اسلامیات

موزہ پر مسح کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (18) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

چمڑے کا موزہ یا وہ اونی ، سوتی موزہ جو موٹا اور اتنا گاڑھا ہو کہ اس میں پانی بھر دے تو نہ چھنے اور بغیر باندھے پنڈلی پر قائم رہے اور کم از کم ٹخنے کو چھپائے اور وضو کے بعد پہنا ہو اور اگر بے ترتیب وضو کیا ہو تو کم از کم پاؤں دھوکر پہنا ہو اور اس کے بعد وضو پورا کرلیا ہو ، اس کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو اس دوسرے وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے موزہ پر مسح کرلینا درست ہے ۔ اگر مقیم ہے تو موزہ پہننے کے بعد جس وقت حدث ہوا ہے اس وقت سے دوسرے دن اسی وقت تک یعنی چوبیس گھنٹے تک اس موزہ پر مسح کرسکتا ہے ۔ اور اگر مسافر ہے تو اس وقت سے تین دن تین رات تک برابر اس پر مسح کرسکتا ہے ۔ اگر اس درمیان میں ایک موزہ بھی نکال لے گا، یا موزہ کے اندر پانی بھر جائے گا، یا پاؤں کی چھوٹی تین انگلی کی مقدار موزہ پھٹ جائے گا تو مسح ٹوٹ جائے گااور دنوں پاؤں دھونا پڑے گا۔
موزہ پر مسح کا ثبوت حدیث مشہورہ ، بلکہ متواترہ سے ہوا ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ مجھ سے ستر صحابہ کرامؓ نے بیان کیا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے موزہ پر مسح کیا ہے ۔ امام ابو یوسف ؒ نے فرمایا: مسح کی حدیثیں مشہور ہیں، اس سے کتاب اللہ کا نسخ جائز ہے۔ امام کرخیؒ نے فرمایا: جو شخص موزہ پر مسح کو جائز نہ سمجھے، اس کے کافر ہونے کا خوف ہے ، اس لیے کہ اس کے بارے میں حدیثیں متواتر کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہیں۔امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: موزہ پر مسح کے بارے میں میرے دل میں کوئی خلجان نہیں ہے ۔ اس بارے میں صحابہ رسول اللہ ﷺ سے چالیس حدیثیں ہیں، کچھ مرفوع کچھ موقوف۔ شیخ الاسلامؒ نے فرمایا: جو شخص موزہ پر مسح کرنے کو جائز نہ سمجھے، تو وہ گمراہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے اہل سنت والجماعۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو امام صاحبؒ نے فرمایا: جو شیخین کو (یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمرکو ) باقی صحابہ کرام پر فضیلت دے اور ختنین (یعنی حضرت عثمان اور حضرت علی) سے محبت رکھے اور موزہ پر مسح کو جائز سمجھے ۔ اور امام صاحب کا یہ قول اصل میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قول سے ماخوذ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
ان السنۃ ان تفضل الشیخین و تحب الختنین و تریٰ المسح علیٰ الخفین۔ (کبیری)
سنت یہ ہے کہ شیخین کو فضیلت دے اور دونوں داماد سے محبت رکھے اور موزہ پر مسح کو جائز سمجھے۔
عن المغیرۃ بن شعبۃ قال: کنتُ مع النبی ﷺ فتوضأ فاھویت لانزع خفیہ، فقال: دعھما فانی ادخلتھما طاھرتین فمسح علیھما (متفق علیہ)
حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا، تو میں آپ ﷺ کے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو چھوڑ دو، میں نے اس کو طہارت کی حالت میں داخل کیا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے دونوں پر مسح کیا۔
اس حدیث سے دو بات ثابت ہوئی : ایک یہ کہ موزہ پر مسح کرنا جب ہی درست ہے کہ دونوں کو طہارت پر پہنا ہو، یعنی وضو کے بعد پہنا ہو۔ دوسری بات یہ کہ بجائے پاؤں دھونے کے جو وضو میں فرض ہے صرف مسح کرلینا کافی ہے۔
عن ابی موسیٰ قال: ان رسول اللّٰہ ﷺ مسح علیٰ جوربیہ و نعلیہ۔ (رواہ الطحاوی رویٰ احمد والترمذی و ابو داؤد وابن ماجہ نحوہ)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پاتابے پر اور نعلین پر مسح کیا۔
یعنی اصل میں پاتابہ پر مسح کیا اور تبعا نعلین پر بھی کرلیا۔ ورنہ صرف نعلین پر مسح درست نہیں، اس لیے کہ وہ تو صرف اوپر سے فیتے ہوتے ہیں ، وہ پاؤں بالکل نہیں چھپاتے۔ معلوم ہوا کہ نہ صرف موزہ پر مسح جائز ہے ؛ بلکہ پاتابہ پر بھی جائز ہے اسی شرط کے ساتھ جو اوپر مذکور ہوا۔
عن ابی بکرۃ عن النبی ﷺ ، انہ رخص للمسافر ثلاثۃ ایام و لیالیھن و للمقیم یوما و لیلۃ اذا تطھر فلبس خفیہ ان یمسح علیھا۔ (رواہ الاثرم فی سننہ وابن خزیمہ والدار قطنی، و قال الخطابی ھو صحیح الاسناد ھٰکذا فی المنتقیٰ و صححہ ابن خزیمہ)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے موزہ پر مسح کرنے کی مسافر کو تین دن اور تین رات کی رخصت دی اور مقیم کو ایک دن ایک رات کی، جب کہ پہلے وضو کرلے پھر موزہ پہنے۔
جب غسل کی حاجت ہو تو اس وقت موزہ پر مسح درست نہیں ؛ بلکہ موزہ نکال کر پاؤں دھونا ہوگا۔
عن صفوان بن عسال قال: کان رسول اللّٰہ یامرنا اذا کنا سفرا ان لانزع خفافنا ثلاثۃ ایام و لیالیھن الا عن جنابۃ و لکن من غائط و بول و نوم (رواہ النسائی والترمذی، و قال الترمذی حدیث صحیح و صححہ ابن خزیمہ)
حضرت صفوان بن عسال بیان کرتے ہیں کہ ہم جب سفر میں ہوتے تو ہم کو رسول اللہ ﷺ حکم دیتے کہ تین دن اور تین رات موزہ کو نہ نکالیں، مگر جنابت سے ، لیکن پاخانہ پیشاب اور سونے کی وجہ سے موزہ پر مسح کا حکم دیتے۔
یعنی جنابت کی حالت میں موزہ کے نکالنے اور پاؤں دھونے کا حکم دیتے، لیکن پیشاب پاخانہ او ر سونے کی حالت میں موزہ پر مسح کا حکم دیتے ۔معلوم ہوا جنابت کی حالت میں موزہ کا نکالنا ضروری ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: