مضامین

ملتِ اسلامیہ کا عظیم سپاہی چل بسا

مولانا فضیل احمد ناصری صاحب

آج صبح آنکھ کھلی تو نہایت الم ناک خبر نے دل کو مغموم کر دیا۔ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کے دنیا سے کوچ کر جانے کی خبر تھی۔ خبر پڑھ کر ایک سناٹا چھا گیا، ایسا لگا گویا خواب سے اٹھا ہوں اور خواب میں پھر پہونچ گیا ہوں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
زندگی اک گھروندا ہے:
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ بڑے سے بڑا پہلوان اس سے ہاتھ دھوتا رہا اور موت کے ہاتھوں مات کھاتا رہا ہے۔ نہ بیماری مانعِ موت ہے، نہ صحت اس کے لیے سدِ راہ۔ وقت آتا ہے تو کم سن بچوں کو بھی جانا پڑتا ہے، جواں سالوں کو بھی اور عمر رسیدوں کو بھی۔ وقتِ موعود آیا اور مولانا بھی دارالفنا چھوڑ گئے۔ زندگی اوروں کی طرح ان کے لیے بھی گھروندا ثابت ہوئی۔ نہ دوا دارو نے انہیں بچایا، نہ حفظانِ صحت کے اہتمام نے۔ جو سب کے ساتھ ہونا ہے، وہی ان کے ساتھ ہوا۔
قابلِ رشک زندگی:
جانا تو سب کو ہے۔ آنا طے نہیں، مگر جانا ہر مخلوق کا طے ہے۔ مگر اس طرح جانا کہ پوری قوم رو پڑے اور ہر بندہ زلزلہ جھٹکا محسوس کرے، عظیم زندگی کا نمائندہ ہے۔ مولانا جب تک جیے، مثال بن کر جیے۔ وہ جیدالاستعداد عالم، شعلہ نوا خطیب، زود نویس اہلِ قلم اور باشرع مسلمان تھے۔ ان کی پوری حیات اسلاف کے دامن سے چمٹ کر گزری۔ فقیہ الاسلام حضرت مولانا مظفر حسین مظاہریؒ کے خلیفہ ہونے کے ساتھ پیرِ طریقت حضرت مولانا قمرالزماں الہ آبادی دام ظلہ کے مجاز بھی تھے۔ عام نمازیں ہی کیا، تہجد بھی فوت فوت نہ ہوتی تھی۔ تہجد کے لیے ہی اٹھے تھے کہ سجدہ ریزی کے لیے تیار بندہ براہِ راست فاطرِ ہستی سے مل گیا۔
ہمہ جہت شخصیت:
مولانا کی پیدائش 1942 میں اپنے وطن کشن گنج میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقائی مدارس میں پاکر فراغت دارالعلوم دیوبند سے کی۔ یہ 1964 تھا۔ مولانا کی پوری تعلیمی زندگی قابلِ تقلید رہی۔ وہ ہمیشہ اپنی جماعت ممتاز نمبرات پاتے رہے۔ طالب علمی سے نکلے تو قوم کی خدمت کو اپنے کاروبارِ حیات کا مشغلہ بنا لیا۔ وہ ایک طویل عرصے تک متحدہ جمعیۃ علمائے ہند کلیدی عہدے پر فائز رہے۔ وہاں سے نکلے تو آل انڈیا دینی و ملی فاؤنڈیشن قائم کر کے ملتِ اسلامیہ کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کا بیڑا اٹھایا ۔ سرگرم سیاست میں قدم رکھا تو بطلِ جلیل ثابت ہوئے۔ کانگریس کی طرف سے دوبار لوک سبھا کے ممبر بنے۔ کئی دینی و ملی تحریکات و تنظیمات سے وابستہ رہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کا کشن گنج میں قیام ان کا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ بہاری عوام ان کے اس احسان کو کبھی فراموش نہ کریں گے۔ پارلیمنٹ کے دوباره ممبر رہے اور پوری طرح مستعد۔ وقتاً فوقتاً حکومت کی گوشمالی کرتے رہے۔ اپنی تحریروں سے ملت کی خوب رہنمائی کی۔ اخبارات میں مسلسل مضامین لکھتے رہے، جو بڑے شوق سے پڑھے جاتے۔ ملکی مسائل پر نہایت گہری نظر۔ تقریر پر آتے تو مجمع لوٹ لیتے۔
اے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم:
غرض مولانا نے ایک خوب صورت اور تحریکی زندگی گزاری۔ عمرِ مبارک کل 82 برس ہوئی۔ ان کی وفات سے ایک عظیم قیادت کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک ایسا شخص جو خالص علمی ہو، بہترین قلم کار ہو، سلاست مند مقرر ہو، روشن بصر مفکر ہو، عالی دماغ سیاسی ہو، قابلِ رشک عالمِ دین ہو، ان سب سے بڑھ کر متصلب مذہبی ہو، اسلاف کا نمونہ ہو، اب شاید ملے۔ یقیناً ہم ایک گراں مایہ سرمایہ سے محروم ہو گئے۔ مسلمانانِ ہند اس خلا کو ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: