اہم خبریں

مولانا خالد صاحب مہتمم مدرسہ محمود المدارس مسوری کا جہاز قطعہ میں پرتپاک استقبال

گڈا جھارکھنڈ کے مدارس و مکاتب میں تعلیمی حالات کا جائزہ لیا

راجدھانی دہلی سے متصل مسوری غازی آباد میں واقع مدرسہ محمود المدارس کے مہتمم مولانا خالد صاحب نے ایک وفد کے ہمراہ بسنت رائے بلاک کی مختلف بستیوں میں قائم کئی مکاتب و مدارس کا دورہ کیا، او ران کی تعلیمی حالات کا جائزہ لیا۔ انھوں نے جہازی میڈیا کو انترویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے قرآن کی تعلیم یہاں کھینچ لائی ہے، انھوں نے اپنا سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تھا کہ بہار و جھارکھنڈ کے مدارس و مکاتب میں قرآن کی معیاری تعلیم نہیں ہوتی ہے، اسی دورن نیموہاں میں واقع مکتب معہد انور علی کے ذمہ دار مولانا قاسم صاحب نے مجھے اپنے ادارے کے کئی ویڈیو بھیجے، جس میں بچے اور بچیاں بہت اچھا قرآن پڑھتی نظر آئیں، تو میرا ارادہ ہوا کہ کیوں نہ چل کر اس ادارے کو دیکھا جائے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ صرف اچھے پڑھنے والے بچوں کا ہی تو ویڈیو بناکر تو نہیں بھیجا جارہا ہے، چنانچہ ہم نے انھیں کی دعوت پر یہاں آنے کا ارادہ کیا او ربذات خود جائزہ لے کر اس نتیجے پر پہنچا کہ اس مکتب میں پڑھنے والے سبھی بچے بہت اچھا کلام پاک پڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعد مولانا قاسم کے طے کردہ شیڈول کے مطابق مولانا ریاض کا مدرسہ جامعہ عائشہ، خیرا ٹیکر کا مدرسہ، جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے کے علاوہ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں بھی پہنچا او ربچوں کو سنا تو ماشاء اللہ ہر جگہ طلبہ کو تجوید کی رعایت کے ساتھ کلام پاک پڑھتے ہوئے پایا۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ علاقہ کے علمائے کرام اور اہل مدارس کو ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا چاہیے اور مل جل کر کام کرنے کے جذبے کو فروغ دینا چاہیے۔ جہازی میڈیا نے ان سے کیے گئے اس سوال پر کہ آپ کے مطابق اس علاقے میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین موجود ہیں تو علما اس علاقے میں کام کیوں نہیں کرنا چاہتے، تو انھوں نے کہا کہ شاید یہاں ان کی معقول تنخواہ کا انتظام نہیں ہوپاتا ہے اس وجہ سے وہ دوسری جگہ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر اخلاص کے ساتھ قرآن کی خدمت کی نیت سے کام کو شروع کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ ضرور کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمادیں گے۔ انھوں نے علاقے کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے اہل خیر حضرات سے  اپیل  کی کہ جھونپڑیوں جھگیوں اور وسائل کی بے سروسامانی کے ساتھ دیہات میں کام کرنے والے اداروں کی امداد و تعاون پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
وفد میں قائد وفد مولانا خالد صاحب مہتمم مدرسہ محمود المدارس کے علاوہ،مولانا عبیداللہ صاحب نائب مہتمم مدرسہ محمود المدارس مسوری، مولانا ذاکر صاحب ناظم تعلیمات مدرسہ ہذا، قاری نعیم الدین صاحب مدرس مدرسہ ہذا، مولانا سرفراز صاحب قاسمی سانکھی سکریٹری جمعیت علما بسنت رائے، مولانا ہاشم صاحب نیمو ہاں شامل تھے۔ جب کہ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں وفد کے استقبال کرنے والوں میں یہاں کے مہتمم مفتی نظام الدین قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، مولانا محمد سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ و خازن جمعیت علمابسنت رائے ، مفتی محمد زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے و سکریٹری جمعیت علما بسنت رائے و سکریٹری لجنۃ العلما والمفتیین، مدرسہ کے جملہ اساتذہ و طلبہ او رگاوں کی اہم اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ مولانا محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند کے نام شامل ہیں۔ وفد نے مدرسہ کے احاطے میں اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کراتے ہوئے اگلی منزل کے لیے روانہ ہوگئے جہاں گاوں سے متصل موضع کپیٹا میں ایک نئے مکتب کی بنیاد رکھی جانے والی جگہ پر پہنچے۔ او ردعاوں کے ساتھ گاوں سے رخصت ہوگئے۔ یہ مکتب شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کی یادگار میں قائم کیا جارہا ہے، جس کا نام انھیں کی نسبت پر حسینی مکتب رکھا گیا، اس کے نگراں مولانا اختر حسین حسینی جہازی ہیں، جس کا باقاعدہ آغاز 12 دسمبر 2019 جمعرات کے دن بعد نماز مغرب تا عشا ایک مختصر نشست میں کیا جائے گا۔

اس موقع ہر جہازی میڈیا کو دیے گئے انترویو کو دیکھنے سننے کے اس لنک پر کلک کریں

https://www.youtube.com/watch?v=JRw6eE5BOP4

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: