اہم خبریں

”موجودہ سیاست: سیاسی اصولوں کے تناظر میں“ کے موضوع پر سیمینار

لکھنؤ: ملک اور سماج کو ایک بہترین سیاسی اقدار دینے کے لئے سیاست میں ایسے لوگوں کو آنا ضروری ہوگا جو بہترین سیاسی اصولوں کے علمبردار ہوں۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو اگر تبدیل کرنا ہے تو اس کے لئے صرف گفتگو اور سیمینار سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لئے ایسے لوگوں کو سیاسی میدان میں اترنا ہوگا جو آئینی اقدار کو فروغ دینے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
ان خیالات کا اظہار سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر انیس انصاری نے آج یوپی پریس کلب میں انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (ایشو) کی جانب سے ”موجودہ سیاست: سیاسی اصولوں کے تناظر میں“ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے کیا۔ ایشو کے بینر تلے ہونے والے سیمنار کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر انیس انصاری نے کہا کہ اگر سماج کا پڑھا لکھا طبقہ اور جمہوری آئین کو فروغ دینے کا خواب رکھنے والے لوگ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے تو سیاست میں ایسے ہی لوگ آئیں گے جو سیاسی اقدار سے ناواقف ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور ریاست میں جو پسماندہ قومیں ہیں ان کی ترقی کے لئے اور ان کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے ہم سب کو آگے آنا ہوگا، اور اگر ان کا ڈیولپمنٹ سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہو تو ان کی ترقیات کے لئے سیاست میں آنا ضروری ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (ایشو) کی جانب سے آج یوپی پریس کلب میں سیمینار کے ساتھ ہی ایک استقبالیہ پروگرام رکھا گیا تھا جس میں ڈاکٹر انیس انصاری کو اترپردیش کانگریس کمیٹی میں سابق آفیسرز تنظیم کا چیئرمین بنائے جانے اور طارق صدیقی کو آل انڈیا پروفیشنل کانگریس یوپی مشرق کا صدر بنائے جانے پر استقبالیہ پیش کیا گیا۔
آل انڈیا پروفیشنل کانگریس یوپی مشرق کے صدر طارق صدیقی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت ہم نے ایسے ملک کا باشندہ بنے رہنے کو قبول کیا جس کا پورا نظام آئین کے مطابق چلے، جب ہم نے جمہوری ملک کو قبول کیا تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس جمہوری ملک کا حصّہ بنیں۔ طارق صدیقی نے کہا کہ کووڈ۔۹۱ کی دوسری لہر میں جس طریقہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامیاں سامنے آئی ہے اس سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کا رخ تبدیل ہوتا اور اس کا موجودہ سسٹم سے اعتماد اٹھ جاتا لیکن آج بھی ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اسی سسٹم کا مدّاح بنا ہوا بیٹھا ہے جو اس بات کا عکاس ہے کہ عوام کو ایسے ہی سسٹم پسند ہیں۔ دوسری طرف ہندستانی تاریخ کی ایک بڑی تحریک (کسان آندولن) سے اگر موجود سیاسی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے تو یہ ایک بڑا لمحہئ فکریہ ہے۔
اس موقع پر طارق صدیقی نے کہا کہ مجھے جو ذمہ داری دی گئی ہے میں کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کر سکوں اور ان کی تجاویز و مشورہ کے ساتھ آگے کا لائحہئ عمل تیار ہو۔
سیمینار کی نظامت کرتے ہوئے ایشو کو بانی و جنرل سکریٹری محمد خالد نے کہا کہ ایشو کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اور عوامی اسکیموں کو عوام تک پہونچائے اور حکومت و عوام کے بیچ میں ایک پُل کی طرح کام کرے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایشو کے دو اہم ذمہ داروں کو کانگریس پارٹی میں اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں، ہم ان دونوں لوگوں سے یہی امید کرتے ہیں کہ یہ عوامی مفاد میں بہترین کام انجام دیں گے۔
سیمنار سے سبکدوش آئی جی آفتاب احمد خان، مولانا ذکی نور عظیم ندوی، سحر علیگ، سینئر صحافی عبیداللہ ناصر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر الطاف الرحمان، ڈاکٹر آفتاب ہاشمی، سہیل صدیقی، ڈاکٹر ہاشم ادریسی وغیرہ شریک تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: