مضامین

مولانا اسرار الحق قاسمی کی ملی،سماجی اور سیاسی خدمات

نورالسلام صاحب ندوی، پٹنہ

بزرگ عالمِ دین ،مشہور صحافی،سیاست داں،مصنف،ادیب اور خطیب حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی 76سال کی عمر میں آج علی الصبح راہیِ ملک عدم ہوئے،مولانا کی عمر گوکہ کم نہ تھی؛لیکن اس کے باوجود بہت متحرک ،سرگرم اور چاق وچوبندتھے اوروہ ہر طرح ٹھیک تھے،معمول کے مطابق سارے کام انجام دے رہے تھے ،بظاہر کسی کویہ توقع نہیں تھی کہ مولانا اچانک دنیا سے رخصت ہو جائیں گے؛لیکن موت یقینی ہے اور اس کا کوئی وقت متعین نہیں ہے،خدا انہیں جنت کا مکیں بنائے۔
شخصیتیں آسمان سے بن کر نہیں آتی ہیں؛ بلکہ وہ اپنی سیرت، اپنے اخلاق ،اپنے کردار او راپنے مثالی کارناموں سے بنتی ہیں اور زمانے میں نام پیدا کرتی ہیں ،بزرگوں کا مقولہ ہے کہ: کام کروگے، تو نام ہوہی جائے گا اور زمانہ تمھاری شخصیت کے اعتراف پرمجبور ہوگا،یہ بات ملک کے نامور عالم دین اور سیاستداں حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ (ایم پی ) کی شخصیت پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے،اللہ تعالیٰ نے انہیں متنوع خوبیوں کا مالک بنایا تھا ،ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے ،شاعر اسلام علامہ اقبال کا شعر ہے :
نگہ بلند ،سخن دلنواز ،جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
واقعی یہ تمام خوبیاں قدرت نے حضرت مولانا کی شخصیت میں جمع کر دی تھی ،کسی شخصیت پر توجہ اسی وقت مرکوز ہوتی ہے اور اس کے مرتبے کا اعتراف اور دل میں اس کی عظمت کا احساس اسی وقت ہوتا ہے ،جب وہ’’ نرم دمِ گفتگو‘‘ اور’’ گرم دمِ جستجو‘‘ دکھائی دے،حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی پوری زندگی ان خوبیوں سے آراستہ اورپیراستہ نظر آ تی ہے، وہ جس خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر تے رہے اور جس انداز سے قوم و ملت کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے سرگرمِ عمل رہے ،وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ، مولانا یوں تو بنیادی طور پر ایک باصلاحیت اور باشرع عالم دین تھے؛ لیکن حقیقت یہ کہ مولانا کی شخصیت کی کئی جہتیں او رپرتیں ہیں ،ایک ممتاز عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد اور قدآور سیاسی لیڈر بھی تھے، گندی سیاست میں بھی حضرت مولانا پورے عالمانہ وقار ، وضعداری ،تہذیب و اقدار کی پاسداری اورایمان و اخلاق کی بلندی پر نظر آتے تھے ۔
موجودہ سیاست کا ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ سیاست اور دین میں ایک دیوارحائل کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں علما طبقہ اور دانشور طبقہ کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی ہیں ،اس دوری نے بہت ساری برائیوں کو جنم دیا ،بہت سارے مسائل کو ابھارا ،دانشوروں نے یہ محسوس کیا کہ سیاست او ردنیا کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ، ادھر علما نے یہ سمجھ لیا کہ دین اور شریعت کو صرف و ہی سمجھتے ہیں ،جبکہ دونوں باتیں غلط ہیں ،دانشوروں میں بھی دین داری ہوتی ہے او رعلما میں بھی دانشوروں کی طرح دنیا کے پیچ و خم کو سمجھنے اور سلجھانے کی صلاحیت ہوتی ہے،اس منفی سوچ و فکر نے دونوں طبقوں کے درمیان فاصلہ بڑھا دیاہے ،حضرت مولاناکا یہ مجاہدانہ کام ہے کہ انہوں نے اس خلیج کو پاٹنے میں اہم رول ادا کیا ، فاصلوں کو سمیٹا ،دوریوں کو مٹایا ،نزدیکیاں بڑھائیں اور قربتیں پیدا کیں،ان کی سوچ بلندتھی ،روشن دماغ ہونے کے ساتھ وسیع القلب اور وسیع الذہن تھے ،مسلک اور مشرب کی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر ہمیشہ قوم و ملت کی فلاح و کامیابی کی فکر کرتے رہے ،ایک ایسے وقت میں ،جبکہ ہر فرد ذات پات او رمسلک و مشرب کی بنیاد پر اپنی سیاست کی روٹی سینکتا نظر آرہا ہے،مسلک کے نام پر اپنے مفاد کی سیاست تو ضرور چمکاتا رہا ہے؛ لیکن قوم و ملت کو تحت الثری میں ڈھکیلنے میں لگاہے،حضرت مولانا اس سے بلند ہوکر کام کر تے رہے،انہوں نے کبھی بھی ذات اور مسلک کی سیاست کو ہوا نہیں دی ،ہر مذہب او رہر مسلک کے لوگوں کو ساتھ لے کر کام کرنے میں یقین رکھتے تھے ،سنی ،شیعہ ، دیو بندی ،بریلوی ، وہابی یا کوئی بھی فرقہ ہو، مولانا نے ہمیشہ سب کو ساتھ اور ایک لڑی میں پیرو کر رکھا ۔
حضرت مولاناپوری زندگی انسانی یکجہتی او رملی اتحاد کے علمبردار رہے،اپنے عمل سے ،کردار سے ،تقریر سے ،تحریر سے غرض کہ ہر سطح پر مولانانے اتحاد، اتفاق ،یکجہتی ،محبت اور انسانیت کا پیغام عام کیا ،انہوں نے اپنی سلجھی ہوئی تحریروں ،فکر انگیز مضامین ،بے باک تبصرے او ر دلآویزمقالوں کے ذریعے بھی ملک و ملت کی ہمیشہ رہنمائی کی ہے،ان کے بے لاگ تبصروں اور تجزیوں نے ملک و سماج کو مثبت راہ دکھائی ہے ، ملک کے موقر اخبارات ورسائل اور جرائد میں ملی مسائل ، ملکی حالات ،معاشرتی اصلاح اور حالاتِ حاضر ہ پر ان کے مضامین نہایت ہی اہتمام سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔
آپ کو ہمیشہ قوم کی تعلیمی بدحالی کی فکر دامن گیر رہی؛اس کے لیے ملک کے طول و عرض کا سفر کیا،تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا، نصابِ تعلیم کا مطالعہ کیا ، دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم سے ملاقات کی او رممکن حد تک اس کے لیے جدوجہد کرتے رہے،کشن گنج چونکہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور تعلیمی اعتبار سے کچھ زیادہ ہی پچھڑا ہواہے ؛اس لیے مولانا نے یہاں کی تعلیمی صورتحال پر خصوصی توجہ دی،مدارس ،مکاتب ،اسکول اور کالج کھلوائے ، درس و تدریس کے ماحول کو منظم اور مضبوط کیا،آدھی آبادی کی تعلیم کی بھی فکر کی ،اس کے لیے لڑکیوں کا ایک عالیشان اسکول مع ہاسٹل تعمیر کروایا، جہاں نہ صرف یہ کہ کشن گنج؛ بلکہ بہار سے باہر کی لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں ،حضرت مولانانے تعلیم کے فروغ کے لیے ملی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ،جس کے تحت بہار ،مغربی بنگال ، جھارکھنڈ اور اترپردیش کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تقریباً دو سو مکاتب و مدارس چل رہے ہیں ،کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے قیام کے لیے مولانا نے ہمیشہ جدوجہد کی ،بالآخر ان کی کوشش بار آور ثابت ہوئی او رکشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سنٹر کا قیام عمل میں آیا،یہ مولانا کاتاریخی کارنامہ ہے ،جسے کشن گنج کے عوام کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے،انہوں نے علم کی جو شمع روشن کی ہے، آج اس کی روشنی پوری تابانی کے ساتھ پھیلتی چلی جارہی ہے ۔
مولانا کی ملی و سماجی خدمات تقریباً چار دہائیوں سے زائد پر مشتمل ہے ،فرقہ وارانہ فسادات کا موقع ہو یا آفتِ سماوی یا پھر مصیبت کی کوئی اور گھڑی، ایسے مواقع پر مولانا اخلاقیت او رانسانیت کے بامِ عروج پر نظر آتے ہیں ،مصیبت زدہ اور فسادزہ لوگوں کی مد د کے لیے بے چین ہو اٹھتے اور خود بھوکے پیاسے اور پریشان ہوکر متاثرین کی مدد کرتے۔
سیاست کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست میں ایمان دار ، دیندار، شریف ، مخلص ،انصاف پسند اور سیکولر لیڈروں کا تناسب بہت تیزی کے ساتھ گھٹتا جارہا ہے ،اس کے بالمقابل بے ایمان ، بدعنوان ، ضمیر فروش ، جرائم پیشہ ، مفاد پرست ، قوم کے سوداگر ، بدمعاش اور غنڈے قسم کے لیڈروں کا تناسب جس تیزی سے بڑھا ہے، اس نے سیاست کو اتنا پراگندہ اور متعفن کردیا ہے کہ ہر اچھا اور شریف آدمی خصوصاً علمااور دیندار طبقہ اس سے کنارہ کشی اختیارکرنے میں ہی اپنی عزت اور عافیت محسوس کرتا ہے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اچھے لوگوں نے اور علماے کرام نے سیاست میں حصہ لینا چھوڑ دیاہے،دین اور سیاست میں علیحدگی کردی گئی ،دین کو سیاست سے خارج سمجھ لیاگیا اور سیاست کو دین سے الگ کردیاگیا،تاریخ شاہد ہے کہ جب جب علمانے سیاست میں مضبوط حصہ لیا ہے، سیاست کی کایا پلٹ گئی ہے،ملک کی آزادی میں علماے کرام کے کردار کو کون بھلا سکتا ہے ؟ آزادی کے بعد بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں علماے کرام کی خدمات کو کون فراموش کرسکتا ہے ؟ مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ، مولانا اسعد مدنی ، امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی وغیرہ کے نام او رکام کو کون نظر انداز کرسکتا ہے ؟ موجودہ وقت میں مولانا اسرار الحق قاسمی باضابطہ عملی طور پر سیاست میں حصہ لے کر اسلاف کے نقش قدم پرچل کر اسلامی سیاست و اقدار کو فروغ دینے میں بڑا اہم رول ادا کررہے تھے۔
مولانا اسرار الحق قاسمی تقریباً چار دہائیوں سے سیاست میں سرگرم تھے؛ لیکن کبھی گندی سیاست سے اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیا،پانچ مرتبہ کشن گنج حلقہ سے الیکشن میں حصہ لیا ،پہلی بار 2009میں کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن جیت کر لوک سبھا پہنچے اور دوسری بار2014میں پارلیمنٹ پہنچے،عوام میں اس قدر مقبول اور محبوب تھے کہ جب یہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑے تھے، تو اس وقت بھی انہیں دولاکھ تیس ہزار ووٹ حاصل ہو ئے تھے،مولانا قاسمی اس وقت ایم پی تھے،پارلیمنٹ میں اپنی منفرد شناخت رکھتے تھے ،گوکہ اس وقت یہ عمر کی اس دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے، جہاں ہمت جواب دے دیتی ہے؛لیکن مولانا عزم و حوصلہ اور ہمت و استقلال کے پہاڑ تھے ،نوجوانوں کی طرح رات و دن محنت کرتے ،ان کی پوری زندگی جہدِ سلسل سے عبارت تھی،قوم و سماج کے دبے کچلے لوگوں سے ہمدری و غمخواری اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لیے مسلسل آئینی جدوجہد کرتے رہے ۔
مولانا اسرارالحق قاسمی کی زندگی گوناگوں صفات کی حامل تھی،دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا، کوچۂ سیاست ہو کہ میدانِ صحافت ، تعلیم و تربیت کا مرحلہ ہو یا سماجی خدمت کا؛ہرجگہ مولانا انفرادی شان کے ساتھ نظر آتے،ان کی زندگی جامِ شریعت اور سندانِ عشق کی جامع تھی،ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ انسانی خدمت اور فرقہ وارانہ فسادات کے مواقع پر ریلیف اور راحت کاری اور بے سہارا لوگوں کی دلجوئی اور بھلائی کے کاموں میں گذرا ہے ،گذشتہ چار دہائیوں میں ملک میں جتنے بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ،بیشتر مقامات پر مولانا متاثرین اورمصیبت زدہ لوگوں کو آرام و راحت پہنچانے میں رات دن ایک کردیا۔مولانا اپنے کام کے تئیں بے پناہ مخلص اور ایماندار تھے،عہدہ،منصب اور عزت وشہرت سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کا مزاج تھا۔۔
مولانا اسرار الحق قاسمی کی ولادت ماہ فروری 1942کو موضع ٹیپو ضلع کشن گنج میں ہوئی تھی،ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے مدرسہ میں حاصل کی اور1964میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔اور پوری زندگی قوم وملت کی خدمت میں جھونک دی،بالاخراپنی زندگی کی 76 بہاریں گزار کر جاں جاں آفریں کے سپرد کر دی۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: