مضامین

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس۔۔۔۔

L
کل نفس ذائقة الموت، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں جنم لینے والی ہر شے کا مقدر فنا ہے، کسی کو بھی یہاں دوام نہیں، ہر آنے والی صبح اور ڈھلتی ہوئی شام ہمیں یہی خبر دیتی ہے، آنے جانے کا یہ سلسلہ روز اول سے ہی جاری ہے، لیکن انہیں جانے والوں میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے وداع سے آنکھیں اشکبار اور دل بے قرار ہوجاتا ہے،جن کی رخصت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری قوم یتیم ہو گئی ہو،گویا ان کا وصال پوری قوم کی وصال کے مترادف ہوتا ہے،آج ہمارے درمیان سے مولانا ولی رحمانی علیہ الرحمہ کی شکل میں قوم کا ایسا ہی گوہر کمیاب اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ کے حضور دست بدعاء ہیں کہ اللہ انکی مغفرت فرمائے، خطاوں سے درگزر فرماے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، کسی بھی شی کی قیمت کا اندازہ اس کے نہ ہونے پر ہی ہوتا ہے مولانا کیا تھے اس کا اندازہ ہمیں اب زیادہ ہوگا۔۔۔ آج پورا ملک ہندستان سوگواری کی کیفیت میں ہے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مولانا کی مغفرت اور اس امت کی حفاظت فرماے۔۔۔ آمین یا رب

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے

*یکے از سوگوار*
*زین العابدین ندوی*
سنت کبیر نگر۔ یوپی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: