اہم خبریں

منوسمرتی کی تجدید ہے یہ کالا قانون

زین العابدین ندوی

پورے ملک میں افراتفری اور انتشار کا ماحول ہے ، بالخصوص ان صوبوں میں جہاں بھاجپائی حکومت ہے تشدد ، انتہاپسندی اور بربریت کا بازا بالکل گرم ہے ، جہاں نہ تو گھر محفوظ ہیں اور ن ہی خاندان، اور ظلم کرنے والے بھی وہ لوگ ہیں جو خود کو دیس کا محافظ بتاتے ہیں ، اور یہ سب ان ظالموں کے اشارہ پر ہو رہا ہے جن کے ہاتھوں سے معصوموں کے خون ٹپک رہے ہیں، اس کالے قانون اور منحوس ایکٹ کے خلاف نہ صرف یہ کہ بھارت میں بلکہ پوری دنیامیں احتجاج ہو رہا ہے ، اور اس ظلم کے خلاف آوازیں بلند کی جارہی ہیں ، ہمیں امید ہے کہ یہ صدائیں رائیگاں نہیں جائیں گی ، لیکن اس موقع پر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کالے قانون کے ذریعہ یہ ظالم حکمراں کیا چاہتے ہیں ؟ اور ان کا منصوبہ کیا ہے ؟ اور وہ اس موقف پر اتنی سختی اور بے شرمی سے کیوں اڑے ہوئے ہیں؟
آپ کو ہم یہ بتاتے چلیں کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جو سبھی جانتے ہیں ، اس کی ایک پرانی طویل ترین تاریخ ہے جو تقریبا چار ہزار سالوں پر محیط ہے ، آج سے چار ہزار سال پہلے یہاںکوئی بھید بھاو ، اونچ نیچ اور ظالمانہ طبقاتی نظام نہیں تھا ، مگر جب آرین سماج کے لوگوں نے جو آج برہمن کہلاتے ہیں اس وطن کا رخ کیا ، تو انہوں نے آتے ہی اس ملک کی اصل آبادی دراڑوں پر ظلم کرنا شروع کیا اور ظالمانہ طبقاتی نظام کی داغ بیل ڈالی ، برہمن ، کھتری ، بنیا اور شودر کی تقسیم کی ، جس کے ذریعہ وہ یہاں کے راجہ مہاراجہ بن بیٹھے ، اور یہاں کی اصل آبادی کو دلت اور شودر گردانتے ہوئے ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کرنا شروع کیا ، یہاں تک کہ انہوں نے ایسے قوانین اور اصول وضوابط مرتب کیا جو سراسر ظلم وزیادتی پر مشتمل تھا ، اسی قانون کتاب کو منوسمرتی کا نام دیا گیا ، جس کے ذریعہ انہوں نے دلتوں کو ان کی زمین جائیداد ، مال ودولت یہاں تک کہ بیویوں سے بھی بے دخل کر دیا ، اور ان کو اپنا غلام بنا کر رکھنا شروع کیا ، یہی وہ کتاب منوسمرتی ہے جس کے ظالمانہ اصول وضوابط کی بنیاد پر بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر نے اسے سرعام جلا دیا ، اور اس کے اوراق پھاڑ دئیے ، اور کہا کہ یہ ظالمانہ قانون یہاں نہیں چل سکتا ، اور خود بھی ہندو دھرم چھوڑ کر بودھ مذہب اختیار کر لیا ، یہی وہ نظام ہے جس نے ملک کو مختلف ٹکڑوں اور راجواڑوں میں تقسیم کر رکھا تھا ، جس کی بیخ کنی کرنے کے لئے اور جڑ سے اس کا صفایا کرنے کے لئے کئی مہاپرشوں نے جنم لیا ، گوتم بودھ خود اس کی ایک مثال ہیں، جن کا نعرہ ہی یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان اونچ نیچ ظلم ہے ، اور پھر جس جس نے اس برہمنی منوسمرتی نظام کے خلاف آواز بلند کیا انہیں سخت اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا ، ان کی لائیبریریاں ، کالجز جلادئیے گئے ، جس کسی نے بھی اس قانون کے خلاف احتجاج کیا اور لوگوںمیں بیداری لانے کی کوشش کی اس کے ساتھ تشدد بھرا معاملہ کیا گیا ، لیکن مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ اس ملک کو اکھنڈ اور متحد بنایا بلکہ اس منوسمرتی قانون کو کالعدم کر دیا ، اور ملکی باشندوںکو امن وسکون اور فرحت وراحت کا ماحول عطا کیا ، جس کی بدولت ملک کو سونے کی چڑیا کا خطاب ملا ، چونکہ مسلمانوں کے عزم وارادے کے سامنے اس نظام کی ہوا اکھڑ گئی ، اور جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی جو تقریبا آٹھ صدیوں پر محیط ہے ، اس دورانیہ میں یہ منوسمرتی نظام اپنا سر نہ اٹھا سکا، بلکہ ہر طرف امن وامان اور سلم وسلام کا ماحول بنا رہا ۔
لیکن انگریزوں کے قبضہ کے بعد انہیں برہمنوں اور منوسمرتی کے ظالم پجاریوں نے جوآج ہمارے سامنے آر ایس ایس اور بھاجپا کی نمائندگی کرتے دکھائی دے رہے ہیں، انگریزوں کا ساتھ دیا اور ہندوستانیوں کو نقصان پہونچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، ایسا اس لئے بھی کہ برہمن اصلا انگریز ہی ہیں جنہوں نے روس اور جرمن سے آکر اس ملک میں اپنا بسیرا کیا ، جس بنا پر یہ ہندوستانیوں کو اول دن سے تباہ کرنے میں لگے رہے ، حالیہ قوانین این آر سی ، سی اے اے ، اور مشروط این پی آر اسی منوسمرتی عہد کی تجدید کا ایک فارمولہ ہے ، جسے وہ مسلمانوں پر نافذ تو کر نہیں سکتے ، کیوں کہ ان کے نظام کی ہوا مسلمانوں نے ہی اکھاڑی تھی، اس لئے وہ مسلمانوں کو ملک سے نکال کر باقی ماندہ ، او بی سی ، ایس سی اور پچھڑے لوگوں پر وہ قانون نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور سی اے اے ، کا لالی پاپ دے کر ان کو تمام حقوق سے بے دخل کرتے ہوئے ماضی کی طرح اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ، اور وہی ظالمانہ طبقاتی نظام عمل میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور وقت سے پہلے این پی آر جن بے بنیاد شرائط کے ساتھ لایا جا رہا ہے وہ بھی اصلا این آر سی کا چور دروازہ ہے ، جس کے ذریعہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس لئے ہمیں این پی آر کی بھی اتنی ہی شدت سے مخالفت کرنی ہوگی جتنی شدت سے ہم این آر سی ، اور سی اےاے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔
ایسے نازک حالات میں تمام سچے ہندوستانیوں کو خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں اس غفلت سے باہر آنے کی ضرورت ہے کہ اس میں صرف مسلمانوں کا نقصان ہے ، نہیں بلکہ اس میں پورے ملک باشندگان ملک اور آئین ملک کا کھلا نقصان ہے ، جس کی تلافی وقت گزرنے کے بعد نہیں کی جا سکتی ، اس لئے اس ایکٹ کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جا و ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: