اسلامیات

موت کا بیان

قسط نمبر (8) (حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ کی کتاب : رہ نمائے مسلم سے اقتباس۔ یہ کتاب پیدائش سے لے کر موت تک ایک مکمل اسلامی لائف گائڈ ہے۔)

ہم دام غم سے موت کے بعد مرکر
روتے ہیں کیوں احیا موقع ہے یہ خوشی کا
مومن کی موت
جیل خانہ سے باہر نکلنے کا وقت ہے۔ دنیا کی کلفتوں سے ، اس کے رنج و غم سے نجات پانے کی اولین فرصت ہے۔
الْعَبْدُ المؤمِنُ یَسْتَرِیْحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَ اٰذَاھَا ا8لٰی رَحْمَۃِ الْلّٰہِ (متفق علیہ)
ایمان والا بندہ اللہ کی رحمت کی طرف چلتے ہوئے دنیا کے دکھ تکلیف سے نجات پاتا ہے۔ ؂
تن زیر خاک چھپ گیا جاں خلد کو گئی
بحر فنا میں ڈوب کے ہم پار ہوگئے
خدا کی رضامندی اور اس کی کرامت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے ، جس سے وہ خدا کی ملاقات کو دوست رکھتا ہے، اور خدا اس کی ملاقات کو دوست رکھتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
ملک الموت خدا کا پیغام سلام پہنچاتا ہے اور کہتا ہے کہ السلام علیکم یا ولی اللہ ، اس خالی گھر سے آباد گھر کی طرف چلو۔ائے جان! جس کو خدا کے حکموں پر اطمئنان تھا، اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف چل۔
اس خوش خبری اور خوش کن باتوں کو سن کر روح آسانی سے نکل آتی ہے، جیسے مشک سے پانی کا قطرہ ڈھلک آتا ہے یا آٹے سے بال۔ چنانچہ براء ابن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری مرد کے جنازہ میں نکلے اور قبر تک پہنچے۔ ابھی تک قبر کی کھدائی پوری نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم لوگ نہایت خاموشی کے ساتھ آپ ﷺ کے چاروں طرف بیٹھ گئے۔ حضورﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، اس سے زمین کریدنے لگے ۔ پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگو۔ اس طرح آپ ﷺ نے تین بار فرمایا۔ پھر فرمایا : جب ایمان دار بندہ دنیا سے تعلق توڑنے لگتا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، تو آسمان سے روشن چہرے والے فرشتے اس کی طرف اترتے ہیں ، جن کے چہرے سورج کی طرح چمکتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے۔ اور منتہائے نظر پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ائے پاکیزہ روح! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضامندی کی طرف چل۔تو وہ روح نہایت آسانی کے ساتھ نکل پڑتی ہے ، جیسے مشک سے پانی کا قطرہ ڈھلک پڑتا ہے ۔ اس کو ملک الموت اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ، لیکن پلک جھپکنے کی دیر نہیں لگتی کہ اس کے ہاتھ سے وہ فرشتے لے لیتے ہیں اور اس کو کفن اور خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ پھر اس سے بہترین مشک کی خوشبو آنے لگتی ہے ۔ پھر اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں ۔ اور جب کسی فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں ، تو وہ پوچھتے ہیں کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں : فلاں کا بیٹا ہے ، یعنی دنیا میں جس اچھے نام کے ساتھ پکارا جاتا تھا، وہی نام بتاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں ، وہ دروازہ کھولتا ہے ۔ پھر ہر آسمان کے مقربین دوسرے آسمان تک ساتھ چلتے ہیں اور اسی جلوس کے ساتھ ساتویں آسمان تک جا پہنچتے ہیں۔ اللہ بزرگ برتر حکم دیتا ہے کہ میرے بندہ کی کتاب علیین میں لکھ لو۔ اور اس کو لوٹا کر زمین پر لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے اسی سے پید اکیا ہے اور اسی میں لوٹاتا ہوں اور دوبارہ اسی سے نکالوں گا۔ پس اس کی روح اس کے بدن میں لوٹا دی جاتی ہے ۔ پھر وہ فرشتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تمھارا پروردگار کون ہے؟ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ تمھارا دین کیا ہے؟ کہتا ہے کہ میرادین اسلام ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ تمھارے اندر جو یہ شخص مبعوث ہوئے تھے، وہ کون ہیں؟ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ کہتے ہیں کہ تجھے کس نے بتایا؟ کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی ۔ اس پر آسمان سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے کہ میرے بندہ نے سچ کہا ۔ اس کے لیے جنت کا فرش بچھادو۔ اس کو جنت کا لباس پہناؤ اور جنت کی طرف اس کا دروازہ کھول دو۔ پھر جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے ۔ اور اس کی قبر تاحد نگاہ کشادہ کردی جاتی ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر ایک شخص خوش لباس خوشبو دار اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ تجھ کو میسر ہوا، اس پر خوش ہوجا۔ یہی وہ دن ہے ، جس کا تجھ سے وعدہ ہوا تھا ۔ وہ کہے گا کہ تم کون ہو؟ تمھارا چہرہ حقیقت میں چہرہ کہنے کے لائق ہے اور اس لائق ہے کہ اچھی خبر لائے ۔ وہ کہے گا کہ میں تیرا عمل صالح ہوں۔اس کے بعد وہ خوشی میں کہے گا: ائے رب ! قیامت قائم فرما، ائے رب! قیامت قائم فرما، تاکہ میں اپنے اہل و عیال اور مال میں پہنچ جاؤں۔
کافر کی موت
اور جب کافر بندہ دنیا سے تعلق توڑنے لگتا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو سیاہ چہرے والے فرشتے اس کی طرف اترتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں ٹاٹ ہوتے ہیں اور منتہائے نظر پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ائے خبیث جان! اللہ کی ناراضگی کی طرف چل۔ ملک الموت کا یہ حکم سن کر روح اس کے جسم میں ادھر ادھر بھاگنے لگتی ہے ، تو ملک الموت اس کی روح کو سختی کے ساتھ کھینچ لیتا ہے ، جیسے سیخ کو بھیگے ہوئے اون سے صاف کیا جاتا ہے ، پھر ملک الموت اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ، لیکن پلک جھپکنے کی دیر نہیں لگتی کہ اس کے ہاتھ سے وہ فرشتے لے لیتے ہیں اور ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، جو ان کے پاس ہوتے ہیں ۔ ان ٹاٹوں سے سڑی ہوئی نعش کی بدبو آتی ہے ۔ پھر اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں ۔ اور جب کسی فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں کہ یہ خبیث روح کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے ، یعنی دنیا میں جس برے سے برے نام سے پکارا جاتا ہے، وہی نام بتاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں ، مگر دروازہ نہیں کھولا جاتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
لَا تُفَتَّحُ أبْوَابُ السَّماءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّیٰ یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخَیَاطِ(الأعراف،آیۃ ۴۰)
ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہ گھس جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کو کتاب سجین میں لکھ لو، جو سب سے نیچی زمین میں ہے ۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
مَنْ یُّشْرِکْ بِالْلّٰہِ فَکَأنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیقٍ۔ (الحج،آیۃ۳۱)
اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا وہ آسمان سے گر پڑاہو،پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا اس کو ہوا نے دور دراز جگہ میں لے جاکر پھینک دیا۔
پس اس کی روح اس کے بدن میں لوٹا دی جاتی ہے ۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : تمھارا پروردگار کون ہے؟ وہ کہتا ہے : ہائے ہائے ، مجھے پتہ نہیں۔ پھر کہتے ہیں : تمھارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے : ہائے ہائے مجھے پتہ نہیں۔ اس کے بعد آسمان سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے کہ اس شخص نے جھوٹ کہا ، اس کے لیے آگ کا فرش بچھاؤ اور دوزخ کا دروازہ کھول دو۔ دوزخ کی تپش اور سخت گرم لو آتی رہتی ہے ۔ اور اس پر قبر تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں ۔ پھر ایک شخص بد صورت برے کپڑے والا بدبودار اس کے پاس آتا ہے ۔ اور وہ کہتا ہے کہ بری خبر سن لے۔ یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ ہوا تھا ۔ وہ کہے گا : تو کون ہے؟ تیری صورت بری خبر سنانے کے لائق ہے۔ وہ کہے گا : میں تیرا عمل ہوں ۔ یہ سن کر وہ کہے گا: ائے اللہ قیامت قائم نہ کر۔ (مرقاۃ)
مرض الموت کا بیان
جب انسان انتہائی بیمارے ہوجائے اور اندازہ یہ ہو کہ یہ آخری وقت ہے ، تو اس کے پاس بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تاکہ اللہ کا ذکر سن کر اس کا دل بھی ذکر اللہ کی طرف مائل ہوجائے ۔ اور وہ بھی ذکر کرنے لگے، تاکہ اگر انتقال ہوجائے ، تو اس کا خاتمہ خیر پر ہو، چوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ:
الْعِبْرَۃُ لِلْخَوَاتِیْمِ
خاتمہ کا اعتبارہے ۔
اور اگر مرض کا اضافہ دیکھے اور موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں، تو پھر زور سے کلمہ پڑھے، تاکہ وہ بھی کلمہ پڑھ لے ، تاکہ اس کا آخری کلام لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہو۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہِ لَا الَہَ الَّا الْلّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔(ابو داود)
جس کا آخری کلام لا الٰہ الا اللہ ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اور یہ بھی فرمایا :
مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا الٰہَ الَّا الْلّٰہُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَیٰ ذٰالِکَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ (متفق علیہ)
جس بندہ نے بھی لا الٰہ اللہ کہا پھر اسی کلمہ پر موت ہوئی ، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اس لیے مرنے والے کا آخری کلام یہی کلمہ ہونا چاہیے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا الٰہَ الَّا الْلّٰہُ (مسلم)
اپنے مرنے والوں کو لا الٰہ اللہ کی تلقین کرو۔
لیکن اس کلمہ کو کہنے کے لیے اسے تنگ نہ کیا جائے ، اور اس طرح نہ کہا جائے کہ کہو لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ؛ بلکہ اس کے سامنے کلمہ پڑھے ، تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگے۔ زیادہ تنگ کرنے سے ممکن ہے کہ وہ انکار کردے ، کیوں کہ وہ حالت بہت سخت ہوتی ہے ۔ اور سختی میں تنگ کرنا درست نہیں۔ تمھارے پڑھنے پر وہ نہ پڑھے اور مرجائے تو اس کو کافرنہ سمجھو، اس لیے کہ وہ ایمان کا اقرار اپنی زندگی میں کرچکا ہے۔ اور اس وقت کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے ؛ بلکہ مستحب ہے ۔ ضروری صرف خدا کی وحدانیت وغیرہ جو ضروریات دین میں ہے ، اس پر ایمان رکھنا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ ماتَ وَھُوَ یَعْلَمُ أنَّہُ لَا الٰہَ الَّا الْلّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (مسلم)
جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ جانتاہے ہو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اور اس کے پاس سورہ یٰسٓ پڑھے، تاکہ اس کی برکت سے موت آسان ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے مرنے والے کے پاس سورہ یٰسٓ پڑھو۔ (رواہ احمد و ابو داود وابن ماجہ و صححہ ابن حبان) اور مراقی الفلاح میں ایک حدیث ہے کہ :
مَامِنْ مَرِیْضٍ یُقْرَأُ عِنْدَہُ یٰسٓ الَّا ماتَ رَیَّانَ و اُدْخِلَ فی قَبْرِہِ رَیَّانَ
جس مریض کے پاس یٰسٓ پڑھا جاتا ہے، وہ سیراب ہوکر مرتا ہے اور سیراب ہی قبر میں داخل کیا جاتا ہے۔
مرنے کے بعد جب تک اس کو غسل نہ دیا جائے ، اس کے پاس قرآن مجید پڑھنا درست نہیں ہے۔ (عالمگیری)
مرنے والے کے بال بچوں کو یا جس سے اس کو زیادہ محبت ہو، اس کے سامنے نہ لاؤ تاکہ دنیا کی طرف مائل نہ ، کیوں کہ یہ وقت دنیا سے جدائی اور اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں حاضری کا وقت ہے ۔ اس کے پاس ایسی باتیں کرو، کہ دل دنیا سے پھر کر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہوجائے۔ اللہ کی رحمت اور مومن کی موت کی فضیلت اس کے سامنے بیان کرو تاکہ وہ خد اسے پر امید ہوکر مرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت سے تین روز قبل فرمایا تھا:
لَایَمُوْتَنَّ أحَدُکُمْ الَّا وھُوَ یُحْسِنُ الظَّنَ بِاللّٰہِ۔ (رواہ مسلم)
اللہ سے اچھے گمان رکھتے ہوئے جان دو۔
رسول اللہ ﷺ ایک جوان کے پاس پہنچے، جو نزع کی حالت میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے کو کیسے پاتے ہو؟ اس جوان نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں۔ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا: ایسے موقع پر جس بندہ کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوں گی، اللہ اس کی امید کو پوری کرے گا۔ اور اس کو خوف سے مامون رکھے گا۔ (ترمذی)
ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو خبر دوں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے اللہ تعالیٰ بندوں سے کیا کہے گا اور بندے پہلے کیا جواب دیں گے۔صحابہ کرام نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ ﷺ فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مومن سے کہے گا کہ :
ھَلْ اَحْبَبتُمْ لِقائی؟
تونے میری ملاقات کو محبوب سمجھا تھا؟ بندے کہیں گے :
نَعَمْ یَا رَبَّنَا
ہاں ائے ہمارے پروردگار۔
اللہ تعالیٰ کہے گا : کیوں؟ بندے کہیں گے : ہم آپ کی معافی اور مغفرت کی امید رکھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا : تمھارے لیے میری مغفرت واجب ہوگئی ۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ)۔ایک حدیث میں ہے کہ:
أنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ
میں اپنے بندوں کے گمان کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں۔
اس قسم کی باتوں سے اس کو پرامید کرے ، تاکہ اچھے گمان خدا سے رکھ کر جان جاں آفریں کے سپرد کرے۔
آتی ہیں ٹھہر ٹھہر کے سانسیں
اب موت سے لو لگارہا ہوں
منزل ہے قریب ، خوف غالب
رک رک کے قدم اٹھارہا ہوں
بہر حال جب سانس اکھڑ جائے اور جلدی جلدی چلنے لگے ، اور ٹانگیں ڈھیلی پڑ جائیں اور کھڑی نہ ہوسکیں، اور ناک ٹیڑھی ہوجائے اور کنپٹیاں بیٹھ جائیں، تو سمجھو کہ اس کی موت آگئی۔ اس وقت کلمہ زور زور سے پڑھنے لگو ۔ جب مرجائے تو سب عضو درست کردو۔ ہاتھ پہلو میں سیدھا کرکے رکھو ۔ سینے پر نہ رکھو۔ ایک کپڑے سے تھوڑی کو سر سے باندھ دو، تاکہ منہ کھلا نہ رہ جائے ۔ اور آنکھیں بند کردو ۔ اور پیر کے دونوں انگوٹھوں کو ملاکر باندھ دو، تاکہ ٹانگیں پھیلنے نہ پائیں۔ آنکھ بند کرتے ہوئے کہو:
بِسْمِ اللّٰہِ وَ عَلٰیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند کردیں اور فرمایا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے ، تو آنکھیں اس کا پیچھا کرتی ہیں ۔ (مسلم)
پھر کوئی چادر اڑھادو۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانک دیا گیا تھا ۔ (بخاری و مسلم)
اور اس کے پاس لوبان وغیرہ کی خوشبو سلگادی جائے۔ ناپاک آدمی وہاں نہ جائے اور نہلانے ، کفنانے میں جلدی کرو۔ ؂
پہلو سے دو گھڑی جو سرکتے نہ تھے کبھی
گھبرا گئے وہ دفن میں تاخیر دیکھ کر
غسل و کفن کا بیان
ہائے کل سب آشنا میرے مریض عش کے
تھے علاج ضعف دل اور ضعف تن کی فکر میں
آج گھبرائے ہوئے پھرتے ہیں با چشم پر آب
گاہ تدبیر لحد میں گہ کفن کی فکر میں
غسل و کفن کا سامان
سب سے پہلے قبر کا سامان کرو۔ اور کفن دفن کے لیے سامان ذیل کی فراہمی کرلو، جس کو اپنے اپنے موقع پر صرف کرو:
(۱) گھڑے دوعدد(اگر گھر میں برتن ہوں تو کورے کی حاجت نہیں)
(۲) لوٹا۔ (۳) غسل کا تختہ۔ (۴) لوبان۔ (۵) روئی۔ (۶) گل خیرو (صابن)۔ (۷) کافور۔ (۸) قبر پاٹنے کے لیے تختہ یا لکڑی ، قبر کی پیمائش کے مطابق۔ (۹) چٹائی ایک عدد قبر کی مقدار کے برابر۔ (۱۰) کفن ، جس کی ترکیب مرد کے لیے یہ ہے کہ مردہ کی قد کے برابر ایک لکڑی لو اور اس میں ایک نشان کندھے کے مطابق لگالو۔ اور ایک تاگا سینے کے مقابل رکھ کر جسم کی گولائی میں کو نکال لو کہ اس تاگے کے دونوں سرے ، دونوں پسلیوں پر پہنچ جائیں۔ اور اس کو وہاں سے توڑ لو۔ پھر ایک کپڑا لو، جس کا عرض اسی تاگے کے برابر یا اس کے قریب ہو۔ اگر اس قدر عرض نہ ہو تو اس میں جوڑ لگاکر پورا کرلو۔ اور اس لکڑی کے برابر ایک چادر پھاڑ لو۔ اس کو ازار کہتے ہیں ۔ اسی طرح دوسری چادر پھاڑو، جو عرض میں تو اسی قدر ہو؛ البتہ طول میں ازار سے چار گرہ زیادہ ہو۔ اس کو لفافہ کہتے ہیں ۔ پھر ایک کپڑا لو، جس کا عرض بقدر چوڑائی جسم مردہ کے ہو۔ اور لکڑی کے نشان سے اخیر تک جس قدر طول ہو، اس کا دوگنا پھاڑ لو۔ اور دونوں سرے کپڑے کے ملاکر بیچ سے اتنا چاک کھولوکہ سر کی طرف سے گلے میں آجائے ۔ ا س کو قمیص یا کفنی کہتے ہیں۔ یہ تین کپڑے مرد کے لیے مسنون کفن ہیں۔
اور عورت کے لیے ان تین کپڑوں کے علاوہ اور دو کپڑے ہیں: ایک سینہ بند۔ دوسرا سربند ، جس کو اوڑھنی کہتے ہیں ۔ سینہ بند بغل کے نیچے سے گھٹنے تک اور تاگے مذکور کے بقدر چوڑائی۔ سربند نصف ازارسے تین گرہ زیادہ لمبائی اور بارہ گرہ چوڑائی ۔ یہ پانچ کپڑے عورت کے لیے کفن مسنون ہیں۔ اور بعض چیزیں کفن کے متعلقات ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے :
(۱) تہ بند: جو غسل دیتے وقت ستر چھپانے کا کام دیتا ہے ۔ بدن کی موٹائی سے تین گرہ زیادہ، بڑے آدمی کے لیے سوا گز لمبائی کافی ہے ۔ اور عرض میں ناف سے پنڈلی تک، چودہ گرہ عرض کافی ہے ۔ یہ دو ہونے چاہیے: ایک غسل میں ۔ دوسرا غسل کے بعد کفن سے پہلے استعمال ہوتا ہے۔
(۲) دستانہ: چھ گرہ طول اور تین گرہ عرض ہو۔ بقدر پنجۂ دست بنالیں۔ یہ بھی دو عدد ہوں ۔
(۳) چادر: عورت کے گہوارہ کی جو بڑی عورت کے لیے ساڑھے تین گز طول اور دو گز عرض کافی ہے۔
تنبیہہ: تخمینا مرد کے کفن مسنون میں ایک گز عرض کا کپڑا دس گز صرف ہوتا ہے اور عورت کے لیے مع چادر گہوارہ ساڑھے اکیس گز ۔ اور تہ بند اور دستانہ اس سے جدا ہیں اور بچہ کا کفن اس کے حال کے مناسب لو۔
کفن کو دھونی دینے کا بیان
کفن جب تیار ہوجائے، تو اس کو اولالوبان وغیرہ خوشبو دار چیز جلاکر اس کا دھواں تین بار یا پانچ بار کفن کو پہنچائے ، یہ مستحب ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أجْمِرُوْا کَفَنَ الْمَیِّتِ ثَلَاثَاً
(رواہ البیھقی)
میت کے کفنوں کو تین بار دھونی دو۔
نور الہدایہ میں ہے کہ اس کی سند صحیح ہے ۔
غسل اور کفنانے کا طریقہ
ایک گھڑے میں دو میٹھی بیری کے پتے ڈال کر پانی کو ابالو اور اس کے دو گھڑے بنالو۔ اور ایک گڑھا اتر دکھن کھود لو۔ اگر پہلے سے کوئی نالی وغیرہ پانی بہنے کے لیے ہے، تو پھر گڑھا کھودنے کی ضرورت نہیں ۔ اب اس نالی پر تختہ رکھو اور اس تختے کو تین مرتبہ لوبان کی دھونی دے لو۔ پھر مردہ کو اس تختہ پر لٹاؤ۔ اور کرتا وغیرہ کو چاک کرکے نکال لو اور تہ بند ستر پر ڈال کر استعمالی کپڑے نکال لو۔ اور پیٹ پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرو۔ نجاست نکلے تو اس کو دھو دو۔ پھر سر اور داڑھی کو گل خیرو یا صابون سے دھوؤ۔ پھر دستانہ پہن کر وضو کے ارادے سے اول دونوں ہاتھ پہنچوں تک دھوؤ ۔ پھر روئی کا پھایا تر کرکے ہونٹوں اور دانتوں پر پھیر کر پھینک دو۔ اس طرح تین دفعہ کرو۔ اسی طرح تین دفعہ ناک اور رخساروں پر پھیرو۔ اور منہ اور ناک اور کان میں روئی لگا دو کہ پانی نہ جائے ۔ پھر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں کو دھوؤ ۔ پھر سر کا مسح ، پھر دونوں پاؤں دھو دو۔ پھر سارے بدن پر پانی بہاؤ۔ پھر بائیں کروٹ لٹا کر پانی بہاؤ۔ پھر داہنی کروٹ پر ایسا ہی کرو۔ پھر دوسرا دستانہ پہن کر بدن کو صاف کرو۔ اور دوسرا تہ بند بدل دو۔پھر چار پائی بچھاکر اس پر اول لفافہ ، اس پر ازار ، پھر اس پر کفنی کا نچلا حصہ بچھاکر باقی حصہ اوپر والا سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دو۔ پھر مردے کو تختہ سے آہستہ سے اٹھاکر اس پر رکھ دو۔اور کفنی کے حصہ کے سر کی طرف سے الٹ دو تاکہ گلے میں آجائے اور پیروں کی طرف بڑھادو۔ اور تہ بند نکال دو اور کافور سر اور داڑھی اور سجدہ کے موقعوں پر ، یعنی پیشانی ، ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں کہنیوں، دونوں پنجوں پر مل دو۔ پھر ازار کا بایاں پلہ لوٹ کر اس پر دایاں پلہ لوٹ دو۔ اور لفافہ کو بھی اسی طرح لپیٹو۔ اور ایک کتر لے کر سرہانے اور پائنتی چادر کے گوشہ کو چن کر باندھ دو اور ایک بند سے کمر کے پاس بھی باندھ دو تاکہ راستہ میں کھل نہ جائے۔
اگر میت عورت ہے تو کفنی یعنی قمیص پہناکر اس کے بالوں کے دو حصے کرو: ایک حصۃ داہنی طرف اور ایک حصہ بائیں طرف قمیص کے اوپر سینہ پر ڈال دو۔ اس کے بعد سر بند سر پر اور بالوں پر ڈال دو ۔ اس کو نہ باندھو اور نہ لپیٹو۔ پھر ازار لپیٹو ۔ پہلے بائیں طرف سے ، پھر دائیں طرف سے ۔ پھر اس پر سینہ بند لپیٹ دو۔ پھر چادر لپیٹو ۔ پہلے بائیں طرف ، پھر دائیں طرف سے ۔ (عالمگیری)
غسل کے لیے بیری کے پتے ڈال کر پانی کو گرم کرلینا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینت رضی اللہ عنہا کے غسل کے موقع پر فرمایا تھا:
اغْسِلْھَا ثَلَاثاً أوْ خَمْساً أوْ أکْثَرَ مِنْ ذالِکَ انْ رَأیْتُنَّ ذالِکَ بِمَاءٍ و سِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الْاٰخِرَۃِ کَافُوْرَاً أوْ شَیْءَاً مِنْ کَافُوْرٍ
(متفق علیہ)
تین یا پانچ بار یا اس سے زیادہ ۔ اگر ضرورت سمجھو تو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو اور اخیر میں کافور یا کچھ نہ کچھ کافو رمیں سے ہو۔
اگر بیری کے پتے میسر نہ ہوں تو خالص پانی ہی گرم کرلو اور نیم گرم پانی سے غسل دو۔ (ہدایہ)
کفن کا کپڑا اسی حیثیت کا ہونا چاہیے ، جیسا کہ مردہ اپنی زندگی میں استعمال کیا کرتا تھا۔ زیادہ تکلفات فضول ہیں ۔ سرکار دو جہاں ﷺ نے فرمایا کہ :
لَا تَغَالُوْا فِی الْکَفَنِ فَانَّہُ یُسْلَبُ سَلْبَاً سَرِیْعَاً (ابو داود)
کفن میں مبالغہ مت کرو۔ اس لیے کہ وہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے ۔
یعنی زیادہ بیش قیمت کفن دینے کی حاجت نہیں ، وہ باقی رہنے والا نہیں ہے۔
مادر جسے عریاں نہیں کرتی تہہ افلاک
وہ قبر میں سوتا ہے دھری رہتی ہے پوشاک
لیکن اس کے باوجود کفن اچھا ہونا چاہیے ۔ مسلم کی روایت میں ہے :
فَلْیُحْسِنْ کَفْنَہُ
اس کو اچھا کفن دینا چاہیے کہ اس میں میت کی تعظیم ہے ۔
یوں تو ہر رنگ کا کفن دینا جائز ہے ، لیکن سفید کپڑا کفن میں دینا مسنون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ألْبِسُوْا مِنْ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضَ فَانَّھَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ وَ کَفِّنُوْا فِیْھَا مَوْتَاکُمْ ۔
(رواہ الخمسۃ الا النسائی و صححہ الترمزی)
تم سفید کپڑے پہنو، اس لیے کہ سب کپڑوں میں اچھا ہے ۔ اور اسی رنگ کے کپڑے میں اپنے مردوں کو دفن کرو۔
کفن میں تین کپڑے مسنون ہے۔
کُفِّنَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ ثَلاثۃِ أثْوابٍ قَمِیْصٍ وَ ا8زَارٍ و لِفَافَۃٍ ۔(رواہ ابن عدی فی الکامل)
رسول اللہ ﷺ تین کپٹروں میں کفنائے گئے : (۱) قمیص(۲) ازار (۳) لفافہ۔
اگر تین نہ ہوں تو دو ، ورنہ ایک کفن بنالے ، جس سے اس کا بدن ڈھک جائے فرض ہے ۔ (عالمگیری، ص۵۳۳)۔ لیکن یہ مجبوری کی حالت میں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
خَیْرُ الْکَفَنِ الْحُلَّۃُ ( ابو داود)
بہتر کفن جوڑا ہے ، یعنی ازار اور لفافہ۔
جنگ احد کے اندر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہما شہید ہوئے تو ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا کچھ نہ پایا گیا ۔ اور وہ چادر بھی ایسی کہ اگر سر چھپائیں تو پیر کھل جائے اور پیر ڈھانپیں تو سر کھل جائے ۔ آخر حضور پر نور ﷺ نے فرمایا : ان کا سر چھپاؤ اور پیر پر گھاس رکھ دو۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close