مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری:‌تعلیم روحانی وتزکیۂ باطن

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

تعلیم روحانی وتزکیۂ باطن
انسان کےکامل ہونےکےلئےعلم باطن بھی اتناہی ضروری ہے،جتناکہ علم ظاہر،بلکہ علم باطن ہی تمام علوم ظاہرہ کی روح ہے،علم ظاہر ذہن ودماغ کی تربیت کرتاہے توعلم باطن قلب وروح کی،علم باطن ہی علم ظاہر کاسمت سفرمتعین کرتاہے،علم ظاہر ایک لبادہ ہے جس کے اندرایک حقیقت مستور ہوتی ہے ،اسی حقیقت کودریافت کرنے کانام علم باطن ہے ، علم باطن ہی صحیح طور پرخلوت وجلوت میں انسان کی نگرانی کرسکتاہے،اعمال صالحہ تقویٰ کےبطن سے پیداہوتے ہیں،اسی لئےہردورکےعلماء اورخواص کےیہاں صوفیانہ مزاج ومذاق اور تزکیۂ باطن کارجحان ملتاہے،اہل علم ہمیشہ معرفت کی دکانوں سےسودائے دل کے خریدار رہے ہیں ،علم ظاہر نے دواماًعلم باطن سےجِلاحاصل کی ہے،اورعلم کےعلونےفقر غیور کی مسکنت سے زندگی کاادب سیکھاہے،ہمیشہ اسی طرح ہواہےاورآئندہ بھی اسی طرح ہوتارہے گا،اور جب تک اس پاک روایت کاتسلسل قائم ہےاس امت کےلئےخیرو صلاح کی ضمانت بھی برقرارہے۔۔۔۔۔۔
مولاناؒ کاذوق تصوف خاندانی تھا
حضرت مولانامحمدسجاد صاحب ؒ بھی اسی قدسی روایت کے امین اور شریعت و طریقت کےمجمع البحرین تھے،اوریہ چیزان کوخاندانی ورثہ میں ملی تھی،تصوف کامذاق اس خانوادہ کی سرشت میں موجودتھا،والدماجدمولوی حسین بخش صاحب بڑےمتقی،دیندار، قانع ،متوکل اور مولوی سے زیادہ صوفی بزرگ تھے،سلسلۂ نقشبندیہ کےصاحب نسبت بزرگ حضرت قاری سیداحمد صاحب شاہ جہاں پوریؒ سے بیعت تھے ،پیرومرشد کودعوت دے کراپنے گھر (پنہسہ) لائے اور یہاں بیعت ہوئے ،اپنے بڑے صاحبزادے صوفی احمدسجاد ؒ کوبھی ان سے بیعت کرایا،رشتہ کےداماداورپورےعلاقےکےسب سےمرکزی اوربافیض عالم دین حضرت مولاناسید وحیدالحق استھانویؒ بھی حضرت قاری صاحب ؒ ہی کے دست گرفتہ تھے ،غرض
ع ایں خانہ ہمہ آفتاب است
حضرت قاری سیداحمدشاہجہاں پوری نقشبندیؒ سےبیعت
خاندان کاایک ایک فرد روحانیت کی لذت سےآشنااورمعرفت کے ذوق کادلدادہ تھا، پھر حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کے قدم اس روش پر پیچھے کیسے رہ سکتے تھے؟تعلیم ظاہری کی رسمی تکمیل سےقبل ہی مولانامحمدسجادصاحب ؒ حضرت قاری سیداحمدصاحب شاہ جہاں پوری ؒ کےشجرۂ طوبیٰ سے وابستہ ہوگئے تھے،جو ان کے گھر،سسرال بلکہ پورے خطےکےپیر ومرشد تھے،مولانامنت اللہ رحمانی صاحب تحریرفرماتے ہیں:
"مولاناپہلی شادی کےبعدہی حضرت قاری سیداحمدصاحب شاہ جہاں پوری
سے مرید ہوچکے تھے ”
حضرت مولاناکی پہلی شادی مولانا منت اللہ رحمانی صاحب ؒکےمطابق اکیس (۲۱) برس کی عمر میں ۱۳۲۰؁ھ مطابق ۱۹۰۲؁ء میں ہوئی ۔
جب کہ مولانازکریافاطمی ندوی صاحبؒ کے بقول پہلی شادی مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد جانے سے قبل ہی ہوگئی تھی،یعنی ۱۳۱۷؁ھ مطابق ۱۹۰۰؁ء سےقبل،جب آپ کی عمر شریف اٹھارہ(۱۸)سال کی تھی ،
مولانامحمدسجادؒکی تعلیم کی رسمی تکمیل اوردستاربندی جیساکہ پہلے ذکرآچکاہے ۱۳۲۲؁ھ مطابق ۱۹۰۴؁ء میں ہوئی،یعنی تعلیم ظاہر کی تکمیل کے ساتھ ہی عین عنفوان شباب میں تعلیم باطن کاسلسلہ بھی شروع ہوگیاتھا۔
اجازت وخلافت
مولانانے جس طرح علوم ظاہری میں تیزی کےساتھ کمال حاصل کیا،علوم باطن میں بھی آپ نےبہت جلدترقی کی،اورکمال تک پہونچ گئے،تکمیل سلوک کےبعدحضرت شیخ ؒنےآپ کواجازت وخلافت سے بھی سرفراز فرمایا ،۔۔گوکہ آپ نے اپنے طبعی انکسار و بے نفسی کی بناپر ہمیشہ اپنےکمالات کے باطنی حصہ کااخفاہی فرمایا،ملک میں بہت سے صاحب سلسلہ مشائخ موجود تھے ،لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے ،لیکن آپ نے کبھی اپنے مقام ارشاد کی تشہیر نہیں کی،اور نہ اپنی صوفیانہ تعلیمات کی طرف لوگوں کودعوت دی،اکثرلوگ توجانتے بھی نہیں تھے کہ مولاناعارف کامل اور شیخ طریق بھی ہیں،البتہ کوئی بہت زیادہ اصرار کرتاتو اس کوبیعت فرمالیتے تھے،یاطریقت کی تعلیم دےدیتےتھے،روحانی ذوق ومزاج کے حامل صاحب قلم حضرت شاہ ابوطاہرقاسم عثمانی فردوسی صاحب ؒ کی شہادت دیکھئےکہ”ولی راولی می شناشد”:
"حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب ؒ کولوگ توعموماًایک متبحرعالم ،
بےمثل مدبر،اوروقت کاایک زبردست مفکراسلام سمجھتے ہیں ،مگرمیں تو
مولاناؒکو ان محامدکے ساتھ ایک عالم باعمل ،صوفی باصفا،اور عارف باخدا
سمجھتاہوں ،ہماری آنکھوں نے توان کوتلاوت قرآن کے وقت مکیف اور
بے خود دیکھاہے،میں نے دیکھاکہ ایک ایک آیت کوباربارپڑھتے ہیں،
اور آنکھوں سے آنسورواں ہے،میں نے دیکھاہےکہ وہ قبلہ رخ جانماز
پردونوں پاؤں اٹھائے ہوئےبطوراحتواءتشریف فرماہیں ،پاؤں کے گرد
ہاتھوں کا حلقہ ہے،آنکھیں بندہیں،ساکت، بے حس وحرکت بیٹھے ہیں،
آنکھیں اشکبارہیں اور محویت کاعالم طاری ہے۔
یہ تو معلوم ہے کہ وہ طریقۃً اورمشرباًنقشبندی تھے،مگرکم لوگوں کومعلوم
ہےکہ وہ صاحب ارشاد بھی تھےایک سفرمیں میں ریل میں ساتھ تھا،
آپ نے بیگ سےقرآن مجیدنکالا،اوراس کےجزودان سےچنداوراق
نکال کرمجھےعنایت فرمائےاورخودتلاوت میں مشغول ہوگئےان اوراق
میں تمام نقشبندی تعلیمات مرقوم تھے،جوان کوان کےشیخ سےپہونچے
تھے،جب وہ تلاوت سےفارغ ہوئے،تومیں نےعرض کیا، کیا میں ان
تعلیمات کولکھ لوں ؟آپ نے فرمایا:لکھ لیجئے ،اللہ برکت عطافرمائے۔
مولانامرحوم بیعت طریقت بھی لیتے تھے،مگربہت کم،جب
کسی نےبہت اصرار کیاتولے لیا،۔۔۔۔
گیامیں جب تک مولاناؒ کاقیام رہا سملہ ہر عرس میں تشریف لایاکئے،
ایک موقعہ پر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہاں ارکان اسلام
کے ساتھ جہاد پر بھی بیعت ہوتی ہے،تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کہ
بیعت کے ساتھ اہتمام جہاد بھی کرنا چاہئے ،میں نے عرض کیا،توآپ
ہی امیر بنیں،میں امیرتسلیم کرتاہوں،اس گفتگوکےچنددنوں کےبعد
میں چنداحباب کےساتھ مدرسہ میں حاضرہوااورعرض کیاکہ میں نے
تو امیرتسلیم ہی کرلیاہے،ہمارے یہ مخلص احباب بیعت جہاد کےلئے
حاضر ہوئے ہیں ،چنانچہ آپ نےان لوگوں سےبیعت جہادلی،ان سے
جن لفظوں میں آپ نے بیعت لی ،ان کے ماثورہ الفاظ یہ ہیں:
بایعنارسول اللہﷺعلی السمع والطاعۃ فی العسرو
الیسروالمنشط والمکرہ وان لاانازع الامراھلہ،وان
نقول بالحق حیث کناولانخاف لومۃ لائم۔
اس واقعہ کےکچھ دنوں کےبعدتحریک امارت شروع ہوئی
اور اللہ نے آپ کونائب امیرشریعت بنایا ۔
صدق واخلاص اورعشق رسول
حضرت مولاناسجادؒکوصدق واخلاص اورعشق رسول سےحصۂ وافرملاتھا،جوکہ مقامات قرب اورمنازل ولایت میں سے ہے،حضرت علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ اپناذاتی تجربہ بیان فرماتے ہیں:
"مجھ پر سب سے زیادہ جوچیز ان کی اثراندازہوتی وہ ان کاصادق
اخلاص اور اپنے پیغمبر ﷺکے ساتھ کامل وفاداری تھی،اس پہلوپرجب
گفتگوہوتی،اورحسب دستورجب وہ آپےسےباہرہوجاتاتوخودروتااورمولانا
کورلاتاتھا،یاد آتاہےاور وہ سماں کیاحافظہ سے نکل سکتاہے،جاڑوں کے دن
تھے، میں پاسیا(تقیح الدم)کی خطرناک بیماری سے شفایاب ہوکرگیلانی میں
رخصت کے دن گذاررہاتھا،حضرت مولاناؒ بھی گیلانی تشریف لائے،باتوں
باتوں میں اپنی نعتیہ نظم جومگھی میں ہے،اس کاذکربھی آیا،مولاناؒ نے سنانے
کی فرمائش کی،میں خاص لےمیں سنانےلگاجب اس بندپرپہونچاسرورکائنات
ﷺ کومخاطب کرکے عرض کیاگیاتھا:
تمری دواَریا کیسے چھوڑوں
تم سےتوڑوں توکس سےجوڑوں
تمری گلیکِ دھول بٹوروں
تمرے نگر میں دم بھی توڑوں
جی کا اب ارمان یہی ہے اٹھوں پھراب دھیان یہی ہے
مولانامرحوم بے قرارہوگئے،دبےہوئے آنسوتھم نہ سکے،سیلاب رواں دواں
ہواکہ گھگھیاں بندھ گئیں،
تم سےتوڑوں توکس سےجوڑوں
اس مصرعہ کوبارباردہراتے تھے۔۔ ”
رقت قلب اورغلبۂ خشیت
مولاناؒبے انتہارقیق القلب تھے،دینی معاملات میں یامسلمانوں کی بےدینی کاحال سنکراکثرآپ کی آنکھیں ڈبڈباجاتی تھیں،مولانامنظوراحمدنعمانی صاحب ؒ نے حضرت مولانا سجادؒ سے اپنی آخری ملاقات کاذکرکرتے ہوئےلکھاہےکہ دوران ملاقات میں نے کسی سیاسی کانفرنس میں بعض مسلم قائدین کی عملی کوتاہیوں کاذکرکیاتو حضرت مرحوم نےفرمایا:
"میں تواس بارےمیں ادنیٰ رواداری کومداہنت سمجھتاہوں”۔۔۔۔۔۔
پھریک لخت آنکھوں میں آنسوڈبڈباآئے، اور فرمایاکہ "فسق والحادکے
عموم وشیوع کی وجہ سے ہماری دینی حس بڑی حدتک ماؤف بھی ہوچکی
ہے،اور مجھے توبسااوقات شبہ ہوجاتاہے،کہ ہم لوگوں میں ایمان کاادنیٰ
درجہ بھی ہے یانہیں؟حدیث میں فرمایا گیا،کہ ہاتھ یازبان سے برائی روکنے
کی طاقت نہ ہونے کی صورت میں اس سے قلب میں نفرت،اور
عندالاستطاعت اس کے خلاف عملی یاقولی جہادکی نیت ہرمسلمان کا
فرض ہے،اور یہ ایمان کاادنیٰ درجہ ہےجس کےبعدکوئی اوردرجہ ہے
ہی نہیں(ولیس وراء ذلک مثقال حبۃ خردلۃ من ایمان
اوکماقال علیہ الصلوٰۃ والسلام ) اور ملاحدہ اور فساق بلکہ
کھلے کفار و مشرکین کو علانیہ فسق والحاد اور کفروشرک کرتے دیکھتے
ہیں ، اور بسا اوقات ہمارے قلب میں بھی اس کے خلاف کوئی
غیظ و غضب پیدا نہیں ہوتا، اس سےمعلوم ہوتاہےکہ ایمان کے
اس ادنیٰ اور آخری درجے سے بھی اُس وقت شایدہم خالی ہوتے ہیں”
در حقیقت اپنے ایمان پر یہ خوف وخشیت ہی روح ایمان ہے،اوریہی
وہ تقویٰ ہے جس کو ابن ابی ملیکہؒ نے صحابۂ کرامؓ سےبایں الفاظ نقل
کیاہے(فی البخاری تعلیقاً قال ابن ابی ملیکۃ لقیت ثلاثین
من اصحاب النبیﷺکلھم یخشیٰ علیٰ نفسہ النفاق) "۔
بےنظیرعزیمت وایثار
آپ ایک مرد انقلاب تھے ،جدھر رخ کیا صف کی صف الٹ کررکھ دی،سب سے پہلے اپنے نفس سے جہادفرمایا،اور فنائیت وللہیت اور زہد وتقویٰ کے ان مقامات بلند تک پہونچےجن کاتصوربھی اس دورمیں نہیں کیاجاسکتا،اس باب میں حضرت مولانامحمد سجاد ؒ نے عزیمت کی جوتاریخ رقم کی ہےکہ عام توعام شایدعلماءوقائدین اور خواص کی صفوں میں بھی اس کی کوئی دوسری مثال نہ مل سکے:امیرشریعت رابع مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ نے درست لکھاہےکہ :
"ایک دونہیں ،چھوٹے بڑے ملاکرسیکڑوں قائدورہنماہندوستان میں
موجود ہیں،لیکن انہیں ذرااس کسوٹی پرتوپرکھ کردیکھئے ۔
اکلوتے جوان بیٹے کواللہ کےراستےمیں قربان کیا،اور امت کے مسائل کواپنے ذاتی مسائل پرترجیح دی ،ایسےواقعات کتابوں میں پڑھنے کےلئےبہت ملتے ہیں مگر زندگی میں مولاناسجادؒکی نظرآتے ہیں ۔
مؤمن کامل کی پہچان
خودسجادگان پھلواری شریف میں سےحضرت امیرشریعت ثانی مولاناشاہ محی الدین پھلواروی ؒآپ کے اس پرعزیمت کردارکاذکرکرتے ہوئے رشک بداماں ہیں ،لکھتے ہیں:
"جس وقت وہ پھلواری شریف پہونچے اور میں نے ان کودیکھا،مجھے
حیرت ہوگئی کہ جس کےباغ امیدکاشاداب پھول ابھی خاک میں مل
گیاہے،ان کےچہرےبشرےسےذرابھی غم کےآثارظاہرنہیں ہیں ،
پھلواری میں بھی قیام کرناکیسا؟ دوسرےیاتیسرےدن علاقہ چمپارن
کےاطراف میں پھراپنےکام میں چلےگئے،یہ ایسی ہی ذات سےہوسکتا
ہے ،جوراہ خدامیں خلوص مجسم ہو،جس کےدل میں اللہ اوررسول کی
محبت بال بچوں اورمال ومنال اورتمام چیزوں کی محبت پرغالب ہواور
یہی مؤمن کامل کی خصوصیت ہے ”
علامہ سید سلیمان ندوی ؒنے آپ کی خانگی زندگی کے غم والم کی تصویرکشی اس طرح کی ہے:
"مولاناکی خانگی زندگی غمگین تھی،ان کے بڑے بھائی مجذوب تھے،ان کی
بیوی معذور و مختل تھیں، ان کا بڑا لڑکاجوپڑھ لکھ کرفاضل اور گھرکاکام
سنبھالنے کےقابل ہوا،عین اسی وقت کہ اس کے نکاح میں چندروزباقی تھے
،باپ نے دائمی جدائی کاداغ اٹھایا،اور یہ سننے کےقابل ہےکہ وہ لڑکامرض
الموت میں تھا،کہ مسلمانوں کی ایک ضرورت ایسی سامنے آئی کہ باپ بیمار
بیٹے کوچھوڑکرسفرپرروانہ ہوگیا،واپس آیاتوجوان بیٹادم توڑرہاتھا۔
ان کی اپنی زندگی بھی دین وملت ہی کےنذرہوئی ،ترہت کے دورافتادہ علاقے
میں جہاں کہ ملیریاکےڈرسےاِدھر کے لوگ اُدھرجاناموت کے منہ میں جانا
سمجھتے تھے،یہ مردخدااپنی جان کو ہتھیلی پررکھ کرسال میں کئی کئی بارجاتاتھا،
اور کئی کئی دن وہاں رہتا تھا،آخری سفر بھی وہیں ہوا،اور وہیں سے ملیریاکی
سخت بیماری اپنے ساتھ لایااور اسی حال میں جان جاں آفریں کےسپردکردی ۔
آپ کی شان میں جس نے کہا،سوفی صددرست کہا:
پھونک کراپنے آشیانے کو
بخش دی روشنی زمانے کو
قناعت وایثار
قومی کاموں کے ہجوم میں حضرت مولاناؒکی بہت بڑی جائیدادہاتھ سےچلی گئی اور مولاناؒنے اسے بھی دل سے جھٹک دیا ۔۔۔۔۔
مادیت کےجس دورمیں ہرشخص اپنےعہدہ ومنصب کےذریعہ دولت بنانےکی فکرمیں مصروف ہواسی دنیامیں مولانامحمدسجادؒ جیسامرددرویش بھی تھا،کسی کو آنکھوں دیکھے بغیر یقین نہیں آئےگا،مولانامنت اللہ رحمانی صاحب ؒ تحریرفرماتے ہیں :
"ایک دفعہ پٹنہ میں مولاناایک وکیل کےیہاں جارہےتھے،میں نے
عرض کیا: وہاں کیاکام ہے؟فرمانےلگے ،چوبیس بیگھہ زمین مالگذاری
ادانہ کرنے کےباعث نیلام ہوگئی ، مجھے پہلے کوئی اطلاع نہ تھی،اس
لئے وکیل صاحب کے پاس جارہا ہوں ،کہ اب اس کے بچانے کی
کوئی شکل ہوسکتی ہے یانہیں ،تھوڑی دیر کے بعدمولاناؒواپس ہوئے،
تومیں نےدریافت کیاکہ کیاہوا؟فرمایاکہ نیلام ہوئے کچھ عرصہ ہوگیا،
اب اس کی واپسی مشکل ہے،مجھےجواب دےکردوسرے کاموں میں
لگ گئے،میں حیران تھاکہ ذرااس مردمجاہدکے ایثارواستغناکوتودیکھئے،کم
از کم پانچ ہزار(۵۰۰۰) روپے کی جائیدادہاتھ سے نکل گئی اورذراخیال
بھی نہ آیا” ۔
اپناذاتی مکان کیاتعمیرکرتے ،قدیم آبائی مکان بھی قومی وملی مصروفیات میں بے اعتنائی کی نذرہوگیا،مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ لکھتے ہیں :
"مجھے کبھی پنہسہ جانے کااتفاق نہیں ہوااس لئے مولاناؒکے مکان کی صحیح
تصویر تونہیں کھینچ سکتا،معتبرذرائع سےاتناضرورسناہےکہ پہلےتواچھی حالت
میں تھا،لیکن آٹھ دس برس میں وہ بھی بری حالت میں ہے ۔”
زاہدانہ زندگی
فضائل وکمالات اور ممکنہ وسائل وفتوحات کےباوجودمولاناؒبالکل سادہ اوردرویشانہ زندگی گذارتےتھے،ان کےایک ایک عمل پرزہدوقناعت اورصبروتوکل کاپرتونظرآتاتھا ، آپ کے ہم وطن اور ہم مذاق حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ کابیان ہےکہ:
"وہ بے حدخاکساراورمتواضع تھے،کبھی کوئی اچھاکپڑاانہوں نے نہیں پہنا،
کبھی کوئی قیمتی چیزان کےپاس نہیں دیکھی،کھدرکاصافہ،کھدرکا لمباکرتا،
کھدر کی صدری،پاؤں میں معمولی دیسی جوتے،اورہاتھ میں ایک لمباعصا،
یہ ان کی وضع تھی،مگروہ اپنی سادہ اورمعمولی وضع کےساتھ بڑےبڑے
جلسوں اوربڑےبڑےمجمعوں میں بے تکلف جاتے تھے ، اوراپنالوہا
منواتے تھے،جوہرپہچاننے والے بھی تلوارکی کاٹ دیکھتے تھے، غلاف کی
خوبصورتی نہیں” ۔
آپ کے انتہائی معتمد ومقرب اورسفروحضر کے رفیق حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحبؒ کی آنکھوں دیکھی شہادت ملاحظہ کیجئے،جوانہوں نےقلم کوخون جگر میں ڈبوکررقم کی ہے:
"مولاناؒ ہمیشہ بہت سادہ اور معمولی لباس پہنتے تھے ،پیر میں پرانی وضع
کامعمولی جوتاجواکثرپھٹارہتاتھا،پرانے ہی وضع کاکھدّرکا پائجامہ ، کھدرکا لانبا
کرتا جس میں گریباں کے دونوں طرف بڑی جیبیں جوہروقت کاغذ سے بھری
رہتی تھیں،اس کے اوپر ایک بنڈی ،سر پرکھدر کاایک بڑا سا عمامہ جو خراب
طریقہ سے بندھارہتاتھا،یہ تو گرمی کالباس ہوا ،جاڑے میں عمامہ کے علاوہ یہی
سب چیزیں موٹے اور معمولی اونی کپڑے کی ہواکرتی تھیں ،اپنے ہاتھ میں ایک
بھاری اورموٹی سی لکڑی ،جس کے نیچے وزنی لوہالگاہواتھا،بائیں ہاتھ میں چھوٹی
سی اٹیچی ،جس میں کاغذ ،روشنائی ،اور ضروری کاغذات بھرے رہتے تھے۔
مولاناؒ کھانابھی بہت سادہ اور معمولی کھاتے تھے ، میرے علم میں
اپنے اختیار سے مولانانے کبھی بھی اپنے لئے اچھے کھانے کا نظم نہیں کیا،اگر
حساب لگایاجائے تومولاناؒنے برسوں ہوٹل کی خمیری روٹی اور گائے کاکباب
کھایاہے،ایک دفعہ مجھے مولاناؒکے یہاں کھانے کااتفاق ہوا،اس وقت مولانا
پھلواری شریف میں کرایہ کامکان لے کر اہل و عیال کے ساتھ مقیم تھے ،
دسترخوان بچھا،گھر سے جوکھاناآیااس کی فہرست یہ تھی ،موٹے اورلال چاول
کاپکاہوابھات،تیل میں بگھری ہوئی پتلی دال ،اور آلوکابھرتاجس میں پیازپڑی
تھی مگربگھارانہیں گیاتھا،مولاناؒنے محض میری وجہ سے ہوٹل سے گوشت منگوا
لیا تھا ۔
علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ رقمطرازہیں :
"میں ان کی خانگی زندگی سے واقف تھا،اس قدر واقف جتناایک گھر کاآدمی
واقف ہوسکتاہے،ان کے ظاہرسے باطن ان کابہتراور بہت بہتر تھا، ان کا
اخلاص ،ان کی صداقت،ان کاادب احترام آج ڈھونڈھے سے نہیں مل سکتا” ۔
فقرواستغنا
ڈاکٹرسیدمحمودصاحب سابق وزیرتعلیم بہار کابیان ہےکہ:
"میں عرصہ سے جانتاتھاکہ ان کی زندگی حددرجہ عسرت سے گذرتی
ہے،لیکن انتہائی گہرےتعلقات کےباوجودکبھی لب کشائی کی جرأت
نہ ہوئی ،ان کی خودداری کچھ پوچھنے کاموقعہ نہ دیتی تھی،ابھی چندمہینے
ہوئے ،مجھے ایک دوست کی زبانی معلوم ہواتھاکہ وہ نہایت عسرت کی
زندگی بسر کررہے ہیں، بلکہ گھرمیں فاقہ تک کی نوبت آجاتی ہے،اس
پرمیرادل تڑپ کررہ گیا،ضبط نہ ہوا،تو دریافت کیا،وہ مسکراکرخاموش
رہے،جانبازمجاہدایسے ہوتے ہیں،مگرافسوس !ہماری قوم کوکیاقدراورکیا
پرواہ؟ اب جب نظردوڑاتاہوں توصوبۂ بہارکوہرطرف خالی پاتاہوں،ایسا
بے لوث خادم قوم آسانی سے نہیں پیداہواکرتا ۔
اسی طرح کاایک اورواقعہ مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒنےبھی نقل فرمایاہے، لکھتے ہیں :
"نواب خان بہادرعبدالوہاب خان صاحب مونگیرنےمجھ سے بیان کیا
کہ میں نےتنہائیمیںمولاناؒسےایک دفعہ کہاکہ مجھ کواس کاموقعہ دیجئے
کہ میں آپ کی خدمت کرکےاپنےلئےسعادت حاصل کروں،تومولانا
نے فرمایاکہ اس سےمجھ کو معاف رکھئے،اس سے ہمارے اوراللہ کے
درمیان میں توکل کاجورشتہ ہے اس میں خلل واقع ہوجائےگا،نواب
صاحب ممدوح نےمجھ سے کہا: اس کےبعدمیری ہمت نہیں ہوئی کہ
میں ایک لفظ زبان پرلاؤں ” ۔
اقبال ؔ نے ایسے ہی بزرگوں کے لئے کہاتھا:
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیوراتنے
کہ منعم کوگداکےڈرسے بخشش کا نہ تھا یارا
فقراختیاری
"شاہی میں فقیری” کامحاورہ کتابوں میں بہت پڑھاہے لیکن عہدقریب میں اس کی چلتی پھرتی تصویر حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کی ذات گرامی تھی،صدیاں بیت گئیں،شاید پہلے بھی اوربعدبھی چشم فلک نےدوسراسجادؒکم ہی دیکھاہوگا،مولانامنت اللہ رحمانی ؒ کاچشم دیدبیان ہےکہ:
"۱۹۳۷؁ء میں جب مولاناؒنے وزارت قائم کی تھی،تومیں پٹنہ آیاہواتھا،
اور نواب عبدالوہاب خان وزیرمالیات کامہمان تھا،میں اورنواب صاحب
کے بھائی مسٹروصی احمدخان وکیل مولاناسے ملنے پھلواری شریف گئے،
کچھ عرصہ سےمولانانےپھلواری ہی میں سکونت اختیارکرلی تھی،مکان
کرایہ کاتھا،مٹی کی دیواریں اور کھپریل کی چھت ،اندرکتنی وسعت تھی
اس کوتومیں نہیں کہہ سکتا،لیکن باہرجس میں مولاناتشریف فرماتھے،وہ
دو دروازوں کی ایک کوٹھری تھی،ایک باہرسےآنے کےلئے اور ایک
زنانخانےمیں جانےکےلئے،کوٹھری میں ایک طرف مٹی ہی کااونچا
چبوتراتھا، اس پر ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی،جس کے سرہانےمولاناکا
بستر بندھاہوارکھاتھا،چارپائی کےنیچے کھجور کی چٹائی بچھی تھی،اس پر
قلم ودوات،کچھ کتابیں،اورمولاناؒکی وہی اٹیچی رکھی تھی، ایک طرف
موٹےٹین کےدوبکس تھے،ایک میں کتابیں ، دوسرے میں کپڑے،
چبوترےسےنیچےایک کونےمیں مٹی کا گھڑا، وہیں پرتانبے کاایک بڑا
لوٹا،اوردوسرےکونےمیں مولاناؒ کی وہی لکڑی کھڑی تھی،غرض یہ تھا
صوبۂ بہارمیں حکومت قائم کرنے والےکے گھرکااثاثہ،خیرمجھے توکوئی
حیرت نہ ہوئی،کہ میں مولاناؒ سے واقف تھا،لیکن مسٹروصی احمدخان تو
حیرت سےکھڑےرہ گئے، مولاناؒ اسی کھرّی چارپائی پربسترکاتکیہ لگائے
کتاب کامطالعہ کررہے تھے،اٹھے،اخلاق سےملے،اسی چٹائی پرہم سب
بیٹھے، لوٹتے وقت راستہ میں مسٹروصی کہنےلگے،کہ اس قسم کےلوگوں
کے متعلق کتابوں میں ضرورپڑھاتھا،مگردیکھاآج ہی ہے، اس منظرکو
وصی صاحب آج تک نہیں بھول سکے ”
ریاضت ومجاہدہ
حضرت مولاناؒکی ساری زندگی ریاضت ومجاہدہ ہی میں گذری ،اور یہ ریاضت ان کی اضطراری نہیں اختیاری تھی ،جناب حافظ محمدثانی صاحب نے اپناآنکھوں دیکھاواقعہ بیان کیاہےکہ :
"حضرت مولاناؒجیٹھ بیساکھ کی چلچلاتی دھوپ اورجلتی تپش میں بیل
گاڑی پربھی نہایت خوشی کےساتھ صبح سے شام تک سفر کرتے اور
چھتری تک نہیں لگاتے۔
٭ایک مرتبہ میں نےعرض کیا، بہترہوتاکہ حضور کادورہ اب سے
بعدرمضان شریف یاقبل رمضان ہوتا کہ ہم لوگ روزہ میں تکالیف
سفرسےنجات پاتے،مولاناؒنے تبسم آمیز لہجہ میں فرمایاکہ رمضان
شریف میں عبادت کازیادہ ثواب ہے، اصلاح وہدایت قوم بہت بڑی
عبادت ہےجس کوہم لوگ اس متبرک مہینہ میں اداکرتے ہیں” ۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت مولاناؒصوبۂ بہار کے نائب امیرشریعت تھے،اور لوگ آپ کے لئے اپنی پلکیں بچھانے کے لئے تیاررہتے تھے۔
صحابہ کارنگ
آپ کی زندگی میں صحابۂ کرامؓ اورپچھلےاولیاء اللہ کاعکس نظرآتاتھا۔مولوی سیدمحمدمجتبیٰ صاحب لکھتےہیں:
"راقم الحروف تقریباً ایک سال تک مولانا ؒ کے ہمراہ قانونی مشیر رہا ،اس
مضمون کے مختصر حدود اجازت نہیں دیتے کہ اس سال کی بھر کی زندگی
کو مفصل بیان کرسکوں ،مگر اتنا کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ اصحاب رسول
ﷺ اور قرن اول کے مجاہدین اسلام کے متعلق جو کچھ کتابوں میں پڑھا
یا سنا تھا وہ سب ایک مولانا ؒ کی ذات گرامی میں بچشم خود دیکھا ۔
زفرق تابقدم ہرکجاکہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا ست
سراپااتباع سنت
مولوی مجتبیٰ صاحب ہی رقمطرازہیں کہ:
"فردائے قیامت میں خداوند قدوس کے سامنے ہزاروں کلمہ گو اس امر کی
یقینی شہادت دیں گے کہ یہ بندۂ خدا ابو المحاسن محمد سجاد بیس سال تک اس
صوبہ میں کم از کم تنہا مجاہد اسلام و حریت تھا جس نے سنت محمدیﷺ
کے اجراء اوراصحاب رسول کے نقش پر چلنے میں اپنی جان گنوائی ۔دنیا کی
کوئی حرص نہ تھی اور وہ سراپا تمسک با لاسلام پر قدم زن تھا ۔ذہاب فی
سبیل اللہ اس کی حیات دنیاوی کی تصویر تھی، مسلمانوں کی سیاسی اور
مذہبی تنظیم میں اس ذات گرانمایہ نے ایک ایک لمحۂ حیات صرف کیا اور
دنیا کی کوئی طاقت اس کو مرعوب نہ کر سکی ،وہ تنگ نطر نہ تھا کہ ہمسایۂ
اقوام سے اتحاد عمل کرنے میں جی چراتا ، وہ طالب جاہ نہ تھا کہ حکومت
پر جلوہ فرما ہوکر مظاہرہ ومقابلہ کرتا ،اس کی زندگی سراپا جہاد تھی، اور
وہ خالص مجاہد اسلام تھا”

حضرت مولاناسجادؒ کامشرب
البتہ حضرت مولاناسجادؒ کاطریق زندگی اورصوفیانہ نقطۂ نظرعام ارباب تصوف سے مختلف تھا،وہ تصوف کی مروجہ گوشہ نشینی کےبجائےدین وملت کی بقاوتحفظ کے لئے مجاہدانہ سرفروشیوں کوزیادہ اہمیت دیتےتھے،وہ تنہائی کی نوافل،اورادواشغال اوروظائف وتعویذات میں وقت صرف کرنے کے بالمقابل عہد فتنہ کے چیلنجوں کےدفاع اورعلمی وفکری بنیادوں پرملت کےاستحکام کوبڑی عبادت تصورکرتےتھے،وہ رخصت وعافیت کےراستے سے زیادہ عزیمت کی خاردارراہوں کوعزیز رکھتے تھے،اسی لئے مروجہ ارباب تصوف کے یہاں ان کووہ مقام نہ مل سکا،روحانی اور باطنی کمالات کی بنیادپرجس کےوہ ہرطرح مستحق تھے،انہوں نےصوفیانہ گدازاور بالیدگی کومجاہدانہ جفاکشی میں مستوررکھا،یہ دنیاہمیشہ صورت کی پرستاررہی ہے،اس کوکبھی اندرجھانک کرحقیقت پر نگاہ ڈالنےکی عادت نہیں رہی ہے،آپ کےذوق آشنااورمحرم اسرارتلمیذرشیدمولانااصغرحسین صاحبؒ کی تحریرکایہ اقتباس پڑھئے اورالفاظ کےدروں خانےسےجھانکتےہوئے پس منظر کوبھی ذہن میں رکھئے:
"حضرت مولاناؒکامشرب عقل وشرع کے مطابق ان ارباب تصوف سے
جداگانہ تھا،جنہوں نے نوافل واوراد کے سلسلۂ دراز میں الجھ کراجتماعی
شیرازہ کو پراگندگی سےمحفوظ رکھنےکی نہ صرف ذمہ داری کااحساس ضائع
کردیا، بلکہ اسی طریق عزلت کوحقیقت اسلام سمجھ کرعام دعوت وتلقین
اور دعاوتسخیرکے ذریعہ وسیع کرناشروع کردیا،حضرت ابوالمحاسنؒ کواپنی
فطری صلاحیت کے ساتھ ماحول بھی ایساملا،جہاں نوافل واورادکے اشغال
شبانہ یوم ،قومی وملی خدمات اور مالی و جانی قربانیوں کے مقابل نہ صرف
مرجوح بلکہ سنت کے طریق سے جدامتصورہوتے،پھر تبحرعلمی ونکات
فہمی کی مزیدتائید،آخران سب روشنیوں میں اصل حقیقت روشن ہوگئی ،
کہ اسلام میں عبادت کی مانگ سے کہیں زیادہ اور شدیدمانگ صداقت وامانت
،تقویٰ و طہارت ،اور مالی وجانی قربانی کی ہے،اسی واسطے حضرت مولاناؒ
عبادات کےسلسلہ میں فرائض ومؤکدات پراکتفاکرکےشب وروز فکرو
عمل اوراعلاء کلمۃ اللہ میں لگے رہے ۔
البتہ آخری عمر میں خاص لوگوں کو حضرتؒ کے اس ذوق عرفان کااحساس ہونے لگاتھا،جیساکہ مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحبؒ رقمطرازہیں:
"آخرزمانہ میں مولاناؒکوتصوف سےکچھ زیادہ ذوق پیداہوگیاتھا،تسبیح برابر
ساتھ رہاکرتی تھی ،جہاں موقعہ ملا،ٹہل ٹہل کریابیٹھے بیٹھے تسبیح پڑھاکرتے
تھے،اور بعض تصوف کےمسائل پرگفتگوبھی فرماتےتھے،اورخاص لوگوں
کوکبھی کبھی تعویذ بھی دے دیاکرتے تھے ۔
کرامات وانعامات
اللہ پاک اپنے نیک بندوں پرخصوصی انعامات فرماتے ہیں،اور کائنات کی بہت سی چیزوں کوان کےزیرتسخیرکردیتے ہیں،پھران کےذریعہ خارق عادات چیزوں کاظہور ہونے لگتاہے،جناب حافظ محمدثانی صاحب نےمولاناؒکےدورۂ چمپارن کے موقعہ کاایک چشم دیدہ واقعہ نقل کیاہے:
زمین پرسکون ہوگئی –سنت فاروقی پرعمل کی برکت
"۳۴؁ء کے زلزلۂ عظیم کے موقعہ پرآخررمضان میں حضرت مولاناؒدیہات کے
دورہ سے بتیاتشریف لارہے تھے، ٹرین جیسے ہی بتیااسٹیشن پرپہونچی کہ دفعتاً
زلزلہ شروع ہوااور مسافرین و حاضرین بدحواسی وپریشانی کے عالم میں شور
وغوغا کرنے لگے مولانا مرحوم اپنی عصاءمبارک کوپلیٹ فارم پرٹیک کر
نہایت استقلال کے ساتھ کھڑے ہوگئے،اللہ اللہ کہنے لگے اورحاضرین کوبھی
تلقین کی چنانچہ سب لوگ کیامسلم اور کیاغیرمسلم اللہ اللہ بآوازبلندکہنے لگے
اس کے بعد سکون ہوابعض لوگوں سے مولاناؒنے فرمایاکہ حضرت عمرفاروق ؓ
کے زمانہ میں ایک دفعہ زلزلہ آیاتھا،انہوں نے اپنی عصائے مبارک زمین
پردبایا،خدانے رحم کیا،میں بھی ان کےغلاموں میں ہوں اس لئے میں نے
ان کی سنت پر عمل کیا” ۔
چمپارن کی ایک انتہائی معتبرشخصیت جناب حاجی شیخ عدالت حسین صاحب نے مولاناؒکی دوکھلی کرامات نقل کی ہیں ،انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:
ڈاکٹری رپورٹ کےبرعکس پیٹ سےزندہ بچہ برآمد
"علاقہ رام نگرجنگل کی ترائی میں دورہ فرماتے ہوئےحضرت مولاناؒ موضع
سبیاکے سامنے پہونچے،تووہاں آپ کےانتظارمیں حافظ ہیبت صاحب مرحوم
اور ان کےخاندان کے تما م افرادسڑک پرموجودتھےانتظار کی وجہ یہ بیان کی
کہ شیخ شمس الدین صاحب کی بیوی دردزہ میں مبتلاتھیں،سول سرجن دودفعہ
آچکے ہیں،اور ان کافیصلہ یہ ہے کہ بچہ پیٹ میں مرچکاہے،فوراًہسپتال لے
جاؤ، ورنہ زچہ کی جان پربن جائے گی ، ضرورت ہے کہ بچے کوپیٹ چاک کر
کےفوراً نکالاجائے،مولاناؒ سواری سے اترے ،اور زچہ کے کمرہ کے دروازہ
پر کھڑے ہوکرفرمایا کہ ایک عورت زچہ کے پیٹ کو دبائے،اور اپنی ہتھیلی
پرانگلی رکھ کر کچھ لکھا، اور تالی لگادی ،اور غریب خانہ پربگہی تشریف لے
آئے، ایک گھنٹہ کے بعد حافظ صاحب مرحوم شاداں وفرحاں دوڑتے
ہوئے آئے،اور کہاکہ حضرت آپ کی توجہ سے زندہ لڑکاپیداہوگیا،زچہ
ہوش میں آگئی ہے ۔
سرکش جن نےحکم کی تعمیل کی
٭ اسی کے ساتھ ایک دوسری مشکل چیز یہ پیش کی کہ میری لڑکی پر
کچھ دنوں سے جن مسلط ہوگیاہے،بڑے بڑےعامل آئےاور ناکام گئے،
بعض عامل قبل اس کے کہ پہونچیں راستہ ہی سے افتاں خیزاں اس لئے
بھاگ گئے،کہ جن نے پہونچنے سے پہلے ہی دوچارمرتبہ ان کوراستہ میں
پٹکا،حضرت مولاناؒنے ایک تعویذلکھ کردی، اورکچھ روغن دم کرکے
حوالے کیا،اس دن سے پھر آج تک جن کی تسلیط نہیں ہوئی ہے” ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: