مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری: عہد،علاقہ اورخاندان فصل سوم خاندان

اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

فصل سوم
خاندان
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کاخاندان بھی آپ کی پیدائش سے سات آٹھ پشت پہلے عہد عالمگیری ہی میں سلاؤڈیہ سے منتقل ہوکر”پنہسہ”میں آبادہوا،اسی خاندان کے ایک بزرگ سید نجف تھے۔
سیدنجف کےاصول انساب کی پوری تحقیق میسر نہیں ہے،لیکن قرائن سے معلوم ہوتاہےکہ بہارشریف کےاطراف میں جاجنیری سادات پھیلےہوئے ہیں،یعنی سیداحمد جاجنیری ؒکی اولادسےبارہ گاواں،دیسنہ ،بہارشریف، راجگیر،پنہسہ،دھنچوہی وغیرہ میں سادات جاجنیری کی نسل تاہنوزکسی قدرچلی آرہی ہے،کہا جاتاہےکہ سیداحمدجاجنیریؒ کی اولادبارہ گانواں یعنی (۱)جموارہ (۲) پترینابزرگ (۳) سید پورکنیڈا (۴) بروئی (۵) امرتھ (۶)محمدپوراکساری (۷) فیروزپور منینڈہ (۸)مدام پورماہے (۹)چڑھیاری (۱۰)رسول پورکٹنی کول (۱۱) چواڑہ (۱۲)اورسانحہ میں آبادہوئی،پھرآس پاس کی بستیوں”ہرگاواں ،بارہ دری ،میرداد ،اوگانواں،دیسنہ،بہارشریف،راجگیر،پیربگہہ، گیلانی، استھانواںوغیرہ میں بھی پھیل گئی۔
علامہ سیدمناظراحسن گیلانیؒ(آپ کاتعلق بھی جاجنیری سادات سےہے)لکھتےہیں:
"ابوالفرح واسطی کی جواولادجگت نیرمیں آبادہوئی،اوربعدکوجاجنیری
سادات کےنام سےمشہورہوئی،ان کاایک سلسلہ بہارضلع مونگیرمیں پایا
جاتاہے،اورچونکہ بارہ گانواں میں یہ آبادہےاس لئےسادات بارہ گاواں
کہلاتے ہیں”
سیداحمدجاجنیریؒ ہندوستان اورپھربہارکیسےپہونچےاس کی تفصیل حضرت الاستاذ مفتی محمدظفیرالدین مفتاحی ؒ نےدارالعلوم دیوبندکےمحافظ خانہ میں محفوظ ایک تاریخی دستاویز”ترجمہ فارسی آل خاندان سیداحمدجاجنیری ؒ "کےحوالےسےنقل کی ہے،حیات گیلانی سےوہ اقتباس پیش خدمت ہے:
"سیداحمدجاجنیری ؒ مدینہ منورہ سےمقام واسط میں تشریف لائے،چندےمقیم
رہے،جوکہ مدینہ منورہ کےقریب ایک دیہات بنام مقام واسط ملقب ہے،اسی
وجہ سےان کالقب "واسطی”ہے،۔۔۔مقام واسط میں باعث ظلم وشدت قوم
عباسی کےمقام واسط سےکوچ کرکےمقام مشہدمقدس میں تشریف لائے،اور
چندروزسکونت پذیرہوئے،بعدہ وہاں سےکوچ کرکےبمقام بغدادشریف بمحلہ
جاجنیرتشریف لاکرسکونت پذیرہوئے،(یہیں سےجاجنیری آپ کےنام کاجزو
بنا )۔۔۔ابتدائے ۵۸۸؁ھ بغایت ۶۰۲؁ھ ہنگام تکرارمہاراجہ پتھوڑایعنی پرتھی
راج ملک تخت دہلی کے،کہ سلطان شہاب الدین محمدغوری ساتھ راجہ مرقوم
کے جنگ جہادمیں مصروف تھا،اورراجہ پتھوڑانےسہ بارسلطان شہاب الدین
محمدغوری کوشکست دی تھی اس لئےشہاب الدین ممدوح نےبتلاش قوم
سادات بامیدشرکت جہاد کےمتلاشی ہوااورجن جن مقاموں میں قوم
سادات روشن ضمیرپائےگئے،بغرض جہادشامل لایا،اورجناب سیداحمد
جاجنیری قدس سرہ کوبھی ہمراہ لےکرمقام دہلی پربغرض جہادچڑھائی کی
،اس لڑائی میں جدامجدسادات بارہاں بھی شریک تھے،چنانچہ بفضل خداوند
کریم باعث قوم اولادرسولﷺراجہ پتھوڑامغلوب ہوااورسلطان کوفتح
ہوئی(اس طرح سیداحمدجاجنیری سلطان محمدغوری کےساتھ ہندوستان
تشریف لائے،اورپھریہیں کےہوکررہ گئےاس کی صورت یہ ہوئی کہ اس
کامیابی کی خوشی میں سلطان نے جہاں دوسرے شرکائے جہاد سادات کو
جاگیریں عطاکیں اوران کوملک کےمختلف حصوں میں آبادکیا)علیٰ ہٰذاالقیاس
سیداحمدجاجنیری ؒکو بھی ایک جگہ ملی تھی،کہ وہ ملقب بنام قدیم "جاجنیر”
کےہوا،اوروہ اب ملقب بنام "جاج "ہوگئی ہے،بعلاقہ کانپورواقع ہے(ایسا
معلوم ہوتاہےکہ یہاں سیدصاحب کاکسی وجہ سےجی نہیں لگا،تووہ سلطان محمد
غوری کےمشورہ سےعلاقہ مونگیرمیں تشریف لائے،اورپھرسلطان نے یہاں
موصوف کومعقول جاگیرعطاکی )سیداحمدجاجنیری قدس سرہ کانسب حسنی وحسینی
ہے،ہنگام حیات سیدصاحب کےموالات جاگیرموضع حسین آباد،ومانہ مدام
پور،وفیروزپورمانندہ،محمدپوریکساری،وپیغمبرپور،وچواڑہ ،وندیانواں،وکمل گڑھ
،وپچھ بیگھہ،ودیگرمواضعات پرگنہ امرتھ ضلع مونگیرمنجانب سلطان شہاب
الدین محمدغوری غازی عطاہوئی تھی،لیکن من بعدہنگام دخل وقبضہ اولادان
کی،باعث ظلم راجہ کامگارخان ونامدارخان تعدیاًلےلیاگیا(البتہ یہ معلوم نہ
ہوسکاکہ کس تاریخ اورکس سنہ میں انتقال ہوا،لیکن سیدصاحب کی وفات
اورجاگیرچھن جانےکےبعدان کی اولادمنتشرہوگئی)
سیداحمدجاجنیری ؒ کی چاراولادتھی،بڑےصاحبزادےکانام سیدخضرمعروف بہ
سیدحیدرباگھ،مزاران کابجویندجومقام بہاربفاصلہ تین کوس جانب دکھن واقع
ہے،اورمنجھلےصاحبزادےکانام مبارک سیدشاہ جمال الدین،مزاران کابموضع
جموارہ پرگنہ امرتھ ضلع مونگیربالائےکوہ مسطح جانب شمال ،نزدکوہ مسطح واقع
ہےاورسنجھلےصاحبزادےکااسم شریف سیدشاہ برہان الدین،مزاران کابموضع
سانحہ پرگنہ بلیاضلع مونگیرعبوردریائےگنگ واقع ہےاورچھوٹے صاحبزادے
کااسم اقدس سیدشاہ یوسف ہے،مزاران کابموضع چونٹرپرگنہ سیمائےضلع گیا
واقع ہے۔(سیداحمدجاجنیریؒ کےپوتوں اوراگلی نسل کےمتعلق وضاحت ہے)
اوراولادابنان سیداحمدجاجنیری قدس سرہ کی موضع مدام پور،چواڑہ، فیروزپور
،موضع نندہ،وموضع بروئی،کٹنی کول،وجموارہ ،وکندہ وحسین آبادپرگنہ امرتھ،
وپنرہٹہ،وچندھارومحلہ یحیٰ پورمنجملات شیخ پورہ پرگنہ نالوہ ضلع مونگیرمیں
مسکن پذیرتھے،وہیں باعث ظلم وتعدی راجہ کامگارخان ونامدارخان کےاکثر
اولادابناء سیداحمدجاجنیری قدس سرہ کی،بموضع اورین،وبیلتھوا،وموضع
غوث آباد،ومن بعدبمقام سورج گڑھاوعبوردریائےگنگ بموضع سانحہ پرگنہ
بلیا،وبمحلہ مخصوص پورباڑھ من محلات شہرمونگیرسکونت پذیرہوئے،(یہ
بھی لکھاہے کہ سیدصاحب کی اولادکی اولاددراولادبادشاہ اکبرکےدورمیں پھر
فوج میں داخل ہوئی،اورفوج کی افسری کافریضہ اداکیا،بعض عہدۂ قضاپربھی
مامورہوئے،گویابعدمیں بھی باوقارزندگی گذاری،اورمسلم سلاطین سےوابستہ
رہے) ۔
ممکن ہےکہ سیدنجف (جوحضرت مولانامحمدسجادؒ کےابوالاجدادتھے)سیداحمد
جاجنیری ؒ کےبڑےصاحبزادےسیدخضرمعروف بہ سیدحیدرباگھ کی اولادسے ہوں،کیونکہ سیدخضرؒ کامزاربہارشریف سےدکھن تین کوس کےفاصلےپربجویندکےمقام پرہے،اس لئےقرین قیاس یہ ہےکہ بہارشریف کےاطراف میں جوسادات آبادہیں وہ انہی کی نسل سے ہونگے ۔
سیدنجف ؒکےتین صاحبزادےتھے ،ان میں سےایک اڑیسہ میں،دوسرے دربھنگہ میں ،اور تیسرے پنہسہ میں آباد ہوئے، دربھنگہ اور اڑیسہ والے کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی ،البتہ پنہسہ والے صاحبزادے (جن کانام معلوم نہیں ہے)کی نسل یہاں پھلی پھولی ، انہی کی اولادمیں "سیدفریدالدین "پیداہوئے،سیدفریدالدین صاحب بڑےزمیندارتھے ، تقریباًپانچ سو(۵۰۰)بیگہہ زمین کے مالک تھے، ان کےچارلڑکے ہوئے:
(۱)مولوی سیدحسین بخش(۲) سید مخدوم بخش (۳)سیدافضال الدین (۴)
سید یوسف علی ۔
مولوی سیدحسین بخش اور سیدیوسف علی صاحب دونوں آپس میں ہم زلف تھے،یہ دونوں جناب سیدداؤدعلی صاحب کےدامادتھےجوپنہسہ کےرہنےوالےتھے،جیسا کہ ۱۸۹۳؁ء کےایک وثیقہ سے معلوم ہوتاہے،اوروثیقہ سے یہ بھی ظاہرہوتاہےکہ سیدحسین بخش کی بیوی کانام بی بی بصیرالنساء عرف بصیرن ،اورسیدیوسف علی کی زوجہ کانام نصیرالنساء عرف نصیرن تھا۔
ان بھائیوں کی حویلی تقریباًڈیڑھ بیگھہ رقبہ پرمشتمل تھی،یہ حویلی مٹی کی موٹی موٹی دیواروں سے بنی ہوئی تھی،اس میں چھتیس (۳۶)کمرے تھے،ایک ہال نمادالان تھا،پورب جانب بڑاتالاب تھا ،جوآج بھی موجود ہے،البتہ وہ بڑی سی حویلی اب باقی نہیں ہے ،وارثوں میں تقسیم ہوکر اس کانقشہ بدل چکاہے ،اورمٹی کے مکانات کی جگہ پختہ مکانات بن گئے ہیں ۔
چاروں بھائیوں میں مشترکہ زمین تقریباًپانچ سوبیگھہ(۵۰۰) بیگھہ تھی ،تقسیم کے بعد ہرایک کےحصےمیں قریب سواسو (۱۲۵)بیگھہ زمین آئی ۔
مولوی سیدحسین بخش اور سیدیوسف علی ہم زلف تھے،یہ دونوں جناب سیدداؤد علی صاحب کےدامادتھے،سیدداؤد علی صاحب کی بڑی صاحبزادی بی بی نصیرن (نصیرالنساء) سے مولوی سیدحسین بخش کی اوردوسری صاحبزادی بی بی بصیرن (بصیر النساء)سے سیدیوسف علی کی شادی ہوئی،سیدداؤدعلی صاحب غالباًاستھاواں کی طرف کے رہنےوالےتھے،کیونکہ عام طورپرجازنیری سادات کےگھرانےکی شادیاں آپس میں سید احمدجازنیریؒ کےعلاقے بارہ گاواں یاسیدمحمدجازنیری ؒکےخطے استھانواں وغیرہ میں ہوتی تھیں۔
ان چاروں بھائیوں کی اکثراولادپنہسہ اوربہارشریف میں آبادہیں ،کچھ لوگ پاکستان ،امریکہ ،لندن وغیرہ کےعلاوہ ہندوستان کےدوسرے صوبہ جھارکھنڈ وغیرہ میں بھی مقیم ہیں ۔
مولوی سیدحسین بخش کے دولڑکے ہوئے:(۱ )بڑے صوفی احمدسجاد(۲)چھوٹے مولاناابوالمحاسن محمدسجاد۔
اور تین لڑکیاں ہوئیں:(۱)بڑی بیٹی کانام معلوم نہیں ،ان کی شادی پنہسہ ہی میں ہوئی تھی،اورصاحب اولادبھی ہوئیں(۲)دوسری بیٹی کانام صغریٰ تھا،ان کی شادی بھی "پنہسہ” ہی میں جناب محمد خلیل سے ہوئی،صاحب اولاد تھیں ،ان کوچارلڑکے اورپانچ (۵)لڑکیاں ہوئیں،محمدخلیل مشرقی پاکستان چلے گئے اور وہیں انتقال کیا، (۳)تیسری بیٹی کانام رابعہ تھاان کی شادی اوگانواں میں محمدنورالدین سے ہوئی،ان کوایک لڑکاہواجوبچپن ہی میں انتقال کرگیا، یہ پنہسہ میں اپنے والدکی حویلی میں رہتی تھیں ۔
فی الحال حضرت مولانامحمدسجادؒکےوالداورچچاؤں کی نسل سےسادات کےتقریباً
تیس(۳۰)گھرپنہسہ میں موجودہیں،ان کے علاوہ شیوخ اور دیگرخاندانوں کےستر (۷۰)
مسلم گھرانےبھی آباد ہیں ۔
حضرت مولانامحمدسجادؒ کے ہم وطن حضرت علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ رقمطرازہیں:
"صوبۂ بہار میں قصبہ بہاراور گیاکے درمیان کاعلاقہ ہندؤں کے عہد میں
بودھوں اور جینیوں کی یادگاروں سے بھراہواہے،اسی راستہ میں چندمیل
آگے بڑھ کر بودھوں کی مشہوردرسگاہ نالندہ کے آثار اور کھنڈر ہیں اسی سے
ملاہوا "پنہسہ”نامی مسلمانوں کاایک گاؤں ہے، جہاں سادات کے کچھ
گھرانے آبادہیں ،انہیں میں سے ایک گھر میں مولاناسجاد کی ولادت ہوئی ۔
آپ کاخاندان دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے ممتازتھا ،خوشحال لوگ تھے ، اچھی خاصی زمینداری تھی ،جو بعد میں مولاناسجاد کی زندگی کے آخری دور میں بے توجہی اور مالگذاری وغیرہ کی عدم ادائیگی کے سبب نیلام ہوگئی ،
ضیافت وخوش خلقی کی روایات آج بھی اس خاندان میں موجود ہیں،لوگوں کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں ،علم دین کی جگہ علم دنیانے غلبہ پالیاہے ،لیکن خاندانی نجابت وشرافت ، مہمان نوازی ،مسافروں کی خدمت ،وضع داری اور قرابتوں اور نسبتوں کی پاسداری خاندان کے ایک ایک فرد میں موجود ہے ،تعلقات کی وسعت اور دنیوی خوشحالی کے باوجود عزت سادات ابھی گردآلود نہیں ہوئی ہے،یوں بھی یہ پورا علاقہ مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری (بہار شریف- ولادت : شعبان ۶۶۱؁ھ مطابق جون ۱۲۶۳؁ء–وفات :شوال ۷۸۲؁ھ مطابق جنوری ۱۳۸۱؁ء )اوربہت سےاولیاء اللہ کے فیوض عالیہ سے مالامال ہے،اوران کے روحانی اورمعنوی اثرات پورے خطے میں واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: