مضامین

منظوم تعزیت نامہ برسانحۂ ارتحال نابغۂ روزگارعالم دین مفکرملت حضرت مولانااسرارالحق قاسمی صاحب

مفتی حفیظ اللہ حفیظ قاسمی﴿ناظم تعلیمات جامعہ سراج العلوم بھیونڈی وناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر

حادثےیوں مسلسل ہیں برپا ہچکیاں بندھ گئیں روتےروتے۔
کھونہ جائیں کہیں رونےوالےاپنےاسلاف کو کھوتے کھوتے۔

رفت کایہ تسلسل کہیں اب توڑڈالےنہ ارمان دل کے۔
ظلمتِ شب پریشاں نہ کردےسحرکےجلوہ گر ہوتے ہوتے۔

مرد آہن جو اسرارحق تھا دفعتاً آج رخصت ہوا ہے۔
مسکراتارہاجو مسلسل بارملت سداڈھوتےڈھوتے۔

خارزاروں کوگلشن بنانااورغنچوں سےیوں گل کھلانا۔
مدتوں مرکےجیناپڑاہےشخص کو شخصیت ہوتےہوتے۔

جونمایاں رہازندگی بھرخدمت خلق کےپیرہن میں۔
جس نےحاصل کی روشن جبینی دیرتک داغِ دل دھوتےدھوتے۔

کوہ غم آج ملت پہ ٹوٹاہائے اسرارحق ہم سے چھوٹا۔
چیختااورجگاتا رہاجوآخری سانس تک سوتے سوتے۔

جس سےسیمانچل جگمگایامہرباں ہم پہ تھا جس کاسایہ۔
لحد میں اب اچانک وہ پہونچاتخم علم وعمل بوتےبوتے۔

گونج ایوان کےبام ودرمیں جس کی برسوں مچلتی رہےگی۔
برسہااس کےانمول موتی صرف ہوں گےپروتے پروتے۔

رکنیت ازہرایشیاکی جس نے جہدمسلسل سےپائی۔
اٹھ گیاآج وہ درمیاں سےدرد ملت سموتے سموتے۔

غمزدہ صرف کنبہ نہیں ہےیہ توہےایک ملی خسارہ۔
اے حفیظ آؤمل جل کےرولیں دامنِ دل بھگوتے بھگوتے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: