مضامین

موت كی ياد

محمد نوشاد نوری قاسمی

تمام تعريفيں اس رب العالمين كے ليے ، جس نے اپنے لئے دوام اور بقاء ،اور بقيہ تمام مخلوقات كے ليے زوال اور فناء كوطے كيا ، درود وسلام هو اس رحمة للعالمين شفيع المذنبين آقا پر، جس نے زندگی سے لے كر موت تک تمام مراحل كے ليے خوب صورت اور جامع منشور عطافرمايا۔

اس تحرير كا موضوع موت ہے، جو ہمارا يقينی انجام ہے، اس مرحلے سے ہر جاندار كو گزرنا ہے، اس ميں كسی بھی مذهب اور خيال كے آدمي كا اختلاف نہيں، موت پر تھوڑی دير غور كريں تو سمجھ ميں آئے گا كہ جس دنيا كے ليے ہم ہروقت فكر مند اور كوشاں رہتے ہيں ، وه اتنی كمزور بنياد پر كھڑی ہے كہ كسی بھی وقت ہمارا رشتہ اس سے جدا ہوسكتا ہے، كيا بوڑھا ، كيا بچہ، كيا بيمار اور كيا صحت مند، سبھی موت كا شكار ہورے ہيں اور اپنی ابدی منزل كی طرف رواں دواں ہيں۔

انسانی قافلہ جس تيزی كے ساتھ دنيا ميں آرہا ہے، اسی تيزی كے ساتھ دنيا چھوڑبھی رہا ہے، واقعات كی يہ كثرت ہمارے لئے سامان عبرت ہيں، سازوسامان ، اسباب تعيش، عمده سے عمده گھر ، مكان ،گاڑی اور زياده سے زياده مال ودولت كی نہ مٹنے والی جس بھوک اورہوس كے ہم شكار ہورہے ہيں, وه ہماری غفلت اور انجام سے بے خبری كا نتيجہ ہے، ہمارا كل سرمايہ پلک جھپكتے هی غير كا ہے ، ہمارا نہيں ہے، ہمارا كچھ ہے تو وه ہمارے نيک اعمال ہیں، عبادتيں ہيں، صدقہ اور خيرات ہيں، غريبوں كی مدد ہے ، اچھے اخلاق ہيں اور خير اور نيکی كے سارے كام اور ان كی دعوت اور ترغيب هے۔

انسان اپنی موت كو ہميشہ ياد ركھے ، يہ آخرت كی تياری كا سب سے مؤثر اور كامياب نسخہ ہے، پھر يہ كوئی فلسفہ نہيں كہ سمجھنا مشكل ہو، ہماری نگاہوں كے سامنے سے لوگ جارہے ہيں ، مہينہ ميں كتنے جنازے ميں ہماری شركت ہوجاتی ہے، صحيح بات يہ ہے كہ جو دنيا سے چلاگيا وه اپنی منزل پر پہونچ گيا ، اچھی ہو يا بری، جو زنده ہيں وه ابھی راہی ہيں، وه سفر ميں ہيں، جيسے كسی ايک شہر جانے كے لئے بہت سی ٹرينيں ہوتی ہيں، كچھ لوگ پہلی ٹرين ميں بيٹھ كر پہونچ جاتے ہيں اور كچھ لوگ بعد والی سے پہونچتے ہيں ؛ مگر پہونچنا وہيں ہوتا ہے۔

الله تعالي كا ارشاد هے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (سوره آل عمران:185)كه "ہرنفس كو موت كا مزه چكھنا ہے، اور تمہيں قيامت كے دن پورا پورا بدله ديا جائے گا، جو شخص جہنم سے بچاليا گيا اور جنت ميں داخل كرديا گيا وه كامياب ہوگيا، اور دنيوی زندگی تو محض دھوكہ كا سامان ہے”۔

كيا كبھی ہم سوچتے ہيں كہ كيا ہماری يہ صحت، يہ عزت، يہ شہرت، يہ زمين وجائيداد، يہ عہده اور منصب اور دوست واحباب كا يہ كارواں ؛ كيا يہ سب ہميشہ رہنے والے ہيں؟ كيا قبر ہمارا گھر نہيں ہے؟ كبھی سوچا كہ يہ مردے كہاں جارہے ہيں؟ اور انہيں كن مراحل كا سامناہے؟ اور اس كے ليے ہماری تياری كيسی ہے؟
موت زندگی كا خاتمہ نہيں ؛ ايک نئ اور دائمی زندگی كا آغاز ہے، بقول شاعر مشرق علامہ اقبال :

موت كو سمجھا ہے غافل اختتامِ زندگي هے يہ شامِ زندگي، صبحِ دوام ِزندگي

حبيب پاک صلی الله عليه وسلم حضرات صحابہ رضی الله عنہم كو موت كو ياد كرنے كی بہت تاكيد كيا كرتے تھے، ترمذی شريف ميں ايک واقعه ہے كہ رسول كريم صلی الله عليه وسلم مسجد نبوی ميں داخل ہوئے تو ديكھا كچھ لوگ كھل كھلاكر ہنس رہے ہيں تو فرمايا: اگر تم لذتوں كو ختم كرنے والی چيز موت كو كثرت سے ياد كرتے تو اس طرح نہ ہنستے، لذتوں كو ختم كرنے والی موت كو كثرت سے ياد كيا كرو؛ كيوں كه كوئی دن ايسا نہيں آتا جس دن قبر يہ آواز نہ لگاتی ہوكہ ميں تنهائی كا گھر ہوں، ميں وحشت كا گھر ہوں، ميں مٹی اور كيڑے مكوڑے كا گھر ہوں ، اگركوئی مؤمن بنده قبر ميں داخل كيا جاتا ہے تو قبر كہتی ہے: خوش آمديد، جتنے لوگ ميری پيٹھ پر چلتے تھے توميرے نزديك سب سے زياده پسنديده اور محبوب تھا، آج جب تو ميرے حوالے كيا گيا هے تو تُو ميرا حسن سلوك ديكھے گاپھر قبر تاحدِّ نگاه (جہاں تک نگاه جاتی ہے)كشاده ہوجاتی ہےاور جنت كا ايک دروازه كھول ديا جاتاہے۔ اور اگر كوئی كافر يا فاسق دفن كيا جاتا ہے تو قبر كہتی ہے: لعنت ہوتجھ پر اور تيری آمد پر، زمين پر چلنے والے لوگوں ميں تُو ميرے نزديك سب سے ناپسنديده تھا، اب جب كہ تو ميرے حوالے كيا گيا ہے تو ميرا سلوك ديكھے گا پھروه قبر اسے دبا ليتی ہے يہاں تك كہ پسلياں بھی ايک دوسرے ميں گھس جاتی ہيں، پھر الله اس پرستر ازدہے مسلط كرديتا ہے اگر ان ميں سے ايك بھی زمين پر پھونك ماردے تو گھاس تک نه اُگے، اور فرمايا: قبر يا تو جنت كي ايك كياری ہے يا جہنم كا گڑھا ہے(ترمذي شريف، حديث نمبر2460)

ايك صحابی حضرت براء بن عازب رضی الله عنہ كہتے ہيں كہ ہم لوگ رسول الله صلی الله عليه وسلم كے ساتھ تھے كہ ہميں ايک جماعت نظر آئی، رسول الله صلی الله عليه وسلم نے پوچھا: يہ لوگ كيا كررہے ہيں، بتايا گيا كہ يہ لوگ قبر كھود رہے ہيں، تو آپ صلی الله عليه وسلم گھبراكر بھاگے، قبر كے پاس پہونچے اور بيٹھ كررونے لگے، يہاں تک آنسوئے مبارك كے قطروں سے زمين بھيگ گئی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوكر فرمايا: بھائيو! اس دن كی تياری كرو(سنن كبری للبيهقي، حديث نمبر6750)

الله اكبر! موت كی ياد اسے كہتے ہيں، يہ حال ہے آقائے نامدار، دوعالم كے تاجدار كا، جونہ صرف بخشے بخشائے ہيں ؛ بلكہ الله تعالی كی شان كريمی كے بعد، آپ صلی الله عليه وسلم كی شفاعت هی ہر مؤمن كی كاميابی كا آخری سہارا ہے، تو سوچنا چاہيے كہ ہم جيسوں كو اپنی آخرت كے تعلق سے كتنا فكرمند ہونا چاہيے، روتے ہوئے يہی نصيحت ہے :”بھائيو! اس دن كی تياری كرلو”

ميمون بن مہران تابعی كہتى ہيں كہ ميں حضرت عمر بن عبد العزيز رحمہ الله كے ساتھ قبرستان پہونچا تو ديكھا وه رورہے ہيں اور مجھے مخاطب كركے كہہ رہے ہيں: اے ميمون! يہ ميرے آباء واجداد بادشاہانِ بنی اميہ كی قبريں ہيں، لگتاهے انہيں كبھی دنياكی كوئی لذت حاصل ہی نہيں تھی، ديكھو! كس طرح عاجزی اور ذلت كے ساتھ، اپنی قبروں ميں پڑے ہيں اور ان كے بدن كيڑوں كی غذا بن گئے ہيں(حلية الأولياء، ج5، ص269)

آج ہمارا حال يہ ہے كہ موت كے تذكرے سے بھی بھاگتے ہيں، كاميڈی اور تفريحي باتوں ميں خوب دل لگتا ہے، بلاشبہ تفريح ومذاق بھی اس زندگی كا حصہ ہے؛ليكن اپنے مقصد پر نظر ہونی چاہيے، سنجيده اور اپنے يقينی انجام سے بے خبری نہيں ہونی چاہيے، كوئي كہہ سكتا ہے كہ اسے موت نہيں آئے گی؟ ايسا كوئی بھی نہيں، ارشاد خداوندی ہے: قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ(سوره جمعه، آيت نمبر8)ترجمه: آپ فرماديجيے كہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وه تمہيں ضرور آئے گی، پھر تم عالم الغيب والشهادة(حاضر وغائب كا علم ركھنے والے)خدا كے پاس لوٹائے جاؤگےاور وه تمہيں تمہارے كاموں كی خبر دے گا۔

*موت كی ياد كے فوائد:*

بزرگوں سے منقول ہے كہ جو موت كو ياد كرتا ہےاسے تين نعمتيں ملتی ہيں: 1۔جلد توبہ كی توفيق,2۔دل كا اطمينان ، يعنی جو ہے اسی پر قناعت اور حرص وہوس سے پرہيز،3۔عبادت ميں چستی اوردل كا لگنا۔ اور جو موت كو ياد نہ كرے وه تين عذاب ميں مبتلارہتاہے: 1۔ توبہ ميں ٹال مٹول،2۔ حرص وہوس كی زيادتی،3۔عبادت ميں سستی(بريقة محمودية، ج3،ص3)

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہيں كہ جو موت كو كثرت سے يادكرے، الله اس سے محبت كرتے ہيں اور ايک جگہ لكھتے ہيں: جو موت كو كثرت سے يادكرے وه تھوڑی سی دنيا پر خوش رہتا ہے اور جو سوچ كربولتا ہے وه بے فائده نہيں بولتا ے(إحياءعلوم الدين،ج3،ص111)

ايک حديث ميں رسول كريم صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا: ” أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ إِلَّا وُسِّعَ عَلَيْهِ، وَلَا ذَكَرَهُ فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ ترجمه: لذتوں كو ختم كرنے والی موت كو كثرت سے ياد كيا كرو، اس ليے كہ اگر آدمی اسے تنگی كی حالت ميں ياد كرے گا تو اس پر كشادگی ہوگی (حقيقتًا يا قناعت پيداہوگی جس سے كم كو بھی زياده سمجھے گا) اور اگر كشادگی ميں ياد كرے گا تو تنگی پيدا ہوگی(مال كی محبت ختم ہوگی اور صدقہ وغيره كركے مال كو كم كرلے گا)(شعب الإيمان للبيهقي، حديث نمبر10076)

*موت كي تياري عقلمندي هے:*

ايك حديث ميں رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا: عقلمند وه هے جو اپنے نفس پر قابو پالے اورموت كے بعد كی تياری كرے اور بے وقوف وه هے جو خواہش نفس كی پيروی كرے اور الله سے رحم كی اميد ركھے(امام غزاليؒ، احياء علوم الدين، ج2، ص331)

ايك دوسری حديث ميں ارشاد هے : سب سے ذهين مؤمن وه هے جو كثرت سے الله كو ياد كرے، اور ان ميں بھی اصل ذهين وه هيں جو موت كی بهتر تياری كرنے والے ہيں(شعب الايمان، حديث نمبر10065)

لہذا بھائيو! اس سبق كو تازه ركھيں، انجام كوپيش نظر ركھيں، اپنی حالتوں پر نظر ثانی كريں، الله سے توفيق مانگيں، گناہوں سے توبه كريں اور اپنے رب سے ايك نيا عہد كريں، يه عہد ہو ايمان كی تازگی كا، اخلاص كا، سچ بولنے كا، حسن اخلاق كا , برائيوں سے بچنے كا، حسن معامله كا، صراط مستقيم كی پابندی كا، حضرت محمد مصطفی صلی الله عليه وسلم سے سچی محبت كا اور آپ كی سنت مباركه كو اپنی زندگی ميں نافذكرنے كا۔

الله ہم سب كو توفيق بخشے اور دنيا وآخرت ميں كامرانی عطا فرمائے آمين يارب العالمين

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: