مضامین

مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری: عہد،علاقہ اورخاندان فصل اول

اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

فصل اول
مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالمحاسن محمدسجادؒاپنے عہد کے ممتاز عالم دین ،بلندپایہ مفکر ،بےنظیر داعی انقلاب ،اورانتہائی عظیم قومی ، ملی اورسیاسی رہنما تھے ، وہ علم وعمل کامجسمہ اورفکروانقلاب کا پیکر تھے، ان کے ذہن ودماغ کےتمام دروازے کھلے ہوئے تھے،ان کاعلم زندہ ،روحانیت مضبوط اور جذبۂ عمل طاقتور تھا،وہ نگاہ دوربیں اور ذہن رساکے مالک تھے ،ان کی شخصیت بصیرت دینی،فراست ایمانی اورتبحر علمی کی شاہکارتھی،وہ اشیاء کےحقائق اور معاملات کی تہوں تک پہونچنے والے رہنماتھے ،ان کاتدبر بے نظیراورتفکرعالمگیرتھا، وہ نرم دم گفتگواورگرم دم جستجوکی زندہ مثال تھے، وہ اس عہدزوال میں انسانیت کے لئےرب کائنات کابیش قیمت عطیہ تھے ،جس عہد میں وہ پیدا ہوئے اور جہاں انہوں نے شعور وآگہی کی آنکھیں کھولیں اس میں ایسے ہی زندہ دل ، بلندحوصلہ ،تازہ دم اورپختہ کاررہنماکی ضرورت تھی ،۔۔۔۔
تصویرعہد
آج سے تقریباً بیس(۲۰) سال قبل امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کےزیر اہتمام”مولاناسجادؒسیمینار”(منعقدہ ۲۰، ۲۱/اپریل ۱۹۹۹؁ء)کے موقعہ پر اس حقیر نے ایک مقالہ پیش کیاتھا ،جوبعد میں وہاں سے شائع ہونےوالےسیمیناری مجلہ کاحصہ بنا،اوراس کےاقتباسات میرےکئی مضامین میں بھی نقل ہوئے،اس موقعہ پراپنےگذشتہ احساسات اور عہدماضی سے رشتہ استوارکرتے ہوئے اسی مقالہ کاایک اقتباس دہراناپسندکرتاہوں کہ :
"حضرت مولاناسجاد ؒنے جس عہد میں اپنی آنکھیں کھولیں ،وہ عہدانتہائی انتشار کاتھا،ہندوستان کی سرزمین پر صدیوں حکومت کرنے والی ایک تاریخی امت سیاسی منظرنامہ سےغائب ہوچکی تھی،اور ہندوستان کے سیاسی افق پرایک نئی قوم کاسورج طلوع ہوچکاتھا، صدیوں سے قائم ایک شاندار تہذیبی ،سیاسی ،اور اقتصادی نظام کاشیرازہ بکھرچکاتھا،اور ایک نیااخلاقی ،تہذیبی ،سیاسی ،اورمعاشی نظام اس کی جگہ لے رہاتھا،ایک بساط الٹ چکی تھی،اور نئی بساط پر نئے مہرے جمائے جارہے تھے ،پرانے تمام اقدار مسخ کئے جارہے تھے ،اور نئے مصنوعی اقدار کوجگہ دی جارہی تھی ،جس قوم نے سرزمین ہند کی سب سے شاندار تاریخ بنائی تھی ، اب وہ خود تاریخ کاحصہ بنتی جارہی تھی ،اور جس امت نے اپنی قابل فخر فیاضانہ روایت کے مطابق دنیاکوصرف دینااور نوازناسیکھاتھا،آج وہ خود نئےحکمرانوں کےحضورسوالیوں اورحقوق ونوازشات کے امیدواروں کی صفوں میں کھڑی تھی ۔
غورکیجئے!کتناالمناک اور اذیت ناک دور تھاوہ ،(اورآج بھی اس سے مختلف نہیں ہے)علامہ حالی ؔ بھی تڑپ اٹھے تھے ،اور درد سے ابل پڑے تھے :
جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر وکسریٰ
وہ آج خود مہمان سرائے فقراء ہے
اور اپناغم اپنے آقاؐکےحضوربھی پیش کیاتھا:
اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعاہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
اقبال ؔبھی خون کے آنسوروئے تھے :
گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
آج اس کربناک دور کاتصور بھی ہمارے رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی ہے ،
حضرت مولاناسجادؒخلاق فطرت کی جانب سے حساس اور فکرمند دل ودماغ لے کر آئے تھے
اور وہ خودبھی اس منظرنامہ کے عینی شاہد تھے۔۔۔۔۔۔انہوں نےایک خوشحال اورزمیندار
گھرانےمیں آنکھیں کھولی تھیں اور نیاعہد زمیندارانہ نظام پر خط تنسیخ کھینچ رہاتھا۔”

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: