مضامین

موجودہ حالات اور ملت کا لائحہ عمل

سراج الدین ندویؔ چیر مین۔ملت اکیڈمی،بجنور 9897334419

ملک اور ملت کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔قائدین ڈور سلجھانے کی کوشش کررہے ہیں مگر ڈور ہے کہ مزید الجھتی جارہی ہے۔ملت کے سامنے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ایک جسم ہے اور ہزار آزار ہیں۔اس لیے علاج اور دوائیں بھی مختلف قسم کی درکار ہیں۔پرہیز بھی سخت کرنا ہے۔تبھی جاکر بیماری پر کچھ قابو پایا جاسکتا ہے۔میں نے جو کچھ ان حالات میں مسائل کا حل سوچا ہے وہ آپ کے سامنے پیش کیے دیتاہوں۔میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میری تجاویز حرف آخر ہیں،ان کے علاوہ بھی بہت سے مشورے ہوسکتے ہیں۔پھر آپ سے گزارش ہے کہ درج ذیل تجاویز پر غور ضرور فرمائیں اورممکنہ حد تک عمل کرنے کی کوشش کریں۔
پہلی تجویز یہ ہے کہ مسلمان اپنی حیثیت کو پہچانیں۔وہ اُس فرق و امتیاز سے واقف ہوں جو ان کے اور دوسری اقوام کے درمیان ہے۔ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم بھی خود کودیگر اقوام کی طرح ایک قوم سمجھ بیٹھے ہیں۔جب کہ مسلمان خیر امت ہیں۔اللہ کے پیغام کے امین ہیں۔قیامت تک دنیا کی رہنمائی کرنا اور انسانوں کو سیدھا راستا دکھانا ان کی ذمہ داری ہے۔وہ داعی ہیں۔وہ اللہ کی طرف سے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے اعلیٰ منصب پرفائز کیے گئے ہیں۔وہ آخری رسول ؐ کے امتی ہیں اور آخری رسول نے ان کے اوپر یہ ذمہ داری عائد کی تھی کہ اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔اب تم ہی وہ انسانی گروہ ہو جسے رہتی دنیا تک انسانوں کی ہدایت کا فریضہ انجام دیناہے۔مسلمانوں کے پاس ہی وہ نسخہ ئ کیمیا ہے جسے انھوں نے غلافوں اور جزدانوں میں چھپا کر رکھا ہے جس میں ساری انسانیت کے مسائل کا حل ہے۔موجودہ دور کا مسلمان بغل میں عصائے موسوی دبائے ساحر کی رسیوں سے خوف کھارہا ہے،تریاق اس کے پاس ہے پھر بھی جان بچانے میں ناکام ہے۔کیوں کہ وہ خود اپنی حقیقت سے نا آشنا ہے۔اقبال نے کہاتھا:
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ کھیتی بھی تو باراں بھی تو حاصل بھی تو

آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو رہرو بھی تو،رہبر بھی تو منزل بھی تو
اس لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنے مقام و منصب کو پہچانیں اور اپنے مقصد تخلیق کا شعور حاصل کریں۔جب تک انھیں اپنے مقصد وجود کا علم نہ ہوگا ان پر منزل واضح نہ ہوگی اور جب تک منزل واضح نہ ہوگی ان کی سمت سفر بھی ٹھیک نہیں ہوگی۔پس ان کا منصب یہ ہے کہ وہ رنمائی اور رہبری کے بلند مقام پرفائز ہیں،ان کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دنیا میں نیکی کو فروغ دیں اور برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔مقصد زندگی کا یہ شعور ان کے اندر زندگی کی امنگ پیدا کرے گا،انھیں صبر اور حوصلہ عطاکرے گا۔انھیں ان انسانوں کی فکر ہوگی جو جھنم کی جانب رواں دواں ہیں۔پھر انھیں ریت پر گھسیٹاجائے یا بھڑکتی آگ میں ڈالا جائے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پھر وہ کلمہئ حق کی سربلندی میں جو زخم کھائیں گے وہ انھیں درد کے بجائے لذت دیں گے۔پھر وہ دشمن کی گالیوں کو اپنے حق میں باعث اجر گردانیں گے۔اپنے ہم وطنوں کے دوزخ میں جانے کا غم انھیں ہر غم سے نجات دے دے گا۔
مقصد زندگی کا یہ شعور انھیں عمل کی طرف گامزن کرے گا۔پھر وہ ہر قدم پر سوچیں گے کہ اس کے اثرات ہمارے وطنی بھائیوں پر کیا اور کیسے مرتب ہوں گے۔پھر وہ جھوٹ بولنے اور جھوٹے وعدے کرنے،کم ناپنے اور کم تولنے،کسی کو ہاتھ اور زبان سے ایذا پہنچانے سے بچیں گے کیوں ان کے عمل سے ان کے دین کا تعارف ہونے کا احساس انھیں برائیوں اور گناہوں سے روکے گا۔داعی قوم ہونے کا احساس انھیں باہمی انتشار و افتراق سے باز رکھے گا۔ایک مسلمان جب جب کسی مسلمان سے اختلاف کرے گا اسے یاد آجائے گا کہ میری طرح اسے بھی دینی امور پر غورو خوض کرنے اور نتائج اخذ کرنے کا حق ہے۔وہ مسلکی اور فقہی موشگافیوں کو یہ کہہ کر درکنار کردے گا کہ اگر کسی کے پاس میرے آقا کی سنت اور حدیث موجود ہے تو وہ شخص مجھے اختلاف مسلک کے باجود پیارا اور محبوب ہے۔
تعلیم کی اہمیت،ضرورت اور افادیت سے کون واقف نہیں ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ حضرت آدم ؑ کو فرشتوں پر فوقیت علم کی بنیاد پر ہی حاصل ہوئی،قرآن کے نزول کا آغاز لفظ اقراء سے ہوا۔ماضی میں مسلمانوں کے عروج کا ایک سبب اگر ان کا دین اور ایمان تھا تو دوسرا بڑا سبب یہ تھا کہ انھوں نے علمی میدان میں رہنمائی کا رول ادا کیا۔وہ بعثت بنوی کے بعد ایک ہزار سال تک میدان علم کے شہسوار رہے۔اس لیے آج بھی ضرورت ہے کہ اپنی علمی وراثت کو آگے بڑھایا جائے۔تعلیم و تعلم کے سلسلے کو دراز کیا جائے۔ جہاں ایک طرف ہم شرعی مسائل کا علم حاصل کریں وہیں علم نافع حاصل کرکے دنیا کو مستفیض کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اہم کام جو مسلمانوں کو کرنا ہے وہ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہچانا ہے۔یہ کام انھیں اپنی ہر پریشانی اور مشکل کو بھلادے گا۔بھارت کی سو کروڑ کی آبادی جس تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا ہے،جو خدا کے سامنے بروز حشر یہ کہہ کر الگ ہوجائے گی کہ تیرے تیس کروڑ لوگ،دن میں پانچ بار تیرا نام پکارتے تھے،رمضان اور عیدین بھی مناتے تھے ،لیکن انھوں نے ہمیں کبھی نہیں بتایا کہ تیرا قرآن اور تیرا رسول ہمارے لیے بھی تھے۔بلکہ بھارت کے یہ مسلمان تو وہ ہیں جنھوں نے ہمیں غیر سمجھا،کافر کہہ کر پکارا،ہم نے کبھی قرآن کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو روک دیا کہ تم ناپاک ہو،انھوں نے اپنی سجدہ گاہوں کے دروازے ہم پر بند رکھے،ان کے اس رویے سے ہم خوف زدہ ہوگئے،ان کے گلی محلوں سے بھی نکلتے ہوئے ڈرنے لگے۔ذرا سوچیے اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟جب کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ حشر کے دن ہر امت پر اس کا رسول گواہی دے گا اور ہر رسول کی امت اپنے رسول کے بعد والے لوگوں پر گواہ ہوگی۔
ہمارا ایک مسئلہ ہماری سیاسی بے وزنی اور سیاست کے میدان میں قیادت کا فقدان ہے۔اگر ہم یہ طے کرلیں کہ ملت اور ملک کے مفاد میں اپنے ذاتی مفاد کو قربان کردیں گے تو بآسانی اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں ۔ہمارے درمیان مخلص قائدین کی کمی نہیں لیکن ہم ان پر اعتماد نہیں کرتے،انھیں موقع نہیں دیتے اور جن کو موقع دیتے ہیں وہ قوم کو فریب کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ہماری افادیت کیا ہے؟ہم سے اپنی ذات کو اور اہل محلہ و اہل بستی کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟جو چیز مفید نہیں ہوتی اس کی قدر نہیں ہوتی۔یہ اللہ کا بھی قانون ہے وہ بھی مفید چیزوں کی جڑوں کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔ہم تعلیم حاصل کرکے مفید ہوسکتے ہیں۔ہم نے گزشتہ چار سو سال میں کوئی ایسی چیز ایجاد نہیں کی جس پر دنیا فخر کرے۔یہ الگ بات ہے کہ موجودہ چیزوں کے استعمال سے کچھ چیزیں ہیں جن کا نام آپ لے سکتے ہیں کہ بھارت میں میزائل مین اے پی جے عبد الکلام ہوئے۔یا ہم سایہ ملک میں ایٹم بم کے بانی عبد القدیر ہوگئے۔لیکن ان دونوں ایجادات سے عام انسانوں کو کیا فائدہ ہوا؟ جب کہ غیر اقوام میں سے کسی نے سفر کی آسانیاں بہم پہنچائیں،کسی نے رابطے آسان کردیے،کسی نے دنیا کو کاغذ سے نجات دلائی،کسی نے طب کی دنیا میں آسانیاں فراہم کیں۔لیکن ہم نے دنیا کو کیا دیا؟یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔کم سے کم یہ ہی طے کیجیے کہ ہم دنیا کو کچھ دیں نہ دیں لیکن دکھ نہ دیں گے،تکلیف نہیں پہنچائیں گے،بلکہ پیار اور محبت سکھائیں گے۔ہمیں یہ طے کرنا چاہئے کہ ہماری نسلیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا کو مزید سہولتیں فراہم کرنے والی چیزیں ایجاد کریں گی۔بقول حفیظ میرٹھیؒ:
یہ بھی تو سوچیے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیادیا
آخری بات یہ ہے جسے اقبال کی زبان میں کہہ سکتے ہیں ؎ ”سادگی اپنی بھی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ“
میں سمجھتا ہوں کہ اپنے مقصد تخلیق کو پہچان کر اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے کردار کو سنوار کر اور بندگان خدا کو دوزخ سے بچانے کی فکر کرکے ہم خود بھی مسائل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں اور دنیا کو مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔

٭مضمون نگار ماہنامہ اچھا ساتھی کے مدیراور سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: