مضامین

مولانا احمد سعید صاحب کی گرفتاری: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر (4)

محمد یاسین جہازی 9891737350

”دہلی20ستمبر۔ آج ۵ بجے صبح حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند و ڈکٹیٹر کانگریس کمیٹی دہلی کو ممدوح کے دولت خانہ پر زیر دفعہ17ترمیم قانون فوجداری گرفتار کرلیا گیا۔ اگر چہ عام طور پر مولانا کی گرفتاری کے متعلق اطلاع نہیں ہوسکی تھی، مگر چند منٹ کے اندر اندر خلقت کا ہجوم بہت زیادہ ہوگیا تھا۔ اور تمام محلہ اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔ مسلمانوں کی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ بے اختیار ٹوٹے پڑتے تھے۔……تقریبا ڈیڑھ بجے کا عمل ہوگا کہ عبد الستار صاحب انچارج علاقہ ۳ دو کانسٹبلوں کو ساتھ لے کر موٹر میں کوچہ چیلاں تشریف لائے۔ موٹر کی آمد پر محلہ والوں کو پولیس کے آنے کی اطلاع ہوگئی اور لوگ جاگ گئے۔ مجمع لحظہ لحظہ بڑھتا گیا۔ تقریبا ۵ بجے ایڈیٹرالجمعیۃ نے مولانا کو جاکر جگایا اور انھیں اطلاع دی کہ عبد الستار صاحب آگئے ہیں۔ مولانا نے ارشاد فرمایا کہ انھیں فورا بلایا جائے۔ حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند بھی تشریف لے آئے۔ اور حضرت مولانا احمد سعید صاحب حوائج ضروری سے فارغ ہونے کے لیے نیچے زنانہ میں تشریف لے گئے۔ نیچے سے واپس آکر مولانا نے عبد الستار صاحب کا نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ خیر مقدم کیا اور اپنی طبعی خوش مذاقی کے ساتھ نہایت پر لطف گفتگو کی۔ عبد الستار صاحب کا رویہ شروع سے آخر تک شریفانہ رہا، جس سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انھیں صرف اپنے فرض کی ادائیگی ملحوظ ہے۔
جتنی دیر میں مولانا کا بستر بندھا اتنے میں بکس میں ضروری کپڑے رکھے گئے، مولانا نے نماز فجر ادا کرلی۔ ڈاکٹر سعید احمد صاحب، کرنل محمد اسحاق صاحب، مولانا نور الدین صاحب بہاری، سید عزیز حسن صاحب بقائی اور دیگر حضرات مولانا سے مصافحہ کرنے میں مشغول تھے۔ اور مولانا حسب عادت اپنے خاص انداز میں ہر شخص سے وداعی کلمات کہہ رہے تھے۔ بعض ایسے مسلمان بھی موجود تھے، جو جامع مسجد پر بدیشی کپڑے کی تھڑی لگاتے ہیں، ان سے رخصت ہوتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اگر آپ میں کچھ بھی اسلامی غیرت و شرافت کا جذبہ موجود ہے، تو آپ جلد سے جلد کانگریس سے معاملہ کرکے اس بدیشی کپڑے کو جامع مسجد کے چوک پر فروخت کرنا چھوڑ دیں، جس سے ہزاروں ہندستانیوں اور بالخصوص مسلمان جولاہوں کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے۔ اور جس کے باعث آپ کے وطن کے رہنے والے اپنی روزیوں کو کھو بیٹھے ہیں۔ اور جس کو جامع مسجد پر بیچنا اور خریدنا خود جامع مسجد کی انتہائی تذلیل و توہین ہے۔ جس وقت یہ مخصوص مجمع اوپر تھا اور مولانا ہر شخص سے ہنسی خوشی رخصت ہور ہے تھے، ایک انبوہ کثیر نیچے سڑک پر مجتمع تھا۔
اس دوران میں مولانا کا ناشتہ تقریبا تیار ہوگیا تھا۔ چائے کے لیے مولانا سے کہا گیا۔ عبد الستار صاحب نے فرمایا کہ کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ آپ ناشتہ سے فارغ ہوجائیے۔ مگر مولانا خود کسی قسم کا مظاہرہ نہیں چاہتے تھے اور ممدوح کو بہت جلدی تھی، اس لیے چائے بھی نوش نہیں فرمائی۔ اور عبد الستار صاحب کے ساتھ نیچے اتر آئے۔ جس وقت مولانا نے دروازہ میں قدم رکھا ہے، تمام سڑک پر آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔ اللہ اکبر کے نعرے متواتر بلند ہوتے رہے اور لوگ مولانا کو ایک حلقہ میں لے کر تراہا بہرام خاں کی طرف روانہ ہوئے۔ موٹر کو گلی سے کسی قدر فاصلہ پر بھیج دیا گیا اور مولانا لوگوں کے ہجوم کے درمیان وہاں تک تشریف لے گئے۔ راستہ بھر پھولوں کی بارش ہوتی رہی۔ مسلمانوں کا جوش و خروش اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر مولانا نے پھول منڈی کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی وداعی تقریر میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے یہ ہدایت کی کہ وہ پوری طرح عدم تشدد کے پابند رہیں۔ اور اپنے جوش میں کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں، جو تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے والی ہو اور جس سے حکومت کو اس کا موقع مل سکے کہ وہ پبلک کو مورد الزام بنائے۔ مولانا نے بدیشی کپڑے کے بائیکاٹ کا بھی عہد لیا۔ تقریر کرنے کے بعد مولانا موٹر کی طرف تشریف لائے۔ حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور کرنل محمد اسحاق پہلے سے اس موٹر میں موجود تھے۔
وارنٹ گرفتاری
ایڈیٹر الجمعیۃ نے اس موقع پر عبدالستار صاحب سے درخواست کی کہ وہ گرفتاری کا وارنٹ دکھادیں۔ چنانچہ انھوں نے پولیس کا حکم دکھادیا، جس میں دفعہ 17کریمنل لاء ایمنڈمنٹ (ترمیم قانون فوجداری) کے ماتحت مولانا کو کانگریس کا ڈکٹیٹر ہونے کی حیثیت سے گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد موٹر روانہ ہوگئی اور مجمع واپس ہونے لگا۔ واپسی میں بہت سے آدمیوں کو دیکھا گیا کہ وہ مولانا کے مکان کی طرف وداعی ملاقات کے لیے افتاں و خیزاں جارہے ہیں۔ یہ منظر بھی عجیب و غریب تھا کہ ہر شخص مولانا سے ملاقات کرنے کے واسطے مضطرب نظر آتا تھا۔
قائم مقام ناظم جمعیت کی نامزدگی
”یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا کی گرفتاری کے بعد جمعیت علمائے ہند کی نظامت کے لیے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریت صوبہ بہار کو نامزد کیا جائے گا اور آپ کے نائب مولانا نور الدین صاحب بہار رکن جمعیت علمائے ہند مقرر کیے جائیں گے۔ اس کے متعلق عنقریب صدر محترم کی جانب سے کوئی اعلان شائع کیا جائے گا۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ مولانانے اپنی جگہ دہلی کا ڈکٹیٹر کس کو مقرر کیا ہے۔
حضرت مولانا کی گرفتاری پر شہر میں مکمل ہڑتال ہورہی ہے۔“ (الجمعیۃ 24 ستمبر 1930)
نیا ناظم جمعیت
”چوں کہ حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند 20ستمبر1930کو صبح کے وقت گرفتار کرلیے گئے تھے، اس لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ان کی جگہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ناظم مقرر فرمادیا۔ اور مولانا نور الدین صاحب بہاری کو جو آج کل دفتر جمعیت میں ہی مقیم ہیں اور خدمات جلیلہ انجام دے رہے ہیں، نائب ناظم مقرر فرمادیا ہے۔ یہ دونوں تقرریاں جمعیت عاملہ کی منظوری کی امید پر فوری ضرورت کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہیں۔“ (الجمعیۃ24ستمبر1930)
حضرت مولانا احمد سعید صاحب کا مقدمہ 26ستمبر1930کو پیش ہونا تھا، لیکن کسی چھٹی کی وجہ سے 13اکتوبر 1930کو آپ کا مقدمہ پیش ہوا۔ تفصیلات اس طرح ہیں:
”تقریبا پونے دو بجے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند تشریف لائے۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ 10اکتوبرکو مولانا کا مقدمہ فیصلہ سنانے کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔
بھگوان داس سب انسپکٹر سی آئی ڈی نے مولانا کی تقریر پڑھ کر سنائی، جس میں کانگریس کمیٹی کو خلاف قانون قرار دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اور دہلی کی حکومت کے اس فعل کو سخت غلطی بتایا گیا تھا۔ اور کانگریس کی ڈکٹیٹر شپ قبول کی گئی تھی۔ اور لوگوں سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ بدیشی مال کی ایک دھجی نہ خریدیں۔ ہر گھر میں کانگریس کمیٹی بنائی جائے۔ روپیہ اکٹھا کیا جائے اور رضاکار بنائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔
حضرت مولانا نے تقریرکو سننے کے بعد فرمایا کہ بھگوان داس میری تقریر کو کس طرح قلم بند کرسکتا ہے، جو دہلی کی زبان میں استعمال کرتا ہوں وہ اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ میری یہ تقریر نہیں ہے۔ خدا جانے کیا لکھ لیا ہے۔
مجسٹریٹ: کیا آپ نے کانگریس کمیٹی کی ڈکٹیٹرشپ قبول کی؟
حضرت مولانا: میں کسی سوال کا جواب دینا نہیں چاہتا، کیوں کہ میں کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرچکا ہوں۔
مجسٹریٹ: کیا آپ شہادت صفائی پیش کریں گے۔
حضرت مولانا: جی نہیں۔
مجسٹریٹ: ہم نے آپ کو چھ ماہ قید محض اے کلاس دیا۔
حضرت مولانا: (ہنس کر) میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔“ (الجمعیۃ16اکتوبر1930)
دہلی سے گجرات جیل میں تبادلہ
پہلے آپ کو دہلی جیل میں رکھا گیا، بعد ازاں 16اکتوبر 1930کی شام کو بذریعہ ٹرین آپ کو گجرات جیل منتقل کردیا گیا۔
”…… اور بہت سے سیاسی اسیروں کو 16اکتوبر کی شام کو موٹر لاریوں میں دہلی ڈسٹرکٹ جیل سے ناگلوئی اسٹیشن پر پہنچایا گیا، جہاں سب حضرات کو ریل میں سوار کیا گیا۔ ……معلوم ہوا ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب و مولانا احمد سعید صاحب معہ دیگر رفقا اسے کلاس گجرات جیل بھیجے جائیں گے۔“ (الجمعیۃ20اکتوبر1930)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: