مضامین

مفکر ملت حضرت مولانا محمد سجاد کے محاسن اخلاق-کمالات وامتیازات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

محاسن اخلاق-کمالات وامتیازات
حضرت مولاناؒکےبعض اخلاقی محاسن کاذکرآپ کےتصوف وتزکیہ کےضمن میں آچکاہے،ان کےعلاوہ چندچیزیں اوریہاں بطورنمونہ پیش کی جارہی ہیں جن سے مولاناؒکی علمی ،فکری اوراخلاقی عظمت وانفرادیت کااندازہ ہوتاہے۔
ظاہری سراپا
سب سے پہلےایک نظرآپ کےظاہری سراپاپرڈال لیتےہیں:
"حضرت مولاناؒ کاقد میانہ مگر نکلتاہواتھا،چھ پونےچھ فٹ سے کم نہ ہوگا،دبلے پتلے، رنگ گندمی سانولامائل ،چوڑادہانہ ،ہونٹ باریک ،لمبی اور کچھ اونچی ناک ،متوسط درجہ کی آنکھیں جو ہروقت نشۂ محبت سےمخموررہتی تھیں ،چہرہ خفیف لمبا ،کشادہ پیشانی ،مونچھیں گھنی،اور ڈاڑھی ہلکی،رخساروں پرکم اور ٹھڈی پرزیادہ تھی،سر کے بال بہت نرم ،ہوامیں ریشم کی طرح اڑتے ہوئے ،پیشانی کےاوپر کےبال غوروفکر کی نذر ہوچکے تھے،سرپر زلف تھا،اس کے اوپرتہائی پگڑی یعنی چونن دی ہوئی پگڑی بندھی ہوتی تھی،یہ پگڑی عام طورپرعرب علماء کے سروں پردیکھی گئی ہے،بخاراکے علماء بھی اسی طرح کی پگڑی پہنتے ہیں،کرتابہت لمبا اور پائجامہ اونچا،اوپرسے ایک صدری جس کے دونوں طرف جیب ہوتے ،ہندوستان کے قدیم علماء کی یہ عام وضع تھی ۔
ذکاوت وحاضرجوابی
آپ انتہائی درجہ کےذکی وفہیم اورحاضرجواب تھےآپ کےعلمی مناقشات کی تاب
کسی میں نہیں تھی،برموقعہ ایسی صحیح بات فرماتےکہ معلوم ہوتاکہ اس سےزیادہ درست بات اس موقعہ پرکہی نہیں جاسکتی تھی،شاہ محمدعثمانی صاحب ؒنےایک واقعہ نقل کیاہے کہ:
"ایک دفعہ مولانا عبد الرؤف دانا پوریؒ کے یہاں مولانا ؒکی موجودگی میں
ایک صاحب تشریف لائے جو کسی رسالہ کے ایڈیٹر تھے ، انہوں نے
مولاناؒ سے پوچھا کہ آپ نے کانگریس میں شرکت مشروط کی ہے یا غیر
مشروط ، مولاناؒ نے جواب دیا کہ مشروط ، شرط یہ ہے کہ اسلام کے خلاف
کوئی بات ہو گی تو نہیں مانیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے انہوں نے
پوچھا کہ شرط تحریری ہے یا تقریری،مولانا ؒنے کہا تحریری نہیں ہے ،
انہوں نے کہا کہ اسلام کا حکم ہے کہ ‘‘معمولی کام جیسے نکاح ہو تو بھی لکھ لو’’
مولانا ؒنے جواباً کہا کہ ا ٓپ کے خیال میں جن لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اور لکھا
نہیں جاتا ، ان کا نکاح منعقد نہیں ہوتا ؟ جو لوگ بیٹھے ہو ئے تھے وہ ہنس
پڑے ، اور یہ صاحب خاموش ہو گئے ، اصل میں بہار میں نکاح کی رجسٹری
نہیں ہوتی ، خاندان کا کوئی بڑا آدمی یا کوئی عالم دین فریقین سے زبانی اقرار
لے لیتا ہےاور بس ۔
مولاناحکیم یوسف حسن خان صاحب بیان کرتےہیں کہ:
"اسی زمانہ(الٰہ آباد) کا ایک لطیفہ ہے کہ ایک بہت بڑا آریہ مناظر مولانا ؒ
سے ملنے آیا اور کہنے لگا کہ مولانا اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان
گائے کی قربانی ترک کردیں اور ہنود مسلمانوں کو بکرا دے کر قربانی کا
انتظام کر دیں ،مولاناؒ نےفوراًبرجستہ فرمایا کہ میاں ہم لوگوں کو جانور کے
بالوں کی تعداد کے مطابق ثواب ملتا ہے اتنا بال اور جانوروں میں کہا ں؟
وہ لاجواب ہو گیا اور کچھ دیر خاموش ہو کر رخصت کی اجازت چاہی اور
چلا گیا ۔
وسیع النظری اورہردل عزیزی
شاہ محمدعثمانی صاحبؒ لکھتےہیں:
"مولانا ؒعلماء میں تفریق کے قائل نہیں تھے ، ہر مکتب فکر کے عالم دین سے
ملتے اس کی عزت کرتے اور اس کا تعاون حاصل کرتے اور اس کو اپنی کار
گزاری سناتے اور اپنے کاموں سے روشناش کراتے ، اس لئے ہر طبقہ علماء
میں وہ پسند کئے جاتے تھے۔
مجھ سے مولانا عبد الخبیر امیر جماعت اہل حدیث بہار نے کہا کہ میں پٹنہ سے
باہر کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے جاتا ہوں تو اپنی ہی جماعت کے
لوگوں کے جنازے میں، لیکن میں نے مولانا سجادؒ کے انتقال کی خبر سنی تو فوراً
پھلواری شریف گیا تا کہ جنازے میں شرکت کروں ، لیکن ان کا جنازہ اس
قدرجلد دفن کیا گیا کہ اس کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔
اسی طرح بریلوی عالم مولانا ظفر الدین صاحب سابق پرنسپل مدرسہ شمس
الہدی کہتے تھے کہ مولانا سجاد ؒ اس طرح ملتے تھے اور بغیر الجھے اور بغیر لڑائی
کئے ہو ئے محبت سے اس طرح مدعا سمجھاتے کہ اختلاف کی ہمت نہیں ہوتی
تھی ، یہی وجہ تھی کہ بہار میں ہر مسلک کا عالم ان کا مداح اور ان کا حامی تھا ۔
اختلافات سے بلند ہونا فکر ونظر کی بلندی اور قلب کی وسعت کی علامت
ہے ۔
عثمانی صاحبؒ ہی کابیان ہےکہ:
"میں اپنے سسرال جا رہا تھا ،مولانا نے کہا کہ اسلام پور کے سجادہ نشین
شاہ ابو البرکات صاحب کو میرا سلام کہنا ،چنانچہ میں نےسلام پہنچا دیا ۔
مولانا ؒکو معلوم تھا کہ وہ مسلم لیگ سے متاثر ہو گئے ہیں لیکن مولاناؒ کو اس
سے غرض ہی کیا تھی ، ان کے یہاں تو مسلمان ہونا اور مذہبی ہونا کافی تھا
۔ وہ جانتے تھے کہ تعلقات رکھنے سے اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر یہ فکری
اختلافات تو اضافی چیزیں ہیں، اصل چیز ہے انسان کا خدا سے تعلق اور
اسی چیز کا نام دین ہے ۔
تواضع وبےنفسی
بےپناہ علم وفضل کےباوجودحضرت مولاناؒکی زندگی بہت سادہ تھی،ان کےیہاں تکلف کانام ونشان نہیں تھا،وہوأقلَّها تكلُّفًا کی زندہ مثال تھے۔
شاہ محمدعثمانی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں:
"مولاناؒ کی سادگی اور بے نفسی مثالی تھی، علماء کے طبقہ میں کم لوگ اس
معاملہ میں ان کے درجہ کو پہنچ سکتے ہیں۔۔۔۔۔مولاناؒکھانا بھی معمولی
کھاتے تھے، مولانا ؒکا انتقال ہوا تو مولانا کا سامان ایک بستر اور ایک جوڑا
کپڑا تھا ، ایک جوڑا پہنے ہو ئے تھے جس میں انتقال ہوا ، یہی اس مرد
مجاہد کی زندگی کا کل اثاثہ تھا ، مولاناؒ بڑے عالم دین تھے ، مولاناؒ بڑے
سیاسی لیڈر تھے ،مولاناؒ جماعتوں کے بانی تھے لیکن مولاناؒ کی زندگی سادہ
تھی ۔
علامہ سیدسلیمان ندویؒ تحریرفرماتےہیں:
” وہ بے حد خاکسار اور متواضع تھے ،کبھی کوئی اچھا کپڑا انہوں نے نہیں
پہنا، کبھی کوئی قیمتی چیز ان کے پاس نہیں دیکھی، کھدر کا صافہ ،کھدر کا لمبا
کرتا ،کھدر کی صدری ،پاؤں میں معمولی دیسی جوتے اور ہاتھ میں ایک لمبا
عصا، یہ ان کی وضع تھی ، مگر وہ اپنی سادہ اور معمولی وضع کے ساتھ بڑے
بڑے جلسوں،اوربڑے بڑے مجمعوں میں بے تکلف جاتے تھے اور اپنا
لوہا منواتے تھے ،جوہر پہچاننے والے بھی تلوار کی کاٹ دیکھتے تھے غلاف
کی خوبصورتی نہیں۔۔۔
ان کی زندگی نہایت سادہ تھی ،غربت اور عُسرت کی زندگی تھی ،گھر کے
خوشحال نہ تھے ،امارت سے معاوضہ بہت قلیل لیتے تھے ،سفر معمولی
سواریوں اور معمولی درجوں میں کرتے تھے اور اسی حال میں پورب سے
پچھم،اور پچھم سے پورب ،اور اتر سے دکھن اور دکھن سے اتر دوڑتے
رہتے تھے، ” ۔
"ان کے ملنے والوں میں کون تھا جس کی عزت اپنی محبت سے وہ نہ بڑھاتے ،
ا ن کی تواضع میں بلندی ،سادگی میں بناؤ اور خاموشی میں گویائی تھی ، وہ
اکیلے تھے لیکن لشکر تھے ،پیادہ تھے مگر برق رفتار تھے ،وہ قال نہ تھے سراپا
حال تھے ،کہتےکم کرتے زیادہ تھے”
بلندمقام ومرتبہ اورفضائل وکمالات کےحامل ہونےکےباوجودکسی معمولی سے معمولی کام کرنےمیں عارمحسوس نہیں فرماتے تھے،مولاناعبدالصمدرحمانی صاحبؒ رقمطراز ہیں:
"ان سب باتوں کے باوجود عملاً وہ مل جل کر رہنے میں، اتنے خاکسار
اور متواضع تھے، کہ وہ ان امور میں بھی شریک ہوجاتے تھے، جو تقسیم
کار کے اصول پر ہم لوگ اپنے ذمہ لیتے تھے۔ اور یہ مولانا ؒکی طبیعت ثانیہ
تھی، وہ اس میں نہ اپنے لیے عار سمجھتے تھے اور نہ ان کی جھجھک ہوتی تھی،
پھر یہ انداز مرتے دم تک رہا۔ اور مولانا ؒکی زندگی کے ہر دور میں یہ
خصوصیت نمایاں رہی ۔
خطبۂ صدارت مرادآبادمیں آپ کی یہ عبارت بھی آپ کی اسی فروتنی کی عکاس ہے
"میں اپنی جمودطبیعت وخمودقریحہ اورپراگندگی طبع،وانتشارفکرکے
باعث ایک نہایت مسلسل اور مرتب عنوان اورشائستہ اورمذہب
ومہذب بیان کےساتھ عرض کرنے سے قاصر ہوں،بہت ممکن
ہےکہ ہمارےبھدےالفاظ اورغیرمتناسق جملےآپ حضرات کےلئے
باعث تکلیف ہوں ،اورمضامین کےاندربھی کوئی چیزآپ کےذوق
کےمناسب نہ ہو،اس لئےمیں امیدکرتاہوں کہ آپ حضرات ان
تکالیف کوبرداشت کرتے ہوئےہماری قابل عفوخطاؤں سےدرگذر
فرمائیں گے”
مصیبت میں لوگوں کےکام آنا
علامہ سیدسلیمان ندوی لکھتےہیں:
” ہر شخص کی مصیبت میں ہر وقت کام آتے تھے، اور ہر ایک کی سفارش
میں ہر وقت سینہ سپر ہوجاتے اللہ تعالی نے ان کو جاہ و مرتبہ بھی عنایت
فرمایا ، انہوں نے خود اپنی پارٹی کی وزرات بھی بنائی اور بادشاہ گر نہیں تو
وزیر گرضرور بنے ،کانگریس حکومت کے زمانہ میں بھی ان کو اچھا اقتدار
حاصل رہا ،مگر خدا گواہ ہےکہ وہ اس اثراو اقتدار کو اپنی ذات کے لئے
کبھی کام میں نہیں لائے،جو کچھ کیا وہ مسلمانوں کے لئے۔۔۔۔
ان کا دن کہیں گذرتا تھا اور رات کہیں ،مسلمانوں کی سلامتی
اور تنظیم کی ایک دھن تھی کہ ان کو دن رات چکر میں رکھتی تھی ، کہیں
قربانی کا جھگڑا ہو ، مسلمانوں پر مقدمہ ، کہیں سیلاب آئے ،کہیں آگ
لگے،کہیں ہندو مسلمان کا تنازعہ ہو ،وہ ہر جگہ خود پہنچ جاتے تھے ،معاملہ کا
پتہ لگاتے تھے ،مظلوموں کی مدد کرتے تھے ، جہاں سے ہو سکتا وہ ان کو لا
کر دیتے تھے اور خودخالی ہاتھ رہتے تھے ۔
حضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ نےچمپارن کاقصہ نقل کیاہےکہ آپ غریبوں اور مزدوروں کابھی ہاتھ بٹاتے تھےاوران کےساتھ مل کرکام کرتے تھے،جب کہ آپ اس وقت بہارواڑیسہ کےنائب امیرشریعت تھے:
” زلزلہ کے موقع پر جب مولانا ؒچمپارن کے دیہاتی علاقہ میں تشریف لے
گئےاور غریب کسانوں کی حالت زار دیکھ کر یہ محسوس کیا کہ یہ خانماں برباد
تنگدستی کے ہاتھوں اس قابل نہیں ہیں کہ مزدور کی مزدوری ادا کرکے
اپنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی جھونپڑا ہی بناسکیں تو مولاناؒ
نے تعاون باہمی کے اصول پر بعض جگہ اس طرح کام شروع کرادیا کہ
گاؤں کی آبادی کو متعدد جماعتوں پر تقسیم کردیا اور ہر جماعت کا فریضہ قرار
دیا کہ وہ باہم مل کر اپنی جماعت کے ہرفرد کا نوبت بہ نوبت چھپر،ٹھاٹہ،
ٹٹی وغیرہ بنائیں، اور عملاً اس میں سرگرمی بھی پیدا کیا، کہ خود بھی ان کے
ساتھ بیٹھ کر دن بھر مزدور کی طرح ٹھاٹھ بناتے تھے اور ہاتھ میں رسّی اور
چاقو لیے ہوئے ٹھاٹھ کی بندھن باندھا کرتے تھے ۔
مدرسہ انوارالعلوم گیاکی تعمیرکےموقعہ کاقصہ ان الفاظ میں نقل کیاگیاہے:
"مولانا ؒرات کو یہ کرتے کہ اتنی اینٹیں جو کل دن کے کام کے لیے کافی
ہوجائیں، اینٹ کے بھٹہ سے جو عمارت کے قریب ہی احاطۂ باغ میں تیار
کیا گیا تھا، طلبہ کو ساتھ لے کر ڈھوتے تھے، اور بنیاد کے پاس لاکر جمع
کردیتے تھے، اس طرح روز روز کا کام بھی سہولت اور کفایت سے ہوتا
تھا۔ اور طلبہ میں عمل کی گرم جوشی رہتی تھی، اور نہ کسی کا بوجھ ہوتا تھا
اور نہ کسی میں تنگ دلی پیداہوتی تھی۔ ہرشخص مولاناؒ کے ساتھ خوشی
خوشی اس کام کو انجام دیتا تھااور اپنے لیے سعادت سمجھتا تھا اور یہ سب
مولاناؒ کے اخلاص اور عملی زندگی کی برکت تھی
بڑے توبڑے مولاناؒاپنےشاگردوں کی بھی خدمت کرنےمیں عارمحسوس نہیں کرتے تھے،حضرت مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ تحریرفرماتے ہیں :
” مولاناؒ کا سلوک طلبا کے ساتھ اس درجہ بہتر تھا کہ ان دنوں اس کا تصور
مشکل ہے، کھانے پینے، رہنے سہنے، پہننے، اوڑھنے میں مولاناؒ نے کبھی امتیاز
روانہ رکھا۔ یہ ناممکن تھا کہ مولانا کھائیں، اور طالب علم بھوکا رہ جائے۔ بیمار
طلبہ کے علاج کا نظم خود مولانا ؒ کیا کرتے تھے۔ حکیم کے یہاں لے جانا، دوا
لانا، دوا پلانا، تیمارداری کرنا۔ ان میں سے زیادہ کام مولانا ؒخود اپنے ہاتھوں
سے انجام دیا کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ طلبہ مولاناؒ پر اپنی جان قربان
کرنے کو تیار رہتے تھے، آج بھی مولانا ؒکے جو شاگر دموجود ہیں، وہ اس
وقت بھی مولاناؒ کی شفقت اور مہربانیوں کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں اور انھیں
اس کا اعتراف ہے کہ جتنی خدمت مولانا ؒنے ہماری کی ہوگی، اتنی خدمت
ہم مولاناؒ کی نہیں کرسکے ہیں ۔
ایثارومروت
آپ سراپاایثار تھے،مشکل سےمشکل حالات میں بھی آپ کادریائےجودوکرم رواں دواں رہتاتھا،حضرت مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒ کابیان ہےکہ :
” میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی تھی، جب میں یہ دیکھتا تھا کہ عین
اس حالت میں کہ مولانا ؒخود مقروض ہوتے تھے۔ ان کے خاص احباب
جب ان سے قرض مانگتے تھے، تو خودداری اور مروّت کا یہ عالم تھا کہ انکار
نہیں فرماتے تھے بلکہ قرض لے کر ان کو قرض دیتے تھے۔ اور ایک لفظ
ایسا زبان پر نہیں لاتے تھے ، جس سے اس کا وہم بھی ہو کہ ان کو کسی
طرح پریشانی لاحق ہے۔ مولاناؒ کی طبیعت بہت حساس واقع ہوئی تھی۔
اس لیے ان کا پورا پورا خیال رکھتے تھےکہ اس کو میری حالت کا احساس نہ ہو
، ورنہ اس کو ندامت ہوگی کہ پریشانی کی حالت میں مولانا ؒ کو کیوں پریشان
کیا۔ اس معاملہ میں مولانا ؒصحیح طور پر اس کے مصداق تھے کہ”
یؤثرون علیٰ اَنفسھم ولو کان بھم خصاصۃ”
(وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اپنے اوپر فاقہ ہو۔) پھر مروّت کے ساتھ تلطف کا یہ عالم تھا کہ احباب تو احباب وہ بدخواہ بھی
جن کو مولاناؒ اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے ، جب مولاناؒ کے حضور
میں آتے تھے تو مولاناؒا س طرح پیش آتے تھے کہ گویا ان سے کوئی شکوہ
ہی نہیں ہے اور نہ کوئی تکلیف ہی ان سے پہنچی ہے۔
اگر یہ احساس مجھ کو مانع نہ ہوتا کہ مولاناؒ کی روح کو اذیت ہوگی کہ کیوں میں
نے ان لوگوں کے سترحال کا لحاظ نہیں کیا، تو میں ان کی نشان دہی کرتا اور
اس سلسلہ میں مروّت وتلطف کے چند واقعات لکھتا۔ہوسکتا ہے کہ جن
کو آج ہم نہیں لکھنا پسند کرتے ہیں، کل یہی واقعات مولانا ؒکےسوانح نگار
کی زبان قلم پر آجائیں ۔
ڈاکٹرسیدمحمودصاحب سابق وزیرتعلیم حکومت بہارکی شہادت ہےکہ:
” گذشتہ بیس برس سے جو انتھک اور پُر خلوص خدمت مسلمانوں کی اور
ملک کی انہوں نے کی ، اس کا احساس تو مسلمانوں کو نہیں ،لیکن اس کا اجر
خدا دے گا ،ایسا جانباز مجاہدجس نے فاقے کر کے قوم و ملک کی خدمت
انجام دی ،جو جان کو جان اور مال کو مال نہ سمجھا ،جس نے اپنا گھر بار سب
کچھ قوم کی راہ میں لٹا دیا،جواں سال ہونہار بیٹے کی خطرناک علالت اور
پھر موت بھی جسےفرض سے غافل نہ کر سکی ،جس نے اللہ کے راستہ میں
اپنوں کی گالیاں اور غیروں کے طعنے ہنسی خوشی برداشت کئے ،ایسے جانباز
مجاہد اور ہمہ تن سوز خادم ملت کی یاد جس قدر تازہ رکھی جا سکے غنیمت
ہے اور اس کی یاد میں نذر عقیدت کے جس قدر پھول چڑھا ئے جا سکیں
،حق تو یہ ہے کہ ان کی خدمات کا حق ادا کرنا بہت مشکل ہے ۔
جامعیت وکمال
وہ ہرشخص کی قائم مقامی کرسکتےتھےان کی قائم مقامی کوئی نہیں کرسکتاتھا
ان کی شخصیت مختلف صفات وکمالات کامرقع تھی ،علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ تحریر فرماتےہیں:
” ان کا وجود گو سارے ملک کے لئے پیام رحمت تھا ،مگر حقیقت یہ ہے صوبہ
بہار کی تنہا دولت وہی تھے ،اس صوبہ میں جو کچھ تبلیغی ،تنظیمی ،سیاسی اور مذہبی
تحریکات کی چہل پہل تھی وہ کل انہی کی ذات سے تھی، وہی ایک چراغ تھا
جس سے سارا گھر روشن تھا ،وہ وطن کی جان اور بہار کی روح تھے ،وہ کیا مرے
کہ بہار مر گیا،مرثیہ ہے ایک کا اور نوحہ ساری قوم کا” ۔
مولاناسعیداحمداکبرآبادیؒ نےحضرت مولاناکی وفات پرایک زوردارمضمون لکھاتھا،اس کایہ اقتباس بطورخاص پڑھنےکےلائق ہے:
"مولاناابوالمحاسن محامداخلاق اورمحاسن فضائل کےجامع تھے،فکرونظر
،علم و عمل ،محنت ودیانت، تفقہ وتدبر،ایثاروجفاکشی،خلوص وللہیت،
ان سب اوصاف کےبیک وقت جمع ہونے نے ان کی ذات کوایسا
گلدستۂ خوبی بنادیا تھا، کہ وہ "اے تومجموعۂ خوبی بچہ نامت خوانم "کا
مصداق بن گئے تھے ،اور ان پر "ابوالمحاسن”کی کنیت واقعی طورپر
صادق آتی تھی،ہندوستان میں کوئی قومی اورمذہبی تحریک ایسی نہیں
ہےجس میں مولاناؒنےپورےجوش وخروش کےساتھ حصہ نہ لیاہو
،اوراس میدان میں اپنےساتھیوں سےپیش پیش نہ رہے ہوں،سب
سےبڑی خوبی یہ تھی کہ ان کا دماغ نہایت دقیقہ رس اورمعاملہ فہم
تھا،وہ موضوع فکرکےایک ایک پہلو پربڑی سنجیدگی اورعالی ہمتی کے
ساتھ غوروخوض کرتےتھے،اوراس میں ایسی باریکیاں پیداکرتےتھے
کہ لوگ حیران رہ جاتےتھے،وہ عملاً بڑے جری اوربہادرتھے،لیکن
ان کادماغ انتہائی جوش وخروش کے عالم میں بھی کبھی مغلوب نہیں
ہوتاتھا،جذبات کی گرمی کےساتھ وہ ہرمعاملہ پرٹھنڈےدل سےغور
کرتےتھے،حق یہ ہے کہ جماعت علماء ہند میں وہ اپنی گوں ناگوں
خصوصیات کےلحاظ سےگوہریکتاتھے، بقول کسی کے "وہ ہرشخص کی
قائم مقامی کرسکتےتھےلیکن ان کی قائم مقامی کوئی نہیں کرسکتا
صبروحلم
مولاناسیدشاہ حسن آرزوؒلکھتےہیں:
"مولاناؒ صبروتحمل کے بھی ایک پہاڑ تھے۔ میں نے تقریباً پچیس سال کی
مدت میں بجز ایک موقع کے کبھی کسی سخت گو کا جواب سختی کے ساتھ
دیتے نہ سنا شریر اخبار نویس یا دوسرے خود غرضوں نے مولاناؒ کو گندی
اور غلیظ گالیاں دیں۔ حالات و واقعات سے ناآشنا لوگوں نے مولاناؒ پر
اعتراض کے تیر برسائے۔ بدمعاشوں نے اتہامات تراشے، ہجوئیں
لکھیں۔ لیکن مولانا ؒ خموش ، سب دیکھتے اور سنتے رہے۔ مولانا کے
عقیدت مندوں میں کچھ صاحب قلم بھی تھے۔ مگر مولانا نے انھیں
سختی کے ساتھ روک رکھا تھا ۔
جناب بیرسٹرمحمدیونس صاحب لکھتے ہیں:
"ان خصوصیات کے ساتھ مولانا مرحوم کی بے نفسی اور تحمل ،جماعتی اور
قومی، دینی اور مذہبی مفاد کے لیے ہرجا اور بیجا اعتراض کو سننا، اور درگزر
کرنا، ایسی خصوصیت تھی کہ اس کی مثال مشکل سے ملے گی، ایسے واقعات
ہماری آنکھوں نے دیکھے ہیں۔ اور ایسے دل آزار، اور بے محل الزامات
میرے کانوں نے سنے ہیں، جس کا محض جماعتی مفاد کے لیے تحمل کرلینا
نہیں بلکہ اس سے درگزر کرلینا اور محض درگزر کرلینا نہیں بلکہ اس طرح
سننا کہ گویا سناہی نہیں۔ اور دل پر اس کا کوئی اثر ہی نہیں۔ حیرت ہوتی تھی
جب وہی شخص دوسرے قومی کام کو لے کر مولانا مرحوم کے پاس آتا تھا
تو مولانا مرحوم اس سے اس طرح پورے تپاک اور اخلاص دلی کے ساتھ
ملتے تھے۔ اور اس کی باتوں کو سنتے تھے۔ اور اس کے کام کو پوری دردمندی
کے ساتھ انجام دیتے تھے کہ گویا آج کے پہلے دنوں میں اس سے کوئی
ناگوار بات ظہور میں آئی ہی نہیں ہے۔ نہ اس کا اس سے کوئی ذکر کرتے
تھے۔ نہ اس کے کام میں اس کا کوئی اثر پڑتا تھا، مولانا مرحوم کے ہرکام کا
اصول یہ تھا کہ اس کے پہلے جو کچھ کیا تھا وہ بھی اللہ کے لیے تھا۔ اور آج
بھی جو کچھ کر رہے ہیں وہ بھی اللہ کے لیے ہے۔ درمیانی وسائط کی ذاتیات
ان کی نگاہ میں کبھی نہیں رہتی تھی ۔
غیوری وخودداری
ڈاکٹرسیدمحمودصاحب خوداپناتجربہ لکھتےہیں:
” میں عرصہ سے جانتا تھا کہ ان کی زندگی حد درجہ عُسرت سے گذرتی
ہے لیکن انتہائی گہرے تعلقات کے باوجود کبھی لب کشائی کی
جرأت نہ ہوئی،ان کی خود داری کچھ پوچھنے کا موقع نہ دیتی تھی ابھی چند
مہینے ہوئے مجھے ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ وہ نہایت عُسرت
کی زندگی بسر کر رہے ہیں ،بلکہ گھر میں فاقے تک کی نوبت آجاتی ہے ،
اس پر میرا دل تڑپ کر رہ گیا ،ضبط نہ ہوا تو دریافت کیا ، وہ مسکراکر
خاموش رہے ،جانباز مجاہد ایسے ہوتے ہیں ،مگر افسوس ! ہماری قوم کو کیا
قدر اورکیا پروا؟ اب جب نظر دوڑاتا ہوں تو صوبہ بہار کو ہر طرف خالی
پاتا ہوں” ۔
حضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ تحریرفرماتے ہیں:
” مولاناؒ کی زندگی موجودہ حالت میں بالکل وجہ کفاف پر تھی۔ مگر اس
حالت میں بھی وہ دوسروں کے لیے فیاض، اور اپنے احباب کے لیے
مہمان نواز تھے، مجھ کو ذاتی طور پر اس کا علم ہے، مولانا اس سلسلہ میں
مقروض بھی ہوجاتے تھے، اور شاید ان کے خاص لوگوں میں سے بھی
بہت کم لوگ ہیں، جن کو مولاناؒ کی اس غمگین زندگی کی اطلاع ہو۔
اس پر بھی مولاناؒ کی خودداری کا یہ حال تھا کہ کسی کا احسان مند ہونا پسند
نہیں فرماتے تھے۔ نواب خاں بہادر عبدالوہاب خاں صاحب مونگیر
نے مجھ سے ذکرکیا کہ میں نے تنہائی میں مولاناؒ سے ایک دفعہ کہا کہ
مجھ کو اس کا موقع دیجیے کہ میں آپ کی خدمت کرکے اپنے لیے
سعادت حاصل کروں ،تو مولانا ؒ نے فرمایا کہ اس سے مجھ کو معاف
رکھیے اس سے ہمارے اور اللہ کے درمیان میں توکل کا جو معاملہ ہے
اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔ نواب صاحب ممدوح نے مجھ سے
کہا، اس کے بعد میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں ایک لفظ زبان پر لاؤں ۔
سادہ زندگی
آپ کی زندگی انتہائی سادہ اورتکلفات سےبالکل پاک تھی،عام انسان کی سطح سے بھی فروترزندگی گذارتے تھے،لباس ،رہن سہن اورخوردونوش ہرجگہ یہی حیرت انگیز سادگی نمایاں تھی،جس کوہرملنےوالامحسوس کرتاتھا۔
حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ فرماتےہیں کہ:
"ان تمام خوبیوں کے باجود جوابو المحاسن کے "محاسن ” کا لب لباب ہیں
اس بزرگ ہستی کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ایک نہایت
سادہ اور منکسر المزاج انسان تھے ۔ قناعت کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے اور
پہننے، غرض معاشرتی زندگی میں پندرہ بیس روپیہ ماہانہ کی حیثیت کے
انسان سے زیادہ گذران نہ رکھتے تھے ، اخلاق کا پیکر تھے ، انکسار فطرت
بن گیا تھا
شاہ محمدعثمانی صاحب ؒلکھتےہیں:
"مولاناکھانا بھی معمولی کھاتے تھے،چائے اور پان تمباکو کے عادی تھے ۔
حضرت مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ نےحضرت مولاناکی سادہ زندگی کانقشہ ان الفاظ میں کھنچاہے:
"مولانا ہمیشہ بہت سادہ اور معمولی لباس پہنتے۔ پیر میں پرانی وضع کا معمولی
جوتا جو اکثر پھٹا رہتا تھا۔ پرانے ہی وضع کا کھدر کا پائجامہ، کھدر کا لانبا کرتا،
جس میں گریباں کے دونوں طرف بڑی جیبیں جو ہر وقت کاغذ سے بھری
رہتی تھیں، اس کے اوپر ایک بنڈی۔ سر پر کھدر کا ایک بڑا سا عمامہ جو
خراب طریقہ سے بندھا رہتا تھا۔ یہ تو گرمی کا لباس ہوا۔ جاڑے میں عمامہ
کے علاوہ یہی سب چیزیں موٹے اور معمولی اونی کپڑے کی ہوا کرتی تھیں
۔ داہنے ہاتھ میں ایک بھاری اور موٹی سی لکڑی، جس کے نیچے وزنی لوہا لگا
ہوا تھا، بائیں ہاتھ میں چھوٹی سی اٹیچی، جس میں کاغذ، روشنائی اور ضروری
کاغذات بھرے رہتے تھے۔
مولانا کھانا بھی بہت سادہ اور معمولی کھاتے تھے۔ میرے علم میں اپنے
اختیار سے مولانا نے کبھی بھی اپنے لیے اچھے کھانے کا نظم نہیں کیا۔ اگر
حساب لگایا جائے تو مولانا نے برسوں ہوٹل کی خمیری روٹی اور گائے کا
کباب کھایا ہے۔ ایک دفعہ مجھے مولاناؒ کے یہاں کھانے کا اتفاق ہوا۔ اس
وقت مولاناؒ پھلواری شریف میں کرایہ کا مکان لے کر اہل وعیال کے
ساتھ مقیم تھے۔ دسترخوان بچھا۔ گھر سے جو کھانا آیا اس کی فہرست یہ
تھی:موٹے اور لال چاول کا پکاہوا بھات، تیل میں بگھری ہوئی پتلی دال
، اور آلو کا بھرتا جس میں پیاز پڑی تھی مگر بگھارا نہیں گیا تھا۔ مولانا نے
محض میری وجہ سے ہوٹل سے گوشت منگوالیا تھا۔۔۔۔
۱۹۳۷ء ؁ میں جب مولانا ؒنے وزارت قائم کی تھی تو میں پٹنہ آیا ہوا تھا، اور
نو اب عبدالوہاب خاں وزیر مالیات کا مہمان تھا۔ میں اور نواب صاحب
کے بھائی مسٹر وصی احمد خاں وکیل مولاناؒ سے ملنے پھلواری شریف گئے
۔ کچھ عرصہ سے مولانا ؒنے پھلواری ہی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
مکان کرایہ کا تھا۔ مٹی کی دیواریں، اور کھپر یل کی چھت، اندر کتنی
وسعت تھی اس کو تو میں نہیں کہہ سکتا، لیکن باہر جس میں مولانا
تشریف فرماتھے ۔ وہ دو دروازوں کی ایک کوٹھری تھی ،ایک باہر سے
آنے کے لیے، اور ایک زنان خانہ میں جانے کے لیے۔ کوٹھری میں
ایک طرف مٹی ہی کا اونچا چبوترا تھا۔ اس پر ایک چارپائی پڑی ہوئی
تھی جس کے سرہانے مولانا کا بستر بندھا ہوا رکھا تھا۔ چارپائی کے نیچے
کھجور کی چٹائی بچھی تھی ۔ اس پر قلم ودوات ، کچھ کتابیں اور مولانا کی
وہی اٹیچی رکھی تھی۔ ایک طرف موٹے ٹین کے دو بکس تھے۔ ایک
میں کتابیں، دوسرے میں کپڑے، چبوترے سے نیچے ایک کونے میں
مٹی کا گھڑا،و ہیں پر تانبے کا ایک بڑا لوٹا، اور دوسرے کونے میں مولانا
کی وہی لکڑی کھڑی تھی، غرض یہ تھا صوبہ بہار میں حکومت قائم کرنے
والے کے گھر کا اثاثہ ۔
جرأت واولوالعزمی
حضرت مولاناؒعزم وہمت کےپہاڑتھے،کسی کام کاارادہ فرمالیتےتواس کومنزل تک پہونچاکرہی دم لیتےتھے،اورراستہ کی ہردشواری کامقابلہ کرتےتھے،حضرت مولانااحمدسعید صاحب تحریرفرماتےہیں:
” حضرت مولاناابو المحاسن محمد سجادؒ میں جہاں بے شمار خداد قابلیتیں
موجود تھیں، ان تمام خوبیوں اور قابلیتوں میں ان کی پختہ کامی، عزم
بالحزم ، مستقل مزاجی ،اور ہمت اور ارادے کی طاقت ضرب المثل
ہے۔وہ بڑی سےبڑی مشکل کاان تمام قوتوں کےساتھ مقابلہ کرتے
تھے،وہ کام کرنےسے تھکتےنہ تھے، یہی وجہ ہے کہ ان تمام طاغوتی
قوتوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ان کو کامیابی نصیب ہو ئی
مولاناامین احسن اصلاحی لکھتےہیں :
” جمعیۃعلمائے ہندکے جو جلسے گذشتہ چند سالوں کے اندر ہوئے ہیں ،ان
میں سے بعض میں مولانا ؒ ہی کی دعوت پر میں شریک ہوا ،ان جلسوں کی
مخالفت میں جو ہنگامے اٹھے ان کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں
،بعض مرتبہ تو مخالفین کی خوش تمیزیاں ایسی ہولناک شکل اختیار کر لیتی
تھیں کہ آدمی کے ہاتھ سے دامن صبر چھوٹ جائے یا دامن امید ،اور
ظاہر ہے کہ ان تمام یورشوں کا اصلی نشانہ کم از کم صوبہ بہار میں مولانا ؒ
ہی کی ذات تھی ،مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ مولاناؒ ان ہنگاموں سے
ایک لمحہ کے لئے بھی بے حوصلہ یا بے صبر ہوئے ہوں۔،ان کا دماغ
ہمیشہ پُر سکون اور دل ہر حالت میں مطمئن رہتا تھا۔ ہم کو اچھی طرح
معلوم ہے کہ اگر وہ پسند کرتے تو اپنے مخالفوں کے اوچھے ہتھیاروں کا
مقابلہ اوچھے ہتھیاروں سے کر کے ان کو زک دے سکتےتھے، مگر اپنے
طرز عمل کی کا میابی کا یقین کسی حالت میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا تھا ،
اور ان کی اولوالعزمی ہمیشہ اوچھےہتھیاروں کے استعمال سےابا کرتی
تھی مولاناؒ کی یہ عزیمت اگر بے مثال نہیں تو کم از کم اپنی نوعیت میں
غیر معمولی ضرورتھی۔
اس عزیمت کے ساتھ وہ انتھک کام کرنے والے تھے ، میں نے ان کو
کبھی خالی الذہن یا غیر مشغول نہیں پایا ،وہ سوچتے یا کام کرتے ،سستاتے
کبھی نہیں تھے ،وہ ایک ایسی دریا کے مانند تھے جس میں تموج و طغیانی
کی سر جوشی تو نہ ہو لیکن روانی کا پورا جوش وخروش موجود ہو جو بغیر دم
لئے ہر آن و ہر لمحہ چٹانوں سے ٹکراتا ،پتھروں سے لڑتا ،جھاڑیوں سے
الجھتا ،رواں دواں ،ان کے پبلک اشغال نہ فیشن کے طور پر تھے نہ حصول
سروری و سعادت کی طمع میں ،وہ جس مسٔلہ کو اٹھاتے وہ زندگی اور موت
کا سوال بن کر ان سے چمٹ جاتا ، اس لئے وہ کسی کام کو بے دلی
(Disheartedly) کے ساتھ کر کے اپنے نفس کو مطمئن نہیں کر سکتے
تھے ،بلکہ مجبور تھے کہ اس کے لئے اپنے فکر و عمل کی تمام قوتیں میدان
میں ڈال دیں ،سوتے جاگتے بس وہی مسٔلہ ان کے سامنے ہوتا اور ان
کی ساری راحت و طمانیت اس کے انہماک کے اندر سمٹ آتی ،وہ اپنے
پبلک اشغال سے تھک کر نہ تو کوئی امن کا گوشہ تلاش کرتے ، نہ دوسری
غیر پبلک دلچسپیوں کو ان کے ساتھ شریک کر کے ان کی حرمت کو بٹہ
لگاتے ،اس اعتبار سے ان کا مزاج ایک سیاسی لیڈر سے بالکل مختلف تھا ،
ان کی دُھن میں عاشق کی دُ ھن کی شان تھی اور چونکہ وہ ایک زبردست
عالم تھے اس لئے یقینا ًیہ چیزیں انہوں نے پیغمبران عظام کے اسوۂ حسنہ
سے اخذ کی تھیں،میں نے یہ چیز وقت کے بڑے سے بڑے لیڈروں میں
بھی نہیں پائی ۔
مولاناسیدشاہ حسن آرزوتحریرفرماتےہیں:
” میں نے پہلے ہی ملاقات میں اس دبلے پتلے نحیف وکمزور ‘‘عالمِ دین’’
سے مل کر یہ محسوس کیا کہ اس کے سینے کے اندر گوشت کا لوتھڑا نہیں
، دہکتی آگ کا شعلہ ہے۔اس کی نظر کی گہرائی،اس کے دماغ کی بلندی
اور فہم وفراست، ارتقائے ملک کے لیے صاف اور سیدھا نظام عمل اپنے
اندر مخفی رکھے ہوئے ہے۔۔۔۔۔ وہ جس منزل کے متجسس تھے، وہاں
تک پہنچنے میں سبھی کے پاؤں تھکتے تھے، لیکن‘‘سجاد’’ اپنے مقصد میں
تھکنا نہیں جانتے تھے وہ اپنی آخری ساعت تک سعی پیہم سے باز نہ آئے
۔ سختیاں جھیلیں، مصیبتیں برداشت کیں، جھڑکیاں سہیں، غیروں سے
نہیں اپنوں سے گالیاں کھائیں۔ دشنام سنے، مگر ارادہ اور مضبوط ارادہ کا
یہ ہمالیہ ایک قدم بھی اپنے مقصد ومرکز سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوا ۔
صداقت وحق گوئی
مولاناسعیداحمداکبرآبادی لکھتےہیں کہ:
"مولانامیں بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کسی جماعت کی پارٹی پالٹیکس
سےکبھی مرعوب نہیں ہوتےتھے،ان کےنزدیک جوبات حق ہوتی
تھی،اس کوبرملاکہتےتھے، وہ ہندوستان کی آئینی ترقی کےسلسلہ میں
کانگریس کےپرجوش حامی تھے،مگر انہوں نےکبھی کانگریس کواس
کی غلطیوں پرتنبہ کرنےمیں تساہل نہیں کیا،وہ گاندھی جی کےعقیدہ
عدم تشددکےبھی بہت بڑےنقادتھے”
آزمائشیں
قرآن کریم سےمعلوم ہوتاہےکہ اللہ کےنیک بندوں پرآزمائشیں بھی آتی ہیں ، نیزکوئی بھی مقام بلندبہت آسانی سے حاصل نہیں ہوتا،بلکہ اس کےلئےبڑی آزمائشوں سے گذرناپڑتاہے،اوران پرصبرکرناپڑتاہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ٭الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ٭أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ۔
حدیث پاک میں ارشادہےکہ اللہ پاک کےیہاں جو جس قدرصاحب مقام ہوتاہےاس کواسی قدرآزمائشوں اورامتحانات سے دوچارہوناپڑتاہے،
أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل
ترجمہ:- انسانوں میں سب سے زیادہ مصیبتیں انبیاء پر آئیں پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگوں پر ۔
حضرت مولاناؒکی زندگی بھی آزمائشوں اورتکلیفوں سےبھری ہوئی تھی،علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ بیان فرماتےہیں:
” شاید یہ کم لوگوں کو علم ہو کہ مولانا ؒ کی خانگی زندگی غمگین تھی ،ان کے
بڑے بھائی مجذوب تھے ، ان کی بیوی معذور و مختل تھیں ،ان کا بڑا لڑکا جو
پڑھ لکھ کر فاضل اور گھر کاکام سنبھالنے کے قابل ہوا ،عین اس وقت کہ
اس کے نکاح میں چند روز باقی تھے ،باپ نے دائمی جدائی کا داغ اٹھایا اور
یہ سننے کے قابل ہے کہ وہ لڑکا مرض الموت میں تھا کہ مسلمانوں کی ایک
ضرورت ایسی سامنے آئی کہ باپ بیمار بیٹے کو چھوڑ کر سفر پر روانہ ہو گیا ،
واپس آیا تو جوان بیٹا دم توڑ رہا تھا ۔
ان کی اپنی زندگی بھی دین و ملت ہی کی نذر ہوئی ۔ترہت کے دُور افتادہ
علاقہ میں جہاں کہ ملیریا کے ڈر سے ادھر کے لوگ اُدھر جانا موت کے
منہ میں جانا سمجھتے ہیں ،یہ مرد خدا اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر سال میں کئی
کئی بار جاتا تھا اور کئی کئی دن وہاں رہتا تھا ۔آخری سفر بھی وہیں ہوا ، اور
وہیں سے ملیریا کی سخت بیماری اپنے ساتھ لایا اور اسی حال میں جان جان
آفریں کے سپرد کی ۔
جناب سیدشاہ حسن آرزولکھتے ہیں :
"مولانا کا بڑا لڑکا خدا اُسے جنت نصیب کرے۔ دیوبند کا تعلیم یافتہ اور فارغ
التحصیل تھا۔ ۱۹۳۰ء ؁ کے سیاسی ہنگامے، سول نافرمانی کے سلسلہ میں اُسے
بھی ۶؍ماہ کی جیل ہوگئی۔ مدت تمام کرنے کے بعد جب مکان آیا تو اس پر
کچھ دنوں بعد ہی نمونیا کا حملہ پڑا، اور سخت حملہ۔ مولانا تبلیغی ضرورتوں کے
سلسلہ میں چمپارن کادورہ فرما رہے تھے، یہاں سے تار پر تار گیا لیکن مولانا
اس وقت مکان پہنچے، گویا لڑکا مَرچکا تھا۔ مولانا ؒکے آنے کے دو تین بعد
لڑکے کا انتقال ہوگیا۔ مولانا ؒکے پاس کچھ زمین ایسی بھی تھی جس کا لگان
دوسرے زمین دار کو دینا پڑتا تھا۔ اتفاقاً زمین داروں نے ڈگری گراکر
بعض زمین نیلام کرانی چاہی۔ لوگوں نے مولاناؒ کو اطلاع دی۔ مولانا ؒنے
ہنس کر فرمایا، جانے بھی دو۔ اس کا بھی تعلق لگا ہی رہتا ہے، وہ بھی ختم ہو
جائے تو اللہ کے بندوں کی خدمتوں میں پوری یکسوئی حاصل ہو۔سچ ہے،
ع جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے
اللہ اکبر مولانا ؒاپنے ایمان و صداقت کی راہ میں جتنا جھنجھوڑے گئے اور
آزمائش میں ڈالے گئے اور باربار ڈالے گئے، اتنے ہی کھرے ثابت ہوئے
جس کی مثال اس دور میں کم کیا مل ہی نہیں سکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: