مضامین

مولانا ابوبکر صاحب ناظم اعلی جمعیت علمائے جھارکھنڈ

محمد یاسین جہازی

مولانا ابوبکر صاحب ناظم اعلی جمعیت علمائے جھارکھنڈ
محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کے انتخابی تربیتی پروگرام کے پیش نظر، کچھ ریاستوں کادورہ ہوا۔ دورہ کا ایک سلسلہ جمعیت علمائے جھارکھنڈ سے بھی جڑا۔ چنانچہ اسی مقصد سے۵/ مارچ 2021کو راقم الحروف علیٰ الصباح رانچی پہنچا، جہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق، جمعیت کے صوبائی دفتر میں مخصوص افراد پر مشتمل ایک میٹنگ ہوئی اور انتخاب کے ساتھ ساتھ مستقبل میں جھارکھنڈ جمعیت کو مزید فعال بنانے اور خدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی۔ راقم کی مولانا ابوبکر صاحب نور اللہ مرقدہ جنرل سکریٹری جمعیت علمائے جھارکھنڈ سے رانچی میں یہ چوتھی ملاقات تھی اور آخری بھی۔اس ملاقات میں مولانا مرحوم، ان کے سفر و حضر کے ساتھی مفتی قمر الدین صاحب استاذ مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی و فعال کارکن جمعیت علمائے رانچی، خازن جمعیت جناب شاہ عمیر صاحب، مولانا اسجد صاحب استاذ مدرسہ حسینیہ کڈرواور دیگر ذمہ دار افراد نے حالیہ اجتماعی ملی کاز اور سماجی فلاح وبہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیلی تذکرہ کیا، تو اندازہ ہوا کہجیسے جیسے مولانا مرحوم بڑھاپے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ویسے ہی جھارکھنڈ جمعیت جواں ہوتی جارہی ہے۔ ان ذمہ داران کا خود اعتراف تھا کہ جب سے جھارکھنڈ جمعیت تشکیل پائی ہے، اس وقت سے لے کر آج تک اتنا کام نہیں ہوپایا، جتنا اب کر رہے ہیں اور آگے منصوبہ بند پلان کے مطابق کریں گے۔
اس خوشگوار میٹنگ سے پہلے اور بعد بھی، مولانا مرحوم نے ناچیز کے ساتھ اخلاق حسنہ کے انھیں کردار کو دوہرایا، جو اس سے پہلے کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ریاستی سطح کے ناظم ہونے کے باوجود ناچیز کے لیے بس اڈے تک استقبال کے لیے آنے پر مصر ہوئے، جسے ناچیز نے بہت ہی اصرار کے ساتھ معذرت کی۔ معذرت کی انتہا دیکھ کر خود تو تشریف نہیں لائے؛ لیکن اپنے ساتھی جناب قاری مشتاق صاحب استاذ مدرسہ کڈرو کو بھیج دیا اور قبل از فجر وہ ریسیو کرنے کے لیے آئے، جو ان کے تواضع کا اعلیٰ مظاہرہ تھا۔ میٹنگ کے بعد بھی مولانا مرحوم نے تنہا نہیں چھوڑا اور کووڈ لاک ڈاون کی بندشوں کے باوجود ایر پورٹ تک صحیح سلامت پہنچا کر ہی سکون محسوس کیا۔
مولانا متنوع جہات خصوصیات کے مالک تھے۔ ایک طرف وہ مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی کے کامیاب استاذ تھے، تووہی دوسری طرف جھارکھنڈ جمعیت کے فعال ناظم عمومی۔مدرسہ سے وابستگی ان کی خالص دینی خدمات کا پرتو تھی، تو جمعیت کے پلیٹ فارم سے غریبوں، یتیموں اور حالات سے ستم زدہ کے لیے مسیحا بنے ہوئے تھے۔ تدریس کے ساتھ ملی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اس میں نمایاں کردار ادا کرنا؛ یہ کچھ مخصوص جگر والوں کا ہی کام ہوتا ہے۔ بالخصوص ابھی کچھ دنوں پہلے انھوں نے کاموں کو ترتیب دیتے ہوئے جس طرح منظم طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا؛ اس سے بالیقین ملک و ملت کے حق میں بڑے دور رس اثرات مرتب ہوتے؛ لیکن افسوس کہ وہ اپنے کام کو مکمل کرنے سے پہلے ہی ہم لوگوں سے جدا ہوگئے۔
مفتی قمر الدین صاحب سے 13/ اپریل 2021، بروز منگل رات تقریبا گیارہ بجے اطلاع ملی کہ مولانا سخت بیمار ہیں اور آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ پھر چار پانچ منٹ کے بعد ہی اطلاع دی کہ مولانا کا انتقال ہوگیا ہے۔ بیماری کی خبر سے دل افسوس کا اظہار کر ہی رہا تھا کہ موت کی خبر نے اسے چیر کر رکھ دیا۔ زبان سے آہ کے شرارے اڑنے لگے۔ جسم و جاں مضمحل ہوکر بے جان سا ہوگیا۔اور انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کر سکون حاصل کرنے کی کوشش کی؛ لیکن کیفیت مضطرب ہی رہی۔ یہی خیال ستاتا رہا کہ ابھی تو جانے کے دن نہ تھے؛ لیکن رضائے مولیٰ کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، اس لیے رضائے مولیٰ پر راضی رہتے ہوئے، اسی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق آئیے مولانا مرحوم کو سچا خراج عقیدت یہ پیش کریں کہ ہم ان کے مشن کو زندہ رکھیں گے، تاکہ ان کے لیے صدقہ جاریہ کا سبب بنے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے مزید درجات بلند ہو۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: