زبان و ادب

منظوم تعزیت نامہ برسانحۂ ارتحال فقیہ بےمثال،ادیبِ باکمال،عالم وفاضلِ نحریر،شہنشاہِ خطابت وتحریر،معلِّم ومحققِ کبیر،مصنف ومولف بےنظیر،صاحبِ تحفتین والعون الکبیر،جامع المعقول والمنقول،ممتازومایۂ نازفرزندِازہرِہند،استاذالاساتذہ مخدومناحضرت الاستاذ حضرت مولانا ومفتی سعید احمد صاحب قاسمی پالن پوری نوراللہ مرقدہ وبرد مضجعہ شیخ الحدیث وصدرالمدرسین اُمُّ المدارس دارالعلوم دیوبندسہارنپوریوپی

مفتی حفیظ اللہ حفیظ قاسمی بستوی ناظم تعلیمات جامعہ سراج العلوم بھیونڈی وناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر

غمِ فرقت کاایسامیکشوں پربارہےساقی
نظامِ میکدہ آدیکھ ناہموارہےساقی

*سعیداحمد* ترےدرپرسعادت نازکرتی تھی
تری دریوزہ گربن کرتجھےآوازکرتی تھی
نگاہِ شوق کی جنبش سےتابانی تھی محفل میں
ادائیں دم بخودہوکرلپٹ جاتی تھیں محمل میں
کہاں اب کوئی ایساخوبروسالارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

زمانہ جھومتاتھاتیرےاندازِتکلم پر
فداتھےتشنگانِ علمِ دیں تیرےتبسم پر
پُرازدانائی وحکمت ترےاسباق ہوتےتھے
ترےسب خوشہ چیں علم ونظر میں طاق ہوتےتھے
ہوئی پھرکیوں جہالت درپئےآزارہےساقی

*سعید* اِس مادرِعلمی کاایسادرِّیکتاتھا
سحابِ علم بن کرجویہاں ہرپل برستاتھا
جسےپاکریہاں سب غنچہءگل شادرہتےتھے
اسی شیریں اداپرسب فدا فرہادرہتےتھے.
درودیوارروتےہیں گیامعمارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

نہایت شاق گذراہےدلوں پریوں تراجانا
مقدرہوگیاآنکھوں کاپیہم اشک برسانا
اکابربھی تری یادوں میں گم حیران وششدرہیں
تلاطم خیزسب آنکھوں میں اشکوں کےسمندرہیں
تسلی کون دےجب ہرکوئی بیمارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

ہمیشہ جام فکروفن چھلکتاتھانگاہوں سے
دلوں کوتازگی حاصل تھی تیری سردآہوں سے
تری مسکان میں پنہاں ہزاروں رازہوتےتھے
نرالی ہراداالبیلےہراندازہوتےتھے
دلوں میں نقش تیراہرحسیں کردارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

رموزِفقہ وتفسیروبلاغت واہوئےتجھ پر
سب اسرارِعلوم‌ وآگہی پیداہوئےتجھ پر
بلنداقبال تجھ کوکردیاعجزِمکمل نے
تجھے کہسارِفکروفن کیا جہدِمسلسل نے
کہوں کیاکیاکہاں اب جرأتِ اظہارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

تقدس،زہدوتقوی،علم وحکمت کاخزانہ تھا
قلم شہکارتھاتیرا،تکلم خسروانہ تھا
تری انمول باتیں ایسی سحرانگیز ہوتیں تھیں
دلوں کو فتح کرلینےمیں رستاخیزہوتیں تھیں
دماغوں میں ابھی پیوست ہرجھنکارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

کہاں اب عندلیبانِ چمن کوچین حاصل ہو
بھنورمیں کشتیِ ملت ہے،برپا کیسےساحل ہو
گل وگلزارکوتھانازتیری باغبانی پر
زمانہ رشک کرتا تھاتری راحت رسانی پر
ترےیوں روٹھنےسےہرکوئی بیزار ہے ساقی
غمِ فرقت۔۔۔

مزارِقاسمی تیرے جنازے کوترستاہے
جہاں ہرآن ابرِرحمتِ باری برستاہے
اچانک تالابندی کی خبرسےجب پڑےتالے
سعادت مندنکلے اوشیوارہ ممبئی والے
اندھیری میں تری تدفین سےاجیارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

ہیں اہلِ علم حیراں کھوکےاک حسنِ مجسم کو
سنواریں جس نےپیہم فکروفن کی زلفِ برہم کو
جلادیں مشعلیں آفاق میں اُمُّ المدارس کی
جہاں سےترجمانی ہورہی ہےدینِ خالص کی
ترےجانےسےساراحوصلہ مسمارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

درودیوارِاشرفیہ بھی تجھ کویادکرتےہیں
تجھےاےباغباں!راندیرکےگلچیں ترستےہیں
زمانے پرتوچھایاخاکِ پالنپورسےاٹھ کر
نمایاں عالمِ اسلام میں تھااےپری پیکر
تو رخصت ہوگیا ہرسمت ہاہاکارہےساقی۔
غمِ فرقت۔۔۔

عرب ہویاعجم اک بےخودی ہے،ہوٗکاعالم ہے
جہاں دیکھووہیں افسردگی ہےشورِماتم ہے
تڑپتے ہیں جوپینےکےلئےمیکش کہاں جائیں
کسےاب دردِدل کی داستاں کہہ کرسکوں پائیں
سکوں غارت ہے،اب ہرپل ہوادشوارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

توہنستاکھیلتاپہونچاہےیوں آغوشِ تربت میں
کہ سب آنسوبہاکررہ گئےبس تیری فرقت میں
تجھےیوں رحمتِ حق نےمحبت سےپکاراتھا
کہاں کس پربھلایہ رازِمخفی آشکاراتھا
یتیمی عام ہے،ملت ہوئی نادارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

فدااربابِ علم وفضل تھےعقدہ کشائی پر
زمانہ جھومتارہتاتھاتیری خوش نوائی پر
بخاری،ترمذی کی بندگرہیں کھول دیں تونے
حقیقت کی کسوٹی پر مکمل تول دیں تونے
سلام اربابِ فن کاتجھ کوسوسوبارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

بجاکرتی تھی جب عالم میں تیری شوخ شہنائی
ہوئی جاتی تھی دنیاسربسر مدہوش وشیدائی
اےشمعِ انجمن تجھ پریہ پروانےنچھاورتھے
ترےدریائےعلم وفن کےہم طلبہ شناورتھے
کہاں ہم کونصیب اب حسن کادیدارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

امیدوں کا دیاروشن رہا مردانہ ہمت سے
میسرتھاہمیں تجھ ساقلندراپنی قسمت سے
مسلم فکروفن تھےمستندتھی شخصیت تیری
بہت ممتاز ومردم سازتھی ہاں تربیت تیری
بتاتجھ ساکہاں اب صاحبِ کردارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

سنبھالا کون دے،ملت کایوں بکھراہےشیرازہ
لگائےکون تابِ وحدتِ امت کاآوازہ
ہم آپس میں ہوئےدست وگریباں کون سمجھائے
چمن کےغنچہءوگل دیکھ سب لگتےہیں مرجھائے
ترےرخ پھیرنے سےسب ہوئےلاچارہیں ساقی
غمِ فرقت۔۔۔

ترےمہجورہوجانےسےبرپااک قیامت ہے
یقیناً”مرگِ عالِم مرگِ عالَم سچ کہاوت ہے
سروں پراب توبس مایوسیوں کےچھاگئےبادل
بہاجاتاہےسیلِ اشک سےہرآنکھ کاکاجل
خوشی پرطعنہ زن بس اب غمِ بسیارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

خدارکھےسلامت مادرعلمی کی ہیبت کو
ہمیشہ جس نے للکاراہےبڑھ کرملی غیرت کو
*سعید احمد* ہی کیادنیاسےآخرسب کوجاناہے
فنا کی یہ سرابس چنددن کاآشیانہ ہے
حقیقت آشناجوہےوہی ہشیار ہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

مصنف اورمولف،رہبرِراہِ ہدایت تھا
بہت ممتاز تیراطرزتدریس و خطابت تھا
رہاتوجگنووں کےبیچ شمعِ انجمن بن کر
خداکی رحمتیں تربت پہ ہوں سایہ فگن بن کر
ہواناپیدہم سےکیوں سراپاپیارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

سعادت مندفززندانِ علمی پر کرم کردے
الٰہی!مادر علمی کابس اونچاعَلَم کردے
کوئی نعم البدل پھرسازوشہنائی عطاکردے
تواپنے فضل سے صبروشکیبائی عطاکردے
غم ورنج والم میں سربسرسنسارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

*حفیظ* اک دوسرے کی تعزیت ملت پہ لازم ہے
ہواسنسارسےروپوش جب ملت کاخادم ہے
ہےپرسہ اہلِ علم وفضل کواوراہلِ خانہ کو
گنوایاسب نےہےسرمایہءجاں پیرداناکو
ترےہی غم میں ماتم برسرِبازارہےساقی
غمِ فرقت۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: