اہم خبریں

مولانا ظریف احمد صاحب قاسمی ندوی مدنی:خدمات اور کارنامے

محمد عارف جیسلمیری نزیل:رام دیورا راجستھان ۱۸نومبر ۲۰۲۱ عیسوی

قسط(56)

کلیۃ الشریعۃ میں آپ کا اور آپ کے ہندی رفقاء کا داخلہ

جامعہ اسلامیہ میں اس وقت کلیۃ الشریعۃ،کلیۃ الحدیث،کلیۃ القرآن،کلیۃ اللغۃ العربیۃ اور کلیۃ الدعوۃ نامی پانچ کلیے قائم تھے،داخل ہونے والے طلبہ کو کسی بھی کلیے میں داخلے کا اختیار تھا اور پھر اسی کلیے میں رہ کر چار سال تک مختلف اساتذہ کی زیرِنگرانی علوم و فنون کی تحصیل کا سفر جاری رہتا تھا۔یہ بات بھی لائقِ ذکر ہے کہ جامعہ کے ان کلیات میں داخلے کے مجاز وہ فضلاء اور علماء تھے،جنھوں نے کسی بڑے ادارے سے سندِفراغت حاصل کی ہو،چھوٹے مدارس کے فارغ التحصیل علماء کو راست طور پر ان کلیات میں داخلے کی اجازت نہیں تھی،ایسے حضرات کے لیے جامعہ کی جانب سے ایک دو سالہ نصابِ تعلیم مقرر کیا گیا تھا،جس سے فراغت کے بعد ہی انھیں جامعہ اپنے ہاں جاری کلیات میں داخلے کا مستحق سمجھتا تھا۔

مولانا ظریف احمد صاحب چوں کہ ندوۃ العلماء سے فارغ تھے اور پھر آپ کا مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے تعلق؛اس لیے آپ کے داخلے کو فوری طور پر منظوری دے دی گئی تھی،جب آپ کا جامعہ میں داخلہ ہوا اور کسی ایک کلیے میں داخلے کا مرحلہ درپیش ہوا،اس وقت مولانا ظہیراحمد صاحب نے یہ مشورہ دیا کہ کلیۃ الشریعہ سب سے بہتر کلیہ ہے،علوم و فنون کی جامعیت کے لحاظ سے یہ کلیہ دیگر کلیات پر فائق ہے؛اس لیے اسی کلیے میں داخلہ لینا چاہیے،اس مشورے کو قبول کیا گیا اور مولانا ظریف احمد صاحب،مولاناصدرالدین صاحب اور مولانا صلاح الدین صاحب سابق استاذحدیث و فقہ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور و حال مقیم بحرین نے کلیۃ الشریعۃ میں داخلہ لیا۔

اس زمانے میں سعودی عرب کے علاوہ متعدد عرب ممالک کے علماء یہاں تدریسی خدمات کی انجام دہی پر مامور تھے۔ایسے ممالک میں شام اور مصر کے نام بہ طورِخاص قابلِ ذکر ہیں،جہاں کے اساتذہ کافی تعداد میں تھے۔

مولانا مدظلہم کے جامعہ اسلامیہ سے فراغت پر چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے،اس مدت میں جامعہ میں دو قابلِ ذکر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ کئی ایک کلیات کا نصابِ تعلیم میں اضافہ کیا گیا ہے،انھیں اضافہ کردہ کلیات میں کلیۃ الاعلام بھی ہے،جس کا مقصدِتاسیس علمی و دینی کتب کی بڑے پیمانے پر نشرواشاعت ہے۔اس کلیے کے قیام کے بعد بہت سی بیش قیمت کتابیں شائع ہوکر،قدردانوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور یہ سلسلہ بحمداللہ تادمِ تحریر جاری ہے۔

دوسری تبدیلی یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ اب بیش تر اساتذۂ جامعہ کا تعلق مملکت عربیہ سعودیہ ہی سے ہے،باہر کے اساتذہ کا تناسب حیرت انگیز حد تک کم ہو کر رہ گیا ہے۔

"العقیدۃ الطحاویہ” یہ عقائد کے باب میں احناف کی مشہور کتاب ہے،دنیا بھر کے علماء نے اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اعتراف کیا ہے اور دیگر مسالک کے لوگوں کے یہاں بھی اس کتاب کے مطالعے اور اس کے باضابطہ درس و تدریس کا سلسلہ عرصۂ دراز سے چلا آ رہا ہے۔العقیدۃ الطحاویۃ غالباً واحد ایسی کتاب ہے،جسے جامعہ اسلامیہ کے تمام کلیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔مولانا ظریف احمد صاحب نے جامعہ اسلامیہ کے زمانۂ قیام میں یہ کتاب شیخ عبدالکریم مرادیؒ سے پڑھی تھی،شیخ عبدالکریم مرادی کا اصل تعلق پاکستان کے بلوچستان سے تھا،وہ عرصۂ دراز سے سعودی عرب ہی میں مقیم تھے اور انھیں باقاعدہ یہاں کی نیشنلٹی بھی حاصل تھی۔مولانا ظریف احمد صاحب کا ان سے دلی تعلق تھا اور وہ بھی آپ کے ساتھ بڑی محبت کا معاملہ فرماتے تھے۔مولانا مدظلہم کا بیان ہے کہ وہ کبھی کبھار ان سے اردو میں گفتگو شروع کر دیتے تھے۔شیخ مرادی بھی جواب میں اردو زبان بولنے کی کوشش فرماتے،لیکن اب شیخ مرادی عربی زبان بولنے کے عادی ہو گئے تھے اور اردو زبان سے ان کا رشتہ برائے نام سا باقی رہ گیا تھا؛اس لیے ہوتا یہ تھا کہ ان کی گفتگو کا تقریباً ہر جملہ اردو و عربی دونوں طرح کے الفاظ پر مشتمل ہوتا تھا اور استاذ و شاگرد اس گفتگو سے خوش ہوتے تھے۔

دکتور محمود الوائلی آپ کے استاذ تھے،بڑے ہی قابل اور مدبر قسم کے انسان تھے اور طلبہ کا ان کی جانب اچھا خاصا رجوع تھا۔شیخ ابوبکر الجزائری اور شیخ عمر فلاتہ یہ آپ کے وہ استاذ تھے،جن کا مفکراسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندویؒ کے قدرداں اور وقتاً فوقتاً ان کی مجالس ہائے علمیہ سے مستفید ہونے والے لوگوں میں شمار تھا۔شیخ عمر فلاتہ یہ افریقہ کے کسی ملک کے رہنے والے تھے اور مسلکاً مالکی تھے۔مسجد نبوی میں شیخ ابوبکر الجزائری اور شیخ عمر فلاتہ دونوں ہی کا درس ہوتا تھا اور شیخ جزائری علومِ قرآن سے خصوصی شغف اور علومِ قرآنیہ کی کامیات تدریس و تفہیم کی وجہ سے علمی حلقوں میں شیخ التفسیر سے معروف تھے۔

شیخ ابوبکر الجزائری کے درسِ قرآن میں شاہ ملک خالد کی شرکت

جاری

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: