مضامین

موجودہ الیکشنوں‌ میں‌منظم حکمت عملی کے لیے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت

محمد یاسین جہازی


19/ ستمبر1945کو وائسرائے ہند لارڈ واویل نے اعلان کیا کہ دسمبر 1945سے جنوری 1946کے درمیان مرکزی اور صوبائی لیجس لیٹیو کونسل کے انتخابات ہوں گے۔ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد ایک ایگزکیٹو کونسل تشکیل دی جائے گی اوراس کے بعد آئین سازی کے لیے اجلاس بلایا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد جمعیت علمائے ہند نے انتخابات کے حوالے سے کل جماعتی متفقہ فیصلہ کے لیے ایک مجلس مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا۔
”دہلی۶/ ستمبر۔ حکومت ہند کی جانب دے مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز کے جدید انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔ اور ملکی سیاسی مجالس نے اس سلسلے میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔
جمعیت علمائے ہند ضروری سمجھتی ہے کہ جلد سے جلد اس سلسلے میں جماعتی فیصلے کا اعلان کردے۔ لہذا مجلس عاملہ (ورکنگ کمیٹی) اور جمعیت مرکزیہ (کونسل آل انڈیا جمعیت علما) کے اجلاس بالترتیب 18-17/ ستمبر اور 18-19/ستمبر 1945کو دہلی میں ہونے قرار پائے ہیں، تاکہ قطعی فیصلہ کیا جاسکے کہ جمعیت علمائے ہند کو اس مسئلے میں ملی اور ملکی مفاد کے پیش نظر کونسی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ جمعیت علمائے ہند نے معاملہ کی اہمیت کا لحاظ کرتے ہوئے آزادی پسند جماعتوں، مثلا آل انڈیا مسلم مجلس، آل انڈیا مجلس احراراسلام، آل انڈیا مومن کانفرنس، کرشک پرجا پارٹی بنگال، انڈی پنڈنٹ پارٹی بہار، خدائی خدمت گار سرحد، انجمن وطن بلوچستان، مسلم نیشنلسٹ پارٹی سندھ وغیرہ اور بعض آزاد خیال مسلم زعمائے ملک کو بھی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ دعوت نامے جاری کردیے گئے ہیں۔ ارکان مجلس عاملہ اور جلسہ مجلس عاملہ کے دیگر مدعوین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 16/ ستمبر کی صبح نو بجے سے پہلے دہلی تشریف لے آئیں اور ارکان جمعیت مرکزیہ 18/ ستمبر کی صبح کو نو بجے سے پہلے دہلی پہنچیں۔
جمعیت علمائے صوبہ دہلی کی جانب سے مجلس استقبالیہ بن رہی ہے، جو مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام کرے گی۔ (محمد وحید الدین قاسمی، دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی)۔“ (مدینہ بجنور، 9/ ستمبر1945۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/757)
مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا قیام
چنانچہ 18-17/ ستمبر1945کی نشستوں میں لمبی بحث و گفتگو کے بعد ”کل ہند مسلم پارلیمنٹری بورڈ“ قائم کیا گیا۔
”آل انڈیا مسلم پارٹیز کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ جس میں جمعیت علمائے ہند کے علاوہ کل ہند احرار اسلام،…… اور قوم پرور خیالات کی حامل کئی اور جماعتیں شامل تھیں۔ اجلاس آئندہ انتخابات میں حصہ لینے اور دیگر امور کی انجام دہی اور قیام نظم کے لیے ایک ”کل ہند مسلم پارلیمنٹری بورڈ“ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔
پارلیمنٹری بورڈ کی صدارت کے لیے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کا اسم گرامی بہ اتفاق رائے طے پاگیا۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/772)
”اس اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین اور نمائندگان کی کل تعداد دو سو چھ تھی۔ اجلاس نے سب سے پہلے ایک تجویز میں ورکنگ کمیٹی کی کارروائی کو قابل مبارک باد قراردیا کہ اس نے وقت کی نزاکتوں پر نظر کرکے ملک کی متعدد آزادی خواہ جماعتوں اور افراد کی شرکت سے ایک آل انڈیا مسلم پارلیمنٹری بورڈ بنایا ہے، تاکہ متحدہ طور پر سب آزادی خواہ مسلمان مرکزی اور صوبجاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/787)
جمعیت کی اراکین مرکزیہ کی مسلمانوں سے اپیل
مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے قیام کے بعد جمعیت کی اراکین مرکزیہ نے آئندہ انتخابات میں حریت پسند مسلمانوں کو ان کا فرض بتلاتے ہوئے ان سے درج ذیل اپیل کی:
”دہلی25/ ستمبر۔ چوں کہ حکومت کے اعلان کے مطابق مرکزی اور صوبائی انتخابات عنقریب ہونے والے ہیں اور چوں کہ اس کی ضرورت ہے کہ مسلمان اس کا فیصلہ کریں کہ آزادی ملک اور پانی موجودہ حالت بہتر بنانے کے لیے، انھیں کسی قسم کے نمائندہ اجتماع جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر دہلی میں ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند، آل انڈیا مومن کانفرنس، آل انڈیا مسلم مجلس، کرشک پرجا پارٹی بنگال، خدائی خدمت گار سرحد، انڈی پنڈنٹ پارٹی بہار اور دوسرے آزادی پسند مسلمانوں نے نہایت غورو خوض کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیاکہ مسلم لیگ کی موجودہ پالیسی اور اس کا نصب العین نہ صرف ملک کے لیے؛ بلکہ خود مسلمانان ہند کے لیے نہایت غلط، ضرر رساں اور تباہ کن ہے۔ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ ایک متحدہ پلیٹ فارم قائم کرکے ایک مرکزی پارلیمنٹری بورڈ کی نگرانی میں مسلمانوں کے صوبائی اور مرکزی الیکشن لڑانے کا انتظام کیا جائے اور اپنے اپنے نمائندے اس بورڈ کے لیے منتخب کردیں۔ چنانچہ اس تجویز کے کے مطابق ایک مسلم پارلیمنٹری بورڈ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی کی صدارت میں قائم کیا گیا ہے۔
پس جمعیت مرکزیہ علمائے ہند تمام مسلمانوں سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ صرف ان امیدواروں کو اپنے ووٹ دیں اور انھیں کو کامیاب بنانے کی پوری جدوجہد کریں، جنھیں مسلم پارلیمنٹری کی تائید و حمایت حاصل ہو۔ ایسے امید واروں کو کامیاب بنانا اس لیے ضروری ہے کہ انھیں نمائندگان کے ذریعہ ہندستان کے مقصد آزادی کے لیے کوشش اور مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور معاشرت وغیرہ کی مکمل حفاظت کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سرکار پرست اور جاہ طلب افراد کی غلط پروپیگنڈہ سے محفوظ رکھیں۔ مسئلہ اتنا نازک اور اہم ہے کہ جذبات کی رو میں بہہ کر نمائشی نعروں سے متاثر ہوکر اگر انھوں نے کوئی غلط قدم اٹھایا، تو یقینا انھیں اتنا سخت نقصان پہنچے گا، جس کی تلافی ناممکن ہوجائے گی۔
مرکزیہ جمعیت علمائے ہند تمام مسلمانوں سے کامل توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنی ملی غیرت اور فرض شناسی کا پورا ثبوت دیں گے۔“ (روزنامہ شہباز، لاہور، 26/ ستمبر1945)
مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا پیغام
”۶/ اکتوبر1945: دہلی آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈکے دفتر نے حسب ذیل احکام جاری کیے ہیں:
ہم آزادی کی خواہ مسلمان اور انگریزی شہنشاہیت اور اس کی سیاسی فوجوں کو شکست دینے اور اپنی زندگی کو بچانے کے لیے آخری جدوجہد میں حصے لے رہے ہیں۔ ہمیں انتخابی محاذ پر بہت سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ اس وقت تمام دنیاوی مصروفیتوں کو چھوڑ دینا چاہیے اور اپنا اولیں فرض یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر حلقہ میں زیادہ سے زیادہ غریب مسلمان – جو ہمارے ہمدرد ہوں – ووٹر بن جائیں۔ ایک منٹ ضائع کیے بغیر ووٹر بنانے کی کوشش شروع کردینی چاہیے۔ ذراسی غفلت تباہ کن ہوگی۔ حکومت نے مسلم لیگ کی آرزو کے مطابق یہ طے کیا تھا کہ صرف امیروں کے ووٹوں سے نیا انتخاب ہو؛ مگر مولانا ابوالکلام آزاد نے اس پالیسی پر ضرب رسید کی اور حکومت کو مجبور کردیا کہ غریبوں کو ووٹر بنایا جائے۔ اس حق سے ضرور فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔“ (مدینہ، بجنور، ۹/ اکتوبر 1945۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/807)
الیکشن کی ہنگامہ آرائیاں
”وائسرائے کے اس (مرکزی و صوبائی انتخابات کے)اعلان کے بعد تمام سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہوگئیں اور پورے ملک میں جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب آگیا اور فلک شگاف نعروں کی دھوم مچ گئی۔ یہ الیکشن درحقیقت ہندستان میں آزادی کی پہلی منزل ہے، تھی اور یہی الیکشن آزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ یہ الیکشن کسوٹی تھی مسلم لیگ کی واحد نمائندگی اور کانگریس کے اس دعویٰ کی: وہ ہندستان کے ہر فرقہ کی نمائندہ ہے۔ الیکشن فرقہ وارانہ بنیاد پر تھا۔ مسلمانوں کو صرف مسلم امیدواروں کو منتخب کرنا۔ اس طرح براہ راست مقابلہ مسلم لیگ اور جمعیت علمائے ہند اور دوسری قوم پرور جماعتوں کے درمیان ہوگیا۔ اگر مسلم لیگ اس الیکشن کے میدان میں سرخ روہوکر نکلتی ہے، تو کوئی طاقت اس کو پاکستان حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی ہے۔ اس لیے مسلم لیگ نے اپنی ساری طاقت اور اپنے سارے حربے اس الیکشن میں استعمال کیے۔“ (تاریخ جمعیت علمائے ہند، جلد اول، ص/155)
مسلم لیگ کے ہتھکنڈے
”مسلم لیگ نے ہر جگہ ”مسلم نیشنل گارڈ“ کے نام سے نوجوانوں کو بارودی رضاکار کی شکل دے دی تھی، جس میں کچی عمر کے نواجوان شامل تھے۔ راقم الحروف کے وطن میں ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ ان کا بارودی جلوس نکلتا تھا۔ پاکستان زندہ باد، سینہ پر گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے، ہندی ہندو ہندستان،لے کے رہیں گے، پاکستان، کے نعرے اس جوش و جذبے سے لگاتے تھے، جیسے سچ مچ نوجوانوں کا یہ دستہ محاذ جنگ پر ہے۔ یہ جلوس پورے قصبہ میں گشت کرتا تھا۔ اس کے ساتھ پرجوش عوام کی بھیڑ ہوتی تھی۔ مسلمانوں کے بعض فرقے، جو علمائے دیوبند کے سخت دشمن ہیں، ان کی دشمنی اور ضد میں سو فی صدی اور بعض خانقاہوں سے وابستہ مریدین کا ایک زبردست حلقہ مسلم لیگ اور پاکستان کا زبردست حمایتی تھا۔ اور قصبہ کے اکثر مال دار افراد بھی ہمنوا تھے۔ اس طرح کے سارے لوگوں کا مجمع اس جلوس میں شامل ہوتا تھا۔ یہ جلوس ہمارے جیسے لوگوں کے سامنے سے گذرتا تھا، تو وہ ناشائستہ حرکتیں کرتا تھا کہ دل و دماغ دونوں کھول جاتے تھے۔ شیخ الاسلام مولانا مدنیؒ اور مولانا آزادؒ پر تبرہ بازی ہوتی اور سارا جلوس قہقہے لگاتا تھا۔……
علما ومشائخ کا ادب و احترام تو دور کی بات تھی، ان کے ساتھ انسانیت و شرافت کا بھی سلوک کرنا مسلم لیگ والوں کے لیے حرام تھا۔ عوام میں غنڈہ گردی کی ایک لہر چل پڑی تھی۔ سماج میں باوقار لوگ کس طرح انسانیت کی سطح سے بھی نیچے اتر آئے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا اس کے سوا کیا کہا جائے کہ پاکستان کے سحر نے ان کو مسحور کردیا تھا اور وہ دیوانوں کی طرح ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے تھے۔ غنڈوں اور بازاری لوگوں کی طرح حرکتیں کرتے تھے۔ سید پور میں مولانا حسین مدنیؒ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ علی گڑھ میں مولانا آزادؒ پر حملہ کیا گیا۔ کلکتہ میں مولانا رعبد الرزاق ملیح آبادی پر اور مولانا محمد نصیر صاحب پر فیض آباد میں چھرے سے حملہ کرکے زخمی کیا گیا۔ بھاگلپور میں مولانا مدنیؒ پر کار میں پیچھے سے حملہ کیا گیا۔ گیا میں مولانا محمد قاسم شاہ جہاں پوری اور مولانا محمد اسماعیل سنبھلی کی ایک مسجد میں گھیر کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ استصواب رائے کا یہ الیکشن اسی ماحول میں ہورہا تھا۔
اسی الیکشن کے زمانہ میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ملتان سے واپس ہورہے تھے۔ لاہور سے پنجاب میل میں سوار ہوئے۔ لاہور اسٹیشن کے لیگی عناصر نے ریلوے کے ٹیلیفون سے آگے والے اسٹیشنوں کو فون کردیا کہ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمان اس ٹرین سے جارہے ہیں، ان کے خلاف شان دار مظاہرہ ہونا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امرتسر، جالندھر، لدھیانہ وغیرہ پنجاب کے جن جن اسٹیشنوں پر پنجاب میل رکنے والا تھا؛ ہرجگہ آبرو باختہ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہواگیا اور ڈبے کو گھیر کر نہایت گندے اور فحش نعرے لگائے۔ مغلظات گالیاں دیں۔ ہندووں کا دلال، زر خرید غلام، عوام کے چندہ کا حرام خور مردہ باد اور سب کی تان ٹوٹتی تھی”پاکستان زندہ باد“، ”لے کے رہیں گے پاکستان“پر، اور جب نعروں سے تسلی نہیں ہوئی، تو ریلوے لائن سے پتھروں کے ٹکڑے لے کر ڈبے پر برسانان شروع کردیا۔ صرف ۲ نفر عمر رسیدہ مقدس مظلوم ایک، سیکڑوں اور ہزاروں کی بے قابو بھیڑ دوسری طرف اور ہر حرکت پر آمادہ۔ اللہ محافظ تھا۔ ان دونوں بزرگوں کو کوئی خاص چوٹ نہیں آئی؛ البتہ مجاہد ملت کے ایک ہاتھ پر چوٹ آئی۔ کھڑکیوں کے شیشے چور ہوگئے۔ پھر لکڑی اور جالیوں والی کھڑکیاں چڑھادی گئیں، تو وہ بھی جگہ جگہ سے ٹوٹ گئیں۔
مولانا آزادؒ شملہ سے کلکتہ جارہے تھے، اسی ٹرین سے لیگی لیڈروں کی ایک ٹیم بھی سفر کررہی تھی۔ روانگی کے وقت یونی ور سیٹی میں ٹیلیفون کردیا گیا کہ طلبہ اسٹیشن پر آجائیں۔ مولانا آزاد اسی ٹرین سے چل رہے ہیں۔ یونی ورسیٹی میں خبر پھیل گئی۔ طلبا کا ایک جم غفیر ٹرین پہنچنے سے پہلے ہی اسٹیشن پر پہنچ گیا۔ جوہر تعلیم سے آراستہ مسلمان گھرانوں کے چشم و چراغ، مہذب خاندانوں کی اولاد نے پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر اپنی شرافت و تہذیب کا وہ مظاہرہ کیا کہ شرافت و انسانیت نے اس طرف سے نگاہیں پھیرلیں؛ کیوں کہ ان کی پتلونیں کھلی ہوئی تھیں۔ اور جب ٹرین چلنے لگی تو زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روک دیا گیا۔ اس طرح ایک گھنٹہ مسلسل اور بار بار ٹرین کو روک کر مولانا آزاد کے ڈبے کے سامنے ننگا ناچ ہوتا رہا۔ غلاظت سے بھرے ہوئے جملے، گالیاں، فحش نعرے اس رقص بے محاباکے لیے تال سر کا کام دے رہے تھے۔“ (تاریخ جمعیت علمائے ہند، جلد اول، ص/1958-60)
شیخ الاسلام کو قتل کرنے کی کوششیں
جمعیت علمائے ہند اور مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کو متعدد بار قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ چنانچہ 29/ ستمبر1945کو سید پور بنگال میں ایک بے ہنگم بھیڑ نے آپ پر حملہ کردیا۔
سید پور بنگال میں قتل کی کوشش
”29/ ستمبر۔ دوسرے روز ناشتہ کے بعد علمی مجلس رہی۔ عصر کے بعد نماز عصر ڈومر میں تقریر فرمائی۔ بعد مغرب سید پور روانہ ہوئے۔ وہاں لیگی غنڈوں کے ایک جم غفیر نے حضرت اور ان کے رفقا کو گھیر لیا اور راستہ روک دیا۔بمشکل تمام پلیٹ فارم سے باہر نکلے۔ لیگی بلوائی حضرت کو کسی صورت سے آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ سیاہ جھنڈیاں لیے ہوئے مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ اکثر غنڈے شراب کے نشے میں مست تھے۔ایک لیگی نے حضرت مدنی مدظلہ کے سر سے ٹوپی اتارلی۔ لیگیوں نے رفقائے سفر کو پوری سرگرمی سے گھونسوں اور مکوں سے زود کوب کیا۔ گاڑی بان کو زخمی کردیا۔ پولیس کو خبر دی گئی، لیکن منزل مقصود یعنی اس گاوں تک پہنچانے کی ذمہ داری نہ لے سکی۔ اس لیے آگے بڑھنا لیگیوں نے ناممکن کردیا تھا۔شب بھر اسٹیشن ہی پر واپس ہوکر قیام فرمایا۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/798)
کٹیہار بہار میں حملہ
”30/ ستمبر1945: صبح کو واپس کٹیہار تشریف لائے۔ یہاں کا واقعہ اپنی نوعیت میں سب سے زیادہ شرمناک اور افسوس ناک ہے۔ لیگیوں نے (جن میں شہر کے غنڈوں کے علاوہ اسکو کے طلبہ زیادہ تھے) ایک گھڑے میں کیچڑ گھولا اور ایک ہار بوسیدہ جوتوں کا، ایک شہد کا چھتہ نالی کی غلاظت میں ڈبوکر لائے۔ سیاہ جھنڈیاں دکھا کر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔
حضرت بھاگلپور جانے والی گاڑی میں سکنڈ کلاس کے ڈبہ میں تشریف فرما تھے۔ ڈبے کے پاس آکر نہایت فحش اور گندی گالیاں اور نعرہ لگالگا کر شور مچارہے تھے۔ ان کی تعداد بہت کافی تھی۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/798)
بھاگلپور بہار میں حملہ
”یکم اکتوبر1945: دن کو ناتھ نگر میں، پھر چمپا نگر میں عظیم الشان جلسے ہوئے۔ …… سہ پہر کو جلسہ گاہ جاتے وقت لیگیوں نے شور برپا کیا، جو بیان سے باہر ہے۔ یہاں حضرت کو غنڈوں نے گھیر لیا۔ یہاں بھی شہر کے غنڈوں کے علاوہ مسلم ہائی اسکول کے طلبا کے ایک جم غفیر نے حضرت کے رفقا کو گھیر لیا۔ اور جلسہ گاہ جانے سے روکنے لگا۔ تیس چالیس لڑکے سیاہ جھنڈیاں لیے ہوئے تھے۔ غدار قوم مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، مکے گھونسے چلانے لگے۔ خدا کے فضل سے حضرت کو ضرب نہیں آئی۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/799)
لیگیوں کی شرم ناک حرکتوں پر مولانا مدنیؒ کا جواب
”شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی مد ظلہ نے حسب ذیل بیان شائع کیا ہے:
”جو بدعنوانیاں میرے ساتھ سید پور، کٹیہار، بھاگلپور میں اور حضرت مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ابوالوفا، مولانا محمد قاسم شاہ جہاں پوری اور مولانا عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی کے ساتھ علی گڑھ، گیا اور کلکتہ میں مسلم لیگیوں نے جو خلاف انسانیت اور اسلامیت سوز بد عنوانیاں کی ہیں، یا دہلی اور کان پور میں آزادی پسند مسلم جماعتوں کے ساتھ عمل میں لائی جارہی ہیں، وہ یقینا ملت اسلامیہ کے لیے شرم ناک ہیں؛ مگر میں تمام مسلمانوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ صبرو استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور ان بدنام کنندگان ملت اسلامیہ کے جواب میں کسی بد تہذیبی کو عمل میں نہ لائیں۔
حقیقی جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے امن و سکون کے ساتھ مہذب طور پر پوری جدوجہد کی جائے، تاکہ مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے نامزد امیدوار کامیاب ہوں۔ اگر آپ ایسا کرنے میں فائز المرام ہوگئے، تو لیگ اور اس کی مجرمانہ شوخیاں خود بخود مرجائیں گی اور ہندستان آزادی کے کنارے پر پہنچ جائے گا۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص/962)
یہ مکمل تاریخ اس لیے بیان کی گئی ہے، تاکہ اس کے نفع و نقصان سے روشنی حاصل کرکے ہم اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں۔ اگر آج ہم مسئلہ آزادی کی طرح مشترک مسائل کو مدعا بناکر ووٹروں کے لیے گائڈ لائن تیار کریں تو حالات میں انقلاب آنا مشکل نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: