مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری: عہد،علاقہ اورخاندان فصل دوم

اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

تصویروطن
راج گیرکاعلاقہ
راج گیر کا یہ علاقہ پہاڑیوں سے گھراہوااورتاریخی مآثر سےلبریزہے،ایک زمانہ میں یہاں خطرناک جنگلات تھے،ہر مذہب کے لوگ یہاں ریاضت کےلئےآتے تھے ،گوتم بدھ نے بھی برسوں یہاں بیٹھ کر گیان کی تلاش کی تھی ،لیکن یہاں پرعہدقدیم سےآبادی کاسراغ ملتاہے،”رامائن اورمہابھارت کےبیان کےمطابق انتہائی قدیم زمانےمیں بھی یہاں صرف آبادی ہی نہ تھی،بلکہ ایک ذی اقتدارراجاکی باقاعدہ حکومت موجودتھی۔راج گیرمیں بن گنگانالےکےمتصل جوقدیم قلعےکی سنگین فصیل کےآثارپائےجاتےہیں ڈاکٹررس ڈیوڈس کی تحقیق میں سارے ہندوستان میں یہی قدیم ترین سنگین دیوارہےجس کاوجوداب تک باقی ہے ۔
مگدھ سلطنت کاپایۂ تخت
تاریخی مگدھ سلطنت کاپایۂ تخت یہیں تھا،عصر حاضر کے ممتاز مؤرخ اور عالم دین
مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی ؒ لکھتے ہیں :
"ڈاکٹر ہنٹر گزیٹر میں لکھتاہے:”راجگیر کے پہاڑ "دوقلہ ” متوازی الخط کی
صورت میں جنوبی وغربی سمت کوچلے گئے ہیں ،جن کے درمیان ایک تنگ
وادی ہے،جس کوجگہ جگہ نالے اور دَرّے قطع کرتے ہیں ،یہ پہاڑ جوکسی جگہ
ہزار فٹ سے زیادہ بلند نہیں ہیں ،عظیم الشان چٹانوں سے مرکب اور گھنی
جھاڑیوں سے مزین ہیں ،اور ایک خاص قدیمی دلچسپی رکھتے ہیں ،کیونکہ ان
پراکثرمذہب بودھ کے آثارقدیمہ ملتے ہیں ،۔۔۔۔۔
جنرل کننگھم کہتے ہیں کہ :چینی سیاح ہیوین سیانگ(Hiven Tsiang )
نے جو کپوٹیکا(Kapotica)پہاڑی کاذکر کیاہے،وہ یہی ہے،گرم جھرنے
یہاں بہت ہیں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر بچنن ہملٹن کہتے ہیں کہ :یہ راجگیر وہی راجگریہا”ہے جو بودھ گوتماکا
مسکن تھا،اور قدیمی مگدھ کاپایۂ تخت تھا، نیا راجگیر دوثلث مربع میل پر
پرانے شہر سے واقع ہے ۔
راجگیرکی پہاڑیاں
راجگیر مگدھ دیش میں ایک بہت پرانا شہر ہے،اسی کانام مہابھارت میں گری براج پور لکھا ہے،گری براج پور کے لفظی معنیٰ پہاڑوں سے گھرے ہوئے شہر کے ہیں اور اپنےمحل وقوع کےلحاظ سے یہ نام بہت مناسب ہے،یہ پہاڑیاں شہر گیا سے ۳۶ میل تک ایک دوسرے کے آمنے سامنے دریائے پنچانا تک چلی جاتی ہیں،اورگریک گاؤں کےآگے تک گئی ہیں، راج گیر مہاتم میں (جو والیو پران سے بنایا گیا ہے )پانچ پہاڑوں کے نام اس طرح لکھے ہیں، ۱-بیوہار ۔۲- ایپل ۔3-رتن کوٹ ۔۴- گری برج ۔۵- رتناچل۔اور پالی کی کتابوں میں انہیں کے نام گجی کوٹ اسیگلئی ،بیوہارو،بیپلو اورپانڈہیں،اور اب ان کے نام بیوہار گر ،بیپل گر ،رتنا گری اودیا گر اور سوناگر ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام قریب قریب وہی ہیں جو مہابھارت میں لکھے ہیں، مہابھارت میں گری براج پور کو ایک شہر لکھا ہے، اور راج گیرہی کو مہاتم میں ایک پہاڑی لکھا ہے۔
راج گیرکاایک معنی راج گرہ بھی ہے،جس کےمعنیٰ ہیں "راجاؤں کاگھر”راج گیر مگدھ راج کادارالسلطنت رہاہے،راجہ پراڈیت جو سونک کے خاندان کا تھا مگدھ کا بادشاہ ہوا، ویشنو پران کے مطابق سونک خاندان کے پانچ(۵) بادشاہوں نے ایک سو اڑتیس (۱۳۸) سال تک مگدھ میں حکومت کی ۔
بدیپہ خاندان کی حکومت اوربدھ مذہب کاآغاز
٭سونک کے بعد بدیپہ خاندان کی حکومت آئی جس کا پہلا راجہ "شیسوناگ "تھا ،جس کی حکومت اضلاع پٹنہ وگیاتک تھی اوراس کادارالحکومت راجگیرتھا، مگدھ میں اس خاندان کی حکومت تین سو باسٹھ(۳۶۲) سال رہی ہے،شیس ناگ سے خاندان کا چوتھابادشاہ بھائیا ہوا ،اسی کے زمانہ میں کپل بستو میں۵۵۸ برس ق م ساکیہ راجا کی نسل میں سالیہ سنگھ(
جس کا نام بعد میں گوتم بدھ ہوگیا)پیدا ہوا ، اور اس کے پانچ سال بعد راجگیر کے محل میں
بھائیا کے ایک لڑکا بھیم بسار (سرنیکا)پیدا ہوا ،جوشیس ناگ خاندان کاپانچواں حکمراں ہوا، جس نےاس خاندان میں سب سےزیادہ شہرت پائی،اس نےمگدھ کی حکومت کو وسعت دے کرانگا(ضلع بھاگلپوراورغالباًمونگیر)تک بڑھالیا،اورراجگیرکےپرانےقلعےکے باہرشمالی جانب ایک نیاشہر آبادکیاجس کانام سگرپوریعنی کوس گھانس والاشہرتھا،راجہ بھیم بسارنے یہاں انچاس(۴۹)سال تک حکومت کی ،اسی کےدور حکومت میں گوتم بدھ نےاپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی ،اور راجہ بھیم بساربھی ان کےحلقۂ عقیدت میں داخل ہوا،اس طرح یہ شہر مہاتما بودھ کاروحانی مرکز بن گیا ۔
جین مذہب کاآغاز
جین مذہب کا آغازبھی راجگیرمیں بھیم بسار کے زمانہ ہی سے ہوا ، مہابیروردھان
سوامی ایک زمانہ تک بیپل گری میں رہے
راجگیرکےکئی نام ملتےہیں،مثلاً:واسومتی،برہدلاتھ پورا،گریوراجا، کساگراپورا ،اور
راجگیر۔
راجگیرچاروں طرف فصیل شہرسےگھرا ہواتھا ،جس کی دیواریں ۵میٹرموٹی اور۳ تا۵میٹربلندتھیں،جس پرجابجاپہرےدارمقررہوتےتھے ،اندرون شہرکی دیواردوسری فصیل کاکام کرتی تھی،جوسات کلومیٹرپرمحیط تھی ۔
آج بھی راجگیرکی تاریخی اہمیت اورجغرافیائی قدرتی مناظرکی سحرکاری کی بڑی قدر وقیمت ہے،یہ حسین وشاداب پہاڑوں کےدرمیان آبادہے،جس کامنظرکافی دلکش ودلفریب ہے،خصوصاً موسم سرمامیں راجگیرملکی اورغیرملکی سیاحوں سےبھرارہتاہے،گرم پانی کے چشمے، پہاڑیاں اور معتدل موسم اس قصبہ کا خاص امتیاز ہے، یہاں گرم جھرنوں کی ایک کثیرتعداد ہے،جن میں مخدوم کنڈکاگرم پانی صحت وشفاکےلئےمشہورہے۔
راجگیرمیں اسلامی آثار
یہ شہرمسلمانوں کی توجہات کا بھی مرکز رہا ہے ۔
٭حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین ؒ نے اس کے جنگلوں میں سالہا سال تک
چلہ کشی کی ہے،جیساکہ ان کےتذکروں میں معروف ہے۔
٭اسی طرح حضرت مظفر بلخیؒ(متوفیٰ۳/رمضان ۷۸۸؁ھ مطابق ۶/اکتوبر۱۳۸۶؁ء )خلیفہ حضرت مخدوم الملکؒ اور حضرت شاہ شعیبؒ جیسے بزرگوں نے بھی یہاں ریاضتیں کی ہیں
٭یہاں سلسلۂ شطاریہ کی ایک خانقاہ بھی قائم تھی ۔۔۔اس سلسلہ کےبانی شیخ بایزید طیفوربسطامی(۱۳۶؁ھ -۲۳۱؁ھ /۷۵۳؁ء – ۸۴۵؁ء ہیں ،لیکن ہندوپاک میں اس سلسلہ کارواج شاہ عبداللہ شطاریؒ (متوفی۸۹۰؁ھ /۱۴۸۵؁ء )کےذریعہ ہواجوایران سےآئےتھے،اورشیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کی اولادمیں تھے،لیکن طریقۂ عشقہ (شطاریہ)میں شیخ محمدعارف سےاجازت و خلافت حاصل تھی،آپ کےدوخلفاء :شیخ محمداعلیٰ معروف بہ شیخ قاضن بنگالی اورشیخ حافظ جونپوریؒ کےذریعہ اس سلسلہ کو بڑافروغ ملا،ان میں شیخ قاضن بنگالی کوزیادہ شہرت ملی ،ان کےفرزندو جانشیں شیخ ابوالفتح ہدایت اللہ سرمست(م ۹۴۶؁ھ /۱۵۷۸؁ء)اورپھران کےبعدان کے خلیفہ شیخ ظہورحمیدالدین حصور(۹۳۰؁ھ /۱۵۲۳؁ء)کی روحانی سرگرمیوں کامرکزیہ بہار شریف اوراس کےاطراف کایہی علاقہ بتایاجاتاہے ۔
٭مغل عہد حکومت میں یہ سرکار بہار(بہار شریف)کا ایک پرگنہ تھا، ابو الفضل نے آئین اکبری میں سرکار بہار کے ایک پرگنہ کی حیثیت سے راجگرہ کا ذکر کیا ہے ،یہ پہلے سے اسی نام سے پکارا جاتا تھا ،مسلم عہد حکومت میں یہاں ممتاز خانوادے آباد تھے، لیکن اب چند گھر رہ گئے ہیں، نیز قدیم آثار بھی بہت ہیں ۔
"نالندہ”علم ومعرفت کی سرزمین
آپ کےوطن پنہسہ سےصرف دو(۲)کلومیٹر کےفاصلےپرتاریخی شہر”نالندہ
"ہے،یہ بودھ مذہب کی تعلیم اورنشرواشاعت کااہم مرکزرہاہے،گوتم بدھ کےسب سے عزیز اورمشہورشاگردساری پتراکی پیدائش اسی مقام پرہوئی تھی،جین مذہب کےبھی کافی آثار یہاں نظرآتے ہیں ،اوریہ ہندومذہب کےلئےبھی اہم علاقہ ہے،اس طرح نالندہ جین ،بودھ اورہندوتینوں مذاہب کاایک حسین سنگم اورمثلث ہے، نالندہ کےکئی نام پالی زبان کی کتابوں میں ملتےہیں،مثلاًنالہ،نالکا،نالکاگرام ،نالندیانالندہ۔
نالندہ کی وجہ تسمیہ
"نالندہ”سنسکرت زبان کالفظ ہے،اس کےمعنی ہیں "کنول کاپھول،کیونکہ یہاں تالابوں کی بڑی کثرت تھی،اورواقعتاً یہ قدیم زمانہ سےعلم ومعرفت کی سرزمین رہی ہے،اوریہاں علم کےپھول کھلتے رہے ہیں ۔
٭یوان چوانگ نےاس کی ایک دوسری وجہ تسمیہ بتائی ہےوہ یہ کہ اس مقام
کےجنوب میں آم کےدرختوں کےجنگل کےدرمیان ایک تالاب تھا،اوراس میں ایک اژدھا
رہتاتھاجس کونالندہ کہتےتھے،اسی کےنام پراس جگہ کانام نالندہ پڑگیا ۔
٭ایک تیسری تحقیق یہ ہے کہ نالندہ اصل میں”ناالم دا”سےتراشیدہ ہے،جس کےمعنیٰ ہیں”دینےکی انتہانہیں”یعنی نالندہ فلاح عامہ کی جگہ تھی ،چنانچہ واقعتاًاس شہرنےانسانیت کوفیض پہونچانےمیں کبھی بخل سے کام نہیں لیا،اس کی شہرت واہمیت گپت
عہد ۴۱۳؁ قبل مسیح سےجاری ہے،ہندوستان کےعلمی ،فکری،روحانی،ثقافتی اورتمدنی عروج کی
ابتدااسی سرزمین سے ہوئی ۔
دنیاکی عظیم ترین یونیورسیٹی-نالندہ یونیورسیٹی
اسی شہرمیں چندرگپت وکرمادت کےلڑکےراجہ کمارگپت اول مہندرادت نے (پاٹلی پتراکی راج گدی پرمسندنشیں ہونےکےبعد)پانچویں صدی عیسوی میں عالمی شہرت یافتہ قدیم ترین(دارالعلوم ) یونیورسیٹی کی تعمیرکی تھی جس کے کھنڈرات آج بھی دنیابھر سےآنے والےزائرین اورماہرین تاریخ کومحوحیرت کرنےکےلئےکافی ہیں،یہاں دنیاکےمختلف ملکوں(مثلاً:چین ،کوریا،جاپان، برما،تبت وغیرہ )کےقریب آٹھ ہزارپانچ سو(۸۵۰۰)طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے،اساتذہ کی تعدادایک ہزارپانچ سودس (۱۵۱۰)تھی،یہاں طلبہ اور
اساتذہ کےدرمیان گہرے دوستانہ ماحول کی فضاقائم تھی ،یہ دنیاکی عظیم ترین یونیورسیٹی تھی
چینی سیاح ہیون سیانگ جویونیورسیٹی کےقیام سےسات سو(۷۰۰)سال بعدوہاں پہونچاتھااورمسلسل دس (۱۰)سال تک مقیم رہاتھا،اس نےاپنےسفرنامہ میں اس یونیورسیٹی کانقشہ اس طرح کھینچاہے:
"نالندہ یونیورسیٹی میں (میرےوقت میں)چھ(۶)منگوارتھے،جن میں ایک
گرگیا تھا،اورپانچ باقی تھے،ان میں سےایک مگدھ کےراجاشنکرادت (مہندر
کمارگپت) کابنوایا ہواتھا،اس کےبیچ ایک ویہاربھی بناہواہے،وہ ویہاراب
تک موجودہے،یہاں چالیس (۴۰)سنتوں کوہمیشہ کھاناملتاہے،شنکراوت کے
دربار میں ایک نجومی تھاجس نےکہاتھاکہ یہ جگہ سب سے بہترہےیہاں پر بنا
"سنگھ رام”پوری دنیامیں مشہورہوگا،اوریہ ایک زمانےتک تعلیم کاگہوارہ رہے
گا،شنکرادت کےبعداس کابیٹابدھ گپت گدی پربیٹھا،اس نےبھی اپنےباپ
کےبنوائےسنگھ رام کےدکھن میں دوسراسنگھ رام بنوایا،اس کےبعدجتنے راجا
ہوئے سب نےایک ایک سنگھ رام بنوایا،اس طرح یہاں پرکل چھ (۶)
سنگھ رام بنوائےگئے،ان سب سنگھ راموں کےبیچ میں اسکول تھا،اس کے
کنارےکنارےکی دیواروں سےمتصل آٹھ بڑےدرجات بھی تھے،رصدگاہ
اتنے اونچے تھےکہ نظرکام نہیں کرتی تھی،اس کےاوپرکاسراایسالگتاتھا،کہ
بادل کوچھورہاہے،ان کےاوپرایسےایسےآلات نصب تھےکہ لگتاتھاکہ ہوا
اورپانی آرہاہو،ان سے سورج چاندکےگہن کامعائنہ کیاجاتاتھا،ویہارسے
الگ ایک بورڈنگ ہاؤس تھا،جوچار(۴)تلےکاتھا،اس میں موتی کی طرح
سفیدرنگ والےکھمبوں کی لائٹیں تھیں ،جواوپرجڑی تھیں اورچھجوں کی
لڑیوں کےسرےپرطرح طرح کےجانوروں کےسربنےہوئےتھے،یہاں
دوردورسے لوگ علم حاصل کرنےکےلئےآتےتھے،صرف جین پان اور
مہاپان کاہی علم نہیں سکھایاجاتاتھا،بلکہ دیددرشن وغیرہ کےعلوم بھی سکھائے
جاتےتھے،وہاں تقریباًپندرہ سو(۱۵۰۰)اساتذہ تھے،جن میں سےایک ہزار
اساتذہ تیس(۳۰)کتابوں کاعلم سکھلاتے تھے،ان میں پانچ سو(۵۰۰)
اساتذہ چوبیس(۲۴)کتابوں کےاستاذتھے،ان سب کےصدرشیل بھدرتھے
،یہاں کےطالب علم بڑےسنجیدہ ہوتےتھے،سات سو(۷۰۰)سالوں سے
جب سےیہ اسکول بناہے کبھی سننے میں نہیں آیاکہ کسی طالب علم نےیہاں
ڈسپلن شکنی کی ہو،اس یونیورسیٹی میں بڑےبڑےعالم استاد رہ چکےہیں،دھرم
پال، چندرپال،پربھاترا،شیل بھدروغیرہ مشہورہیں”
کسی تعلیمی اورتحقیقی ادارہ کاصدیوں تک اپنی روایات پربرقرار رہنابجائےخود سخت حیرت انگیزہے،چینی سیاح "اتسنگ”(جس نےاسی یونیورسیٹی میں تعلیم حاصل کی تھی) کابیان ہےکہ :
"نالندہ کےدھرم گنج کےحصہ میں تین بڑی بڑی اونچی عمارتوں کی لائبریری
تھی،ان کےنام”رتناساگر،رتن نودھی،رجگ تھے،ان میں رتن نودھی نو
کھنڈوں میں تھا،سبھی کھنڈمیں لاتعدادگرنتھ رتن بھرےتھے”
اس یونیورسیٹی کی بڑی خوبی یہ تھی کہ یہاں تہذیبی قدروں کابڑالحاظ رکھاجاتا تھا،
وقت کی پابندی اورایک دوسرے کااحترام مثالی تھا۔
سنگھ رام میں ہرشخص کےرہنےکےلئےالگ الگ کمرہ کاانتظام تھا،پتھرکی نقاشی قابل دیدتھی،عام اجلاس کےلئے ایک الگ سےہال تھاجس میں دوہزار(۲۰۰۰)افرادتک بیٹھنےکی گنجائش تھی،علاج ومعالجہ کےلئے ایک اسپتال بھی تھااوردواخانہ بھی جس میں مفت
علاج میسرتھا،ہرشخص کوروزانہ ۲۰اجمبیر،۲۰سپاری، آدھاچھٹانک کپوراورساڑھےتین چھٹانک
باریک باسمتی ارواچاول ملتاتھا،علاوہ اسی حساب سےتیل اورمکھن بھی ۔
اس یونیورسیٹی کازوال مگدھ کےتہذیبی اورسیاسی زوال سےشروع ہوا،بتایا جاتا ہےکہ "۶۰۰؁ء کےقریب کارن سوار(بنگالہ)کےبت شکن برہمن راجانےمگدھ پرچڑھائی کرکےبودھ دھرم کی مورتیوں اورعمارتوں کوتوڑ کرخاک میں ملادیاتھا،اوراس کےمتبعین کاسارانظام درہم برہم کرڈالاتھا،پھرمحمدبن بختیارخلجی کےبعداس کی طرف اوربھی لوگوں کی توجہ کم ہوتی چلی گئی ۔
٭اس کےعلاوہ اوربھی کئی بڑی یونیورسیٹیاں یہاں موجودتھیں ،مثلاً:اوتنت یونیورسیٹی ،وکرم شیلایونیورسیٹی ،اورتک شیلایونیورسیٹی وغیرہ۔
٭چینی سیاح ہیون سیانگ کےمطابق اس وقت نالندہ میں تین ہزار(۳۰۰۰) سادھورہتے تھے،جس کےاخراجات کےلئےدوسو (۲۰۰)گاؤں کی آمدنی وقف تھی ۔
٭سنسکرت ادبیات کانشوونمااور چانکیہ کی آئینی وقانونی دستور کی تدوین بھی اسی علاقےمیں ہوئی ۔
پال خاندان کی حکومت
٭آٹھویں صدی سےبارہویں صدی تک یہاں پال حکمرانوں کی حکومت رہی ہے،
ان میں زیادہ ترکاتعلق بودھ مذہب سےتھا،نویں صدی عیسویں میں پال خاندان کےحکمرانوں میں دیوپالی ،گوپال دوام اورمہی پال اول کی انفرادی قدروعظمت مسلم ہےکیونکہ ان حکمرانوں نےنالندہ کوکافی فروغ دیا،نالندہ کی شہرت ومقبولیت نےسماترا اورجاوا کے حکمرانوں کوبھی متوجہ کیا۔پال خاندان کے دورمیں بکثرت سیاح یہاں آیا کرتے تھے، تانترک بدھ کے بہت سے بت اور مجسمے راجگیر میں انہی بادشاہوں کے بنوائے ہوئے ہیں جن میں کچھ اب تک ویبوہار پہاڑی پر موجود ہیں ۔

نالندہ اسلامی دورمیں-علم وحکمت کامرکز
٭ہندوستان کے اسلامی دور میں بھی قطب الدین ایبک سے لے کرسلطان شمس الدین التمش تک پھر اس کے بعد شاہ عالم نابیناکے زمانہ تک نالندہ علم وحکمت کامرکزبنارہا ۔
٭نالندہ سےقریب ہی”کڑا”گاؤں(راجگیرکےراستہ میں بہارشریف سے۱۵/کلو میٹرکی دوری پر،آج کل حیدرگنج کڑاکےنام سےمشہورہے)میں حضرت مولانا قاضی محب اللہ بہاری ؒ جیسی عظیم علمی شخصیت پیداہوئی،جن کی کتابوں نےتقریباًتین صدیوں تک ہندوستان پرعلمی حکمرانی کی،اوربقول علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ:
"یہ کتابیں پوری ایک صدی تک اودھ کےمشہورعلمی خاندان فرنگی محل کی
ذہنی تگ ودوکامیدان رہی ہیں”
جن کی کتابوں کی شرح بلکہ شرحوں کی شرحیں لکھ کربہت سےعلماء زندۂ جاویدبن گئے،اس دورمیں کسی بڑےسے بڑےصاحب علم کوعالمیت کی سندنہیں مل سکتی تھی جب تک کہ وہ ان کی کتابوں میں کمال حاصل نہ کرلیتا ۔۔۔۔اپنےوقت میں اورآپ کےبعدبھی ہندوستان کی علمی تاریخ میں آپ کاکوئی مثیل نہیں ملتا ۔
٭سیرت طیبہ پر دو(۲)بےنظیرکتابیں اسی علاقہ میں لکھی گئیں :
٭سیرۃ النبی مرتبہ :علامہ سیدسلیمان ندویؒ
٭النبی الخاتم مرتبہ: علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ
نالندہ کی مردم خیزبستیاں
٭نالندہ کے چہار جانب بہت ساری مسلم بستیاں تھیں اوراکثر آج بھی موجود ہیں جہاں سےایک زمانہ تک ساری دنیامیں علم کی شعائیں پھیلی ہیں،مثلاًبہارشریف کےعلاوہ پنہسہ،کہٹہ ،اوگانواں، ہرگانواں،شکراواں،شیخ پورہ،چرواواں،استھانواں،گیلانی،قمص پور، چشتی پور،پیڈھوکہ، معافی،بلچھی،چندپورہ ،عمادپور،چندوارہ، رمضان پور،بربگہہ ،سلاؤ، راجگیر ،اسلامپور،ہلسہ، دیسنہ،سروہدی،بڑاکرسکندرپور،ڈیاواں،دیناواں،ڈمراواں، سبیت،میزرہ، مولاناڈیہ بلووا، کہٹاانڈوس،پیٹھانہ ،جمواواں،کڑا،بہاری چک وغیرہ ۔
ان میں خاص طورپراستھانواں ،دیسنہ ،اوگانواں اورگیلانی بہارشریف کےبعد سب سےزیادہ مردم خیزبستیاں ہیں۔ان بستیوں میں اہل علم اوراصحاب کمال بڑی تعدادمیں پیداہوئے،بطورنمونہ چندنمایاں شخصیات کی مختصرفہرست پیش کی جارہی ہے:
٭سلطان سلیم شاہ لودھیؒ کےزمانہ کےممتازبزرگ اورنامورطبیب شیخ بڑھؒ یاشیخ بڈھؒ۔
"شیرشاہ شوری کوان سےایسی عقیدت تھی،کہ خوداپنےہاتھ سےوہ ان
کی جوتیاں سیدھی کرتاتھا،شیخ علائیؒ کےمشہورہنگامہ میں دارالسلطنت آگرہ
کےعلماء کی باہمی کشاکش میں شیخ بڑھ ؒ ہی کوحکم مقررکیاگیاتھا،انہوں نے
ملک العلماءدولت آبادی کی تصنیف "ارشاد”کی ایک شرح لکھی تھی”
٭عالمگیرکےاستاذملاموہن بہاریؒ(م ۱۰۶۸؁ھ /۱۶۵۸؁ء)
٭سلطنت تیموریہ کےقاضی ومفتی،شاہزادوں کےاستاذحضرت مولاناابوالفتح محمد
عارف گیاویؒ(بہاری چک)
٭عہدعالمگیری کےمشہورفاضل ومحدث ملامحمدعتیق محدث بہاری ؒ(۱۰۷۵؁ھ – ۱۱۴۹؁ھ /۱۶۶۴؁ء – ۱۷۳۶؁ء)
٭مولاناشیخ عبدالرزاق بہاریؒ
٭ مولانا شعیب الحق بہاری (متوفیٰ ۱۲۳۹؁ھ /۱۸۲۳؁ء)شاگردرشیدحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ومولانامحمدقاسم الٰہ آبادیؒ۔
٭شاہ دلاورحسین دیسنویؒ٭شاہ غوث علی دیسنویؒ تلامذہ ٔحضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلویؒ(یہ دونوں حضرات پانی پت چلےگئےتھےاوروہیں کےہوکررہ گئے)
٭بڑے بڑے علماء ومحدثین کےاستاذعلامہ شمس الحق محدث ڈیانویؒ(م ۱۹/ربیع الاول ۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۲/مارچ۱۹۱۱؁ء)صاحب غایۃ المقصودفی حل سنن ابی داؤد،تلمیذرشید مولانانذیرحسین محدث دہلوی وبہاری۔
٭مولانامحمداحسن استھانویؒ شاگرد رشید مولانانذیرحسین دہلویؒ۔
٭مولاناسعادت حسین بہاریؒ(ولادت بمقام کڑاہ نزدبہارشریف ۱۲۵۶؁ھ/
۱۸۴۰؁ء- وفات:۱۰/جمادی الاولیٰ ۱۳۶۰؁ھ مطابق ۵/جون ۱۹۴۱؁ء) تلمیذرشید مولانا نذیر
حسین محدث دہلویؒ۔
٭مولانایعقوب صاحب (دیسنہ)٭مولانامصطفےٰ شیرصاحبؒ (دیسنہ) ٭مولانا بشارت کریم ؒ(پڈھوکہ)
٭ مولاناعبدالوہاب بہاری سربہدویؒ(م ۲۸/ربیع الثانی ۱۳۳۵؁ھ مطابق ۲۱/ فروری ۱۹۱۷؁ء)
٭مولانامحمداحسن گیلانی ؒ(م ۱۳۱۲؁ھ /۱۸۹۴؁ء)شاگردرشیدعلامہ فضل حق خیرآبادیؒ،(علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ کےجدامجد)آپ نےسندحدیث مولاناعالم نگینوی تلمیذحضرت شاہ اسحاق دہلویؒ سےحاصل کی،بڑے بڑےعلماء کےاستاذہیں ،سرحدکابل تک سے اہل علم آپ سےپڑھنےکےلئےآتےتھے اوربڑی تعدادمیں آتےتھے،ایک درخت اورایک چھپڑکےنیچےپڑھاتےتھے ۔
٭مولانا ابوالنصرگیلانیؒ، ٭مولانایعقوب دسنویؒ۔
٭مولانارفیع الدین شکرانویؒ(ولادت:۱۲۶۱؁ھ/۱۸۴۵؁ء-وفات:۱۳۳۸؁ء /۱۹۱۹؁ء )شکراواں میں ایک عظیم کتب خانہ قائم کیاتھا
٭مولاناعبدالشکوراوگانویؒ شاگردرشیدمولانالطف اللہ علی گڑھیؒ(محلہ میردادبہار شریف میں مدفون ہیں)
٭مولانالطف علی راجگیری ؒ(دھنچوہی)٭مولانا الٰہی بخش بڑاکریؒ٭مولانامفتی عبداللہ ٹونکی (بختیارپورکےقریب کسی دیہات کےرہنےوالےتھے)٭مولاناغلام جیلانی برقؔ استھانویؒ٭مولاناسیدعبدالغنی وارثیؒ،٭مولاناسیدرحیم الدین استھانویؒ۔
٭مولاناسیدعلی احمددربھنگویؒ(اصلاًبہارشریف کےرہنےوالےتھے-۱۳۱۸؁ھ/
۱۸۹۰؁ء تک زندہ تھے)
٭مولاناسیدوحیدالحق استھانویؒ(م ۱۳۱۵؁ھ/۱۸۹۷؁ء)حضرت مولانامحمدسجادؒکے استاذاورخسرمحترم۔
٭مولاناابوالبرکات استھانویؒ(متوفیٰ ۱۲/ذی الحجہ ۱۳۱۸؁ھ م ۲/اپریل ۱۹۰۱؁ء)
٭مولاناسیدعبدالغنی بہاری ثم محی الدین نگریؒ(کاغذی محلہ بہارشریف)تلمیذ رشیدحضرت مولاناعبدالحی فرنگی محلی ؒ وخلیفۂ اجل حضرت مولانافضل رحماں گنج مرادآبادی ؒ ،و خسرمحترم حضرت مولانابشارت کریم گڑھولوی ؒ ۔وغیرہ
یہ سب ایسی نادرۂ روزگارہستیاں تھیں جواسی علاقےکی خاک سےاٹھیں اوربرصغیر کےعلمی آفاق پرچھاگئیں۔۔۔۔بقول علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ:
"جن کےفضل وکمال کےآوازہ سے ان کی زندگی میں پوراہندوستان
گونج رہاتھا،مگراب تاریخ کےنقارخانہ میں ان کےنام کی بھنک بھی
سنائی نہیں دیتی”
"بہارشریف”روحانیت کامسکن
نالندہ سےقریب ہی وہ تاریخی شہر”بہارشریف”ہے،جس کےنام پرپوراصوبہ "بہار”کہلاتاہے،بہار کااصل تلفظ”وہار”ہے،اس کےمعنیٰ خانقاہ ،مٹھ یامدرسہ کےہیں،ایک زمانہ میں یہاں بدھسٹوں کی خانقاہیں تھیں۔۔۔نیزیہ مقام ہندؤں کےعلوم وفنون کابھی
مرکزتھا،اس لئےبہارکےنام سے موسوم ہوگیا ۔
بہارشریف ایک تاریخی وتہذیبی قدامت وانفرادیت کاحامل شہرہے،اس کی تاریخ بہت قدیم ہے،اینٹی کیرین ریمینس آف بہارکےمطابق ۲۸۰۰سال قبل مسیح پرموریہ راجانےاسےبسایا،اوراس کانام ویشالی پوری رکھا،کنگھم نےاس کانام پوسودرم پورابتایاہے،بگلر نےاس کانام حسن پورارکھاہے،جس کےمعنیٰ ہیں کہاروں کےرکھنےکی جگہ،جب بودھ مذہب کاعروج ہواتواس کانام دنداپورارکھاگیا،پھردنداپوراسےدنداں ویہارہوا،پھریہ نام اودنت پوری میں تبدیل ہوگیا،مسلمان حکمرانوں نےاس کانام دندبہارکردیا،جوآگےچل کرصرف
"بہار”رہ گیا ۔
طبقات ناصری میں سلطان شہاب الدین غوری کےمفتوح ممالک کی فہرست میں "اوندبہار”بھی لکھاہےجس سےظاہرہوتاہےکہ اس زمانےمیں یہ نام غیرمعروف نہیں تھا
ایک روایت یہ ہےکہ ۷۵۰؁ء کےقریب راجہ گوپال نےیہاں ایک بڑا "ویہارہ ” بنوایاتھااوراس کےبعداس خاندان کےاورراجاؤں نےوقتاًفوقتاًاسی قصبہ کواپنادارالحکومت قراردیااورویہارےکی تعمیرمیں بھی اضافہ کیا،انہی ویہاروں کےسبب قصبے کانام ویہارہ ہوگیااوردارالحکومت ہونےکےسبب تمام مگدھ پراسی نام کااطلاق ہوگیا ۔
بعض تاریخی روایات سےمعلوم ہوتاہےکہ ۱۳۲۴؁ء تک شمالی بہار(متھلا)کے
کرناٹ حکمراں بہارکےترک صوبےداروں کونذرانہ دیاکرتے تھے،لیکن غیاث الدین تغلق نےشمالی بہارکوفتح کرکےاسےوسطی بہارمیں ملادیا،عہدتغلق میں یہی بہارشریف بہارکا دارالسلطنت بنا،اورصوبہ کانام بھی اسی مناسبت سے بہارپڑگیا ۔
بہارشریف اسلامی دورمیں
اوریہ عجیب بات ہےکہ جب یہاں اسلامی دورکاآغازہواتواس وقت بھی اس کی
شہرت زیادہ ترخانقاہوں کی ہی بنیادپرہوئی ۔
٭ساتویں صدی ہجری میں غالباً قطب الدین ایبک یا شمس الدین التمش کے زمانےمیں بہارشریف کوحضرت شیخ خضر پارہ دوستؒ کی خانقاہ کی وجہ سےشہرت حاصل ہوئی،جوحضرت خواجہ فریدالدین گنج شکرؒ کےمریدوخلیفہ تھے،اورآپ کی خانقاہ بہارمیں دوسری چشتی خانقاہ تھی،پہلی خانقاہ جیٹھلی شریف پٹنہ میں حضرت صوفی آدم ؒ نےقائم کی تھی،حضرت خضردوستؒ کی خانقاہ کی اطلاع حضرت نظام الدین اولیاءؒ کوہوئی توآپ نےبھی یہاں حاضری کاارادہ کیاتھا،کہاجاتاہےکہ حضرت نظام الدین اولیاء کویکسوئی کی تلاش تھی ،لیکن جب ان کویہاں بھی عقیدت مندوں کےہجوم کی خبرملی توانہوں نےاپناارداہ ملتوی کردیا،یہاں ایک محلہ چشتیانہ(یہ اب کاغذی محلہ،بھیساسور،اورکاشی تکیہ تین محلوں پرمشتمل ہے) آج بھی موجودہے، اسی محلہ میں کہیں حضرت خضرپارہ دوزؒکی خانقاہ تھی اور یہیں آپ کامزاربھی ہے ۔
زمانۂ ما بعد میں اس شہر کوسب سے زیادہ شہرت حضرت مخدوم الملک شیخ شرف
الدین احمدیحیٰ منیری(۶۶۱؁ھ – ۷۸۶؁ھ ) کی خانقاہ اورروحانی آماجگاہ کی نسبت سے ہوئی ،جواپنےزمانہ کےعظیم مجددین اسلام میں تھے،جن کی بدولت برصغیرمیں اسلام کونئی توانائی
اورنئی تازگی ملی،اسی کےساتھ آپ کےخالہ زادبھائی حضرت مخدوم احمدچرم پوش تیغ برہنہ سہروردیؒ کوبھی یہاں بڑی شہرت حاصل ہوئی ،فیروزشاہ تغلق نے۱۳۵۱؁ء (۷۵۲؁ھ)میں بہارکادورہ کیاتوان دونوں بزرگوں کےدربارمیں حاضری دی،اورخانقاہ کےلئےبہت سی زمینیں
وقف کیں ۔
اسی طرح ملک العشاق حضرت مولانامخدوم مظفرشمس بلخی ؒ کی شخصیت نےبھی بہارشریف کی عظمت کوچارچاندلگایاجن کاسلسلۂ نسب سولہ(۱۶) واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک پہونچتاہے،بلخ سےتشریف لائے تھےاوربہارشریف میں ایک مدت تک قیام
فرمایا ۔
بہارمیں جن بزرگوں کےذریعہ سب سےزیادہ اسلام کی اشاعت ہوئی ان میں حضرت مخدوم یحیٰ منیریؒ(۱۱/شعبان المعظم ۴۹۰؁ھم ۳۰/جولائی ۱۰۹۷؁ء -مدفون پٹنہ،منیرشریف)اورحضرت خواجہ بدرالدین بدرزاہدی(۵۷۶؁ھ میں کئی قلعوں کوفتح کیا-مدفون مہداواں نزدمنیرشریف)کےعلاوہ حضرت مولانامظفرشمس بلخی ؒ(متوفی۳/ رمضان المبارک ۷۸۸؁ھ(۶/اکتوبر۱۳۸۶؁ء)،حضرت سیداحمدچرم پوشؒ(۱۳۹۳؁ء ۷۷۵؁ھ-مدفون بہارشریف) اورسیدتیم اللہ سفیدبازؒ(۹/محرم الحرام ۷۹۰؁ھ/۲۷/جنوری۱۳۸۸؁ء مدفون بیجوبن نزد بہارشریف) سرفہرست ہیں،اوربہارشریف کوان تینوں بزرگوں کےمسکن ہونےکاشرف حاصل رہاہے۔
٭یہیں شہرکےغربی جانب ایک میل دورایک پہاڑپرحضرت ملک بیاؒ(بیو)کامقبرہ
ہے،جن کاخاندانی رشتہ بغدادسےہے،یہ سلطان محمدتغلق کی فوج کےسپہ سالارتھے،لیکن اہل بہاران سےایک صوفی بزرگ کی طرح عقیدت رکھتےہیں،وہ بہارمیں ظالموں کی سرکوبی کےلئےآئےتھے،ان کاروضہ خودبادشاہ نےبنوایاتھا،اوراس کاسنگ بنیادحضرت مخدوم الملک شرف الدین بہاری ؒ ،مخدوم سیداحمدچرم پوش ؒ ،اورمخدوم شاہ احمدسیستانیؒ جیسےکباراولیاء اللہ نےرکھاتھا،اس مقبرہ کی تعمیرپرچھ سو(۶۰۰)سال سےزیادہ کاعرصہ بیت چکاہے،لیکن آج بھی اس کی عمارت تروتازہ محسوس ہوتی ہےاورکہتےہیں کہ اس کی اینٹوں سےخوشبونکلتی
ہے ۔
بہارشریف میں محلہ بھائےسرائےسےمتصل محلہ چشتیانہ ہےجہاں چشتی صوفیاء کی
ایک بڑی تعداددفن ہے،جن میں سہروردیہ سلسلےکےجلال بخاری مخدوم جہانیاں کےداماداور نامورچشتی بزرگ محمدعیسیٰ تاج کےچھوٹےبھائی احمدعیسیٰ تاج بھی شامل ہیں ۔
٭حضرت مخدوم بازیستانیؒ جن کااصل نام میرسیداحمدتھا،شایدسہروردی بزرگ تھے،جوکاغذی محلہ کےمقام پر تغلق طرزتعمیر پربنائےگئےایک بڑےگنبد والےمقبرے میں دفن ہیں ۔
٭سلسلۂ قادریہ کےبزرگوں میں حضرت شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی ؒکی اولادمیں ایک بزرگ حضرت عطاء اللہ بغدادی ؒ بھی بہارشریف کےمحلہ پیرشاہ گھاٹ میں مدفون ہیں،آپ ایک عرصہ تک یہاں مصروف رشدوہدایت رہے،اوریہیں انتقال فرمایا،سن وصال ۸۱۷؁ھ م ۱۴۱۴؁ء ہے ۔
ان کے علاوہ اور بھی بے شماراولیاء اللہ کایہ شہر مسکن رہاہے،قدم قدم پر قبریں اور مزارات ان کی نشانیاں آج بھی موجودہیں۔
سلطان محمدبن تغلق نےبہارشریف اورراجگیرکی خانقاہوں اورروحانی خدمات کےپیش نظربہت سی جاگیریں مقررکی تھیں،بختیارخلجی نےبڑی تعدادمیں مساجد،مدارس اورخانقاہیں تعمیرکرائیں۔
بہارشریف کی سیاسی اہمیت
سیاسی اعتبارسےبھی تاریخ میں اس شہر کی بڑی اہمیت رہی ہے،مسلم عہدحکومت میں یہ شہرصوبۂ بہارکاپہلادارالخلافۃ تھا،بادشاہ ہندشہاب الدین غوری کےسالارمحمدبختیارخلجی کےدورسےشیرشاہ سوری(۱۵۴۰؁ءتا۱۵۴۵؁ء)کےعہدتک اسےصوبہ کےدارالسلطنت کی حیثیت حاصل رہی،اس سے قبل راجہ اندررمن کےزمانے میں بھی یہ دارالسلطنت تھاجس سے خلجی نےاس شہرکوچھین لیاتھا،خلجی کی شہادت ۶۰۲؁ھ (۱۲۰۶؁ء)میں ہوئی ،مزاربہارشریف
کےمحلہ "عمادپور”میں ہے ۔
٭قصبہ بہارشریف میں مخدوم بدرعالم کےمقبرےکےاحاطےمیں درخت کے نیچےایک قدیم کتبہ رکھاہواہے،یہ کسی عمارت کاکتبہ ہے،جس کو۷۸۹؁ھ /۱۳۸۷؁ء میں ملک کافی نےتعمیرکرایاتھا،اس سےظاہرہوتاہےکہ ملک کافی صوبۂ بہارمیں حاکم کی حیثیت رکھتاتھا ۔
٭ ۷۹۹؁ھ/۱۳۹۷؁ھ میں ضیاء الحق بہارکاحاکم تھا،اس کی حکومت کاپتہ اس کی بنوائی
ہوئی ایک خانقاہ کےکتبےسےملتاہےجوقصبہ بہارشریف کےمشرقی جانب محلہ چھوٹاتکیہ میں
مقبرےکی دیوارمیں لگاہواہے ۔
٭کچھ عرصہ یہ سلاطین شرقیہ(ملک سرورجوکہ ملک الشرق یانواب مشرق کےنام سےجاناجاتاتھا،کےخاندان کےحکمراں)کابھی صدرمقام رہاہے،تقریباًتمام ہی شارقی حکمرانوں کی تحریریں بہارشریف میں پائی گئی ہیں۔۔۔۔سلاطین بنگال کی کئی تحریریں جو ۱۴۴۶؁ء سے۱۴۹۱؁ء تک کےعرصےپرمحیط ہیں ،ان سے اندازہ ہوتاہےکہ پندرہویں صدی کےآخرتک بہارمیں تغلق حکومت کی جگہ شارقی حکومت نےلےلی تھی ۔
٭ ۹۷۰؁ھ/۱۵۶۳؁ء میں جب سلیمان خان کرارانی(۹۵۰؁ھ تا۹۸۰؁ء /۱۵۴۳؁ء تا۱۵۷۲؁ء-متوفیٰ ۹۸۰؁ھ/۱۵۷۲؁ء) بہارواڑیسہ کاسربراہ بناتوشروعاتی دورمیں اس کادارالخلافۃ بھی بہارشریف ہی تھا،بعدمیں اس نےٹانڈہ کواپنادارالخلافۃ بنالیاتھا ۔۔۔یہ بہت نیک دل سلطان تھا علماء ومشائخ کابھی قدردان تھا،اس کی مجلس میں سوڈیڑھ سومشاہیرعلماء ومشائخ موجودرہتےتھے،اوریہ اکثران کی صحبتوں میں ساری رات ذکروعبادت میں گزاردیتاتھا،قصبہ بہارشریف میں مخدوم الملک کی درگاہ کےحلقےکےاندرجوصندل دروازہ مشہورہےاس جگہ ۹۷۷؁ھ کاایک کتبہ ہےجس میں سلیمان کانام بھی مذکورہے ۔
۱۵۷۶؁ء میں اکبرنےکرارانی ریاست کواپنی سلطنت میں شامل کرلیا ۔
حضرت مولاناسجادؒ کاگاؤں "پنہسہ”
مولانامحمدسجادؒ کےگاؤں”پنہسہ”کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے،کہتے ہیں کہ اس کی
آبادی حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒ کے وقت سے ہے اس سے قبل یہاں کےلوگ قریبی مقام”سلاؤ”میں آبادتھے،وہاں ان کی حویلیاں تھیں،اورقریب میں مسجدبھی تھی،جس کو”سلاؤڈیہ مسجد”کہتےتھے،یہ لوگ سلاؤ سےمنتقل ہوکر یہاں کیوں اور کیسے آبادہوئے،اس کے اسباب معلوم نہیں ہیں۔
پنہسہ کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہےکہ اس کے تین اطراف میں پانی کے تالاب تھے،اور ایک جانب سرسبزوشاداب زمینات،اس لئے اس جگہ کانام پنہسہ ہوگیا،یہ دولفظ "پن”اور”ہاس”سےمرکب ہے ،جوتغیرکے بعد پنہسہ ہوگیا ،اب اکثرتالاب ختم ہوچکے ہیں ،مگر کچھ آج بھی باقی ہیں،آج بھی حضرت مولاناسجاد کی حویلی کےپاس جانب شرق میں بڑاوسیع وعریض تالاب موجود ہے۔
پنہسہ بہار شریف سے راجگیر جانے والی شاہراہ (جواب شاہراہ اعظم-فورلین- بن رہی ہے) پر تقریباً بارہ (۱۲)کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ،نہایت تروتازہ،شاداب اور ترقی پذیر بستی ہے ، شایدکسی زمانے میں یہ بہت معمولی سی بستی رہی ہوگی ،مگر آج یہ بہت ہی بارونق اور متمول بستی لگتی ہے ،نالندہ سے صرف دوکلومیٹر کے فاصلے پر راجگیر جانے والی شاہراہ پر دور سے ہی زیب نظر معلوم ہوتی ہے ،یہ سادات اور شیوخ کی بستی ہے ،اکثرلوگ تعلیم یافتہ ،مہذب ،دیندار اور اسلامی اخلاق سے آراستہ ہیں،لب سڑک گاؤں کی وسیع وعریض عالیشان مسجد ہے جس کے ایک گوشے میں مشرق کی جانب حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒکےبڑےبھائی حضرت صوفی احمدسجاد صاحب ؒ (پہلی قبر) اوران کےچھوٹے صاحبزادےصوفی ملامبین صاحب ؒ(دوسری قبر۔یہ بھی مادرزادولی تھے،اوراپنےوالدگرامی کاعکس جمیل تھے)ایک مسقف سائبان کےنیچے آسودۂ خواب ہیں،مسقف حصارسےمتصل باہر شمال میں حضرت مولانامحمدسجادؒ کےداماد مولانا ابوجمال علی حسن رونق ؔؒاستھانویؒ کی قبرہے ، جوبہارشریف کےبڑے عالم اورباکمال شاعر گذرے ہیں۔۔۔صوفی صاحبؒ کواس دیارمیں قدسیت اورروحانیت کی علامت ماناجاتاہے ان کامزارآج مرجع خاص وعام ہے،اور اس نسبت سےاب
گاؤں کےنام میں شریف کابھی اضافہ کردیاگیاہے "پنہسہ شریف "۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: