مضامین

مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد سجاد :‌عربی مرثیہ

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

عربی مرثیہ
مولانامحمدامین صاحب استاذجامعہ ڈابھیل سورت گجرات نےحضرت مولاناؒ کی وفات پرایک مبسوط عربی مرثیہ لکھاتھا،جو”حیات سجاد”میں شائع ہوا،لیکن اس کےبعدشائع ہونےوالے کسی مجموعہ میں دوبارہ اس کوجگہ نہیں دی گئی،حالانکہ اس کی علمی اورادبی شان کے علاوہ ایک یادگاری حیثیت بھی ہے،وہ عربی مرثیہ پیش خدمت ہے:
فی رثاءزعیم الہندمولاناالسیدابیالمحاسن محمدسجاد
ناظم الجمعیۃ لعلماء الھندونائب امیرالشرعیۃ فی بھار
رحمہ اللہ واثابہ داررضاہ
تھمی الجفون علیٰ زعیم عباد
داع لملۃ سید الامجاد
شھم نبیل مفردمتوقد
برابرالی المکارم ھاد
حبرخطیب مصقع متیقظ
بطل نجید بارع نقاد
نحب خشوع صابر فیما دھت
نوب الزمان علیہ صوب غوادی
مولی البریۃ عُصرۃ لاماثل
ولقد یجاء الیہ فی استرشاد
باغ لمرضاۃ الالٰہ ولاینی
عن نصرہ فی یقظہ ورقاد
فاق الاکارم فی محاسن ذاتہ
و صفاتہ والی النجاۃ ینادی
طابت شمائلہ بمجدواضح
یثنی علیہ صدیقہ ومعادی

یتلوالکتاب وکان یعمل بالذی
فیہ من الابلاغ والارشاد
احیی الشریعۃ للنبی محمد
لم یخش فیہ نجدۃ الانجاد
جم المناقب لایزال مفکراً
فیمایذب الناس عن الحاد
ومحامیاًلحمی الالٰہ وناصراً
دین النبی و لیس بالحیاد
رحب الفناء لکل ضیف طارق
من رائح عجل الرکوب وعاد
تبکی علیہ امارۃ الشریعۃ
من فقدہ و رفاقہ فی الناد
و ادارۃ العلماء من جمعیۃ
وضعت لھاالایدی علی الاکباد
کسعیدناثم الرئیس کفایت ال
لاہ من اشیاخ اولی ارشاد
قادوا لنا فی نھضۃ وطنیۃ
جمعاًکمثل الروح فی الاجساد
نبکی علی جبل العلوم وفضلھا
لابی المحاسن اذ مضی سجاد
کم من رجال قدامرَّاذامضوا
حزن المماۃ مسرۃ الاعیاد
قد کان بین القوم نجماًثاقباً
نُھدیٰ بہ فی مظلم من وادی
جلت رزیتنافعزعزائنا
من فقدحبرالملۃ المنقاد
فسقی الالٰہ ضریحہ سحب الرضا
من کل ساریۃ ھمت وغوادی

و اثابہ رضوانہ بجنابہ
یوم الحساب ومجمع الاشھاد
ثم الصلوٰۃ علی النبی محمد
ما قام عبد صالح لرشاد

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: