مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری: علمی مقام ومرتبہ

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

فصل اول
بلندعلمی مقام
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کاعلم بے کراں ،مطالعہ وسیع،ذہن رسا،دماغ کشادہ ،اور فکر عمیق تھی،ان کامطالعہ علوم وفنون کومحیط تھا،وہ فن کی روح اورعلم کی گہرائی تک رسائی رکھتے تھے،وہ مسئلہ کی تہ تک بے پناہ سرعت کے ساتھ پہونچتے تھے، بلاشبہ وہ اپنےعہدکے مفکراسلام تھے ،تمام اسلامی علوم پر ان کی گہری نظر تھی ، مسلسل بیس (۲۰)سالہ تدریسی اشتغال نے ان کی قوت فکر کوبےانتہابلنداورمطالعہ کوبے حدوسیع کردیاتھا،ان کاادراک کسی ایک یادوفن تک محدود نہیں تھا،بلکہ ان تمام علمی شہپاروں تک محیط تھاجو نصاب درس کاحصہ نہیں ہیں اور لائبریریوں میں محفوظ ہیں،وہ کتابوں کے رسیااور ان کے بین السطور تک کو پی جانے والے عالم دین تھے،علم سے ان کارشتہ اس قدر گہراتھاکہ علم ان کے فکر واحساس کاجزولاینفک بن گیاتھا،بالخصوص اسلامیات پر اتنی گہری نظراوروسیع قوت ادراک کے ساتھ سوچنے والاعالم دین آپ کے عہد میں غالباًکوئی نہ تھا،مذاہب عالم ،قوانین عالم ،دنیاکی تمدنی تاریخ ،سماجی علوم وروایات پرجیسی ان کی نگاہ تھی ،کہ طبقۂ علماء میں شایدہی کوئی ان کی ہمسری کرسکے ۔
فکرصائب
اور سب سے بڑی بات یہ تھی وہ اکثر صواب تک پہونچنےوالےمحقق تھے،ان کی فکر ان کی صحیح رہنمائی کرتی تھی ،ان کامطالعہ ان کوصحیح سمت میں لے جاتاتھا،جس میں نہ انحراف تھااور نہ غلو،علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کےالفاظ میں:
"ان کے پاس اللہ تعالیٰ کاسب سے بڑاعطیہ فکر رسااور رائے صائب تھی ”
صراط مستقیم کی سچائی تک پہونچنے کی ان میں جو بے حدوانتہاصلاحیت تھی وہ ان کو اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی تھی ،بلکہ مولاناعبدالماجد دریابادیؒ کے بقول :
"اگلوں نے تعظیم دی ،پچھلوں نےتکریم کی،اور اب جودیکھاتوان کےقدم
کسی سے پیچھے نہیں،منزلت کے دربار میں ان کی کرسی کسی سےنیچےنہیں
، ۔۔۔۔۔۔۔امتیازناقصوں میں نہیں کاملوں میں پایا،ذلک فضل اللہ
یوتیہ من یشاء،
چمک جگنو کی نہیں جوہراندھیرے گھپ میں روشنی پیداکرسکتی ہے ،نور
ماہتاب کاجوجگمگاتے ستاروں کوماندکردیتاہے” ۔
یابقول مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ :
"جس نے مولاناؒکی زندگی کامطالعہ کیاہےوہ اس اعتراف پرمجبورہے
،کہ اتنے بہتر دل و دماغ کامالک ،فکروعمل کاایساجامع،ایثاروقربانی کا
ایسا پتلا ، علوم وفنون کاایساماہر،خلوص وللٰہیت کاایسامجسمہ ،اور پھران
ساری بڑائیوں کے ساتھ ایسامنکسر اور متواضع شخص کم دیکھاگیا” ۔
ایک زمانہ نے آپ کی علمی برتری کالوہاتسلیم کیا،مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحب ؒ لکھتے ہیں کہ:
"ہندوستان میں بڑےفضلاء اورکامیاب ترین درس دینےوالے گذرے
ہیں اورآج بھی کچھ موجودہیں،مگرکم لوگوں کویہ فخر حاصل ہےکہ اس
قدرجلدعلمی صفوں میں نمایاں ہوئے ہوں،جس قدرجلداورجتنی کم سنی
میں مولاناؒکے علم وتبحر کواہل علم نے تسلیم کرلیا” ۔
قوت حافظہ
آپ کاحافظہ اتنامضبوط تھاکہ پڑھی ہوئی باتیں برسوں بیت جانے کے بعد بھی
ذہن کےنہاں خانےمیں محفوظ رہتی تھیں،وہ نہ محو ہوتی تھی اور نہ ان میں التباس پیداہوتا تھا ،علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ کی شہادت ہےکہ:
"ہرچندکہ سالہاسال سے درس وتدریس کااتفاق نہیں ہواتھا،مگرجب
گفتگو کی گئی ان کاعلم تازہ نظرآیا۔۔۔۔۔ان کاعلم محض کتابی نہ تھابلکہ
آفاقی بھی تھا” ۔
ذوق مطالعہ
ملی اورقومی تحریکات کے دورمیں بھی آپ کے مطالعہ کاعمل موقوف نہیں ہوا،بلکہ کتابیں آپ کےلمحۂ فرصت کی رفیق رہیں، اس دورکےشریک کاراور عینی مشاہدجناب مولوی سید محمدمجتبیٰ صاحب ایم اے بی ایل آرگنائزرمحکمۂ دیہات سدھار بہار کابیان ہےکہ :
"کتب بینی مولاناؒکابہترین مشغلۂ فرصت تھاکثرت مطالعہ سےآنکھیں بہت
کمزور ہوگئی تھیں ، اور ۱۹۴۰؁ء میں آنکھوں کی تکلیف بہت زیادہ ہوگئی تھی،
مگرمطالعہ کاشوق ویساہی باقی تھا،۔۔۔۔وسعت مطالعہ کایہ حال تھاکہ مسائل
حاضرہ کاکوئی پہلوایسانہ تھاجس پرمولاناؒنہایت تحقیق وتدقیق سے گفتگوکرنے
اور حل کرنے پرقادرنہ تھے” ۔

علوم عقلیہ پر ناقدانہ نظر
زمانۂ تدریس میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کی شہرت ایک معقولی عالم کی حیثیت سےتھی ،اور طلبہ وعلماء آپ کی اس صلاحیت سے بے حد مرعوب رہتے تھے ،معقولات کی مشکل ترین کتابیں آپ کے زیردرس ہوتی تھیں ،اور آپ اپنے معیار سے کتاب کوفنی طورپر پڑھاتے تھے،بہت سے فلسفیانہ مسائل میں آپ کی خوداپنی مستقل رائے ہوتی تھی ،آپ کبھی صاحب کتاب سے اتفاق کرتے تھے اور کبھی اختلاف ، معقولات کے ائمۂ فن سے اختلاف کرنے میں بھی آپ کودریغ نہ ہوتاتھا،اور طلبہ کا احساس یہ تھاکہ مختلف فیہ مسائل میں مولاناکی رائےبہت معتدل اورفیصلہ کن ہوتی تھی،اس تناظر میں حضرت مولانا عبدالصمدرحمانی صاحبؒ کایہ تبصرہ کافی بامعنیٰ ہے:
"یہ واقعہ ہےکہ مولانااس فن میں ناقدانہ نظررکھتے تھے،اور ہرمسئلہ
میں مولاناکی رائےقول فیصل کادرجہ رکھتی تھی”
جس دور کی یہ بات ہے اس دورمیں پورے ہندوستان میں حضرت مولاناحکیم سید برکات احمدٹونکیؒ کااستثناءکرکےکسی منطقی عالم کوحضرت مولاناسجادؒ کاہم پلہ نہیں کہاجاسکتا تھا،اس زمانے میں کانپور کو معقولات میں امتیازی شہرت حاصل تھی،لیکن مولاناؒکے علم کے سامنے کانپور کاچراغ بھی مدھم پڑنے لگاتھا،اسی لئے آپ جہاں جاتے تھےطلبہ کاایک ہجوم آپ کے شامل ہوتاتھا،اور مولانامنت اللہ رحمانی ؒ کے الفاظ میں:
"جس مدرسہ میں پڑھانے پہونچے،وہاں کی حالت ہی بدل دی ،مولاناؒکا
پہونچ جانامدرسہ کی کامیابی کی ضمانت تھی ”
فن معقولات ہی کافیض تھاکہ بڑے بڑے بددماغوں کے دماغ وہ چٹکیوں میں درست کردیتے تھے،قاری یوسف حسن خان صاحب نقل کرتے ہیں کہ:
"اسی زمانہ(تدریس الٰہ آباد) کاایک لطیفہ ہےکہ ایک بہت بڑاآریہ
مناظرمولاناؒ سے ملنے آیا،اور کہنے لگاکہ مولانا!اس میں توکوئی مضائقہ
نہیں کہ مسلمان گائےکی قربانی ترک کردیں،اور ہنود مسلمانوں کوبکرا
دے کرقربانی کاانتظام کردیں ،مولاناؒنے فوراًبرجستہ فرمایا:کہ میاں !ہم
لوگوں کوجانورکے بالوں کی تعدادکے مطابق ثواب ملتاہے،اتنابال اور
جانوروں میں کہاں؟وہ لاجواب ہوگیااور کچھ دیرخاموش رہ کررخصت
کی اجازت چاہی” ۔
اسی منطق سے ترک گاؤ کے مسئلہ پر آپ نے بکسرمیں گاندھی جی کو بھی خاموش کردیاتھا،جس کی تفصیل مولاناعبدالصمدرحمانی صاحبؒ نے اس طرح بیان کی ہے :
"مولانانے فرمایاکہ ہاں اس مسئلہ کو ان کے سامنے یوں رکھئےکہ ہر
اس مسلم پرجوچالیس روپیہ یاچالیس روپیہ کی مالیت کی چیزکامالک ہو،
اوروہ اس کےحوائج اصلیہ سےزائد ہو،اس پراسلام میں قربانی واجب
ہے،اب ہروہ کسان جو پانچ کٹھہ بھی کھیت رکھتا ہے، اس پر قربانی
واجب ہے،اورہروہ عورت جوچالیس روپے کازیوراپنےپاس رکھتی ہے
،اب ایک گھرمیں فرض کرلیجئے ایک مردہے،جس کوپانچ کٹھہ کھیت
ہے،اور گھرمیں چھ(۶)عورتیں ہیں(جن کےپاس عموماً اتنی مالیت کا
زیورہوتا ہے) سب پر قربانی واجب ہے،اورآئین اسلامی کی رو سے
اس کافریضہ ہےکہ قربانی کرے،اب اگر سات راس خصی خریدتاہے
توفی خصی دس (۱۰) روپے کے حساب سےستر(۷۰) روپے اس کو
چاہئے اوریہ اس کےامکان سےباہر ہے،اور اگرایک گائے خریدتاہے
توزیادہ سےزیادہ پندرہ(۱۵) روپےمیں اس کومل جاتی ہےاورسب کے
سب قربانی کے فریضے سے سبکدوش ہوجاتے ہیں،ایسی حالت میں وہ کیا
کرےگااوراس کے لئے کیاحل ہے؟”
مولاناؒکی یہ دلیل سن کر گاندھی جی بالکل ساکت ہوگئے اور پورے دورۂ بہارمیں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی ،جب کہ وہ اسی کی تبلیغ کی غرض سےپورےملک کادورہ کررہےتھے۔
مولاناسجادؒکی طباعی ،حاضرجوابی،اورقوت استدلال کےپیچھےجہاں ان کی فطری ذہانت وذکاوت کادخل تھاوہیں علوم عقلیہ سےبے پناہ شغف نے بھی ان کے ذہن ودماغ کوآئینہ کردیاتھا۔
جامع العلوم شخصیت
لیکن مولاناؒ کاعلم صرف معقولات تک محدود نہ تھا،وہ”ہرفن مولیٰ”انسان تھے، ان کوتمام علوم وفنون میں یدطولیٰ حاصل تھا،قرآن ،حدیث،علم فقہ ،معانی ، بلاغت ،اور ادب میں بھی ان کوبے نظیر دسترس حاصل تھی ،جس موضوع پر بھی بات کرتے لگتاتھاکہ یہ اسی فن کے آدمی ہیں ،اور ساری زندگی انہوں نے اسی فن پرمحنت کی ہے،ایسی عبقری اور جامع العلوم والفنون شخصیتیں ہردورمیں کم ہوئی ہیں،اوراس دور میں توعنقاتھیں،لیکن مولاناؒجس عہد کی پیداوارتھے،اورانگریزی سامراج کے تسلط اورمغربی علوم وتہذیب کے غلبہ نےجس طرح مدارس دینیہ کی کمرتوڑکررکھ دی تھی،ان حالات میں ان شکستہ حال درسگاہوں سے حضرت مولاناسجاد ؒ جیسی شخصیت کی نمودبلاشبہ اسلام کی کرامت اور ملت اسلامیہ کےلئے نصرت ربانی تھی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: