار، عبادت وسیاست، انفرادی واجتماعی سلوک سب پر حاوی ہے، اس میں قلب، ذہن ودماغ اور جسم وروح شامل ہیں، کوئی چیز اس کے دائرۂ بحث سے خارج نہیں، اس دعوت میں دل ،دماغ، انداز فکر، انسانی نفسیات، عقائد، ذہنیت سب کے اندر گہری تبدیلی لائی جاتی ہے، اس دعوت کا سرچشمہ قلب ہے، نہ کہ قرطاس وقلم اور تقریر کاا سٹیج، یہ وہ دعوت ہے جو امت پر نافذ ہونے سے پہلے داعی کے جسم پر نافذ اور اس کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے‘‘۔
مولانا نے اسی خطاب میںاغراض ومقاصد اور نتائج کے درمیان واضح فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دینی ودعوتی کارکنوں کی نفسیاتی کمزوری اور مادی ذہنیت کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ:۔
’’دوچیزیں ہوتی ہیں، ایک ہے غرض وغایت جس کے لیے جدوجہد کی جاتی ہے، اور ایک ہے نتیجہ وانجام جو بعد میں ظاہر ہوتا ہے، دونوں میں بڑا بنیادی فرق ہے، جس شخص کا مقصد جاہ ومنصب اور حکومت کا حصول ہوتا ہے، حکومت حاصل نہ ہونے کی صورت میں وہ سست پڑجاتا ہے اور جدوجہد سے کنارہ کش ہوجاتاہے، حکومت کی فکر میں دعوت کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے ، ہروہ جماعت جو حکومت کی طلب میں تگ ودوکرتی ہے اس کی نفسیاتی کمزوری اور ذہنیت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ دعوت کی راہ میں جہاد وقربانی سے گریز کرنے لگتی ہے، یا اس راہ سے منحرف ہوجاتی ہے اور اگرحکومت حاصل ہوجاتی ہے توپھر وہ طاقت کے نشہ میں بدمست ہوجاتی ہے اور مال حاصل کرکے سرکش۔
اس لیے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس معاملہ میں اپنے ذہن کو یکسو کرلیں، ہمارے پیش نظر دعوت اور صرف دعوت ہو، ایثاروقربانی کا جذبہ، اطاعت الہٰی اور حصول اجروثواب کی فکر، آخرت میں کامیابی کی فکر دامن گیر ہو، انسانیت کے زخموں پر مرحم رکھنا، مخلوق خدا کے ساتھ شفقت ومحبت اور پوری انسانیت کی نجات کا جذبہ ہمارے اعصاب پر سوارہو، پھراگر تاریخ کے کسی اوردعوت کے کسی مرحلہ میں بجزحکومت کے کسی اور ذریعہ سے دعوت کاکام ممکن نہ ہو، توداعیوں کے دل ودماغ میں دعوتی اصول ومبادی اور اس کے عقائد روح میں سرایت کرجانے کے بعد دین اور دعوت کی مصلحت کی خاطر حکومت کے لیے بھی تگ ودوکرسکتے ہیں، لیکن اس ذہنیت، مخلصانہ جذبے، پاکیزہ سیرت وکردار ،امانت ، دیانت داری اور سچائی سے، جیسے ہم دین کے فرائض اور عبادات کے دوسرے ارکان اداکرتے ہیں، اور نیت درست رکھتے ہیں، ایسی صورت میں حکومت وعبادت میںکوئی فرق نہیں رہ جائے گا، اس لیے کہ وہ رضائے الہی کے حصول اور اجروثواب اور تقرب الہی کے لیے سب کچھ انجام دیتا ہے‘‘۔(محاضرات فی الفکر والدعوۃ :۱؍۳۸، دارابن کثیر، دمشق، بیروت، ۲۰۰۱ء؁، اردوترجمہ ماخوذ از: میر کارواں، از: ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی، ص: ۳۳۹-۳۴۳، باراول، ۲۰۰۱ء؁، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ)
حضرت مولانانے ’’کاروان زندگی‘‘ میں مزید لکھا ہے کہ:۔
’’ واقعہ یہ ہے کہ اگراخوان کچھ عرصہ اور عملی سیاست میں حصہ نہ لیتے (یا اس عملی سیاست میں الجھا نہ لیے جاتے)اور اپنا اصلاحی اور دعوتی کام پوری قوت سے جاری رکھتے تو ممالک عربیہ میں ایک اسلامی انقلاب برپا ہوجاتا اور ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی، مجھے مستند اور باوثوق ومتعدد ذرائع سے معلو ہوا کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں شیخ حسن البنا کو خود اس کا شدید صدمہ اور قلق تھا کہ ان کو قبل از وقت سیاسی میدان میں اترنا پڑا، اور ان کا دامن کانٹوں میں الجھ گیا، ان کو اس کی بڑی تمنا تھی کہ ان کو پھر خالص دعوتی وتربیتی کام کا موقع ملے اور وہ جماعت اور جمہور مسلمین میں وہ استعداد پیدا کرلیں جس کے بعد وہ ہر طرح کی ذمہ داری کو پورا کرسکیں اور ہر امتحان میں آزمائش سے گزرسکیں‘‘(کاروان زندگی، ص:۱؍ ۳۸۲)۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے موجودہ حالات میں حضرت مولانا کی اس فکرمندی کو بہتر طریقہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔
حکمرانوں اور سیاسی قائدین کے ساتھ
مولانا کا رویہ اور ان سے گفتگو کا انداز
حضرت مولاناؒ نے ملک اور عالم عربی واسلامی کے حکمرانوں کو جو خطوط لکھے اور وقتا فوقتا جو مشورے دئے یہاں پر ہم اس کے صرف دو نمونے ذکرکرتے ہیں جن سے مسائل کے حل میں مولانا کے طریقہ کار اورمنہج فکر پر واضح روشنی پڑتی ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ملکی اور غیرملکی حالات وواقعات پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے اور اعصاب پرانسانیت اور مسلمانوں کی کتنی فکرمندی سوار رہتی تھی۔حضرت مولانا نے ایمرجنسی کے زمانہ میں وزیراعظم اندراگاندھی صاحبہ کو ایک مفصل خط لکھا جس میں مولانا نے خط کے آغاز میں گاندھی خاندان کی خدمات کوسراہا، اندراجی کے والد سے اپنے روابط کا ذکرکیا،کانگریس پارٹی کے مہاتما گاندھی، موتی لال نہرو اور ابوالکلام آزاد جیسے عظیم لیڈروں کی ملک کی آزادی میں ان کی خدمات کا تذکرہ کیااور جواہرلال نہرو کی بیٹی سے قوم کی وابستہ توقعات اور ملک کی سیاست میںان کی جرأتمندی اور ذہانت کا تذکرہ کیا، اس کے بعد ملک کے موجودہ حالات اور نظام کے مظالم اور سختیوں کی وضاحت کی ، خط میں مکتوب الیہا کو نفسیاتی طورپر ایسی غذا بہم پہنچائی گئی ہے جو اس کو یہ احساس دلاتی ہے کہ تحریر میں ایک جائز حد تک مخاطب کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے، اس کی محنت وکوشش کا اعتراف ہے، اور اس سے کسی مایوسی یا بدگمانی کا اظہار نہیں کیا گیاہے، خط کی تمہید اسی نفسیاتی اصول اور حکمت ِدعوت پر مبنی ہے، یہاں پورے خط کے متن کے بجائے صرف ایک ٹکڑے کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مولانا ایمرجنسی کے اثرات ونتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’ادھر تقریباً ۶؍مہینے سے جب سے کہ نس بندی پر عمل کرانے کی مہم شروع ہوئی ہے، صورت حال اور زیادہ خراب ہوگئی ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ آپ تک صحیح حالات وواقعات پہنچنے نہیں دیے جاتے، ورنہ آپ اس صورت حال کو کسی طرح باقی رہنے کی اجازت نہ دیتیں، صورت یہ ہے کہ آپ کے منشا ومقصد کے خلاف ریاستی حکومتوں نے اس قانون کے نفاذ اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کو اپنے اقتدار کی بقا اور سرخروئی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے، اور اس میدان میں وہ ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتی ہیں، اور اس سلسلہ میں وہ سب کچھ ہورہا ہے جو کسی زخم خوردہ انتظامی ذہنیت رکھنے والی غیر ملکی حکومت اور اس کے ایجنٹوں کے ذریعہ کسی ملک کے پُرامن شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ سارا ملک ایک کیمپ میں تبدیل ہوگیا ہے، خوف وہراس کی ایک فضا قائم ہے، لوگ اپنی مقصد براری کے لیے اور اپنا اپنا نس بندی کا کوٹہ پورا کرنے کے لیے نہایت ذلیل بلکہ وحشیانہ حرکتیں کر رہے ہیں، جس طرح جنگل کے جانوروں اور چڑیوں کا شکار کھیلا جاتا ہے، اس طرح غریب مزدوری کرنے والوں، دیہاتیوں اور شاگرد پیشہ لوگوں کو پکڑا جاتا ہے، اور پیسے کی لالچ دے کر یا دھمکا کر یا پھسلا کر اپنا حساب پورا کیا جاتا ہے، تجارتوں کے لائیسنس باقی رکھنے یا نئے لائیسنس لینے، حتی کہ روز مرہ کی اشیاء کے حصول کے لیے بھی اس کی شرط لگائی جاتی ہے کہ وہ دکان دار یا خریدار نس بندی کے اتنے کیس لائے، ملازمین کا طبقہ جو حکومت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو ابھی تک مطمئن اور ملک میں سب سے زیادہ باعزت سمجھا جاتا تھا، سب سے زیادہ پریشان ہے، تعلیمی اسٹاف جو نئی نسل کی تربیت کرنے والا ہے، بے چینی اور سخت ذہنی انتشار میں مبتلا ہے، ہر مجلس کا یہی موضوع سخن بنا ہوا ہے اور ہر شخص پریشان نظر آتا ہے۔
اس صورت حال کا قدرتی نتیجہ وہ اخلاقی گراوٹ ہے جو لالچ یا خوف سے ایک ایسے ملک میں پیدا ہوسکتی ہے، جس میں تعلیم وتربیت کی پہلے بھی کمی تھی، اس کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اہل ملک اس خودداری وخود اعتمادی کی دولت سے محروم ہوتے جارہے ہیں جو آزادی کی تحریک، کانگریس وخلافت کی جدوجہد، گاندھی جی، مولانا آزاد، علی برادران، نہر وخاندان اور ہمارے قابل احترام سیاسی رہنماؤں کی کوششوں سے بڑی قربانیوں سے اس ملک میں پیدا ہوئی تھی، سارا ملک اپنے کو غلام، بے بس اور ذلیل محسوس کررہا ہے، اور اس کو شاید ہی کسی وقت یہ محسوس ہوتا ہو کہ یہ ایک آزاد جمہوری ملک ہے، جو ہرقسم کے جبر وتشدد سے محفوظ ہے اور جس کے لیے اس جدوجہد کے ذریعہ جس کی نظیر دوسرے ملکوں کی تاریخ میں ملنی مشکل ہے، اپنے کو بدیشی حکومت کی غلامی سے آزاد کرایا ہے، اور اب وہ اپنی مرضی کے مطابق اس ملک کا نظم ونسق چلا رہا ہے، آپ سے زیادہ خودداری وخود اعتمادی کی قدر کرنے والا، اس کی حفاظت کی ضرورت سمجھنے والا، اور ہر قیمت پر اس کو باقی رکھنے والا مشکل سے ملے گا، اس لیے کہ اس کے حصول میں آپ کے خاندان کا بنیادی حصہ ہے، اور آپ نے اس پودے کو اپنے خون پسینہ سے سینچا ہے، آپ اپنی قیادت کے زمانہ میں اور اپنی آنکھوں کے سامنے اس پودے کو مرجھاتا اور جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں، اس وقت ملک کی بہت جلد خبر لینے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ اگر کوئی قوم بزدلانہ اور غلامانہ سیرت اختیار کرلے، اس کے اندر سے خودداری، بلند حوصلگی اور اخلاقی جرأت کی صفات نکل جائیں، وہ پیسے کی خاطر یا ڈر ودھونس سے بالکل اپنی مرضی کے خلاف ہر کام کرسکے، وہ یہ سمجھنے لگے کہ ہر قیمت پر زندہ رہنا، ملازمت، عہدہ کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور اس میں ضمیر، اصول، غیرت وخودداری کا کوئی سوال نہیں تو پھر وہ ملک خواہ سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی حیثیت سے کتنا ہی ترقی کرجائے خوش ہونے کی بات نہیں ہے کہ ہر ملک، قوم سے ہے، قوم ملک سے نہیں، اور قوم اپنی سیرت، اندرونی صفات، خودداری اور اخلاقی جرأ ت سے ہے، معیار زندگی کے بلند ہوجانے، اور وسائل معیشت کی حاصل ہوجانے سے نہیں‘‘۔ (کاروان زندگی ۲؍۲۱۸-۲۲۰)۔
اسی طرح وفات سے پہلے جب حضرت مولانا بیمار تھے،تو۲۸؍مارچ ۱۹۹۹ء؁ کو مولانا کی عیادت کے لیے وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی صاحب ندوۃالعلماء تشریف لائے ، مولانا نے اس وقت بھی اٹل جی کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ:’’ملک خطرہ میں ہے، اس کی سلامتی اور بقا کی فکر کیجیے‘‘۔
ملک فہد بن عبدالعزیزؒ کے نام خط
حضرت مولانا نے ۱۹۹۰ء؁ میں مملکت عربیہ سعودیہ کے فرمانروا فہد بن عبد العزیزؒ کی بہت سی خوبیوں اور کارناموں کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس کی رعایت کرتے ہوئے ان کے نام ایک خط لکھا، جس میں مخلصانہ اور بے غرضانہ طریقہ پر وقت کی نزاکت کی طرف توجہ دلائی ، اخلاص اور انابت الی اللہ ، امکانی حد تک مملکت اور معاشرہ کو مثالی اور معیاری اسلامی معاشرہ بنانے کے عزم وجدوجہد کی طرف متوجہ کیا، انابت الی اللہ اور خدا سے معاملہ کو صاف کرنے اور ان کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی جوخدا کی نصرت اور حمایت سے دور کرتی ہیں، اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا نے اپنا دعوتی فرض اور دینی احتساب کس غیر جانب داری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیا۔اس خط کا کچھ حصہ یہاں پر نقل کیا جاتا ہے، مولانا لکھتے ہیں۔
’’اس وقت عالمِ اسلام عموماً اور جزیرۃ العرب اور اور بلادِ مقدّسہ خصوصاً ایسے سنگین اور فیصلہ کن مرحلہ سے گزر رہے ہیں، جس کا مقابلہ کرنے اور اس کے ازالہ کی کوشش میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں، اور نہ کسی امکانی جد وجہد سے گریز ممکن ہے، صورت حال اس حد تک سنگین ہے، جس کی تصویر آیت قرآنی: ’’إذا بلغت التراقي وقیل من راق‘‘ (القیامۃ:۲۵-۲۶) (جب جان گلے تک پہنچ جائے اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟) سے بہتر کھینچی نہیں جاسکتی۔
۔۔۔۔۔ اس وقت تمام اسلامی ملکوں اور قوموں کے اندر دو ایسے خلا پائے جاتے ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کے وجود، دعوتِ اسلامی کی پیش رفت وترقی، انسانوں کے قلب وعقل کو مسخّر کرنے؛ بلکہ اس دعوت کے متعلق غور وفکر کرنے پر آمادگی میں بڑی زبردست رکاوٹیں پیدا کردی ہیں، اس سے آگے بڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس خلا نے مسلمانوں میں تہذیبی ارتداد اور عقائد وسلوک میں انحراف اور فساد کا خطرہ پیدا کردیا ہے، اس لیے فوری طور پر اس خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔
پہلا بنیادی خلا ایسے مثالی معاشرہ (سوسائٹی) کا فقدان ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہو، اور عقائد واخلاق سے لے کر معاملات اور زندگی کے تمام شعبوں میں وہ اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہو، انسان اس فضا اور ماحول میں امن وسکون اور طمانیتِ قلبی محسوس کرے کہ یہ معاشرہ خوشیوں اور خوش بختیوں کا گہوارہ اور ایسی جنت ہے، جہاں وہ اسلامی تعلیمات، اعلی اخلاقی قدروں کو کارگر، قیادت میں سرگرم عمل، اور اسلام کو چلتے پھرتے اور بولتے دیکھ رہا ہے، مسجد سے لے کر بازار، عدالت سے لے کر گھروں تک اور عقائد سے لے کر معاملات تک میں اسلام کی حکمرانی ا ور اسی کی چھاپ ہے، افسوس ہے کہ یہ مثالی معاشرہ ایک تاریخی یادگار اور قصّۂ ماضی بن کر رہ گیا ہے، جو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے، اس وقت ایسے اسلامی معاشرہ کو دوبارہ بحال کرنا اسلام ہی کی نہیں پوری دنیا کی اولین اور بنیادی ضرورت ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ سعودی حکومت ہی ایسے اسلامی معاشرہ کو قائم کرنے کی زیادہ اہل اور اس پر قادر ہے کہ اس کا خمیر ہی اسلامی دعوت سے تیار ہوا ہے، اور اس کا نشوونما بھی اسی ماحول میں ہوا ہے، اللہ تعالی کی فتح ونصرت بھی اس کے ہم رکاب رہی ہے، پھر اللہ تعالی نے محض اپنے فضل وکرم سے بلاد مقدسہ اور حرمین شریفین کی تولیت ونگرانی کا شرف بھی اس کو عطا کیا ہے، جہاں حج کی بدولت ہرسال دنیا کے گوشہ گوشہ سے مسلمان آیا کرتے ہیں، اس لئے تمام قوموں کی نگاہیں سعودی عرب کی حکومت پر لگی ہوئی ہیں۔
عالم اسلام کا دوسرا خلا کسی ایسی طاقتور اور مومنانہ دعوت وقیادت کا فقدان ہے، جس کے اندر مردانگی کا جوہر، بلند نگاہی، عالی ہمتی، دور اندیشی وپیش بینی کے ساتھ، ان بڑی طاقتوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی ہو، جنہوں نے بغیر کسی جواز واستحقاق کے نوع انسانی کی زمامِ قیادت اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے، اور جو اسلامی ملکوں اور قوموں کی قسمتوں کی مالک بن بیٹھی ہیں، اسی کے ساتھ اس اسلامی قیادت میں ایثار وقربانی، جرأ ت وشجاعت کی روح، صبر واستقلال کے جذبہ اور شوق سے سرشار ہونا، نیز زہد وتقشف کے ساتھ (اگر ضرورت ہو اور حالات کا تقاضہ بھی تو) خطرات میں کود پڑنے کی ہمت اور طاقت بھی رہنی چاہئے، کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ قوی ایمان، بے مثال جرأت وشجاعت اور جرأ تمندانہ اقدامات سے متاثر ہوتا ہے، اور اس کا ثناخواں بن جاتا ہے، بڑی طاقتوں کو للکارنے (خواہ کھوکھلے نعروں اور پروپیگنڈوں کے لیے ہو) کا بھی نفسیاتی اثر پڑتا ہے، اور لوگوں کے عقیدے اور رجحانات اس سے متاثر ہوتے ہیں، پھر اس طرح کا مظاہرہ کرنے والے اگر الحاد وگمراہی کے علمبردار ہوئے (چہ جائیکہ وہ اپنے طور طریقہ میں انحراف کا شکار ہوں) اور اُن کا تعلق کسی ملحدانہ فکر یا فلسفہ یا کسی صلیبی سازش سے ہے، تو یہ چیز عوام کے فکر وعقیدہ میں تزلزل پیدا کردیتی ہے، اور وہ بعض اوقات الحاد کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ لوگ خاص طور سے (نوجوانوں کا اولو العزم طبقہ جو ان عالمی طاقتوں کو ناپسند کرتا ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرسازش اور منصوبہ بندی اور ہر کوشش میں مؤید اور مددگار ہوتی ہیں) ہر اس شخص کا گرم جوشی سے استقبال کرتا ہے، جو بہادری کے ساتھ ان طاقتوں کے سامنے آئے، خواہ وہ کھوکھلا چیلنج ہو یا صرف زبانی جمع خرچ ہو، یہ چیز اُن کے عقیدہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس میں شبہ نہیں کہ کسی معقول تدبیر وانتظام کا اپنی جگہ نہ ہونا، یا کسی ضروری چیز کا خلا غیر طبعی ہے، اور وہ زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکتا۔
اس خلا کو پُر کرنا بہت ضروری ہے، اس طرح بڑی طاقتیں جس طرح عالمی سیاست میں دخل اندازی کرتی ہیں، اور اسلامی ملکوں کی سیاست وقیادت پر اثرانداز ہوتی ہیں، اُن کی قوت وتاثیر سے غصہ وجھنجھلاہٹ کے شکار، اور اکتائے ہوئے نوجوانوں کو دور رکھنا اور بجائے مُلحد وبے دین قائدین اور اصحاب اقتدار کے مخلص ودیندار اور قلب سلیم رکھنے والے قائدین وحکام کی طرف اُن کو متوجہ کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے، چونکہ مملکت سعودیہ عربیہ فاسد عقائد اور شرک وبدعت کی بُرائیوں سے پاک وصاف اور صحیح اسلامی عقیدہ کی حامل ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالی نے اس کو حرمین شریفین کی خدمت اور تولیت کا شرف بھی عطا فرمایا ہے، اس لیے وہی اس بنیادی خلا کو آسانی سے پُر کرسکتی ہے، اور آپ جیسی شخصیت جس کو اللہ تعالی نے شرافتِ وطن وشرافتِ منصب دونوں نعمتیں عطا فرمائی ہیں، یہ کام انجام دے سکتی ہے، اس لیے کہ آپ کے خاندان کی قدیم وجدید تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالی پر توکل کیا ہے، اور اس کی کتاب کو حَکَمْ بنایا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور طریقہ پر عمل پیرا ہونے کا اہتمام کیا ہے۔ (کاروان زندگی، حصہ:۵، صفحہ۲۲-۲۷)
مولانا نے ان خطوط میں مخاطبت کاجوانداز اختیار کیا ہے، وہ ناصحانہ اور دردمندانہ ہے، اس میں مخاطب کا پورا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے، کہیں بھی ناشائستہ زبان یا انداز اختیار نہیں اور قرآن کریم کا انداز دعوت واصلاح بھی یہی ہے کہ حکمت ومودت ، موعظت حسنہ ، نصیحت آموز اورموثرانداز میں بات کہی جائے۔
حضرت مولانا ؒاورملی مسائل
ملک اور عالم اسلام کے حکام اور قائدین کو مشورے دینے اور خطوط لکھنے کے علاوہ حضرت مولانا وقتا فوقتا عام مسلمانوں سے خطاب کرتے، حالات اور مسائل کے اعتبار سے ان کو مشورے دیتے، ان کی رہنمائی فرماتے،مسائل کے حل میں افہام وتفہیم سے کام لیتے ہوئے ملک کے دستور کے دائرہ میں اقدامات کرنے کی تلقین کرتے، تشدد، احتجاج، دھرنے اور مظاہرے سے روکتے، ۱۹۹۰ء؁ کے آخری مہینوں میں شدید فرقہ وارانہ فسادات، خوف ودہشت کی فضا میں اس کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس پریشانی اور سراسیمگی کی حالت میں ہندوستان کے مسلمانوں کو کتاب وسنت کی روشنی میں اور گزشتہ تاریخ اور رحمت ونصرت الہٰی کے واقعات کی رہنمائی میں ایسے مثبت مشورے دیے جائیں ، رجوع الی اللہ، اصلاح حال، وقت کے تقاضوں کی تکمیل اور حقیقت پسندی کا راستہ دکھایا جائے جس سے خوف وہراس کم ہو اور رحمت الہٰی متوجہ ہواور فضاکی درستی، جان ومال کی حفاظت اور ملی تشخص کی بقا میں مدد ملے ، اس تناظر میں حضرت مولانا نے مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے ’’ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک راہ عمل‘‘کے عنوان سے ایک کتابچہ تیار کیا جس کے کچھ اجزاء پیش خدمت ہیں:۔
ــ’’ اس کتاب میں پہلے اس صورت حال کی سچی تصویر پیش کی گئی جس سے مسلمانوں کے نہ صرف ملی تشخص، دین کی دعوت وتبلیغ کے مواقع وامکانات ہی نہیں، ان کی زندگی کا تسلسل، عزت وآبرو، مساجد ومدارس اور صدیوں کا دینی وعلمی اثاثہ بھی خطرہ میں پڑگیا ہے، پھر اس صورت حال کا بہادرانہ وحقیقت پسندانہ مقابلہ کرنے ،اللہ کی رحمت ونصرت سے امید رکھنے، اور ان تاریخی واقعات سے اپنے اندر ہمت واعتماد پیدا کرنے کی تلقین کی گئی کہ جب تمام قیاسات ومشاہدات وواقعات کے بالکل برخلاف اللہ کی طرف سے مدد آئی، اور اسلام اور اس کے پیروؤں کے مفاد میں وہ انقلاب رونما ہوا جس سے دنیا کی عقلیں دنگ ہوکر رہ گئیں، اور مؤرخ کا قلم انگشت بدنداں ہے، قرآن کی ان آیات اور بعض واقعات کو نقل کرکے کہا گیا کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کی بالکل ضرورت نہیں، لیکن اس کے لیے ان کو خود بھی کچھ اقدامات، تبدیلیاں اور کچھ چیزوں کا اہتمام کرنا ہوگا۔
ان میں سب سے پہلی چیز رجوع الی اللہ، انابت، توبہ واستغفار، اور دعا وابتہال (گریہ وزاری ہے) اس سلسلہ میں ایسے موقعوں پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمول مبارک، اور اسوہ کا حوالہ دیا گیا کہ آپ معمولی پریشانی کے وقت بھی نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے، اور اسی کو اس کا علاج اور پناہ گاہ سمجھتے تھے، دوسری شرط اور ضروری وفوری قدم معاصی سے توبہ، گناہوں سے اجتناب اور حقوق وفرائض کی ادائیگی ہے، اس سلسلہ میں خلیفۂ راشد امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز کے ایک تاریخی خط کا اقتباس پیش کیا گیا، جو انہوں نے افواج اسلامی کے ایک قائد کو بھیجا تھا، اس کا ایک مختصر اقتباس پیش ہے:
’’اپنے ساتھیوں کے لیے دشمن سے زیادہ اللہ کی معصیت سے ڈریں، کیونکہ گناہ دشمن کی تدبیروں سے بھی زیادہ انسان کے لیے خطرناک ہے، ہم اپنے دشمن سے جنگ کرتے ہیں، اور ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر غالب آجاتے ہیں …… اگر ہم اور وہ دونوں معصیت میں برابر ہوجائیں تو وہ قوت اور تعداد میں ہم سے بڑھ کر ثابت ہوں گے‘‘۔
تیسرے نمبر پر کہا گیا کہ غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کرانے کی کوشش کریں، اور ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں، اس سلسلہ میں مسلمانوں کی کوتاہیوں، اور اپنے ذاتی تجربوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، اور ان کتابوں اور رسالوں کی نشاندہی بھی جو اس مقصد کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر ’’پیام انسانیت‘‘ کی تحریک کو عام کرنے اور مؤثر بنانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو اس ملک کی فضا کو معتدل، پُر سکون، بلکہ پُر راحت وباعزت بنانے کی ایک مؤثر تدبیر اور امکانی کوشش ہے۔
پانچویں نمبر پر ایک اہم بات یہ کہی گئی کہ مسلمانوں میں صلح پسندی، صبر وتحمل بلکہ ایثار وفیاضی کے ساتھ عزم وہمت، شجاعت ودلیری کی صفت، راہِ خدا میں مصائب برداشت کرنے، اس پر اللہ کے اجر وثواب کی طمع، جنت اور لقائے رب کا شوق، اور شہادت فی سبیل اللہ کے فضائل کا استحضار بھی موجود اور زندہ رہنا چاہئے، اس کے لئے ان کو صحابہ کرامؓ کے حالات اور مجاہدین اسلام کے کارناموں کا مطالعہ جاری رکھنا چاہئے، اس سلسلہ میں بھی بعض مؤثر ومستند کتابوں کی نشاندہی کی گئی۔
چھٹے نمبر پر آخری بات یہ کہی گئی کہ اس وقت ہر گھر کے ذمہ داروں، بچوں کے والدین اور موجودہ نسل کے لوگوں کو اپنے بچوں اور آئندہ نسل کو دین کی ضروریات سے، اسلامی عقائد، دینی فرائض اور اسلامی اخلاق سے واقف کرانے اور بنیادی تعلیم دینے کی ذمہ داری خود قبول کرنا ہے، ان کو بچوں کی خوراک، غذا ولباس اور پوشاک، اور صحت، بیماری کے علاج کی ذمہ داری کی طرح بلکہ اس سے زیادہ اس کی ضرورت واہمیت کا احساس کرنا، اور اس فرض کو ادا کرنا ہے، اس لئے کہ اس کی طرف سے غفلت کرنے کے نتائج طبعی جسمانی فرائض وذمہ داریوں سے غفلت کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک، وسیع اور طویل المدت ہیں، اس کے بغیر مسلمانوں کی آئندہ نسل مسلمان نہیں رہ سکتی، اس لئے کہ موجودہ نظام ونصاب تعلیم، ذرائعِ ابلاغ، پریس، ماحول اور معاشرہ سب ذہنی وتہذیبی ارتداد اور (اگر اُن کے متوازی کوئی انتظام نہ کیا گیا تو) دینی واعتقادی ارتداد کی طرف لے جانے والے ہیں۔ (کاروان زندگی، حصہ:۴، صفحہ:۳۹۶-۳۹۹)
مسلم سماج کی اصلاح کا طریقہ کار
حضرت مولانانے مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لیے اور اسلام مخالف عادات واطوار سے اس کو پاک کرنے کے لیے اصلاح معاشرہ تحریک شرع کی، جس کا پہلا اجتماع ندوۃ العلماء میں منعقد ہوا، پھر متعدد شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں، اوراس طرح اس تحریک نے پورے ملک میں ایک زبردست مشن کی شکل اختیار کرلی، معاشرہ پر اس کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے، اس تحریک کا مقصد استحصال، شادی وغیرہ میں فضول خرچی، اسراف، جہیزکی لعنت، ، خاندان یا طبقہ یا معاش کی بنیاد پر تفریق کو ختم کرنا تھا، اس تحریک کے پیچھے مولانا کا یہ تصور کارفرماتھا کہ ہر انسان کے دوگھر ہیں، ایک چھوٹا گھر اور دوسرا بڑا گھر، اور اصلاح کا عمل اسی وقت انجام پاسکتا ہے جبکہ چھوٹے اوربڑے دونوں گھر کی اصلاح ہوجائے۔
*افہام وتفہیم اور پرامن گفتگوکی تلقین*
*حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ مسلمانوں کے سامنے اپنی تقریر، تحریر اورگفتگو کے دوران اس بات پر زور دیتے رہے کہ مسلمانان ہند اپنے وطن کی تعمیر وترقی کے کاموں میں بھرپورحصہ لیں،اوراپنی سوسائٹی سے پسماندگی اور پستی، کشمکش ومعرکہ آرائی اورجہالت ونادانی کے اسباب وعوامل کا خاتمہ کریں اور مسلمانان ہند کی مساعی جمیلہ اس ملک کے لیے باعث خیروبرکت ثابت ہوں،احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور تشدد سے باز رہیں، شاہ بانو کیس، بابری مسجد اور یکساں سول کوڈ کے سلسلہ میں مولانا نے مسلمانوں کو قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اقدامات کرنے کا مشورہ دیا، مسائل کو باہمی افہاوتفہیم اور پرامن گفتگو کے ذریعہ حل کرنے پر زوردیا اورحتجاج اور تشدد سے بازرہنے کی تلقین کی، ان کی تقریر کا مرکزی موضو ع قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ ’’یا أیھا الذین آمنوا إن تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً‘‘ ہوا کرتا تھا، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرقان کی یہ تشریح فرماتے کہ مسلمانوں کی زندگی، غیروں کے مقابلہ میں زندگی کے تمام شعبہ جات میں ممتاز ونمایاں ہو، اورصدق وصفا، امانت ودیانت، اخلاص وللہیت، جدوجہد، ہمدردی وغمخواری، مساوات وبرابری اور ایثار وقربانی سے متصف رہے تاکہ مسلمانان ہند ان صفات وامتیازات کی بدولت،برادران وطن کی محبت والفت اوراعتماد کے حق دار بن سکیں، وہ ان کو باعث برکت سمجھیں، اس ملک کے لیے ان کو وبال اورمصیبت نہ تصورکریں۔*
*ملی فکر مندی*
ان اصلاحی ودعوتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مولانا ہمیشہ ملت اسلامیہ کے لیے فکرمند رہتے تھے، تخریبی رجحانات ونظریات؛ قومیت، نسلی تفریق، کمزوروں پر ظلم وزیادتی، انسان کا استحصال، تہذیبی چیلنجز اور دیگر خطرات سے ملت کو آگاہ کرتے رہتے تھے، جب بھی کہیں کوئی خطرہ محسوس ہوتا اس کی نشان دہی کرتے، اس کے خلاف آزواز بلند کرتے، قومیت عربیہ جس نے ایک عقیدہ ومذہب کی شکل اختیار کرلی تھی، اوراشتراکیت جو ارتداد اور الحاد پھیلارہی تھی، کا جم کر مقابلہ کیا، مسلم حکام اور بادشاہوں کواس خطرہ کی طرف متوجہ کیا اور حکیمانہ وناصحانہ انداز میں اسلامی تشخص، اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کی حفاظت کی دعوت دی، اور جب جب مولانا کو مسلم حکمرانوں اور قائدین سے ملاقات کا موقع ملتا انہیں اسلامی ممالک کو فکری ارتداد اور دوسری تہذیب میں ضم ہونے سے بچانے کی تلقین کرتے، نئی نسل کی دینی تربیت پر زور دیتے اور اسلامی ممالک کی ترقی کے لیے مادی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے۔
*ان عظیم دعوتی، اصلاحی اور فکری کوششوں کے لحاظ سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ عظیم اسلامی وانسانی داعی، عظیم مفکر، علمی ودعوتی جہاد میں سرگرداںومنہمک، ملک وملت کوخطرات سے آگاہ کرنے اور صحیح راہ عمل بتانے والے عظیم دانشور تھے، دعوت فکروعمل میںدوسرے داعیوں، عالموں اورمفکروں سے ممتاز ومنفرد تھے، اپنے اسلاف کے بہترین جانشین اور ان کی خصوصیات ومیراث کے امین ووارث تھے، حضرت مولانا قرآنی انسان تھے ، اس لیے مولانا کا منہج دعوت قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ تھی*
{ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْن}
(اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلاتے رہئے اور اچھے طریقہ پر ان سے بحث کیجیے ،بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹک گیا اور وہ صحیح راستہ چلنے والوں کو بھی خوب جانتاہے۔ [سورہ نحل: ۱۲۵]۔( ترجمہ از عربی: محمد وثیق ندوی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: