اہم خبریں

مقامی لیڈر شپ کا قیام وقت کی اہم ضرورت: جمعیت علمائے بسنت رائے

جمعیت علمائے بسنت رائے کا وفد گاوں گاوں دورہ کر رہا ہے

جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داران آج کل گاوں گاوں کا دورہ کرکے اہل علاقہ کو اپنے مسائل و حقوق کے تئیں بیدارکرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، چنانچہ حسب معمول مورخہ 6 ستمبر 2020 کو بعد مغرب کیتھ پورہ اور بعد العشا جھپنیاں نامی گاوں میں منعقد میٹنگوں میں ایجنڈوں پر غور و خوض کیا گیا۔ لیڈر شپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ کل ہند سطح پرمضبوط لیڈر شپ اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے، جب کہ علاقائی اور مقامی یونٹ موجود ہو۔ اس لیے ہر گاوں والوں کو اپنے اپنے یہاں مقامی لیڈر شپ پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی کامیابی کے لیے ایک ایسا دینی لیڈر اور ایک ایسا سیاسی لیڈر کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے، جو اپنے اپنے میدان میں شعوری مہارت کے ساتھ ساتھ قوم کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔ مولانا نے علاقے کی دینی و سیاسی پس روی پر تاریخی حوالوں سے روشنی ڈالتے ہوئے چند مفید فارمولے اور لائحہ عمل بھی پیش کیے۔
میٹنگ سے مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل حالات اور بھارتی معاشی حالات کے پس منظر میں یہ پیش قیاسی امکان سے بعید نہیں ہے کہ سال رواں مدارس نہیں کھل سکیں گے ، اور اگر کھل بھی گئے ، تو اپنی سابقہ روایات کے مطابق چلنا چلانا مشکل نظر آرہا ہے، اس لیے گلی محلے اور بالخصوص مساجد میں تعلیمی نظام قائم کرنا اہل علم کے بنیادی فرائض میں شامل ہے اور عوام کا بھرپور تعاون کرنا بڑا کار ثواب ہے۔
پروگرام میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی ناظم اعلیٰ جمعت علمائے بسنت رائے و مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ نے بھی خطاب کیا، انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمعیت علمائے ہند کا ممبر بن کر اپنی قومی اجتماعیت کی مثال پیش کریں۔
پروگرام میں علاقے کی معاشی حالات اور بھارت کی گرتی معیشت کے تناظر میں آئندہ پیدا ہونے والی بھیانک معاشی تنگیوں کے مسائل پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر زراعت کے علاوہ تجارت کو بھی اپنا ذریعہ معاش بنائیں اور بھارت کی گرتی معیشت کو سنبھالا دینے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔
معلومات کے لیے عرض کردوں کہ جمعیت علما کا یہ وفد علاقے میں تعلیمی، معاشی، سیاسی اور قومی اجتماعیت کی بیداری پیدا کرنے کے لیے عہد بند ہے اور اس کے لیے پہلے مرحلہ میں بلاک کی 83 بستیوں میں سے 45 مسلم آبادی پر مشتمل بستیوں میں تحریک چلائی جائے گی۔ علاقہ میں وفد کا یہ چوتھا دورہ تھا۔ اور سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔

Related Articles

One Comment

  1. ماشاء اللہ بہت خوب اللہ کرےکہ علماء کرام کےدورے کامیابی سےہمکنارہوں اورپوراعلاقہ بلکہ پورےملک ترقی کی راہ پرگامزن ہوں آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: