زبان و ادب

موجز اسلوب

محمد یاسین جہازی 9891737350

اس کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ اور مختصرسے مختصر جملے میں زیادہ سے زیادہ معانی ادا کر دیے جائیں؛ لیکن الفاظ اتنے بھی کم نہ ہوں کہ مطلب ہی خبط ہوجائے، اور مقصود ہی واضح نہ ہو؛بلکہ وہ قلیل الفاظ اس قدر جامع ہوں کہ ان سے مقصد کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہو، جیسے:
نثر کی مثال: ؎
”محسن الملک کے خطوں میں جوانی،بے چینی اور تلون ہے، اور وقار الملک کے خطوں میں بڑھاپے کی دانائی اور دور اندیشی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ محسن الملک ہمیشہ جوان رہے، اور وقار الملک سدا کے بڈھے تھے“۔
نظم کی مثال: ؎
ناداں کہوں دل کو کہ خرد مند کہوں
یا سلسلہئ وضع کا پابند کہوں
اک روز خدا کو منھ دکھا نا ہے دبیرؔ
بندوں کو میں کس منھ سے خدا کہوں
(مرزادبیرؔ)
ایک دوسرے شاعر نے اسی مضمون کو موجز اسلوب میں صرف دو مصرعوں میں بیان کردیا ہے کہ :
دل کو ناداں کہوں یا وضع کا پابند کہوں
مجھ سے ہوتا نہیں بندوں کو خداوند کہوں
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مضمون کو مختصر الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے؛ لیکن مضمون نگار اس میں ضرورت سے زائد الفاظ استعمال کرتا اور غیر ضروری طوالت سے کام لیتا ہے، یہ موجز اسلوب کے لیے ایک قسم کا نقص ہے، جس سے پر ہیز ضروری ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مضمون تفصیل طلب ہوتاہے؛ لیکن مضمون نگار اس کے اختصار میں اس حد تک اتر جا تا ہے کہ درمیان سے متعدد کڑیاں غائب ہو جاتی ہیں اور مضمون ادق بن جاتاہے۔اس لیے اس سے بھی اجتناب لازم ہے۔ اول الذکر شکل کو ’اطناب‘ اور آخر الذکر شکل کو’اخلال‘ کہا جاتاہے۔
اطناب کی مثال توواضح ہے۔ اخلال کی مثال: ؎
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
اس شعر میں پہلے مصرعے کے بعد یہ متعدد کڑیاں غائب ہیں: مگس کا باغ میں جانے کے بعد چھتہ بنانا، چھتہ سے موم نکلنا، موم سے شمع بنانا، پھر شمع کا جلنا، آخر میں شمع کے عاشق زار پروانوں کا اس کے گرد ہجوم کا ہونا اور ان کا جان دے کر مرجانا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close