مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری : تعلیم وتربیت

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادؒکی ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر میں ہوئی ،ابتداء ًایک مولوی صاحب کے ذریعہ بسم اللہ کرائی گئی ،کچھ تعلیم والد ماجد مولوی حسین بخش صاحبؒ سے بھی حاصل کی،۱۳۰۴؁ھ مطابق ۱۸۸۶؁ءوالدبزرگوارکےانتقال کےبعدکچھ دنوں اپنے بڑے بھائی”صوفی احمدسجاد” کےزیرتربیت رہے۔۔۔۔
مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں داخلہ
قرآن مجید اوراردو فارسی کی تعلیم مکمل کرنے کےبعدعربی تعلیم کےلئے برادر بزرگوارنے(غالباًشوال)۱۳۱۰؁ھ مطابق(اپریل)۱۸۹۳؁ء میں مدرسہ اسلامیہ بہار شریف (محلہ قمرالدین گنج )میں داخلہ کرادیا،جووقف نامہ پردرج تاریخ کےمطابق ایک سال قبل ۱۸۹۲؁ء میں بی بی جین وقف اسٹیٹ کےزیرکفالت قائم کیاگیاتھا ، جوبعدمیں پورے خطہ کےلئے ایک مرکزی ادارہ بن گیا، اس کےبانی اورناظم حضرت مولاناسیدوحیدالحق صاحب (متوفیٰ ۱۳۱۵؁ھ مطابق ۱۸۹۸؁ء )ساکن موضع استھانواں (ضلع پٹنہ )مولاناسجادصاحب کےرشتہ میں بہنوئی ہوتےتھے،حضرت مولاناسیدوحید الحق صاحب ؒ کی اہلیہ محترمہ مولاناسجادؒکی چچازاد بہن تھیں ۔

حضرت مولاناسیدوحیدالحق استھانویؒ کے زیرسایہ
اس مدرسہ میں آپ کےبڑے بھائی صوفی احمدسجاد صاحبؒ پہلے ہی سےزیر تعلیم تھے،اپنےبھائی کےساتھ مولانامحمدسجادصاحبؒ بھی حضرت استھانوی ؒکےزیرسایہ پہونچ گئے۔
حضرت مولاناسیدوحیدالحق صاحبؒ اس وقت بہار کے علماء میں امتیازی شان کے حامل تھے اوراپنی تعلیمی وتربیتی انفرادیت کے لئے مشہور تھے ،انہوں نےاس وقت بہار کے تعلیمی ماحول میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کی،اور اسی مقصد کے لئےانہوں نے پہلے آرہ میں مدرسہ فخرالمدارس اور پھر بہارشریف میں مدرسہ اسلامیہ قائم فرمایا،تعلیم وتدریس اور افراد سازی ان کی زندگی بھرکامشن تھا،بقول علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ :
"تیرھویں صدی کے شروع میں صوبۂ بہار میں مولاناوحیدالحق صاحب
استھانوی بہاریؒ کے دم قدم سے علم کو نئی رونق حاصل ہوئی،قصبۂ بہار
میں انہوں نے مدرسہ اسلامیہ کی بنیاد ڈالی اور بہت سے عزیزوں کی
تربیت کی، ان میں سے ایک مولاناسجاد بھی تھے ”
مولاناعبدالوہاب فاضل بہاریؒ سےتلمذ
حضرت مولاناعبدالوہاب ؒکی شخصیت بھی اس دیار میں تعلیمی نسبت سے کافی ممتاز اوران کاعلمی پایہ بے انتہابلندتھا،پورے ملک میں آپ کی علمی صلاحیت کی دھوم تھی، بڑے بڑےاداروں نے آپ سے استفادہ کیاتھا،وہ بہار شریف ہی کے ایک گاؤں(سریندہ) کے رہنے والے تھے۔
حضرت مولاناسجادؒکےتلمیذارشداورمعتمدخاص مولاناعبدالحکیم صاحب اوگانویؒ
سابق مہتمم مدرسہ انوارالعلوم گیا(بہار)نےحضرت مولانا عبدالوہاب فاضل بہاری ؒ(متوفی ۲۸/ربیع الثانی ۱۳۳۵؁ھ مطابق ۲۱/فروری ۱۹۱۷؁ء)بانی مدرسہ انوارالعلوم گیاکو آپ کےاس دور کےاساتذہ میں شمار کیاہے ۔
مولاناعبدالحکیم صاحب کی اس بات میں بظاہر کوئی استبعادنظرنہیں آتا ،لیکن "محاسن سجاد "کےمرتب مولانا مسعودعالم ندوی صاحب ؒ نےباضابطہ استفادہ کےبارےمیں لکھاہےکہ دوسرے ذرائع سےاس کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔
شایدمولانامسعود عالم ندوی ؒ کواس خبرپرحیرت اس لئے ہوئی کہ مولاناعبدالوہاب بہاریؒ نے(مدرسہ انوارالعلوم گیاسےقبل)بہارمیں تدریسی خدمات انجام نہیں دی تھیں،بلکہ وہ اکثربہارسےباہرمصروف تدریس رہےتوپھرمولاناسجادؒنےان سےکہاں پڑھاہوگا؟ان کی گیا تشریف آوری تک مولاناسجادؒفارغ التحصیل ہوچکےتھے۔۔۔۔
لیکن میرےنزدیک اس میں حیرت کی بات اس لئے نہیں ہےکہ مولانامحمدسجاد کے والدایک فیاض دل اورصوفی مزاج زمیندار تھے ،ان کی مہمان نوازی پورے علاقے میں ضرب المثل تھی،ایک زمانہ تک خود درس وتدریس سے بھی ان کی وابستگی رہ چکی تھی ،ان حالات میں قرین قیاس یہ ہےکہ مولاناعبدالوہابؒ سےبھی ان کےمراسم ضروررہے ہونگے،اوران مراسم کی بنیاد پراگرمولاناسجادنےان کے گھر جاکر علمی استفادہ کیاہو،یاخود مولاناعبدالوہاب ؒنے ان پرعنایت کی ہو،تواس کو مان لینے میں کوئی دشواری نہیں ہے،وہ بھی جب کہ ایک ثقہ راوی کے ذریعہ براہ راست یہ خبر مل رہی ہو ۔
حضرت مولاناسجادؒ کےایک اورتذکرہ نگارمولاناعظمت اللہ ملیح آبادی ؒ نے بھی مولاناسجادؒ کےاساتذہ میں مولاناعبدالوہاب ؒ کاذکرکیاہے واللہ اعلم بالصواب
حضرت مولانامحمدمبارک کریم ؒ سےتلمذ
اسی زمانےمیں بہارکےمشہورعالم مولاناابونعیم محمدمبارک کریم صاحب(سپر ٹنڈنٹ اسلامک اسٹڈیزبہار)بھی مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں اونچی جماعت میں زیرتعلیم تھے،اس زمانہ کےدستورکےمطابق استاذمحترم کےحکم پرمولانامحمدسجادؒنےبعض ابتدائی کتابیں ان سےبھی پڑھیں ۔
محاسن سجاد کے مرتب مولانامسعودعالم ندوی صاحب ؒ نےمولانامبارک کریم صاحبؒ کی زبانی نقل کیاہےکہ:
"مولانامحمدسجادؒنےمتوسطات تک کی کتابیں مجھ سےپڑھی تھیں”
لیکن میرے خیال میں ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے والے بات ہی زیادہ قرین قیاس ہے،کیونکہ مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کامعیارتعلیم گوکہ اس وقت متوسطات(شرح وقایہ،جلالین شریف،قطبی میرقطبی وغیرہ)تک تھا اورمولانامبارک کریم صاحب وغیرہ
یہ نصاب پوراکرکے کانپور گئےہونگے،لیکن مولانامحمدسجادؒکووہاں متوسطات تک پہونچنے کا موقعہ نہیں مل سکاتھااس لئےکہ وہ انہی حضرات کے ساتھ کانپورروانہ ہوگئےتھے ،ممکن ہےکہ کانپور میں بھی کچھ استفادہ کیاہو، مولانامسعودعالم ندوی ؒ لکھتے ہیں کہ :
” دوسرےجاننے والے اس کی تائید نہیں کرتے ،ممکن ہے انہیں
اس کاعلم نہ ہواہو”
حصول تعلیم کے لئےکانپورکاسفر
بعض تذکرہ نگاروں کےمطابق حضرت مولاناسجادؒ کوآغاز تعلیم میں پڑھنےکی
طرف رجحان کم تھا،اورکھیل کودکا شوق زیادہ تھا،(جس کی تائیدان کےآغازتعلیم سےمدرسہ اسلامیہ بہارشریف تک پہونچنےکےدورانیہ سے بھی ہوتی ہے)مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں بھی ان کایہی حال تھا،جس کامولانامحمدسجادؒکےگھر والوں کوبے حد رنج تھا ،اور ظاہر ہے کہ حضرت مولاناسیدوحیدالحق استھانوی ؒ کو بھی اس کاملال رہاہوگا،چند سال کا عرصہ اسی طرح گذرا ،اوراسی فرار وقرار میں مولانامحمدسجادؒ نےبمشکل عربی کی ابتدائی کتابوں کےاسباق مکمل کئے،ادھر حضرت مولاناسیدوحیدالحق صاحب پران دنوں ضعف کاغلبہ تھااور صحت خراب رہنے لگی تھی،دوسری طرف مولانامبارک کریم اورصوفی احمدسجادوغیرہ کی تعلیم وہاں کےمعیار کےمطابق مکمل ہورہی تھی،اوریہ حضرات اس سے اوپرکی تعلیم کےلئےکانپورکی طرف پابہ رکاب تھے،چنانچہ حضرت استھانوی ؒ کی اجازت سےانہی حضرات کےہمراہ مولانامحمدسجادبھی کانپور کےلئےروانہ ہوگئے ۔
یہ غالباً شوال المکرم ۱۳۱۴؁ھ مطابق مارچ ۱۸۹۷؁ء کی بات ہے جب مولاناسجاد صاحب کی عمر قریب پندرہ(۱۵) سال کی ہوگئی تھی ۔
دارالعلوم کانپورمیں داخلہ
یہ حضرات کانپورمیں استاذالکل امام المعقول والمنقول حضرت مولاناسیداحمدحسن
کانپور ی ؒ کے مدرسہ میں داخل ہوئے،البتہ یہاں کسی تذکرہ نگارنےیہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ان حضرات نے مولانااحمدحسن کانپوری ؒ سےکس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی؟حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ ایک لمبےعرصہ تک مدرسہ فیض عام کانپور میں مدرس اول رہے ہیں ، پھر وہاں سے نکل کر دارالعلوم کانپور کےبھی بانی اور مدرس اول ہوئے،مدرسہ احسن المدارس کانپوربھی آپ ہی کاقائم کردہ ادارہ تھاوغیرہ،۔۔
تاریخی شواہد سےمعلوم ہوتاہےکہ جس سن(۱۳۱۴؁ھ/۱۸۹۷؁ء)میں مولانامحمدسجادؒ کاقافلہ کانپور حاضر ہواتھااس وقت حضرت مولاناکانپوریؒ کی تدریسی خدمات کاسلسلہ دارالعلوم کانپور میں جاری تھا ، اس لئے یقینی طورپران حضرات نےدارالعلوم کانپورمیں داخلہ لیا۔۔۔
دارالعلوم کانپور
تاریخی ترتیب کے اعتبار سےکانپور میں یہ اس وقت(مدرسہ فیض عام کانپورکے بعد)دوسرے نمبر کا اور معیارتعلیم اورتعداد طلبہ کے لحاظ سے پہلےنمبر کامدرسہ تھا، اس مدرسہ کو حضرت مولانا احمد حسن کانپوری ؒ نے مدرسہ فیض عام سے علٰحدگی کے بعد ۱۳۰۰؁ھ مطابق ۱۸۸۳؁ء میں (یا اس سے بھی قبل )مسجد رنگیان(بکرمنڈی نئی سڑک) میں قائم فرمایاتھا ،مسجد رنگیان ایک قدیم مسجد تھی جس کے کتبہ پرسن تعمیر ۱۲۲۶؁ھ مطابق ۱۸۱۱؁ء درج ہے،اب اس کی نئی تعمیر ہوگئی ہے ، اس لئےپرانے خد وخال رخصت ہوچکے ہیں۔
اس دارالعلوم کےقیام میں آپ کے ایک خاص مسترشد اور نیازمند جناب حافظ امیرالدین صاحبؒ پیش پیش تھے ،جیساکہ وہاں سے شائع ہونے والی بعض کتابوں کے اشتہار سے اندازہ ہوتا ہے ،ذمہ داراورمدرس اول تو حضرت ہی تھے ،لیکن یہ منیجر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے تھے اور غالباً محلہ کے متمول لوگوں میں تھے ۔
دارالعلوم کانپور حضرت کانپوری ؒ کی آرزوؤں اور علمی خدمات کا آخری مرکز تھا ،اس مدرسہ سے بڑے بڑے علماء وفضلاء تیار ہوئےاور بہت سی علمی وتحقیقی کتابیں شائع ہوئیں ۔ حضرت کانپوریؒ مدرسہ فیض عام کےبعدتاحیات اسی مدرسہ سےوابستہ رہے،اور اسی مدرسہ سےمتصل اپنےذاتی مکان میں وفات پائی،اناللہ واناالیہ راجعون ۔
مسجد رنگیان اب بھی قائم ہے ،اس سے متصل حضرت کانپوری ؒ کاوہ مکان بھی موجود ہےجس میں اب آپ کےخانوادہ کےلوگ آبادہیں،لیکن تاریخ کےاس روشن مینار کی ایک لکیر بھی موجود نہیں ہے۔۔۔۔۔مسجد رنگیان کی تعمیر نو کے بعد اب اس مرحوم دارالعلوم کے کھنڈرات کابھی تصورممکن نہیں رہا۔۔۔۔میں نے کانپورکےایک سفرمیں آس پاس کے کئی سن رسیدہ اوربزرگ حضرات سے دریافت کیالیکن ان میں کوئی نہ دارالعلوم کوجاننے والا تھااورنہ حضرت مولاناکانپوریؒ کو۔۔۔ رہے نام بس اللہ کا ۔
بھائی کی علالت کےسبب سےوطن واپسی اور فرار
اسی دارالعلوم میں غالباً ہدایۃ النحویاکافیہ کی جماعت میں مولانامحمدسجادؒ نے داخلہ لیا،لیکن ابھی چند مہینےہی ہوئے تھے کہ بڑے بھائی صوفی احمدسجادصاحب ؒ سخت بیمارہوگئے ،اور ان کوبھائی کےساتھ وطن واپس جاناپڑا،وطن پہونچنےکےبعدپرانی طبیعت عودکرآئی،اور مدرسہ واپس جانے پررضامند نہ ہوئے،یہ بڑی تشویش کی بات تھی،بڑے بھائی سوچتے تھےکہ میں بیمار ہوکرواپس چلاآیااور تعلیم جاری نہ رکھ سکا،توکم ازکم ایک بھائی پڑھ لے،بہت سمجھایالیکن نہیں مانے،آخرایک دن بڑےبھائی نےسخت زجروتوبیخ کی اورمارپیٹ تک کرڈالی،جس سے بددل ہوکر مولانامحمدسجاد گھر چھوڑ کرغائب گئے ،اور ایک عرصہ تک گھروالوں کوپتہ نہیں چل سکاکہ کہاں گئے ؟جس کاصوفی سجاد صاحبؒ کے قلب ودماغ پر گہرااثرپڑا اور عجب نہیں کہ ان کی مجذوبانہ کیفیت کے نشوونمامیں اس صدمہ کابھی دخل رہاہو۔
بہت دنوں کےبعد(غالباًآنےجانےوالےطلبہ سے)معلوم ہواکہ مولانا موصوف کانپورکے اسی مدرسہ میں زیرتعلیم ہیں،جہاں سےچھوڑکرآئے تھے، اب ان میں پڑھنےکا شوق بھی بیدارہوگیاتھا،اوربڑی تیزی کے ساتھ تعلیمی سفرشروع کردیاتھا،یہاں تک کہ ۱۳۱۵؁ھ مطابق ۱۸۹۷؁ءمیں ان کی متوسطات کی کتابیں سلم اورشرح جامی وغیرہ بھی شروع ہوگئیں ۔
یہی وہ زمانہ تھاجب بہارکےممتازعالم وخطیب اورشاعر وادیب حضرت مولانا عبدالشکور آہ ؔ مظفرپوری ؒ (جوراقم الحروف کے جداکبر تھے)سابق استاذ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ بہاربھی دارالعلوم کانپور میں منتہی جماعتوں میں حضرت مولانااحمدحسن کانپوری کے پاس زیرتعلیم تھے،مولاناعبدالشکورمظفرپوریؒ ۱۳۱۴؁ھ مطابق ۱۸۹۷؁ء کو دارالعلوم کانپور میں داخل ہوئے،اور مشکوٰۃ کے درس کی سماعت کی،۱۳۱۵؁ھ مطابق ۱۸۹۸؁ء میں درجۂ فضیلت (دورۂ حدیث شریف )کی تکمیل کی،اور شوال المکرم ۱۳۱۶؁ھ مطابق فروری ۱۸۹۹؁ء میں وہ فضیلت ثانیہ( دوبارہ دورۂ حدیث)کے لئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے ۔
حضرت مولاناسیدعبدالشکورآؔہ مظفرپوری ؒسےتلمذ
حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ یاآپ کےتلامذہ کے جتنے تذکرے اب تک سامنےآئے ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت کانپوری ؒ منتہی درجات کے علاوہ کسی درجہ کےطلبہ کوخودنہیں پڑھاتے تھے ،یاتوان کےاساتذہ الگ ہوتےتھے یاپھر منتہی درجات کے ذہین طلبہ کو ان کی تدریس پرمامورکیاجاتاتھا،اوراس عہدمیں تقریباًہربڑے مدرسہ کایہی دستورتھا،مولانامحمدسجادصاحبؒ کےساتھ بھی یہی ہوا،ان کادرس مولاناسیدعبدالشکورآہ ؔ مظفرپوری ؒ کےحوالے کردیاگیا،مولاناعبدالشکورصاحب ؒانتہائی ذہین طالب علم اورحضرت کانپوریؒ کے بے حدمقرب تھے ،فہم وذکاوت ان کوخاندانی ورثہ میں ملی تھی،مولانا عبدالشکورصاحب کی مصاحبت نے کیمیاکاکام کیا،مولاناسجادؒکےعلمی رجحان کی تبدیلی اور ذہنی
انقلاب میں بھی مولاناعبدالشکور صاحب کی صحبت وتوجہ کابڑاحصہ معلوم ہوتاہے ، متوسطات کی اکثر کتابیں (سلم ،شرح جامی،شرح وقایہ وغیرہ)مولاناسجاد ؒنے مولانا عبدالشکورمظفرپوریؒ سےپڑھیں،بلکہ کہناچاہئے کہ طالب علمی کی وہ عمر جس میں اصل صلاحتیں بنتی ہیں ،اورطالب علمانہ زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کادرجہ رکھتی ہیں وہ مولاناعبدالشکور صاحب ؒکے زیرصحبت گذری۔”محاسن سجاد” میں اس کاذکرموجودہے:
حضرت مولانامحمدسجادؒ کے شاگردرشیدمولانااصغرحسین صاحب بہاریؒ سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ کابیان ہےکہ میں نےمدرسہ سبحانیہ الٰہ بادمیں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒکی عہدطالب علمی کامنظردیکھاہے،میں اسی زمانےمیں قطبی پڑھ کر مدرسہ سبحانیہ حاضرہواتھا،اور داخلہ لینے ہی کے لئے گیاتھامگر اچانک کسی مجبوری کی وجہ سے وطن (بہارشریف)واپس آناپڑا،اوراس وقت شرف تلمذسے محروم رہا،یہ شرف مجھےبعدمیں بہارشریف میں حاصل ہوا،اس وقت مولانامحمدسجادصاحب گوکہ حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ بادی ؒ سےمنتہی کتابوں کادرس لیتےتھے،لیکن نیچےکی جماعتوں کادرس آپ کےذمہ تھا،اس وقت آپ کی شان یہ تھی کہ آپ تحقیقات ومعلومات کے بحرذخارمعلوم ہوتے تھے،ہرطالب علم آپ کاگرویدہ اورآپ کےطرزتدریس کادلدادہ تھااورکوئی نہ کوئی کتاب آپ سےپڑھنےکی آرزورکھتا تھا،حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی ؒ کےدرس کی حیثیت ضعف وکبرسنی کی وجہ سےمحض ایک تبرک کی رہ گئی تھی ،ظاہر بات ہے کہ ایک طالب علم کی اس درجہ لیاقت مولانااصغرحسین صاحب کےلئےباعث حیرت تھی ،مولانااصغرحسین صاحبؒ لکھتے ہیں کہ ایک موقعہ پرمیں نےاپنےاس تحیرواستعجاب کاذکرحضرت الاستاذمولانامحمدسجادؒ کےسامنےکیا ،توآپ نےارشاد فرمایاکہ:
"نہیں !وہاں(یعنی حضرت مولاناعبدالکافی ؒ کےپاس)بھی روشنی ملتی ہے،علاوہ
اس کےمیں ایک گونہ صلاحیت پیداکرکےپہونچاتھا، مولانا محمد عبدالشکور
مظفرپوریؒ (فی الحال مدرس مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ ) سےسلم وغیرہ پڑھ کر
کتاب فہمی کی صلاحیت پیداہوگئی تھی ”
مولانامحمدسجادؒکےاس بیان سےصاف ظاہرہوتاہےکہ کتاب فہمی کی اصل صلاحیت آپ میں مولاناعبدالشکورؒکی تعلیم وتدریس سےپیداہوئی تھی،حضرت مولانااحمدحسن کانپوریؒ
اورحضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی ؒ (متوفی ۲۱/شعبان المعظم ۱۳۵۰؁ھ مطابق ۳۱/ دسمبر ۱۹۳۱؁ء)وغیرہ سےعلمی نسبتیں اورترقیات حاصل ہوئیں،اس لئےکہ یہ حضرات اکابر تھے اور ان کی توجہات وعنایات سے روشنی ملتی تھی۔

محاسن سجادکاایک صفحہ جس میں حضرت مولاناعبدالشکورصاحب ؒسےتلمذکاذکرہے
مضمون مولانااصغرحسین بہاریؒ
حضرت مولاناخیرالدین گیاویؒ سےاستفادہ
حضرت مولاناقاری فخرالدین گیاوی ؒ (ولادت ۱۳۳۱؁ھ مطابق ۱۹۱۳؁ء – وفات ۱۰/رجب المرجب ۱۴۰۸؁ھ مطابق ۱۸/فروری ۱۹۸۸؁ء )کی کتاب "درس حیات "سے معلوم ہوتاہے کہ کانپورکے زمانۂ تعلیم میں مولاناسجادؒ نے حضرت مولاناخیرالدین گیاویؒ(والدمحترم قاری فخرالدین گیاویؒ)سے بھی استفادہ کیاتھا،حضرت مولاناخیرالدین صاحب فراغت کےبعدحضرت مولاناکانپوری ؒکےمدرسہ ہی میں مدرس ہوگئے تھے،اسی زمانہ میں حضرت مولاناسجادؒ کوآپ سے شرف تلمذحاصل ہوا ۔
آخری دنوں میں جب حضرت مولاناسجادؒنےگیاکواپنی علمی ودینی سرگرمیوں کامرکزبنایا،توحضرت الاستاذمولاناخیرالدین صاحب نےآپ کی بھرپورحمایت فرمائی،خلافت وجمعیۃ کے اجلاس گیامیں بھی وہ مجلس منتظمہ کےاہم ترین لوگوں میں شامل تھے،تاعمر مولانا
خیرالدین صاحب ؒجمعیۃ علماء ہندسے وابستہ رہے ۔
مولاناعبدالشکورؒکےزیرسرپرستی سفردیوبند
حضرت مولاناسیدعبدالشکورمظفرپوریؒ کانپورکانصاب فضیلت مکمل کرکےشوال المکرم ۱۳۱۶؁ھ مطابق فروری ۱۸۹۹؁ میں جب دیوبندجانےلگےتوًمولاناسجادصاحب بھی آپ کےہمراہ دیوبندتشریف لےگئے،اس سےمولاناعبدالشکورؒسےمولاناسجادؒکی دلی وابستگی اور گہری عقیدت کاپتہ چلتاہے، مولانااصغرحسین صاحب ؒکے بیان سےیہ بھی معلوم ہوتاہےکہ دیوبندمیں قیام کے زمانے میں بھی طلبۂ بہارکےسرخیل وسرپرست مولانا عبدالشکور صاحب ہی تھے ۔
حضرت مولاناعبدالشکورؒتودورۂ حدیث میں داخل ہوئے لیکن مولانامحمدسجادؒکوغالباً "تہذیب” کی جماعت میں داخلہ ملا،لیکن ابھی چھ(۶) ماہ بھی نہیں گذرے تھے کہ اتفاقی طور پرتبت کےایک طالب علم سے جھگڑاہونے کی بناپر(قریب ربیع الاول ۱۳۱۷؁ھ مطابق جولائی ۱۸۹۹؁ءمیں)بہارکے کئی طلبہ کودیوبند چھوڑناپڑا،ان میں حضرت مولاناسجاد ؒبھی شامل تھے،مولانااصغرحسین صاحب رقمطراز ہیں :
"حضرت مفکراعظم ؒ (مولانامحمدسجادصاحب ؒ)تہذیب وغیرہ پڑھنے کے
زمانے میں کانپورسےدیوبندتشریف لےگئے،لیکن ایک تبتی سےلڑائی ہو
جانے کے قصہ میں بہاری طلبہ کو جس کے سرخیل مولانامحمدعبدالشکور
صاحب تھے،دیوبندکوخیربادکہناپڑا”
میرے خیال میں اس واقعہ کےعلاوہ دارالعلوم دیوبندسےمولاناسجادؒکی دل شکستگی کاایک سبب یہ بھی رہاہوگاکہ ان کومطلوبہ جماعت میں داخلہ نہیں مل سکاتھا،جیساکہ پہلےعرض کیاگیاکہ مولانامحمدسجادصاحبؒ کانپور سے متوسطات کی کتابیں پڑھ کر گئے تھے،لیکن دارالعلوم دیوبندمیں ان کاداخلہ (نیچےدرجہ میں )تہذیب کی جماعت میں ہوا،واللہ اعلم بالصواب۔
واضح رہےکہ تبتی لڑکے والے واقعہ کامولاناعبدالشکورصاحبؒ پرکوئی اثر نہیں پڑا اورانہوں نےدیوبندکونہیں چھوڑا،بلکہ انہوں نےحسب ضابطہ حضرت شیخ الہندمولانا محمودحسن دیوبندی ؒ(ولادت ۱۲۶۸؁ھ مطابق ۱۸۵۱؁ء– وفات ۱۸/ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ مطابق۳۰/ نومبر۱۹۲۱؁ء)کےپاس دورۂ حدیث شریف مکمل کیا،آپ حضرت شیخ الہندؒ کے انتہائی مقرب تلامذہ میں تھے،کئی واقعات آپ سے وابستہ ہیں ۔
مولانامحمدسجادؒکوحضرت شیخ الہندؒسےتلمذحاصل نہیں
حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ چونکہ دیوبندمیں متوسطات سےبھی نیچے کےدرجہ میں داخل ہوئےتھےاس لئےآپ کوحضرت شیخ الہند ؒسےباضابطہ تلمذکاشرف حاصل نہ ہوسکا،حضرت شیخ الہند ؒ اس زمانے میں صرف منتہی طلبہ کوپڑھاتے تھے۔
یہاں یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ دیوبندمیں حضرت مولاناسجاد ؒ کے داخلہ کی بناپربعض اہل قلم کوغلط فہمی ہوئی ہےاور انہوں نے آپ کوحضرت شیخ الہندؒکاتلمیذ قراردیاہے ، مثلاًحضرت مولاناسجادؒکےانتقال پرمولاناعظمت اللہ ملیح آبادیؒ نے”مدینہ”اخبار میں ایک مضمون لکھاتھااور اس میں اسی خیال کااظہار فرمایاتھا ،حضرت مولانا سجادؒ کےشاگرد خاص اور محرم راز مولاناعبدالحکیم صاحب اوگانویؒ مہتمم مدرسہ انوارالعلوم گیانے اپنے مضمون میں اس کی تردید کی،مولاناعبدالحکیم صاحب لکھتےہیں:
"یہ غلط ہے جیساکہ مولاناعظمت اللہ ملیح آبادی نےآپ کے سوانح کے
سلسلہ میں”مدینہ "میں لکھاہےکہ مولانامرحوم نےحضرت شیخ الہندعلیہ
الرحمۃ سےدرس لیااورآپ کےعلمی اورروحانی فیوض وبرکات سےمستفیض
ہوئے۔مولاناؒجس وقت دیوبندگئےتھے،متوسطات بھی نہیں پڑھتے تھے،
پھرحضرت شیخ الہندؒ کی بارگاہ اور حلقۂ درس تک کیونکررسائی ہوئی؟منتہی
طلبہ کامقام اورہے اورغیرمنتہی کامقام اورہے۔معلوم ہوتاہے کہ مولاناؒکے
علم وفضل،تبحروقابلیت اورافکارواعمال سےمتأثرہوکرملیح آبادی صاحب نے
وہم کرلیاہے،کہ یہ حضرت شیخ الہندؒہی کےشاگردہوں گےاوران ہی سے
فیض پایاہوگا،حالانکہ یہ محض فضل اللہ ہےوہ جس کوچاہےاپنےفضل سے
نوازدے،حضرت مولاناابوالکلامؒ نےکس شیخ الہندؒ کےسامنے زانوئےتلمذ
تہ کیا،اور کس علامۂ وقت سے پڑھا؟مگر ان کےفضل وکمال ،علم وادب ،
فہم وفقاہت،اور فکرو تدبرمیں کون آپ پرفوق ہے؟
دیوبندسے کانپوراور کانپور سے وطن واپسی
(تقریباًربیع الاول ۱۳۱۷؁ھ مطابق جولائی ۱۸۹۹؁ء میں)
دیوبندسےواپسی پرمولانامحمدسجاد سیدھے کانپور پہونچے،لیکن یہاں ان کادل نہیں لگا ،یہاں کے ماحول میں وہ پہلاساانس نہیں ملا،قدیم رفقاء کانپور چھوڑکر ادھراُدھر منتشر ہوچکےتھے،اس سےقبل مولاناسجادؒ کےزیادہ تراسباق مولانا عبدالشکورصاحب سےمتعلق تھے،ان کےطریقۂ درس وتفہیم سےان کوخاص مناسبت بھی ہوگئی تھی،تعلیمی درجہ کے لحاظ سےحضرت مولانا احمدحسن کانپوریؒ سےمستقل استفادہ کی کوئی صورت نہیں تھی،بالآخر مولاناسجادصاحب ؒتنہائی اوراجنبیت کےاحساس سے مجبورہوکر وطن واپس ہوگئے،اس طرح کانپورمیں مولانامحمدسجادصاحب ؒ کی کل مدت قیام(درمیانی وقفات کوملاکر)تقریباً تین تا چارسال رہی ۔
دیوبندسے واپسی پر کانپور میں آپ کاقیام اتنا مختصر رہا،کہ بہت سے لوگوں کواس کی خبربھی نہ ہوسکی ،اسی لئے آپ کے بعض تذکرہ نگاروں نے دیوبند سے سیدھے الٰہ آباد جانے کاتذکرہ کیاہے ،کانپوریا وطن جانے کاذکرنہیں کیاہے ۔
لیکن چونکہ دیوبنداور الٰہ آباد کےدرمیان سفرکانپور اورسفر وطن کااضافہ ثقہ اوربلاواسطہ راوی کےذریعہ پہونچاہےاس لئے یہ اضافہ معتبراورقابل قبول ہے۔

تکمیل تعلیم کے لئے الٰہ آباد کاسفر
وطن میں قیام کےدوران بعض تذکرہ نگاروں کےمطابق حضرت مولاناسید وحیدالحق استھانویؒ کی چھوٹی صاحبزادی سےآپ کانکاح ہوگیا،جوآپ کےاستاذ بھی تھے اور چچیرےبہنوئی بھی،نکاح اور سسرال کی مصروفیات ختم ہوئیں جس میں تعلیمی سال کابقیہ حصہ بھی گذرگیا تو بعض بہی خواہوں کے ٹوکنےپراورخوداپنے طوربھی ادھوری تعلیم کومکمل کرنے کاخیال پیداہوا ۔
یہ غالباًشوال المکرم ۱۳۱۷؁ھ مطابق فروری۱۹۰۰؁ء کی بات ہوگی،جب مولاناسجادؒ وطن سے روانہ ہوکرسیدھے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد پہونچے،یہ سفرانہوں نےتنہاکیاتھا،اورالٰہ آباد کواپنی مرضی سےمنتخب فرمایاتھا،مولاناؒنےالٰہ آباد کاانتخاب کیوں کیا؟کیاوہ پہلےسے حضرت مولاناعبدالکافیؒ کی شخصیت سے آگاہ تھے؟آپ کے کسی تذکرہ نگار نے اس بات سے تعرض نہیں کیاہے۔۔۔۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ دیوبنداور کانپور جیسی مرکزی درسگاہیں جس طالب علم نے دیکھی ہوں اس نے الٰہ آباد کاانتخاب کس مناسبت سےکیا؟جب کہ پہلے سے مولاناؒکی وہاں کوئی قرابت یا شناشائی نہیں تھی؟
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادکاانتخاب
مختلف تاریخی کڑیوں کوملانےسے اندازہ یہ ہوتاہےکہ حضرت مولاناسجادؒ کوالٰہ آباد کاسراغ بھی کانپور سے ملاہوگا،اس کی تفصیل یہ ہے کہ مولاناسجادؒحضرت کانپوریؒ کے مدرسہ میں زیرتعلیم تھے ،اور کانپور میں ایک بڑی علمی اور روحانی شخصیت حضرت مولاناشاہ محمدعادل کانپوری الحنفی ؒ (ولادت ۱۲۴۱؁ھ مطابق ۱۸۲۵؁ء – وفات ۱۳۲۵؁ھ مطابق ۱۹۰۸؁ء )کی تھی،حضرت مولانااحمدحسن کانپوریؒ کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ،بکثرت مولاناؒکے مدرسہ یامکان پر ان کی تشریف آوری ہوتی تھی ،اورمولاناکانپوریؒ بھی ان کے دارالافتاء اور خانقاہ تشریف لے جاتے تھے، گہرے رابطہ کااندازہ اس سے ہوتاہے کہ حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ نے اپنے نمازجنازہ کی وصیت شاہ عادل کانپوری کے لئے کی تھی ،اور انہوں نے ہی نمازجنازہ پڑھائی ،جبکہ کانپورعلماء ،فقہاء اور مشائخ سے لبریز تھا ،شاہ عادل صاحبؒ "نارہ”الٰہ آباد کے رہنے والے تھے ،اورحضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ کاآبائی وطن بھی "نارہ”ہی تھا،ممکن ہے شاہ عادل کانپوریؒ نےہی مولاناعبدالکافی ؒ کی نشاندہی کی ہوجوایک ممتازعالم دین ہونے کے ساتھ اولیاءکاملین میں سےتھے،مولاناسجادؒ کواب تک حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ سےلےکر حضرت شیخ الہندؒ تک مایوسی ہی کاسامناکرنا پڑاتھا،اور کسی عالی نسبت شخصیت سے تلمذکی تمنااب تک تشنۂ تکمیل تھی،عجب نہیں کہ دل شکستگی کےانہی لمحات میں حضرت شاہ عادل کانپوری ؒ نے ان کوسہارادیاہو،اورایک بڑےصاحب نسبت وعلم شخصیت تک پہونچنےمیں ان کی مددکی ہو۔۔۔۔چنانچہ دنیانے دیکھا کہ گوکہ مولانامحمدسجادؒ کسی بڑی مرکزی درسگاہ کےسند یافتہ نہ تھے،لیکن علم وعمل کی جن انتہاؤں تک آپ کی رسائی ہوئی آپ کےاکثرمعاصرین وہاں تک نہ پہونچ سکے،دراصل علم کی عطابارگاہ ذوالجلال سےقلب کی درماندگی وشکستگی اورجذبہ وشوق کی وارفتگی پرہوتی ہے،مشہوردرسگاہوں سےمحض انتساب پرنہیں،واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
جیساکہ پہلےعرض کیاجاچکاہےکہ مولانامحمدسجادصاحبؒ متوسطات کی کتابیں کانپور کے زمانۂ تعلیم میں پڑھ چکے تھے ،اور کتاب فہمی کی بھرپور صلاحیت ان میں پیداہوچکی تھی،چنانچہ آپ نے مدرسہ سبحانیہ میں جلالین کی جماعت میں داخلہ لیااور پھراس کے بعد مشکوٰۃ المصابیح اور دورۂ حدیث تک کی اکثر کتابیں حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ (ولادت ربیع الاول ۱۲۸۰؁ھ مطابق اگست ۱۸۶۳؁ء – وفات ۲۱/شعبان المعظم ۱۳۵۰؁ھ مطابق یکم جنوری ۱۹۳۲؁ء )کے پاس پڑھیں،اور کچھ کتابیں مولاناعبدالحمیدجونپوریؒ سے بھی پڑھیں۔۔۔۔
الٰہ آباد میں آپ کاقیام دائرۂ شاہ اجملؒ محلہ یاقوت گنج میں مولاناعبدالحمیدبن حیدرحسین جونپوریؒ(تلمیذمولاناعبد السبحان ناروی ؒ)کی کوٹھی کے ایک گوشہ میں چھپر کے ایک سائبان میں تھا،جس میں چندطلبہ اور بھی رہتے تھے ،مولاناعبدالکافیؒ کامدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد چوک کی مسجد میں واقع تھا ۔
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد
مدرسہ سبحانیہ کی بنیاد حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی ؒ نے اپنے چچااور شیخ حضرت مولاناعبدالسبحان ناروی ؒ کے نام پررکھی،پہلےمحلہ یا قوت گنج میں مولوی عبد الحمید صاحب کےمکان سےتدریس کا آغاز کیا، شروع میں طلبہ کا رجوع کم تھا، جس سے آپ کبیدہ خاطر رہتےتھے، ایک بار اپنے مرشد زادہ مولوی حکیم مسیح الدین سے اس کا شکوہ کیا،تو انہوں نے تسلی دی اور آئندہ کے لیے روشن امکانات کی بشارت دی، چند دنوں بعد حاجی صوبہ دار خاں صاحب جو پنجاب کے باشی اور آپ کے مرید تھے انہوں نے آپ کو جامع مسجد کی امامت وخطابت کی پیش کش کی، اور درس کی بھی گذارش کی،اس طرح ۱۳۱۶؁ھ مطابق ۱۸۹۸؁ءسے جامع مسجد میں با قاعدہ آپ کا درس شروع ہوا، اور آپ کی درس گاہ "مدرسہ سبحانیہ” کے نام سے مشہور ہوئی، اور باذوق طلبہ کاکافی رجوع ہوا،اور آپ کی صحبت وتربیت سےبہت سے متبحر اورممتازعلماء پیداہوئے، جامع مسجد کی موجودہ وسیع وعریض اور شاندار عمارت آپ ہی کی توجہ سے ۱۳۲۲؁ھ مطابق ۱۹۰۵؁ء میں تعمیرہوئی ،جس کو اب چوک کی مسجد کہتے ہیں،مشہورشاعر حضرت اکبرالٰہ آبادیؒ جن کو آپ سے بیعت کاشرف حاصل تھا مسجد کے بارے میں ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا۔
؎ مسجد کافی ؔ کی شانِ آسمانی دیکھئے خاکساروں کی بلندی کی نشانی دیکھئے
مولانامحمدسجادؒکےعہدطالب علمی کےامتیازات
مولانامحمدسجادؒنےالٰہ آبادمیں اپنی ذہانت وسعادت مندی اورتعلیمی انہماک سےتمام اساتذہ بالخصوص حضرت مولاناعبدالکافی صاحب کادل جیت لیاتھا،اساتذہ آپ کی شاگردی کونعمت غیرمترقبہ سمجھنےلگے،آپ مدرسہ کےممتازاورقابل فخرطالب علم شمارکئے جاتےتھے،ایک سال کےبعدہی مبتدی اورمتوسط درجات کےاسباق آپ سےمتعلق ہوگئے،آپ کےطریق تدریس سے طلبہ اتنےمانوس ہوئےکہ مولاناکےعہدطالب علمی کےعینی شاہدمولانا اصغر حسین صاحب کابیان ہےکہ طلبہ اساتذہ سےزیادہ مولانامحمدسجادؒ سےکتابیں پڑھنےکوترجیح دیتےتھے،مولاناؒ کاطریقۂ تفہیم طلبہ کوبےحدپسندتھا،مولانا سجاد صاحب ؒکاشب وروزوہاں مطالعۂ کتب یاطلبہ کوپڑھانےمیں صرف ہوتاتھا،مولانااصغرحسین صاحب ؒکےالفاظ میں :
"مولاناکی شان نرالی ہے،بستر کے سرہانےکروٹ میں کتابیں قطاردرقطار
رکھی ہیں،جن کے مطالعہ میں انہماک ہے،یابعض طلبہ کے درس دینے
سےسروکارہے،حافظ عبدالکافی قدس سرہ نےچوک الٰہ آبادکی مسجدکے
احاطہ میں مدرسہ سبحانیہ قائم کررکھاہے،جس میں عموماًطلبہ پڑھتے ہیں،
لیکن حضرت سجاد ؒکےسامنےزانوئےتلمذتہ کرنے کے شوق میں کم از کم
ایک سبق بھی ضروررکھنا چاہتے ہیں،اورجنہیں موقع ملاپڑھ رہےہیں،
اس کشش سےظاہرہےکہ طلب علم ہی کےزمانہ سےآپ کی تعلیم میں
مقناطیسی اثرتھا،اِدھر اساتذہ کی عنایات وتوجہات سےعیاں ہورہاتھا،کہ
ان حضرات کےلئےحضرت سجاد ؒکی شاگردی ایک نعمت غیرمترقبہ ہے،
اورحقیقت یہ ہےکہ ان بزرگوں کی خاص توجہ اور قدردانی بالکل بجاتھی،
۔۔۔۔۔ذہانت،فطانت،قوت حافظہ،شوق مطالعہ،سلامت روی،سادگی،
محنت اوراطاعت شعاری جوجوصفتیں جاذب توجہ ہوسکتی ہیں،حضرت سجادؒ
میں بدرجۂ کمال موجود تھیں”
عہدطالب علمی ہی سےایسی علمی اورتدریسی شہرت بہت کم لوگوں کےنصیب میں
آتی ہے،الٰہ آبادمیں طالب علمی کے ان دنوں کےشاگردوں میں مولانافرخندعلی سہسرامیؒ، مولاناحافظ عبدالرحمن بادشاہ پوری جون پوری اور جناب حکیم مولانامحمدیعقوب صاحب گیاویؒ وغیرہ قابل ذکر ہیں ،مولانااصغرحسین صاحب بھی انہی دنوں قطبی پڑھ کر وہاں داخلہ کے لئے حاضرہوئےتھےلیکن کسی مجبوری کے تحت اس وقت داخلہ نہ لے سکے،اس طرح اس وقت شاگردی سے محروم رہے،لیکن بعد میں جب مولانامحمدسجادصاحبؒ مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں مدرس ہوئے اس زمانے میں انہیں مولاناؒسےشرف تلمذحاصل ہوا،اور دورۂ حدیث شریف تک کی تعلیم مولاناؒسےاسی مدرسہ میں حاصل کی ۔
فراغت اور دستاربندی
شعبان المعظم۱۳۲۰؁ھ مطابق نومبر ۱۹۰۲؁ء میں حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نے مدرسہ سبحانیہ سےسندفراغت حاصل کی ،لیکن آپ کی علمی اورتدریسی صلاحیت کی وجہ سے اساتذہ نےآپ کو کچھ دن اورمدرسہ میں روک لیا،اور اس دوران حضرت مولانا سجادؒمنتہی درجات کے طلبہ کو پڑھاتے بھی رہے اور خود بھی اپنے اساتذہ کی صحبتوں سے مستفیض ہوتے رہے ،بالآخر۱۷ ، ۱۸ ،۱۹/ربیع الاول ۱۳۲۲؁ھ مطابق ۳ ،۴ ،۵ /جون ۱۹۰۴؁ء کو حضرت مولاناعبدالکافی صاحب ؒنےحسب روایت بڑے تزک واحتشام کے ساتھ ایک سہ روزہ عظیم الشان جلسۂ دستاربندی کاانعقاد فرمایا،جس میں پورے ملک سے اکابر اہل علم،سربرآوردہ شخصیات اور ممتازخطیبوں نے شرکت کی ،اسی میں حضرت مولانامحمد سجادؒکی دستاربندی کی رسم بھی نہایت اہتمام کے ساتھ انجام دی گئی ،دراصل یہی دور اس مدرسہ کاعہد عروج اور یہی اجلاس اس شہر علم کانقطۂ ارتقابھی تھا، پھراس کےبعد کبھی اس شہر نےنہ علم کاوہ دورشباب دیکھااور نہ کبھی کوئی دوسرا "سجادؒ”زیب اسٹیج ہوافرحمہ اللہ۔
اس اجلاس کےبعدحضرت مولاناسجادؒوطن مالوف تشریف لےآئے،اورزندگی کےایک نئے باب کاآغاز کیا

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: