مضامین

منظوم خراج عقیدت بر وفات مفکر ملت حضرت مولانا محمد اسرار الحق صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ

محمد سفیان ظفر قاسمی گڈاوی استاد مدرسہ حسینہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا
گلشن علم و ادب کا باغباں جاتا رہا

میکدہ ماتم کدہ ہے، ہر کوئی مغموم ہے
ہے اداسی ہر طرف اور ہر خوشی معدوم ہے
کیونکہ مےخانے کا وہ پیر مغاں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

ہے کہیں چرچا عظیم المرتبت عالم گیا
کہ رہا ہے کوئی ملک و قوم کا خادم گیا
شور اٹھا واعظ سحر البیاں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

جہل و ظلمت کے لئے جس کا قلم تلوار تھا
غیرت فاروق تھا جو حیدر کرار تھا
عزم و ہمت کا وہی کوہ گراں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

مجلسوں کی جان تھا وہ محفلوں کی شان تھا
اس کے دم سے یہ گل و گلزار چمنستان تھا
ہاءے صد افسوس وہ روح رواں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

تو تھا غازی دین کا اور سیرت و کردار کا
ہر کوئی قائل ہے تیرے جوہر گفتار کا
کہ رہے ہیں غیر بھی فخر زماں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

نور ایمانی سے کتنے دل کو اس نے بھر دیا
کتنے ہی ظلمت کدوں کو اس نے روشن کردیا
آج دنیا سے وہ خورشید جہاں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

زندگی تھی وقف جس کی ملک و ملت کے لئے
سعی پیہم جس نے دیں کی اشاعت کے لئے
آہ ملک و قوم کا وہ پاسباں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

محسن ملت کہوں یا محسن انساں کہوں
پیکر اخلاص، علم و فن کا اک سلطاں کہوں
کیوں نہ کہ دوں نازش ہندوستاں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

بالیقیں اسرار حق تھے ایک درویش خدا
اے ظفر کیا پوچھنا ان کا مقام و مرتبہ
کہتی ہے خلق خدا، جنت مکاں جاتا رہا
رہبر ملت امیر کارواں جاتا رہا

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: