مضامین

مولانا محمد اسرارالحق قاسمیؒ اور ان کی سادگی

مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند

دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایک سے بڑھ کر ایک اہل کمال اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین پیدا کیے ہیں اور ایک ہی فن میں باکمال افراد کی کمی نہیں ہے۔ اس کے حقیقت کے ساتھ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ خالق کائنات نے ہر باکمال کو اس کی اپنی جگہ پر اس قدر فٹ اور منظم کر رکھا ہے کہ اہل کمال کی کثرت کے باوجود اس کے جانے کی ایسی خلا محسوس ہوتی ہے گویا پھر پر ہونا مشکل ہے۔ مفکر ملت حضرت مولانا محمد اسرارالحق قاسمی صاحب انھیں باکمال افراد میں سے ایک تھے، جن کے چلے جانے سے ملت اسلامیہ اپنا عظیم خسارہ پر ماتم زار ہے۔ ان سے عقیدت و محبت یا حقیقت کا اعتراف کرنے والے افراد اپنی عقیدت و محبت اورتسلیم حق کے لیے جگہ جگہ ایصال ثواب، قرآن خوانی ، دعائے مغفرت اور جلسہ ہائے تعزیت کا اہتمام کررہے ہیں، جو لائق تحسین و صد آفریں عمل ہے۔
یوں تو مولانا مرحوم مختلف جہات سے ہمہ گیریت سے متصف تھے، لیکن ناچیز نے ذاتی مشاہدہ میں جو سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت دیکھی، وہ ان کی سادگی اور تواضع تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں جنرل سکریٹری ہونے کے باوجود عام اسٹاف کے ساتھ اور انھیں کی طرح زندگی گذارتے تھے۔ کھانا بھی وہی کھاتے تھے، جہاں سب خدام جمعیۃ کھاتے تھے۔سفر کے لیے کبھی خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا، انھیں عام بسوں میں بھی سفر کرنے سے کوئی گریز نہیں تھا،، طویل اسفار کا بھی یہی انداز تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کرنیل گنج گونڈا میں فساد ہوا، تو حضرت مرحوم ٹرین سے جنرل ڈبے میں سفر کرکے گئے ، اور ناچیز کو بھی ہمرکابی کا شرف حاصل رہا۔
ان کی سادگی متنوع حیثیت رکھتی ہے۔ وہ عموما ملازمین جمعیۃ کو بھائی کہا کرتے تھے ۔ جمعیۃ کے چھوٹے سے چھوٹے کام میں ہاتھ بٹاتے تھے، حتیٰ کہ خطوط کے لفافے پر ٹکٹ لگانے کا بھی کام کرلیا کرتے تھے۔
حضرت مرحوم کا طرز کلام ایسا تھا ، گویا معلوم ہوتا تھا کہ غرورو تکبرکو وہ جانتے ہی نہیں ہیں۔ وہ قلم و فکر کے شہ سوار تھے۔ اخبار پڑھتے، نشان لگاتے اور ایک ڈائری میں نوٹ بھی کرتے، کچھ دنوں بعد کسی اہم موضوع پر دستاویز سامنے آجاتی۔ اسی طرح جمعیۃ کی مجلسوں کے فیصلے اور تجاویز کو پابندی کے ساتھ شائع کیا کرتے تھے۔ ان چیزوں پر جب بھی کوئی شاباش کہتا، تو ہمیشہ یہی کہتے کہ یہ سب فدائے ملت نور اللہ مرقدہ کی رہین منت ہے، اور ہمیشہ انھیں کی تربیت کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔
۲۷؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بھاگلپور میں بھیانک فساد ہوا، جس میں حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ نے ناچیز کو وہاں کام کرنے کے لیے بھیجا، مجھے نہیں معلوم میری کیا کارکردگی تھی، لیکن حضرت نے میرے کام سے اطمئنان کا اظہار کیا اور حضرت ؒ نے مولانا ممدوح سے میری تقرری کرنے کے لیے کہا، چنانچہ حسب الحکم راقم نے درخواست پیش کردی، جسے منظور کرتے ہوئے مولانا مرحوم ؒ نے میری تقرری فرمائی۔ جمعیۃ سے وابستگی تو بھاگلپور فساد میں ریلیف ورک کرتے ہی ہوگئی تھی، لیکن باضابطہ تقرری ۱۰؍ جون ۱۹۹۰ء کو ہوئی ، اسے میں حضرت مرحوم نور اللہ مرقدہ کا نظر کرم سمجھتا ہوں۔
لگے ہاتھوں ایک اور واقعہ سنتے ہی جائیے۔ مولانا پہلی بار ایک آزاد امیدوار کے طور پر کشن گنج سے الیکشن لڑے، لیکن وہ جیت نہیں سکے، جس کی وجہ سے وہ جمعیۃ دفتر نہیں آرہے تھے، اکابرین جمعیۃ نے انھیں منانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس میں یہ ناچیز بھی شامل تھا، حضرت مرحوم اس وقت کوچہ رحمان میں مقیم تھے، ہم لوگ خدمت میں حاضر ہوئے اور جمعیۃ سے پھر سے وابستگی کی درخواست کی، لیکن افسوس کہ ہماری یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور حضرت مستعفی ہوکر جمعیۃ کے عہدہ سے الگ ہوگئے، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ جمعیتی رہے۔
گذشتہ دنوں آئے بہار سیلاب میں ریلیف کے دوران کشن گنج میں بارہا ملاقات ہوئی۔ ناچیز نے بارہا دیکھا کہ کوئی وہاں ریلیف ورک میں تعاون کے لیے آتا، تو حضرت مرحوم جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان کے پاس جانے کا مشورہ دیتے۔ ٹاٹا جمشید پور کے کچھ لوگ امداد لے کر آئے تو انھوں نے کارکنان جمعیۃ کے حوالے کردیا، جب کہ وہ خود اپنی تنظیم کے بینر تلے ریلیف ورک میں مصروف تھے۔ اور ایسا شاید ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی ایک تنظیم دوسرے ایکٹیو تنظیم کا ریفرنس دے۔ اسے حضرت کی جمعیۃ سے گہری وابستگی کے علاوہ کیا نام دے سکتے ہیں۔
ان کی جمعیۃ سے عقیدت و وابستگی کے خشت اول حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ تھے۔ چنانچہ تاریخی شہادت کے مطابق غالبا ۱۹۷۵ء میں مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے سے دہلی لائے تھے اور پھر اپنی تربیت میں رکھ کر انھیں کندن بنادیا تھا، جس کا اعتراف خود حضرت مرحوم اپنی ہر گفتگو میں کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت کے بعد ان کے جانشین حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب کے بارے میں ہمیشہ خیریت دریافت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ’’مولانا محمود مدنی صاحب کیسے ہیں؟‘‘ ۔ مجھے ایسی کوئی گفتگو یاد نہیں ہے ، جس میں حضرت نے بات کرتے ہوئے مولانا مدنی صاحب کی خیریت معلوم نہ کی ہو۔ ادھرحضرت مولانا محمو مدنی صاحب بھی ان سے بہت محبت و شفقت کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ پچھلے دنوں سورت میں اجتماعی نکاح کا ایک پروگرام رکھا گیا، جس میں حضرت مدنی حفظہ اللہ نے مولانا مرحوم کی آمد پر پرجوش استقبال کیا اور دونوں اسٹیج پر ساتھ ہی بیٹھے۔
۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو مورخ ملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے سیمنار میں شرکت و صدارت کے لیے، وفات سے چار روز قبل بروز منگل، حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے براہ راست مولانا مرحوم کو فون کیا، اس پر حضرت مرحوم نے جواب دیا کہ شرکت تو ہوجائے گی، لیکن صدارت کوئی اور کرلے گا۔جس وقت یہ گفتگو ہورہی تھی ، ناچیز بھی وہیں موجود تھا، کیا معلوم تھا کہ حضرت کا ساتھ یہ رابطہ زندگی کا آخری رابطہ تھا ، اور ہم لوگ حضرت کی صدارت تو دور ، ان کی شرکت سے بھی محروم ہوجائیں گے۔
زبانی روایت کے مطابق انتقال سے ایک دن پہلے جمعرات کو اپنے بھائی زاہد کو ساتھ لے کر قبرستان گئے اور جائے مدفون کو دکھاتے ہوئے کہا کہ میری قبر یہیں بنائیں۔ میں اب دہلی سے سارے سامان لے کر واپس آگیا ہوں ، میرا وہاں دل نہیں لگتا ہے ۔ چنانچہ یہ کہہ کر گاوں سے پروگرام میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے اور اسی رات تقریبا ساڑھے تین بجے ہمیشہ ہمیش کے لیے ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، آمین۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: