مضامین

مولانا محمد اسرارالحق قاسمی کا انتقال عظیم خسارہ

مولانا محمد شاہنواز صاحب قاسمی مقیم حال کویت

دنیا کی بے یقینی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ چند گھنٹوں پہلے حضرت مولانا ایک دینی جلسے میں علما، طلبہ اور عوام کے درمیان تقریر فرما رہے تھے اور انھیں خیر کی دعوت دیتے ہوئے راہ حق پر استقامت کی تلقین کررہے تھے اور اب خدا تعالی کے حضور پہنچ کر آرام فرما رہے ہیں۔ إِنَّ لِله مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى. عظیم قلم کار اور پرجوش انقلابی خطیب کی حیثیت سے ہند و بیرون ہند شہرت رکھنے والے مولانا نے اپنی زندگی کے سفر کا دورانیہ یوں پورا کیا کہ ہر کوئی ان کی ناگہانی وفات کی خبر سن کر سکتے میں ہے۔ حضرت والا کی ذات میں مبدا فیاض نے بہت ساری خوبیاں جمع کی ہوئی تھیں، جنھیں آپ نے زندگی کی شاہراہوں پر بروئے کار لاتے ہوئے حق کی ترویج و تبلیغ اور قوم و ملت کے نونہالوں کے درمیان تعلیم و ثقافت کی بنیادوں کو استوار کرنے میں عظیم رول ادا کیا۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد، بیگوسرائے میں واقع ایک چھوٹے سے مدرسے بدرالاسلام سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کرنے والے مولانا نے ہندوستان کی پارلیمنٹ تک کا سفر اپنے مضبوط آہنی ارادے، سچائی اور خلوص آمیز جہد مسلسل سے طے کیا اور بلا تکان تعلیمی، ثقافتی، رفاہی اور سیاسی وغیرہ دیگر مختلف عنوانوں سے ملت اسلامیہ کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا۔ کشن گنج میں اے ایم یو کے سینٹر کے قیام کے لیے کی جانے والی آپ کی جد وجہد سینٹر کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور مولانا کے لیے تعلیم کا چراغ روشن کرنے کے باب میں صدقہ جاریہ بھی۔ 2011 ستمبر میں دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں آپ کی پرجوش تقریر ہنوز میری سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے آپ نے کشن گنج میں اے ایم یو کے سینٹر کے قیام کے لیے وائس چانسلر علی گڑھ پی کے عبدالعزیز اور دیگر سیاسی لیڈران کے سامنے ایک زور دار خطاب کیا جس نے علاقے میں سینٹر کے قیام کے حوالے سے سامعین کے دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا کردیا اور سبھی بیک زبان سینٹر کے قیام کے لیے متفق نظر آئے۔
آپ صبر و استقامت کے کوہ ہمالہ تھے حوادث کا پوری دل جمعی کے ساتھ مقابلہ کرتے۔ خردوں سے اپنائیت اور خلوص سے ملتے اور حوصلے کی بلند پروازی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین فرماتے۔ اونچے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود زندگی کے گوشوں میں سادگی پسند تھے، متعدد اعلا صفات کے حامل ہونے کے با وصف شاہانہ طمطراق اور بے جا شان و شوکت کے اظہار سے کوسوں دور، تواضع اور خاکساری کا پیکر مجسم تھے۔
سیاسی میدان میں کئی بار کی شکست کے باوجود آپ کے قدم ڈگمگائے، نہ جنبش ہوئی اور نہ راہ بدلی؛ بلکہ ارادے کی بلندی کے ساتھ حوصلے کی اونچی پرواز جاری رکھتے ہوئے پارلیمنٹ میں اہم سیاسی جماعت کانگریس کا ترجمان بن کر سیاسی میدان میں بھی قوم کی خدمت کی۔ شفاف سیاست اور حکومتی سطح پر ملت کی خدمت انبیائے کرام کے مشن کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ ہندوستان کے متعدد حصوں میں وقتا فوقتا رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں رفاہی کاموں کے حوالے سے آپ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، مظلوموں تک رسائی ان کی خبر گیری، اشک شوئی، دوا علاج کے لیے اسباب کی فراہمی سے لے کر ان کی مکمل داد رسی اور دوبارہ آباد کرنے کے لیے مختلف جہتوں سے سو جتن کرنا مولانا مرحوم کی زندگی کے کارناموں میں جلی عنوان کے بطور یاد رکھے جائیں گے۔ علاقے میں ناخواندگی کو مٹانے کے زیر عنوان ظاہری وسائل سے محرومی کے باوصف اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کئی اداروں کو قائم فرمایا، اس بابت دین و دنیا کی تفریق کے بغیر قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے جہاں اسلامی دینی مدارس کا جال بچھایا وہیں عصری اداروں کے قیام کے میدان میں بھی قابل قدر کوششیں کیں۔ اللہ تعالی حضرت مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے اور نجات کا وسیلہ بنائے، متعلقین اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے آمین

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: